اسلامیات

فضائل وضو

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (3) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوَضُوْءَ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ جَسَدِہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِہِ (رواہ مسلم)
جو شخص اچھی طرح سے وضو کرتا ہے، تو اس کے بدن سے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخن کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مسلم یا مومن بندہ وضو کرتا ہے ، پھر وہ منھ دھوتا ہے، تو چہرہ سے وہ تمام گناہیں جو آنکھ کے دیکھنے سے ہوئے تھے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دور ہوجاتے ہیں ۔ پھر جب دونوں ہاتھوں کو دھوتا ہے ، تو اس کے دونوں ہاتھوں سے جو پکڑنے کی وجہ سے گناہ ہوئے تھے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دور ہوجاتے ہیں۔ پھر جب دونوں پاؤں دھوتے ہیں تو پاؤں سے وہ تمام گناہ جو چلنے کی وجہ سے ہوئے تھے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے صاف نکل جاتا ہے۔ (مسلم شریف)
یعنی وضو کرنے سے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ بڑے بڑے گناہ معاف نہیں ہوتے، اس لیے کہ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ:
کانتْ کَفَّارۃٌ لِمَا قَبْلَھَا مِنَ الذُّنُوْبِ مَا لَمْ یُؤتِ کَبِیْرَۃ۔
ماقبل کے گناہوں کا کفارہ ہوگا جب کہ کبیرہ نہ کیا گیا ہو۔
لیکن یہی کیا تھوڑا ہے ، گناہ آخر گناہ ہے، خواہ چھوٹا ہی سہی۔ اگر خدا گرفت کرنے لگے تو انسان صغیرہ ہی کے اندر ہلاک ہوجائے، اسی لیے صحابہ کرامؓ معمولی گناہوں کو بھی مہلکات ہی سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ تھوڑی نافرمانی ایک عظیم الشان قہار کی ہو رہی ہے ، جس کے قہر کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا ۔ اور حساب خشم ناک ہی حالت میں ہوگا جب کہ لمن الملک الیوم کا نعرہ خدا بلند کرتا ہوگا، اولیا تو اولیا ؛انبیا کے پتے بھی پانی ہوں گے ، اس لیے معمولی گناہ کی معافی کو معمولی نہ سمجھو ؛ بلکہ اس ذات وحدہ لاشریک کی بڑی مہربانی سمجھو کہ اس نے اتنا بوجھ ہلکا کردیا۔
فائدہ وضو کا یہ ہوگا کہ تم اس کی وجہ سے قیامت کے دن پہچانے جاؤگے کہ یہ شخص امت محمدیہ کا ایک فرد ہے، جس کی وجہ سے تمھاری شفاعت آسان ہوگی۔ آخر حضورﷺ کی شفاعت کے محتاج تو اس دن سب ہی ہوں گے، ان کے بغیر کسی کا بیڑا پار نہ ہوگا۔ سرکار دو عالم ﷺنے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے اصحاب ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں ابھی نہیں آئے ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! اپنی اس امت کو جو دنیا میں اب تک نہیں آئی ہے، کیسے پہچانیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
اَرَاَیْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلَاً لَہُ خَیْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَۃٌ بَینَ ظَھْرَیْ خَیْلٍ دُھْمٍ بُھْمٍ اَلَایَعْرِفُ خَیْلَہُ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: فَاِنَّھُمْ یَأتُوْنَ غُرّاً مُحَجَّلِیْنَ مِنَ الْوَضُوْءِ وَ أنَا فَرَطُھُمْ عَلٰی الْحَوْضِ (رواہ مسلم)
کیا تیری رائے ہے کہ کسی کا گھوڑا سفید پیشانی والا پچکلیان خوب کالے گھوڑوں کے درمیان میں رہے تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچانے گا ؟ سب نے عرض کیا: ضرور پہچانے گا یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ لوگ بھی وضو کی وجہ سے روشن پیشانی اور روشن ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کے انتظام کے لیے پہلے سے موجود رہوں گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: