اہم خبریں

قرآن مجید کی عظمت و فضیلت

شمشیر عالم مظاہری۔دربھنگوی۔

امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔
قرآن مجید کی بے انتہا عظمت کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ کلام اللہ ہے اور اللہ تعالی کی حقیقی صفت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے یہاں تک کہ زمینی مخلوقات میں کعبۃ اللہ اور انبیاء علیہم السلام کی مقدس ہستیاں اور عالم بالا و عالم غیب کی مخلوقات میں عرش،کرسی، لوح و قلم، جنت اور جنت کی نعمتیں اور اللہ کے مقرب ترین فرشتے یہ سب اپنی معلوم و مسلم عظمت کے باوجود غیر اللہ اور مخلوق ہیں لیکن قرآن مجید اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی اور اس سے الگ کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقی صفت ہے جو اس کی ذاتِ عالی کے ساتھ قائم ہے یہ اللہ پاک کا بے انتہا کرم اور اس کی عظیم تر نعمت ہے کہ اس نے اپنے رسولِ امین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے وہ کلام ہم تک پہنچایا اور ہمیں اس لائق بنایا کہ اس کی تلاوت کر سکیں اور اپنی زبان سے اس کو پڑھ سکیں پھر اس کو سمجھ کر اپنی زندگی کا راہنما بنا سکیں ۔
قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالی نے طوی کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسی علیہ السلام کو اپنا کلام سنوایا تھا۔ کتنا خوش قسمت تھا وہ بے جان درخت جس کو حق تعالیٰ نے اپنا کلام سنوانے کے لیے بطور آلہ کے استعمال فرمایا تھا۔ جو بندہ اخلاص اور عظمت و احترام کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجرۂ موسوی نصیب ہوتا ہے اور گویا وہ اس وقت اللہ تعالی کے کلام مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ حق یہ ہے کہ انسان اس سے آگے کسی شرف کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
قرآن بے مثل ہے قیامت تک کے لئے پوری دنیا کو چیلنج ۔
فرما دیجئے کہ اگر انسان اور جن تمام مل کر بھی اس قرآن کی مثال لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے (بنی اسرائیل)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارگاہِ الٰہی سے جو معجزات عطا ہوئے ان میں سب سے بڑا معجزہ خود قرآن حکیم ہے چنانچہ کفار نے جب معجزہ طلب کیا، تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ۔
اور انہوں نے کہا کہ پیغمبر پر اس کے خدا کی طرف سے نشانیاں کیوں نہ اتریں کہہ دے کہ نشانیاں خدا کی قدرت میں ہیں میں تو صاف صاف خدا کے عذاب سے صرف ڈرانے والا ہوں، کیا ان کو یہ نشانی کافی نہیں کہ ہم نے اس پر کتاب اتاری جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے! (سورہ عنکبوت)
لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی کتاب آئی ہے جو سراسر نصیحت اور دلوں کی بیماری کے لئے شفا ہے اور ( اچھے کام کرنے والوں کے لئے اس قرآن میں) رہنمائی اور ( عمل کرنے والے) مومنین کے لئے ذریعہ رحمت ہے آپ کہہ دیجئے کہ لوگوں کو اللہ تعالی کے اس فضل و مہربانی یعنی قرآن کے اترنے پر خوش ہونا چاہیے۔ یہ قرآن اس دنیا سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع رہے ہیں (سورہ یونس)
آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ اس قرآن کو روح القدس یعنی جبرئیل علیہ السلام آپ کے رب کی طرف سے لائے ہیں تاکہ یہ قرآن ایمان والوں کے ایمان کو مضبوط کرے اوریہ قرآن فرمانبرداروں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے (سورہ نحل)
یہ قرآن جو ہم نازل فرما رہے ہیں یہ مسلمانوں کے لیے شفا اور رحمت ہے (سورہ بنی اسرائیل)
اور یہ بڑی باوقعت کتاب ہے جس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے کی طرف سے آ سکتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے یہ خدائے حکیم و محمود کی طرف سے نازل کی گئی ہے (حم سجدہ)
پھر کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے اگر یہ کسی دوسرے کی طرف سے ہوتا ( اللہ تعالی کی طرف سے نہ ہوتا) تو ضرور یہ اس کی بہت سی باتوں میں اختلاف پاتے (سورہ نساء)
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنے جی سے بنا لیا ہے تو کہہ دے کہ وہ ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں ہی لے آئیں اور اپنی مدد کے لیے خدا کے سوا جس کو چاہیں بلالیں۔ اگر وہ سچے ہیں (سورہ ھود)
اگر تم کو اس میں بھی کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو اس جیسی ایک ہی سورہ لے آؤ اور خدا کے سوا اپنے تمام گواہوں کو بلاؤ اگر تم سچے ہو (سورہ بقرہ)
قرآن انسانیت کے لیے آب حیات ۔
یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لیے اتاری ہے تاکہ اس کے ذریعہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں (سورہ ابراھیم)
قرآن مجید انسانوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے والی کتاب ہے،بھٹکے ہوؤں کو سیدھا راستہ دکھا نے والی کتاب ہے، قعر مذلت میں پڑے ہوؤں کو اوج ثریا پر پہنچا نے والی کتاب ہے،اور اللہ سے بچھڑے ہوؤں کو اللہ سے ملانے والی کتاب ہے، قرآن مجید انسانیت کے لئے منشور حیات ہے، انسانیت کے لئے دستور حیات ہے، انسانیت کے لیے ضابطۂ حیات ہے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے آب حیات ہے،قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس کا دیکھنا بھی عبادت ہے، اس کا چھونا بھی عبادت ہے، اس کا پڑھنا بھی عبادت ہے، اس کا پڑھانا بھی عبادت ہے، اس کا سننا بھی عبادت ہے، اس کا سنانا بھی عبادت ہے، اس کا سمجھنا بھی عبادت ہے، اس پر عمل کرنا بھی عبادت ہے، اور اس کا حفظ کرنا بہت بڑی عبادت ہے،
قرآن کا معلم اور متعلم ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر اور افضل بندہ وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے (صحیح بخاری)
قرآن مجید کو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے جب دوسرے کلاموں پر اس طرح کی فوقیت اور فضیلت حاصل ہے جس طرح کی اللہ تعالی کو اپنی مخلوق پر حاصل ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا سیکھنا سکھانا دوسرے تمام اچھے کاموں سے افضل و اشرف ہو گا۔ علاوہ ازیں یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے اہم پیغمبرانہ وظیفہ وحی کے ذریعہ
قرآن مجید کو اللہ تعالی سے لینا اس کی حکمت کو سمجھنا اور دوسروں تک پہنچانا اور اس کو سکھانا تھا اس لیے اب قیامت تک جو بندہ قرآن مجید کے سیکھنے سکھانے کو اپنا شغل اور وظیفہ بنائے گا وہ گو یا رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے خاص مشن کا علمبردار اور خادم ہو گا۔ اور اس کو رسول صلی اللہ وسلم سے خاص الخاص نسبت حاصل ہوگی۔اس بنا پر قرآن پاک کے متعلم اور معلم کو سب سے افضل و اشرف ہونا ہی چاہئے لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب کہ قرآن مجید کا یہ سیکھنا سکھانا اخلاص کے ساتھ اور اللہ کے لیے ہو اگر بدقسمتی سے کسی دنیوی غرض کے لیے قرآن سیکھنے سکھانے کو کوئی اپنا پیشہ بنائے تو حدیث پاک میں ہے کہ وہ ان بد نصیبوں میں سے ہو گا جو سب سے پہلے جہنم میں جھونکے جائیں گے اور اس کا اولین ایندھن بنیں گے ،،اللھم احفظنا،،
تلاوتِ قرآن کا اجر وثواب ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قرآن پاک کا ایک حرف پڑھا اس نے ایک نیکی کما لی اور یہ کہ ایک نیکی اللہ تعالی کے قانون کے مطابق دس نیکیوں کے برابر ہے (مزید وضاحت کے لیے آپ نے فرمایا) میں یہ نہیں کہتا)(یعنی میرا مطلب یہ نہیں ہے)کہ،، الم،، ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے،لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے، اس طرح الم پڑھنے والا بندہ تیس نیکیوں کے برابر ثواب حاصل کرنے کا مستحق ہوگا ( جامع ترمذی، سنن دارمی)
