مضامین

قائد کے بغیر انسانوں‌کی زندگی : مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم

جمعیت علمائے ہند کے تیسرے سالانہ اجلاس عام کے صدارتی خطاب سے اقتباس

میں یہاں اس بارے میں کچھ عرض نہیں کروں گا کہ کیوں کہ گذشتہ آخری صدیوں میں مسلمانوں کا شیرازہئ اجتماع پراگندہ ہوا، اور تقریباً پانچویں صدی ہجری کے بعد سے اس پراگندگی کے اسباب یکے دیگرے ظہور میں آتے رہے؟ مجھے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ باایں ہمہ تفرق و پرواگندگی ہندستان میں اسلامی حکومت قائم تھی، اور جب تک وہ قائم رہی، نظامِ جماعت بھی قائم رہا۔ لیکن اسلامی حکومت کے انقراض کے بعد مسلمانانِ ہند کا نظم جماعت بالکل درہم برہم ہوگیا، اور سرتاسر جاہلیت کی سی بے نظمی و بے قیدی ہم پرچھا گئی۔ بلاشبہ مرکزی خلافت آل عثمان کی موجود تھی، اور مسلمانانِ ہند کے لیے بھی تمام مسلمانانِ عالم کی طرح وہی خلیفہئ عہد و مطاع تھے، لیکن مسلمانانِ ہند کا فرض تھا کہ یا تو اپنے علائق فعلاً و عملاً پائگاہ ِ خلافت سے قائم کرتے اور اس کے ایک موجودہ عامل نائب کی نیابت حاصل کرکے اپنے فرض اسلامی انجام دیتے، اور اگر ایسا ہونا دشوار تھا اور واقعی بات یہی ہے کہ دشوار تھا، تو پھر ضروری تھا کہ اپنے لیے ایک نائب امیر وامام منتخب کرلیتے اور اس کے ماتحت اعادہئ حال اور تہیہئ کار اور ادائے فرائص اسلامیہ میں کوشاں ہوتے۔ لیکن بدبختا نہ ایسا نہیں ہوا،اور جہاں غیر مسلم غلبہ و استیلاپر محکومانہ قناعت کرلی گئی، وہاں اس اوّلین فریضہئ ملّت کی طرف سے بھی ہمتوں کے قصور اور عزائم کے فقدان نے کوتاہی کی۔ بہرحال ایک زمانہئ دراز اس پر گزر گیا، اور اب حالت یہ ہے کہ دس کروڑ مسلمان جو تمام کرہئ ارض میں سب سے بڑی یکجا اسلامی جماعت ہے، ہندستان میں اس طرح زندگی بسر کررہی ہے کہ نہ تو ان میں کوئی رشتہ انسلاک ہے، نہ وحدت ملّت کا کوئی رابطہ ہے، نہ کوئی قائد وامیر ہے، اور نہ کوئی آمر و نافذ شرع، محض ایک بھیڑ ہے، ایک انبوہ ہے، ایک گلہ ہے، جو ہندستان کی آبادیوں میں بکھرا ہوا ہے، اور یقینا ایک حیات غیر شرعی وجاہلی ہے، جس میں یہ پوری اقلیم مبتلا ہوگئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: