مضامین

قرآن کریم کی بے حرمتی ___

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

ناٹو (NATO) سویڈن کی شمولیت کے مسئلہ پر ترکی نے سخت موقف اختیار کیا، اور جم کر ناٹو کے فوجی اتحاد میں اس کے شامل ہونے کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے سویڈن کے دار الحکومت اسٹاک ہوم میں دائیں بازو کی اسٹرام کرس پارٹی کے رہنما راسموس پالوڈان نے 21جنوری 2023ءکو ترکی سفارت خانے کے باہر ترکی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قرآن کریم نذر آتش کیا اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کی تصویروں کو بوٹوں سے روندا، قرآن شریف کی یہ بے حرمتی کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے، چنانچہ پورا عالم اسلام اس وقت اس واقعہ کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، ترکی، قطر، ایران، سعودی عرب، کویت، ایران اور پاکستان جیسے ممالک نے اس پرشدید برہمی کا اظہار کیاہے، آذر بائی جان کے حکمراں، سینگال کے صدرمیکی سال، عراق کے مقتدی صدر نے اپنے اپنے بیان میں اسے قابل مذمت عمل قرار دیا ہے، ہندوستان کی ملی تنظیموں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو سمجھے اور اس واقعہ پر سویڈن حکومت کے سامنے اپنی برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرے۔ ترکی میں اس واقعہ پر احتجاج اور مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیا سی بلسٹروم نے اسے اسلام فوبک اشتعال سے تعبیر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اظہار رائے کی آزادی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم اس قسم کے اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ نمائندہ میگل اینجل مورا ٹینوز کے ترجمان نے کہا کہ یہ مسلمانوں کی توہین ہے اور اسے اظہار رائے کی آزاد ی کا نام نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے باہمی احترام کے فروغ اور پرامن معاشرہ کی تشکیل پر زور دیا، سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں ان تمام مسلمانوں کے لیے اپنی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہیں آج اسٹاک ہوم میں ہونے والے واقعہ سے تکلیف پہونچی ہے۔
ظاہر ہے اس قسم کی گھناؤنی حرکت کے ذریعہ ترکی کو اپنے موقف سے ہٹایا نہیں جاسکتا، بلکہ اس عمل سے دوریاں اور بڑھیںگی، چنانچہ اس کا اظہار ترکی نے سویڈن کے وزیر دفاع پال جانسن کے ترکی دورے کو منسوخ کرکے شروع کردیا ہے، ترکی کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بعد یہ دورہ اپنی اہمیت اور معنویت کھو چکا ہے۔اس سلسلے میں پال جنسن نے جرمنی کے شہر راسٹین میں ترک وزیر دفاع ہولوسی آکار سے امریکی فوجی اڈے پر ملاقات کی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے کہ واقعہ کے صحیح ہونے کے باوجود اس واقعہ کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کررہاہے وہ سویڈن کا نہیں۔کہیں اورکاہے سوشل میڈیا پر پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close