قرآن کی تلاوت قلب کا صیقل ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی آدم کے قلوب پر اسی طرح زنگ چڑھ جاتا ہے جس طرح پانی لگ جانے سے لوہے پر زنگ آجاتا ہے عرض کیا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم دلوں کے اس زنگ کو دور کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ،موت کو زیادہ یاد کرنا، اور قرآن مجید کی تلاوت (شعب الایمان للبیہقی)
قرآن اور قوموں کا عروج و زوال ۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اس کتاب پاک (قرآن مجید) کی وجہ سے بہت سوں کو اونچا کرے گا اور بہت سوں کو نیچا گرائے گا (صحیح مسلم)
قرآن مجید اللہ تعالی کی صفتِ قائمہ اور بندوں کے لئے اس کا فرمان اور عہد نامہ ہے اس کی وفاداری اور تابعداری اللہ تعالی کی وفاداری اور تابعداری ہے اسی طرح اس سے انحراف اور بغاوت اللہ تعالی سے انحراف اور سرکشی ہے اور اللہ تعالی کا فیصلہ ہے کہ جو قوم اور جو امت خواہ وہ کسی نسل سے ہو اس کا کوئی بھی رنگ اور کوئی بھی زبان ہو قرآن مجید کو اپنا راہنما بناکر اپنے کو اس کا تابعدار بنادے گی اور اس کے ساتھ وہ تعلق رکھے گی جو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حق ہے اللہ تعالی اس کو دنیا اور آخرت میں سر بلند کرے گا۔ اور اس کے برعکس جو قوم اور امت اس سے انحراف اور سرکشی کرے گی وہ اگر بلندیوں کے آسمان پر بھی ہوگی تو نیچے گرا دی جائے گی ۔
مسلمان بھائیو ! حقیقت یہ ہے کہ قرآن حکیم دنیا کی عظیم ترین کتاب بھی ہے، اور مظلوم ترین کتاب بھی ہے، دنیا کی کسی شخصیت پر کسی قوم پر کسی کتاب پر اتنا ظلم نہیں ہوا ہو گا جتنا ظلم خود مسلمانوں نے قرآن حکیم پر کیا ہے ہم قرآن کے نام پر تقریبات تو منعقد کرتے ہیں، ہم اپنے جلسوں کی رونق کے لئے تو اسے پڑھتے ہیں، ہم جھوٹی سچی قسمیں کھانے کے لئے تو اسے سر پر رکھتے ہیں، ہم بیماروں کی شفا کے لیے اس سے تعویذ تو بناتے ہیں، ہم اسے خوبصورت غلافوں میں بند کرکے طاقوں پر تو سجاتے ہیں، ہم اپنے مردوں کے ایصال ثواب کے لئے تو اسے پڑھتے پڑھواتے ہیں لیکن اس پر عمل کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔
افسوس تو یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو مردوں کی کتاب بنالیا حالانکہ یہ تو زندہ اور جیتے جاگتے لوگوں کی کتاب تھی ہم اپنی زندگی میں تو اس کو اپنے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتے ہاں مرنے کے بعد یہ ہمارے گھر میں داخل ہو سکتا ہے معاوضہ دے کر چند قرآن خوانوں کو لے آتے ہیں اور قرآن خوانی کروا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے مرنے والے کی بخشش کا سامان کر دیا خواہ مرنے والا زندگی بھر قرآن مجید کے قریب بھی نہ گیا ہو خواہ اس نے اپنی زندگی میں قرآن کے کسی حکم پر عمل نہ کیا۔ خواہ اس نے ساری زندگی جہنم کا ایندھن ہی جمع کیا ہو، وہ شراب نوش ہو، وہ سود خور ہو، وہ غریبوں کے حقوق سلب کرنے والا ہو، وہ ظالم ہو، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس کا عقیدہ ہی صحیح نہ ہو، وہ یورپ کا مقلد ہو، وہ ملحد ہو،وہ مشرک ہو، خواہ وہ کچھ بھی ہو لیکن مسلمان خاندان سے اس کا تعلق ہو تو ہم قرآن خوانی کروا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس کو جنت کا حقدار بنا دیا۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر ۔
ہم خوار ہوۓ تارک قرآں ہو کر ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: