اہم خبریں

قائد جمعیت نے دہلی فساد متاثرین سے ملاقات کی

مولانا مدنی نے سرکار سے سکھ فساد کی طرح معاوضہ کا مطالبہ کیا

نئی دہلی26؍فروری 2020

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں بھڑکے فرقہ وارانہ فساد پر اپنے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی سرزمین پر، تشدد او رنفرت کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ ہونی چاہیے جو ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔

مولانا مدنی نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ ایماندارانہ طور سے کارروائی کرتے ہوئے فساد پر قد غن لگائے اور مرنے والوں اور زخمیوں کو سکھ فساد کے طرز پر معاوضہ دینے کا اعلان کرے ۔ مولانا مدنی نے یہ باتیں آج شام دہلی شاہدرہ جی ٹی بی ہسپتال میں مرنے والوں سے ملاقات کے بعد کہیں۔مولانا مدنی جو بنگلہ دیش کے سفر پرتھے، انھوں نے دہلی فساد کے بگڑتے حالات کے بعد اپنا سفر مختصر کیا اور وہ آج شام سیدھے دہلی پہنچے ، جہاں سے وہ فساد زدہ علاقہ میں لوگوں سے ملنے کے لیے روانہ ہوئے* ۔جی ٹی بی ہسپتال میں انھوں نے مرنے والوں کے رشتہ داروں سے ملاقات کی اور زخمیوں کی عیادت کی ، اس کے بعد جعفرآباد کے لیے روانہ ہوگئے ۔

 

اب تک جی ٹی پی اور ایل این جے پی ودیگر ہاسپٹل کی رپورٹ کے مطابق ۲۲؍لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں ، جب کہ سینکڑوں ز خمی ہیں، خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو گھروں میں گھس کر مارا پیٹا گیا ۔ اب تک دو درجن جانیں تلف ہو چکی ہیں اور مختلف علاقوں سے لوگ پلائن کررہے ہیں ۔

مولانا مدنی کے دورہ سے قبل آج ان کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد فساد زدہ علاقہ پہنچا ۔ وفد نے فوری طور سے جعفرآباد کے مدرسہ باب العلوم میں مقامی ذمہ داروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی ، جس میں طے کیا گیا کہ سردست ان لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے جو فساد زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔چنانچہ اپنے اپنے علاقوں سے لوگوں نے نارتھ گونڈا، یمنا وہار سی بلا ک جامع مسجد علاقہ ، برہم پوری گلی نمبر (۱)گونڈا چوک گلی نمبر(۴)،موجپورنزد سینٹرل ہاسپٹل و نور الہی مسجد ،چاند باغ، کچی کھجوری، شیو وہار، چاند باغ مدینہ مسجد کی نشاندہی کی کہ وہاں لوگ پھنسے ہوئے ہیں،و فدکو بتایاگیا کہ چاند باغ شیر پور چوک پر25 خواتین پھنسی ہوئی ہیں، اسی طرح عثمان پورا تیسرا پشتہ پر واقع مسجد میں مصطفی باد اور لونی کے تقریبا ۲۵؍افراد پھنسے ہوئے ہیں ۔وفد نے ان لوگوں سے فون پر بات کی اور ان کی تفصیلات پولس انتظامیہ کو براہ راست فون کے ذریعہ پہنچائیں تا کہ ان کو فوری طور سے محفوظ مقام تک پہنچایا جاسکے ۔

اس کے علاوہ جمعیۃعلماء ہند کا الگ الگ وفد صبح سے دوبار جی ٹی بی ہاسپٹل پہنچا ۔ وفد نے پایا کہ یہاں ہاسپٹل میں زخمیوں اور لاشوں کی تعداد بتائے گئے اعداد و شمار سے ز یادہ ہیں ۔یہاں فاروقیہ مسجد برج پوری پلیہ کے ذمہ دار جوکا فی معمر ہیں، وہ پولس کی بے رحمانہ پٹائی کی وجہ سے زخموں سے چور تھے ، ان سے ملاقات ہوئی، انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کے وفد کو بتایا کہ ہماری مسجد میں مغرب کی نماز ہورہی تھی ، نماز کے بعد اچانک مسجد میں پولس گھس گئی ، اس نے ہمیں ، امام صاحب اور موذن وغیرہ کو بے رحمی سے پیٹا ، حالاں کہ وہ 80؍سال کے ہیں، لیکن ان کو ا س عمر میں کیو ںپیٹا گیا ، وہ اس بات سے بہت رنجیدہ ہیں، وہ چل نہیں پارہے ہیں، پائوں او رکمر کی ہڈیا ں ٹوٹ گئی ہیں ۔ اس مسجد میں امام صاحب کی اہلیہ اور بچے تاہنوز پھنسے ہوئے ہیں ، ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔حالاں کہ امام و موذن ابھی باحیات ہیں ، لیکن حالت بہت خراب ہے ۔اسی طرح شیووہار گلی نمبر22کی ثریا خاتون جن کو بے رحمی سے ماراگیاہے ، جس کی وجہ سے وہ اٹھ نہیں سکتی ، اس کے پائوں ٹوٹ چکے ہیں ، وہ کہہ رہی تھی کہ فسادی دن بھر وہاں جمع تھے ، رات ہوتے ہی انھوں نے ہمارے گھر کا گیٹ توڑا اور کیا بچے اور بوڑھے ، سب کو پیٹنا شروع کردیا ، ہم کسی طرح وہاں سے جان بچا کر بھاگے ہیں، اگر دیر رات تک رہتے تو ہم کو ماردیا جاتا ۔ان کے شوہر مجرل نے جمعیۃ کے وفد کو بتایا کہ ان کاپورا گھر جلادیا گیا، اب ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔جمعیۃ کے وفد نے ان کو ہر طرح کے تعاون دینے کا وعدہ کیا ۔

وفد نے وہاں پر ایسے لوگوں کو بھی پایا جن کے اقربا کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے ، محمد ساحل کو ان کے والد کی لاش حوالے نہیں کی جارہی ہے ، ہاسپٹل انتظامیہ کہتی ہے کہ وہ آئی یو کے بغیر لاش نہیں دے سکتی ، مگر جعفرآباد تھانے کا آئی یو مسلسل بلانے کے باوجود نہیں آرہا ہے ، ان کے ساٹھ سالہ والد محمد پرویز کو گونڈہ میں نورالہی مسجد کے پاس قتل کردیا گیا ۔اسی طرح بجنور کے آفتاب کے رشتہ دار اس کو جی ٹی بی میں تلاش رہے ہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے ان تمام ضرورت مندوں کی ہر ممکن پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔

آج جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں مولانا محمود مدنی کے علاوہ مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند، مولانا قاری عارف قاسمی ، مولانا ضیاء اللہ قاسمی ، مولانا نور محمد قاسمی ،مولانا عرفان قاسمی، مولانا غیور قاسمی، عظیم اللہ صدیقی شریک تھے۔ مدرسہ باب العلوم جعفرآباد کی میٹنگ میں مولانا دائود امینی مہتمم مدرسہ ہذا، مولاناشمیم احمد قاسمی امام وخطیب مدینہ مسجد جعفرآباد، آصف محمود قاسمی ، مفتی آصف قاسمی وغیرہ موجود تھے ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: