مضامین

فضلائے کرام کو گراں قدر نصیحتیں

(بعد عصر ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد کے فضلاء سے حضرت مفتی سید سلمان منصورپوری دامت برکاتہم کے خطاب کا خلاصہ

)
*جمع وترتیب: محمد ندیم الدین قاسمی*
الحمد للہ،اللہ کا شکر ہے کہ یہ ادارہ ان اداروں میں سے ہے جس کا تعلیمی سلسلہ ان ناموافق حالات کے باوجود منقطع  نہیں ہوا۔
۱۔طلباء عظام! یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ہماری تعلیم تو مکمل ہوگئی ہے، اب ہم "کامل”ہوگئے ہیں، اس لئے کہ جس وقت یہ خیال آگیا تو سمجھ لو کہ اسی وقت سے زوال کا آغازہے، بلکہ  یہ نظامِ تعلیم کی ترتیب کا ایک مرحلہ ہے، اور ابتدائی راستہ ہے جس پر چل کر آپ کہیں سے کہیں پہنچ سکتے ہیں؛جیسا کہ ایک حدیث میں ” منھومان لایشبعان: منھوم فی العلم ومنھوم فی المال۔۔۔۔ اور حضرت مفتی سعید صاحب پالن پوری (نور اللہ مرقدہ) فرماتے تھے: جب طالبِ علم مدرسہ سے نکلنے کے بعد پڑھانے لگے تو دس سال مسلسل پڑھانے کے بعد کچھ کچھ علم آنا شروع ہوتا ہے،اور پندرہ سال بعد مناسبت پیدا ہوتی ہے، اور بیس سال بعد اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
۲۔فراغت کے بعد آئندہ بھی خود کو علمی مشاغل میں مشغول رکھیں،تدریسی زندگی کو اختیار کریں ؛ ورنہ یہ علم مندمل ہوجائے گا،شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنیؒ جب ہجرت کے لئے جانے لگے تو استاد محترم شیخؒ الھند بھی اسٹیشن تک آپ کے ساتھ گئےاور آخری نصیحت فرمائی: میاں حسین احمد!پڑھانا کبھی مت چھوڑنا اگرچہ طالب علم ایک ہی کیوں نہ ہو۔ اس نصیحت پر آپ نے ایسا عمل کیا کہ مسجد نبوی کے دیگر اساتذہ تو شروحات سامنے رکھ کر پڑھاتے ؛ مگر آپ رات بھر مباحث یاد کرتے اور دن میں بغیر کتاب کے پڑھاتے، صرف منگل کو جو کہ تعطیل کا دن ہوتا آرام کرتے۔یہ اسی محنت کا ثمرہ ہے کہ آپ کو دار العلوم دیوبند کا "شیخ الحدیث” بنایا گیا اور  آج بھی دنیا آپ کو ” شیخ الاسلام ” سے یاد کرتی ہے۔
۴۔حدیث شریف سے ہمیشہ ربط رکھیں ،شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر احمد خان صاحب فرماتے تھے:  تم نے یہ کتابیں تو پڑھ لیں؛مگر یہ مت سمجھنا کہ ختم کردی، بلکہ کوئی ایک کتاب منتخب کرکے روزانہ دو تین صفحات پڑھنے کا معمول بنائیں، اس لئے کہ ہر کسی کو احادیث پڑھانے کا موقعہ نہیں ملتا۔
۴۔اگر تدریس میں لگنا دشوار ہو تو دین کے کسی دوسرے شعبہ میں ضرور لگ جائیں.
۵۔ خدا سے توفیق مانگنے کے ساتھ ساتھ پختہ عزم و ارادہ  کی بھی ضرورت ہے۔
۶۔ فقیہ الامت ؒ نے فرمایا کہ "افتاء” کے بغیر  ایک عالم ،ناقص رہتا ہے، اور جو طلباء دار الافتاء سے فارغ ہورہے ہیں ان کی ذمہ داری اور زیادہ ہے ؛کیوں کہ دین پر عمل کرنا کہ کب نماز  درست ہے،  اور کب فاسد؟ زکوۃ کس پر فرض وغیرہ مسائل میں امت آپ سے ہی رجوع ہوتی ہیں، گویاکہ آپ ترجمانِ شریعت ہیں۔لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ دسیوں سال مسلسل لگانے کے بعد کچھ فقہی مناسبت پیدا ہوتی ہے۔
۷۔ ضرورت کے وقت اگرچہ ڈیجیٹل لائبریری سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ؛لیکن علم کی برکت تو کتابوں ہی سےحاصل ہوتی ہے، اسی سے گہرائی وگیرائی پیدا ہوتی ہے۔
۸۔ہر عالم  ومفتی کو چاہئے کہ وہ ملت کے لئے خود کو نافع بناکر پیش کرے،یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ خود عمل کرے اور دوسروں تک پہونچانے کے فکر کرے، جیسا کہ قرآن میں ہے ” فاما الزبد فیذھب جفاء الخ۔
۸۔اور آگے بڑھنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔
اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: