زبان و ادب

(قرآنی قصہ)

ادب اطفال

جھوٹاخواب
عزیزِمصر نے ایک ناگہانی معاملہ میںاپنی بیوی کے کہنے میںآکراللہ کے پیغمبرحضرت یوسف علیہ السلام کوجیل بھیج دیا،جیل کی چہاردیواری میںبہت ہی جلدی آپ کی بھولی، بھالی شکل وصورت ، اچھے اخلاق، اورنیکی کاچرچا عام ہوگیا، دوسرےقیدی پ کے پاس آکے بیٹھتے،اپنی کہتی ان کی سنتے، اسی طرح ہوتے، ہوتے ایک اچھاخاصا حلقہ آپ کاہم نوااوردوست بن گیا، جن میں ایک ساقی (شراب پلانے والا)بھی تھا جوبادشاہ کوشراب پلاتاتھا اور دوسراباورچی ۔
ایک روزساقی بولا:’’اگرآپ اجازت دیں تومیںاپنا ایک خواب بیان کروں تاکہ آپ مجھے اس کی تعبیر(مطلب) بتاسکیں۔
اس کے بعداس نے اپناخواب سناناشروع کیا: میں نے یہ خواب دیکھاہے کہ میں اپنے بادشاہ سلامت کے شراب تیارکررہاہوں۔
واضح ہوکہ ان کے مذہب میں شراب جائز تھی۔
جب ساقی اپناپوراخواب بیان چکا تو باورچی کو اس کا یہ خواب اچھالگا،اس کے دل میں بھی گُدگُد اٹھی اور اس نے بیٹھے، بیٹھے وہیں ایک خواب گھڑااور آپ سے اجازت لے کربیان کرناشروع کردیا
’’میںنےخواب میںدیکھاہےکہ میں کہیں جارہاہوںاورمیرے سرپرروٹیوںکاطباق ہے،پرندےآرہے ہیں اور میرے سرپررکھے اس طباق سے روٹیاںلیجا،لیجا کرکھارہے ہیں۔
لہٰذااگرآپ ہم کوہمارے خوابوںکی تعبیر بتادیںتوآپ کابہت احسان ہو،
حضرت یوسفؑ نے ان دونوںکے خواب سن کرفوری طورپرتعبیربتانے کے بجائے پہلے اپنے منصب،اپنے خاندان ،آبا، اجدادکے تعارف کے بعداللہ کی توحیدکی طرف بلایاجوایک نبی ہونے کی حیثیت سےآپ کااصل کام اورذمہ داری تھی،
فرمایا’’تمہارے خوابوںکی تعبیرمیرے لئے کوئی مشکل کام نہیں بلکہ یہ تومیرے لئے میری گھرکی کھیتی کی طرح آسان ہے، کیونکہ میراتعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جوبہت ہی علم دوست ، خدارسیدہ ،مقبول زمانہ اور اللہ والاہے۔اورشاید تم نے میرے بڑے داداحضرت ابراہیم جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے نمرود جیسے مشہور ظالم بادشاہ کی آگ کو ٹھنڈاکرکے گلزاربنادیااوران کواس میں سے سلامت نکالاتھاان کانام توسناہی ہوگا،ان ہی کے بیٹے حضرت اسحاق نبی ؑمیرے داداتھےاوراسحاق کے بیٹے پیغمبر یعقوب میرے والدمحترم ہیں ،توایسے برگزیدہ خاندان کاچشم وچراغ کسی غیرخداکی پرستش پرکیسے راضی ہوسکتاہے
؟، لہٰذامیں بھی انہی نیک بندوںکے طورطریقے اوران ہی سب کے مذہب پرہوں۔
اسے میرے جیل کے ودستوپہلے تویہ بتاؤکیاکئی جھوٹے،فرضی خداؤںکی پوجابہترہے یاتنہے تنہا ایک سچی خداکی؟
یقینی طورپرجن جھوٹےمعبودوںکوتم پوجتے ہوان کی کوئی حقیقت نہیں اورنہ ہی کوئی ان کاوجودہے، یہ سب تمہارے باپ، دادواؤں کی من گھڑت کہانیاںہیںجن کی سچائی کی کوئی دلیل نہ ان کے پاس تھی اورنہ ہی تمہارے پاس ہے ۔
اوریادرکھو کہ ہرمعاملہ میںحکم وتصرف اللہ کاہی چلتاہے، اورکسی کانہیں، اورجوبھی ہوتاہے اسی کے حکم سے ہوتاہے۔اوریہی وہ سیدھی ڈگرہے جس پرمیں اورمیرے باپ داداہیں اسی خوبی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے خاندان کواس علم سے بھی نوازاہے جس میں تم میرے محتاج ہو،
اس تمہیدکے بعدحضرت یوسفؑنےفرمایا: کہ سن لو! اب ہمارے، تمہارے ساتھ گفتگو کرنےکے لئےزیادہ وقت نہیںبچا ہےکیونکہ باورچی خانہ سے جوکھاناہمیں دیاجاتاہے وہ کھاناوہاں سےچل پڑاہے، مگرمیں تم کوتمہارے دونوںخوابوںکی تعبیر یہاںکھاناپہنچنے سےپہلے،پہلے ہی بتادوںگا ۔

اے میرے قیدی دوستو! تم میں جس نے سے یہ خواب دیکھاہےکہ وہ بادشاہ کے لئےانگورکاشیرہ بنارہاہے تووہ اپنے الزام سےبری ہوکربادشاہ کاساقی بنے گا۔
مگردوسراجس نے یہ خواب دیکھاہے کہ اس کے سرپرروٹیوںکا طباق ہے اورپرندے اس میں سے نوچ ،نوچ کر روٹیاں کھارہے ہیں تو اس کو پھانسی ہوگی اورپرندے اس کاسرنوچ، نوچ کھائیںگے۔
ہاں! مگریہ بھی دھیان رہے کہ اس معاملہ کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوچکاہے اب ٹلنے والانہیں تم میںکسی کو مجھ سے اس میں کسی تبدیلی کی امید رکھنابیکارہے۔
چنانچہ دونوںکامعاملہ ویساہی ہواجیساکہ حضرت یوسف ؑ نے ان کی تعبیربتائی تھی۔
ایک روایت میں آتاہے کہ باورچی نے سا قی کاخواب سن کر حضرت یوسفؑ کوآزمانے کے لئے یہ جھوٹاہی خواب گھڑلیاتھاجس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اسی طرح بعض لوگوںنے ایک شخص کے جھوٹے خواب کاایک عبرت آموز واقعہ بیان کیا ہےکہ ایک شخص ماہرتعبیرِخواب حضرت محمد بن سیرین ؒ کی خدمت میںآکربیان کرنے لگا
ّّْْْْ ’’حضرت! میں نے یہ خواب دیکھاہے کہ شیشہ کاایک گلاس ہے جوپانی سے بھراہواہے میںنے دیکھاکہ وہ گلاس ٹوٹ گیامگرپانی اس میں ویسے ہی سلامت ہے جیسے کہ تھا،، لہٰذاآپ مجھے میرے خواب کی تعبیر بتانے کی زحمت گوارہ فرمائیں،،
جناب محمد بن سیرین ؒ نے اس کا خواب کو سن کرفرمایا’’جایہاںسےچلاجا،، تونے ایساکوئی خواب د نہیں دیکھاہے۔
مگرجب وہ اپنے خواب کی اوراپنی سچائی پرزیادہ ضدکرنے لگا توآپ نے فرمایا:جااگرایساہی ہے توتیری بیوی مرے گی اوراس کی موت کے بعد اس کے شکم سے زندہ بچہ نکلےگا۔
بیان کرتے ہیں کہ کچھ ہی دنوںبعد ہوبہویہی صورت حال پیش آئی کہ اس کی بیوی مری اورموت کے بعد اس کے پیٹ سے زندہ بچہ پیداہوا۔
(تاریخ دمشق :جلد53 ص232

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: