اسلامیات

قرآن کیا ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

اب ہم نے تمہارے لئے وحی بھیجی ہے اس کتاب میں تمہارے لئے ذکر ہے۔ کیا تم عقل سے کام نہ لوگے؟ (الانبیاء 10 : 21 )
اسلام کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمیاں قرآن کے حوالے سے پائی جاتی ہیں۔ یہ غلط فہمیاں مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں میں پائی جاتی ہیں۔ لہٰذا اس باب میں قدرے تفصیل کے ساتھ قرآن کا جائزہ پیش ہے۔ متعین طور پر قرآن کیا ہے؟ قرآن نے اپنے تعارف کے لئے تقریباً 55 مختلف اصطلاحات استعمال کی ہیں مثلاً ھدیٰ، رحمت، بشریٰ، نور اور ذکر۔ البتہ یہ اصلاً عربی زبان میں وہ براست وحی ہے جو اللہ نے نبی اکرم محمد ؐ کو بھیجی یا وہ وحی جو بذریعہ فرشتہ جبرئیل اللہ نے نبی اکرم محمد ؐ کو بھیجی، جیسا کہ آئندہ صفحات میں مفصل مذکور ہے۔ یہ بلا شبہ عظیم شہادت کے ساتھ عربی میں کتاب کی شکل میں موصول ہوئی۔ مندرجہ ذیل آیات میں قرآن کے مقصد، شکل اور مخاطبین کا بخوبی ذکر ہے:

یہ وحی ہے الرحمن اور الرحیم کی جانب سے۔ یہ ایک کتاب ہے جس میں مفصل نشانیاں درج ہیں۔ یہ عربی قرآن اہل دانش کے لئے ہے۔ اس میں خوش خبری اور تنبیہ ہے لیکن اکثر لوگ اس سے منہ موڑتے ہیں اور وہ سنتے ہیں۔ (فصلٰت 2-4 : 41)
لیکن تاریخ عالم میں یہ واحد وحی نہیں ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
اللہ نے حق کے ساتھ تمہیں کتاب نازل کی ہے جو اس سے ماقبل کی تصدیق کرتی ہے۔ اللہ ہی نے توریت اور انجیل وحی کیں۔ (آل عمران 3 : 3 )
اس کا مطلب ہے کہ اسلام ماقبل کی وحی اور مذاہب کا اثبات کرتا ہے۔ اسی باعث اللہ نے قرآن کو ماقبل وحی کا محافظ قرار دیا ہے:
اور اللہ نے تم کو حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے جو اس سے ما قبل کی کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان پر بطور نگراں ہے۔ لہٰذا وحی الٰہی کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو اور اپنی کی خواہشات کی پیروی نہ کرو تاکہ وہ حق جو تم پر نازل ہوا ہے وہ نظر انداز نہ ہو۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے شریعت اور طریقہ مقرر کیا۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے جو تمہیں نازل کیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے لہٰذا نیک عمل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اللہ ہی کی جانب تم سب کی واپسی ہے وہ پھر تم کو تمہارے اختلافات کے بارے میں مطلع کرے گا۔ (المائدہ 49 : 5 )

عربی زبان
قرآن کے بارے میں گفتگو کرنے سے قبل اس کی زبان کے بارے میں بعض وضاحتیں لازم ہیں۔ قرآن کلاسیکی عربی میں نازل ہوا۔ قرآن اسی لحاظ سے سے ماقبل کی کتب کا نگراں ہے کہ خود عربی زبان محفوظ ہے۔ لوگوں کے تصور کے برخلاف امر واقعہ یہ ہے کہ قدیم زبانیں جدید زبانوں کے مقابلے میں زیادہ دو ٹوک اور پیچیدہ ہیں یہ اس دور کی نمائندہ ہیں جب فکر انسانی کی تمام تر توجہ زبانی ترسیل اور ابلاغ پر تھی۔ افلاطون نے اپنی کتاب Cratylus میں صراحت کی ہے کہ قدیم یونانی زبان میں الفاظ اور ان کے معنیٰ پراسرار حد تک ہم آہنگ ہیں اور صوتی لحاظ سے شکل اور طریقۂ استعمال کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔
اسی کا اطلاق کلاسیکی عربی پر بھی ہوتا ہے۔ فرڈینانڈ ڈی ساسر ( 1857 ۔ 1913) کے الفاظ میں جدید زبانوں میں غیر متعین رسوم مشار اور مشار الیہ کی وقتی نسبت وغیرہ ملتی ہیں۔ اس کے برعکس عربی زبان کے 28 حروف تہجی اپنی صوتیات، کیفیات اور تلفظ کے حامل ہیں اور تحریری صورت میں بھی یہ 28 حروف 28 قمری منازل سے اور دنیا سے متعلق ہیں۔ ان کی بدولت متعین معنی برآمد ہوتے ہیں اور اسماء حسنیٰ کا علم ہوتا ہے۔ قرآن کی بعض سورتوں میں مستعمل حروف مقطعات کا تعلق بھی اسی تصور سے ہے۔ حروف کے اپنے معنیٰ ہیں جو الفاظ میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر حرف الف ماورائیت، فعالیت، مرکزیت اور مردانگی کی علامت ہے جبکہ حرف ب انفعالیت، ح سانس، ر حرکت، ق قوت، ک کمزوری اور م وفات یا خاتمے کی علامات ہیں۔ بنیادی آوازوں پر مشتمل الفاظ کے متعین معنی ہوتے ہیں۔ یہاں یہ مراد بھی ہے کہ ایک ہی مادے سے مختلف طور پر مرکب الفاظ بالعموم ہم معنی ہوتے ہیں یا صرف ایک حرف کی تبدیلی سے معنی میں فرق واقع ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر کلمہ ایک سہ حرفی لفظ ہے جس کے معنی لفظ ہیں۔ اگر ابتدائی حرف ک کو ق سے بدل دیا جائے تو یہ حرف قلمہ یعنی قلم کا مادہ بن جائے گا۔ قلم سے الفاظ تحریر کئے جاتے ہیں اور اس طرح الفاظ گراں قدر اور مستقل ہوجاتے ہیں اور یہی لفظ ق کی صفت ہے۔ غرضیکہ عربی اور غالباً دیگر قدیم زبانوں میں الفاظ موسوم کے عکاس ہوتے ہیں اور یہ ذو معنویت سے پاک ہوتے ہیں۔ معنی حروف کی آواز اور کیفیت سے مرتب ہوتے ہیں۔ روایت ہے کہ عربوں کی دو اقسام ہیں: العرب المستعربہ جو کہ جزیرہ نما عرب کے شمالی حصے کے باشندے تھے اور العرب العربہ جن کا تعلق جنوبی حصے سے تھا۔ اول الذکر اپنا شجرۂ نسب اسماعیل علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام (دور ۲۱۰۰ ق م) کے فرزند تھے۔ اس کے بالمقابل العرب العریبہ اپنا سلسلہ نسب اس سے قدیم تر شخصیت قحطان سے منسلک کرتے ہیں۔ بائبل کی کتاب پیدائش میں قحطان کا نام Joktan مذکور ہے اور وہ Eber کے فرزند ہیں جو کہ ابن سلاح ابن ارفکسڈ ابن سام ابن نوح علیہ السلام تھے۔ (پیدائش21-30 : 10)۔ اسی طرح بائبل کی رو سے ابراہیم علیہ السلام کے جد امجد Peleg ان ہی Joktan کے بھائی تھے۔
طبری کی گراں قدر تاریخ کے مطابق یعروب سب سے پہلے عربی داں تھے۔ ان کا سلسلہ نسب یہ ہے: یعروب ابن قحطان ابن ایبر، ابن سلاح ابن ارفکسڈ ابن سام اس کی تصدیق کتاب پیدائش (31 : 10) سے ہوتی ہے جس کا بیان ہے : ‘‘سام کے ان بیٹوں کے الگ الگ اپنے قبیلے ، زبانیں اور علاقے تھے’’۔
عربی اسی سامی زبانوں کے خاندان کی رکن ہے جس کے دیگر ارکان اکاڈین، آرمائی اور عبرانی زبانیں ہیں۔ چونکہ عربی زبان ابراہیم علیہ السلام سے کم از کم تین نسلیں قدیم تر زبان ہے، مسلم فضلاء کی رائے میں یہ زندہ زبانوں میں قدیم ترین ہے۔ عربی زبان کی قدامت اس کی مختلف شکلوں سے بھی عیاں ہے مثلاً تثنیہ، جمع غیر سالم ، جمع الجمع مثلاً رجل کی جمع رجال اور اس کی جمع رجلات۔ بقیہ قدیم زبانوں مثلاً عبرانی میں یہ شکلیں معدوم ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل تاریخی سند بھی ملتی ہے۔ مشرقی عرب ریگستان واقع مقام Hasa میں 800 ق م کے کتبے ملتے ہیں جن میں 853 ق م کے عربوں کا سفر کا وہ تذکرہ ملتا ہے جو اکاڈین تذکروں میں بھی ملتا ہے۔ اس سے بھی قبل کا تاریخی ثبوت عربی رسم الخط کی وہ شکلیں ہیں جو صحرائے سینائی میں دستیاب ہوئےہیں اور قاہرہ میوزیم میں محفوظ ہیں۔ سینائی کے علاقے میں عہد فرعون میں کانوں میں کام کرتے ہوئے عرب مزدوروں نے یہ شکلیں غالباً 1850 ق م میں بنائی تھیں۔ (دیکھئے ٹی۔ایے۔اسماعیل Classical Arabic as the Ancestor of Indo European Languages)۔
قدیم ترین زبانوں میں عربی کا شمار ہونے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس لحاظ سے یہ اکاڈین زبان کی ہمسر ہے جو 2500 ق م میں رائج تھی۔ بائبل کی کتاب پیدائش کے مطابق شہر اکاڈ کی بنیاد نمرود نے ڈالی تھی جس کا سلسلہ نسب یہ ہے ابن کش ابن حام ابن نوح جو کہ قحطان کا عم زاد اور غالباً معاصر بھی تھا۔ البتہ مدراس ربّا اور تفسیری روایت کی رو سے نمرود کا دور ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کو محیط ہے۔
عربی زبان کے محفوظ رہنے کا تاریخی سبب یہ ہے کہ ہزاروں سال تک بدوی عرب تہذیب کے مراکز سے دور اپنے محفوظ صحرا میں رہے گویا وہ ایک جزیرے پر زندگی بسر کرتے رہے۔ انھوں نے اپنی ثقافت کو پائداری کے ساتھ محفوظ رکھا اور عربی زبان کو خالص رکھا۔ عربوں کو اپنی زبان کی ثروت پر فخر تھا اس کا اندازہ ماقبل اسلام جاہلیہ شاعری کے شاندار ذخیرۂ لفظیات سے ہوتا ہے۔ یہ شاعری عربی زبان کے حسن اور پیچیدگی کی عکاس ہے۔ بالخصوص شہرہ آفاق معلقات نظموں میں یہ رنگ جھلکتا ہے۔ معلقات وہ نظمیں ہیں جن پر ہر سال انعام ملا کرتے تھے۔ اور یہ عربی کی شاہکار ہیں۔ ہر سال کی بہترین نظم کا اعلیٰ ترین اعزاز یہ ہوتا کہ اسے کعبہ کی دیوار پر آویزاں کردیا جاتا۔ معلقات کے لغوی معنی لٹکی ہوئی شئے ہے، یہ نظمیں اسی لئے معلقات کہلائیں۔ جیسا کہ مذکور ہوا، نبی اکرم محمد ؐ خانوادہ اسماعیل علیہ السلام کے چشم و چراغ تھے۔ آپ ؐ کا تعلق مکہ سے تھا جہاں شعری مسابقے ہوا کرتے تھے لہٰذا اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آپ ؐ، آپ ؐ کا قبیلہ قریش عرب میں بہترین اور بالکل خالص عربی زبان کا خوگر تھا۔
یہ اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کی رو سے انسان کی اولین ترین زبان وحی پر مشتمل تھی۔ اللہ نے زبان کا الہام آدم علیہ السلام کو کیا تھا اللہ فرماتا ہے:
اللہ نے آدم کو اسماء سکھائے، سب کے سب۔ اس نے آدم کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا : ‘‘اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ، انھوں نے کہا : ‘‘سبحان اللہ! ہم کو صرف وہی علم ہے جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔ یقیناً آپ ہی علیم اور حکیم ہیں’’۔ پھر اللہ نے آدم سے نام بتانے کے لئے کہا اور جب اس نے نام بتادئیے تو اللہ نے کہا: ‘‘کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ مجھے زمین اور آسمان میں غیب کا علم ہے’’؟ مجھے علم ہے تم جو کچھ جانتے ہو جو کچھ چھپاتے ہو۔ (البقرہ 31-33 : 2)۔
اس سے ہم کو اندازہ ہوتا ہے کہ عربی اورغالباً دیگر قدیم زبانیں الہامی ہیں۔ اس کے علاوہ ان زبانوں میں لفظ معنی اور صوتیات میں مکمل ہم آہنگی کی کوئی اور توجیہ نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں وحی نازل ہوئی۔ اللہ فرماتا ہے:
اگر ہم نے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کیا ہوتا تو یقیناً تم یہ دیکھتے کہ وہ خشیت الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔ ہم انسانوں کے لئے ایسی ہی امثال بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ (الحشر 21 : 59)۔
قرآن میں مستعمل عربی زبان
قرآن میں مستعمل عربی زبان کا کسی دوسری زبان میں بیان کرنا ایک دشوار عمل ہے کیونکہ عربی ایک منفرد زبان ہے۔ قرآن میں مستعمل عربی زبان ما قبل اسلام کی جاہلیہ شاعری سے مختلف ہے۔ جاہلیہ شاعری کا ذخیرہ موجود ہے جس میں کم از کم بیس ہزار اشعار محفوظ ہیں۔ قرآنی عربی حدیث میں مستعمل عربی سے بھی مختلف ہے۔ قرآنی عربی بائبل کے عربی تراجم سے بھی قبل کی ہے اولین بائبل کا عربی ترجمہ نویں صدی عیسوی کا ہے البتہ قرآنی عربی کے بارے میں درج ذیل نکات قابل لحاظ ہیں:
پہلا اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآنی عربی کا تلفظ یا قرأت عام عربی زبان سے مختلف ہے۔ ابتدائی نکتہ یہ ہے کہ عربی زبان میں ۲۸ حروف تہجی ہیں بشمول تین حروف علت کے جن کو بطور حرف تحریر نہیں کیا جاتا۔ اور یہ حروف تہجی حلق، زبان، منہ، دانت، ہونٹ اور ناک سے ادا ہوتے ہیں۔ ایک پورا شعبۂ علم مخارج الحروف سے موسوم ہے اور یہ علم بچوں کو سکھایا جاتا ہے۔ اسی علم کی ترویج کے باعث کلاسیکی عربی کا تلفظ بجنسہٖ آج بھی وہی ہے جو اس سے قبل تھا۔
قرآنی عربی معروف تحریری عربی زبان سے مختلف طور پر پڑھی جاتی ہے۔ مختلف حروف کے تلفظ کے لئے خصوصی قواعد و ضوابط ہیں، اسی طرح حروف و الفاظ کے مجموعے کے تلفظ کے بھی اپنے قوانین ہیں۔ سورہ مزمل کی آیت ۴ میں تجوید یا ترتیل کا ذکر ہے۔ نبی اکرم ؐ اور آپ ؐ کے صحابہ ترتیل کا لحاظ رکھتے تھے۔ تجوید و ترتیل کے قواعد ایسے پیچیدہ ہیں جن کا تفصیلی ذکر یہاں ممکن نہیں صرف یہ صراحت ضروری ہے کہ ترتیل کی مدد سے متن کی رواں قرأت میں سہولت ہوتی ہے۔ الفاظ بآسانی اور بسہولت ادا ہوتے ہیں اور آواز کا مکروہ تصادم نہیں ہوتا اور مترنم اور شاندار آواز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر چند کہ آیات قرآنی میں قدرتاً فرق ہے لیکن ہر حرف اور ہر لفظ کو نسبتاً ہلکی رفتار پر ادا کیا جاتا ہے۔ تمام الفاظ اور حروف جدا جدا طور پر ادا کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دانستہ وقفے ہوتے ہیں جس کی مدد سے قاری کو سانس لینے کا موقع ملتا ہے اس سے اہم تر نکتہ یہ ہے کہ اس وقفے میں یہ الفاظ و حروف سامعین اور قارئین کے دل و دماغ پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ مزید برآں، یہ قانون بھی ہے کہ طویل حروف علت کو کھینچ کر ادا کیا جائے بالخصوص الف یا آ کی باعتبار اس کے کہ یہ حرف کس مقام پر وارد ہوا ہے، اس سے قرآن کی ماورائیت کے تاثر میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ غرضیکہ تلاوت قرآن کا بہ حیثیت مجموعی تاثر حزن کا ہے لیکن یہ حزن کسی مادی شئے کے خسارے کا عکاس نہیں ہوتا بلکہ درحقیقت یہ حزن اللہ سے تعلق اور اللہ کے اسماء حسنیٰ، تمام مقدسات اور جنت سے تعلق سے عبارت ہے۔ یہ صراحت بھی ضروری ہے کہ عربی زبان کی صوتیات نہ صرف حسین ہیں بلکہ انتہائی شاندار بھی۔ عربی صوتیات میں ایک وقار، شان و شوکت اور سنجیدگی ہے۔ اس میں شاعرانہ روانی، ترنم اور قافیہ ہے، بغیر کسی تصنع، موسیقی یا عامیانہ پن کے۔ اس کی شدت بے پناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے الفاظ کو سمجھے بغیر اس کے سننے کا بھی اثر پڑتا ہے۔ اسّی فیصد سے زائد مسلمان عربی بولنے پر قادر نہیں ہیں۔ وحیٔ قرآن کا بنیادی مقاصد لوگوں کے نفس کا تزکیہ کرنا، ان کو قرآن کا سبق دینا اور حکمت سکھانا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسول انہیں میں کا۔ پڑھتا ہے اُن پر آیتیں اُسکی اور پاک کرتا ہے ان کو یعنی شرک وغیرہ سے اور سکھاتا ہے اُن کو کتاب اور کام کی بات۔ ( آل عمران164 : 3 )
قرآن کی زبان کے بارے میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ فطری مناظر کی علامات اور ان کی تصویر کشی سے پر ہے بالخصوص صحرا، پہاڑ، آسمان اور سمندر کی علامات اس میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں ان مناظر کی عکاسی ملتی ہے اور مختلف آیات اور صورتوں میں ان کا تذکرہ ہے۔ غنائیت کے علاوہ ان علامات سے سادگی اور عملی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن میں بلند و عارفانہ زبان کا بھی استعمال ہوا ہے جس سے انسان کی آرزووں اور خوابوں کو تحریک ملتی ہے۔
قرآن کی زبان میں تنوع بہت ہے۔ ہر چند کہ اس کا ذخیرۂ الفاظ آسان ہے۔ عربی زبان کے ستر ہزار سے زائدمادوں میں سے صرف 1810 مادوں کا استعمال قرآن میں ملتا ہے۔ اس کی بعض سورتیں انتہائی مختصر ہیں مثلاً سورۂ رحمان کی آیت صرف ایک لفظ پر مشتمل ہے، اسی طرح حروف مقطعات بھی دو الفاظ پر مشتمل ہیں جو کہ سورہ طٰہٰ ، یٰسین ، فصّلٰت ، مومن ، الشورہ ، الزخرف ، الدخان، الجاثیہ اور الاحقاف کی پہلی آیت میں ملتے ہیں۔ بعض قرآنی آیات انتہائی طویل ہیں، طویل ترین سورہ البقرہ کی آیت 282 ہے جو 15 سطروں کے تقریبا ایک صفحے کو محیط ہے۔ بعض سورتوں کی آیات کم و بیش یکساں حجم کی ہیں۔ البتہ بعض سورتوں میں ان کی طوالت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض سورتیں ایک ہی قافیہ پر ختم ہوتی ہیں، مثال کے طور پر سورہ القمر میں 55 آیات ہیں جس کی تمام آیات حرف ‘ر’ پر ختم ہوتی ہیں۔ بعض سورتیں انتہائی غنائیت کی حامل ہیں جبکہ بعض بہت ہی گتھی ہوئی اور مرصع ہیں۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان فرق حیران کن ہے اور اس کے باطنی معنی اور دانستہ اثرات ہیں۔ ان اختلافات کے باوصف قرآن کے لہجے میں یکسانیت ہے اور اسی وجہ سے تمام آیتیں اور سورتیں ایک ہی کتاب کا جزو ہیں۔
مزید برآں، قرآن ایک وحدت ہے، اس کے باوصف ہر سورت میں ایسے الفاظ اور لفظیات ہیں جو اسی سے مخصوص ہیں اور کسی دوسری سورت میں نہیں پائے جاتے۔ اصطلاح سورہ عربی لفظ سور سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دیوار ہے۔ اس سے مراد ہے کہ قرآن کے ہر باب کا اپنا منفرد اور مخصوص تشخص۔ اس صفت کا اظہار آیات میں بھی ہوتا ہے۔ قرآنی آیت کو آیت بمعنی نشانی کہا گیا ہے۔ بالفاظ دیگر ہر آیت بذات خود ایک نشانی یا معجزہ ہے۔ ہر چند کہ قرآن میں بعض آیتوں کی تکرار ہے لیکن درحقیقت یہ مختلف سیاق و سباق میں مختلف معنی کی حامل ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ بعض آیات بالکل منفرد اور مثل معجزہ ہیں ان کی زبان اور مندرجات انتہائی منفرد اور حیران کن ہیں مثال کے طور پر مشہور آیت آیت الکرسی (سورہ البقرہ آیت 255) قرآن کی ایک عظیم آیت ہے۔ مسلم کی روایت کردہ حدیث کے مطابق یہ قرآن کی عظیم ترین آیت ہے جو انتہائی منفرد ہے اور انتہائی منظم انداز میں صفات الٰہی بیان کرتی ہے۔ اسی طرح آیت نور(سورہ النور آیت 35) نور الٰہی کے بارے میں ایک منفرد مثل ہے۔ اسی طرح آیت دین (سور البقرہ آیت 282) بڑی طویل ہے لیکن ہدایات سے پُر اور اس میں عملی زبان مستعمل ہے جس میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ کس طرح سے قرض کو تحریری شکل میں محفوظ رکھا جائے۔ اس طرح کی متعدد مثالیں قرآن میں ملتی ہیں۔
قرآن عربی مبین میں ہے جیسا کہ خود قرآن میں کہا گیا ہے (الشعراء 195:26)۔ قرآن میں تنوع کے باوجود اس میں مستعمل الفاظ کی تعداد کم بھی ہے اور یہ پیچیدہ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک الگ نکتہ ہے کہ ان الفاظ کےآج کی عام عربی زبان میں معنی مختلف ہوگئے ہوں۔ مزید برآں، قرآن کو یاد رکھنا آسان ہے جس کا ذکر سورہ القمر کی آیات 17، 22، 32 اور 40 میں کیا گیا ہے اور اس کا یہ جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کو قرآن حفظ ہے۔ قرآن کی بلاغت سادہ لیکن قوی ہے اور یہ اس باعث اور بھی قوی ہے کہ یہ فطری اور مسحور کن ہے۔ قرآن میں نئے تراشیدہ عربی الفاظ بھی ملتے ہیں مثال کے طور پر جنت دوزخ کے طرح طرح کے نام، اسی طرح افعال اور لفظیات کی نئی شکلیں بھی ہیں۔ بعض الفاظ قرآن میں صرف ایک دفعہ استعمال ہوئے ہیں لیکن ان کا مفہوم واضح ہے لیکن سیاہ و سباق سے ان کے معنی فوری طور پر سمجھ میں آجاتے ہیں۔ قرآن کی فصاحت بے مثل ہے ۔ کسی بھی بیان میں ضرورت سے زائد الفاظ کا استعمال قرآن میں نہیں ملتا لہٰذا اس میں کوئی فاضل یا غیر ضروری عبارت نہیں ہے۔ قرآن میں مترادفات کا استعمال ہے اور تکرار کے بغیر یہ امتیازی ہیں۔ بالفاظ دیگر قرآن میں ایک ہی نکتہ کو مختلف الفاظ اور مختلف پیرایوں میں ادا کیا گیا ہے لیکن پھر بھی تکرار کی صورت نہیں پیدا ہوتی۔ اور امتیاز برقرار رہتا ہے۔ ان نکات کو درج ذیل تصانیف میں مثالوں کے ذریعہ مزید واضح اور روشن کیا گیا ہے۔ دیکھئے ترمذی (م 320ھ بمطابق 932ء) کی کتاب معانی الترادف اور کتاب بیان الفرق اور الراغب الاصفہانی (م 502ھ بمطابق 1109ء) کی تصنیف معجم مفردات الالفاظ القرآن۔
جہاں تک قرآن کی فصاحت کا تعلق ہے۔ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ قرآن میں جابجا عقل اور منطق کی زبان استعمال ہوئی ہے بالخصوص وجود الٰہی کے اثبات کے موضوع پر مثلاً سورہ نمل کی آیات60-65، سورہ العنکبوت کی آیت 61، سورہ الطور کی آیات 35-37 اور سورہ یونس کی آیات 31-36تک۔ اسی طرح وحدت الٰہی کے بارے میں بھی قرآن کی زبان منطقی ہے۔ دیکھئے سورہ الاسراء آیات 40-43اور سورہ المومنون آیات 84-91۔ اس کے باوصف یہ زبان بالکل فطری محسوس ہوتی ہے اور اس میں باضابطہ منطق کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ اگر کسی شخص نے منطق کا باقاعدہ مطالعہ نہ کیا ہو تو اس میں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ مذکورہ بالا آیات میں قرآن کس طرح سے منطقی استدلال کے ذریعہ اپنی بات پیش کررہا ہے۔
قرآن کی زبان اس کے مندرجات کی صحت کی آئینہ دار ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں مستعمل تمثیلیں، تشبیہیں اور استعارے اس اعتبار سے بے مثل نہیں کہ وہ لغوی طور پر بہترین ہیں بلکہ یہ اپنے مندرجات کے حوالے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں اور موضوع کو منظر عام پر لاتے ہیں۔ ان صنائع کا تعلق انسان کے اندرون سے بھی ہے۔ قرآن کے لہجے کی گہرائی، وقار اس کے مندرجات کی عظمت، رفعت اور استقلال سے ہم آہنگ ہیں۔ ایک طرف قرآن کے اسلوب میں ڈرامائی عنصر ہے اور فوری تبدیلیاں اسلوب میں واقع ہوتی ہیں اور اس کی طویل آیات میں حقیقت کی حیران کن پیچیدگی بھی سامنے آتی ہے۔ ان سب کے بدولت انسان کی قوت فکر کو مہمیز ملتی ہے۔ قرآن کی زبان کے بارے میں مزید گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن یہاں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ قرآن کی زبان اور نظم میں ایسی صفت ہے جو کہ بنیادی انسانی روح سے ہم آہنگ ہے۔ روح انسان کے شعور کا مبدع ہے۔ قرآن عربی زبان میں آفاقی روح کا اظہار ہے۔ یہی بڑا سبب ہے کہ علماء اور قراء نے بالالتزام قرآن کی قرأت کو موسیقی کا آہنگ دینے سے انکار کیا کیونکہ قرآن کا مقصود روح کو بیدار کرنا ہے۔
ان صفات کے پس منظر میں قرآن کا یہ براہ راست چیلنج ہے جو آج تک پورا نہیں ہوا کہ کوئی بھی قرآن کے مثل کتاب تصنیف نہیں کرسکتا۔ یہ چیلنج سورہ الاسراء آیت 88 اور سورہ القصص آیت 49میں مذکور ہے حتی کہ قرآنی سورتوں کے مثل بھی تصنیف ناممکن ہے جیسا کہ سورہ یونس کی آیات 13-14 میں کہا گیا حد یہ کہ ایک سورت بھی قرآن جیسی تصنیف نہیں کی جاسکتی۔ اس کا اعلان قرآن کی سورہ البقرہ آیات23-24 اور یونس آیات 37-38 میں کیا گیا ہے۔ قرآن ہر لحاظ سے منفرد ہے، مندرجات کے لحاظ سے بھی اور اسلوب کے لحاظ سے بھی۔ اللہ فرماتا ہے:
تو کہہ اُس کو اتارا ہے اُس نے جو جانتا ہے چھپتے ہوئے بھید آسمانوں میں اور زمین میں۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورہ الفرقان 6 : 25 )۔
جو بھی شخص عربی زبان سے واقف ہے وہ قرآن کی ان صفات کا براہ راست مشاہدہ کرسکتا ہے۔
یہ اضافہ ضروری ہے کہ لاکھوں باشعور اور ذہین لوگ برضا و رغبت اور انتہائی شوق کے ساتھ اپنی پوری زندگی قرآن سیکھنے، پڑھنے، تلاوت کرنے اور اس پر غور و فکر کرنے میں صرف کردیتے ہیں۔ کچھ لوگ مکمل قرآن ہر تیسرے دن مکمل کرلیتے ہیں اور اس کی ابتداء ان کے بچپن سے ہوتی ہے اس لحاظ سے وہ اپنی پوری زندگی میں دس ہزار سے زائد مرتبہ قرآن پڑھ لیتے ہیں۔ خواندہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن مہینہ میں ایک بار ختم کرتی ہے یعنی کہ وہ اپنی زندگی میں قرآن کو 500 سے 700 مرتبہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یہاں اوسط عمر 70 سال شمار کی گئی ہے۔ اگر قرآن میں مندرجہ بالا صفات نہ ہوتیں تو مسلمان اس کے بکثرت مطالعہ سے اوب جاتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے مطالعہ سے کبھی نہیں تھکتے بلکہ ہر دفعہ جب وہ اس کا مطالعہ کرتے ہیں انہیں قرآن میں نئے معنی نظر آتے ہیں۔ اس سے ان کے عشق قرآن میں اور اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کی اس منفرد صفت کے بارے میں نبی اکرم محمد ؐ کا قول ہے: ‘‘جو لوگ اہل علم ہیں ان کی قرآن سے سیری نہیں ہوتی، تکرار کے باوصف قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے’’ (ترمذی)۔
مطالعہ قرآن میں رکاوٹیں
قرآن کی زبان اور نظم دونوں منفرد ہیں۔ یہ ماقبل کی وحی سے ایک حد تک مختلف ہے۔ مختلف محض اس لحاظ سے نہیں کہ یہ عربی زبان میں ہے، جب لوگ بشمول مسلمانوں کے قرآن کا مطالعہ پہلی بار کرتے ہیں اور توجہ سے کرتے ہیں تو ان کا پہلا رد عمل اکثر حیرت حتی کہ انتشار ذہنی کا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو پہلے مطالعہ میں کچھ حاصل نہیں ہوتا اس کا سبب یہ ہے کہ مطالعہ قرآن میں کچھ رکاوٹیں ہیں جن کو دور کرنا لازم ہے۔ ایسا کرنا کوئی دشوار نہیں ہے۔ آئیے دیکھیں کہ یہ رکاوٹیں کیا ہیں۔
درحقیقت تین طرح کی رکاوٹیں لوگوں کو قرآن کا مفہوم اخذ کرنے میں باز رکھتی ہیں، وہ یہ ہیں:
(۱) مطالعہ کے عمل میں رکاوٹیں
(۲) خود قاری کی اندرونی رکاوٹیں
(۳) متن قرآن میں رکاوٹیں
جہاں تک مطالعہ کے فعل میں رکاوٹوں کا تعلق ہے ان کا ذکرذیل میں ہے:
الف۔ قرآن کلاسیکی عربی اور قبیلہ قریش کی زبان میں ہے۔ قطع نظر اس امر کے کہ اس میں بعض غیر عربی کے معروف الفاظ بھی شامل ہیں۔ البتہ قرآن کی زبان موجودہ عوامی یا جدید معیاری عربی زبان سے مختلف ہے۔ اپنے مندرجات کی ندرت اور وقعت کے باعث قرآن کا بخوبی ترجمہ ممکن نہیں ہے۔ قرآن کے تراجم زیادہ سے زیادہ اس کی تشریح قرار دئیے جاسکتے ہیں۔ حتی کہ عرب قارئین جن کی مادری زبان عربی ہے ان کو بھی قرآنی عربی پر قادر ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ یہ رکاوٹ ایک متعین تعداد کے عربی الفاظ کے باعث ہی ہوتی ہے۔
ب۔ قرآن زبانی طور پر نازل ہوا۔ یہ ایک زبانی ثقافت کی دین ہے۔ اس کی قرأت کے اصولوں کے مطابق قرأت کے بغیر قاری کو قرآنی آیات کی نغمہ ریزی کا اندازہ نہیں ہوسکتا اسی طرح قرآن کے الفاظ کی قوت اور ان کی کیفیت اور ان الفاظ کے باہمی تعلق اور تنظیم سے وہ بے خبر رہ جاتا ہے۔
جدید تعلیم کے باعث لوگوں کو اب یہ توقع رہتی ہے کہ وہ آسان اور مختصر متن پڑھیں جو آسانی سے اپنے مندرجات قارئین کے سامنے پیش کردیں۔ یہ متن ایسے سادہ ہوتے ہیں کہ ان کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔ عام طور سے اہم نکات کی تلخیص بھی درج ہوتی ہے اس کے برخلاف قرآن کا آہستہ آہستہ اور بغور مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک ایسے علیم اور خبیر مصنف کی جانب سے ہے تاکہ مصنف کی منشا کے مطابق تمام معنی ہمارے اوپر روشن ہوجائیں۔ مزید برآں قرآن کا متن علامتوں، تشبیہوں، استعاروں، تمثیلوں، اشاروں، تلمیحوں اور اندرونی حوالوں سے پُر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض حقائق کو محض سطح پہ درج الفاظ کی مدد سے منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مزیدبرآں، قرآن کوئی مختصر متن نہیں ہے۔ عربی کے اصل ایڈیشن میں یہ کم و بیش 600 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور اس کے مطالعہ سے قبل بھی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اس کے مطالعہ کے لئے وقت اور صبر دونوں درکار ہیں۔ درحقیقت زیادہ تر دیندار مسلمان قرآن کا مطالعہ بچپن ہی میں شروع کردیتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ تقریباً ایک کروڑ مسلمان قرآن کے حافظ ہیں۔ زیادہ تر مسلمان روزانہ آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹہ تک قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں۔
د۔ قرآن تاریخ وار متن نہیں ہے۔ بائبل بنیادی طور پر ایک تاریخی اور تاریخ وار منظم متن ہے۔ اس کا آغاز کتاب پیدائش سے ہوتا ہے اور پھر تاریخ وار یہ عبرانی پیغمبروں کی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے قطع نظر بائبل کی کچھ کتابیں وقت سے بے نیاز حکمت پر مبنی کتابیں ہیں۔ بائبل کے ایک اور جزو نئے عہد نامے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح ہے اور پھر ان کے حواریوں کا ذکر ہے اور پھر مرحلہ وار بیان اس میں درج ہے لیکن قرآن کی ترتیب اس کی تنزیل کے مطابق نہیں ہے اس میں واقعات کا ذکر تاریخ کے لحاظ سے نہیں ہے۔ قرآن کا مقصود قصہ کہانی سنانا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصود اعلیٰ اور مقدس ہے۔ قرآن زماں اور بیاں سے ماوراء ہے اور یہ ایسا متن ہے جس میں تاریخ وار بیانیہ نہیں ہے۔ قرآن میں اکثر ایک ہی موضوع کو پیش کیا جاتا ہے اور بار بار پیش کیا جاتا ہے اسی طرح سے یہ فلسفہ کی منظم توضیح اور تشریح پر مبنی کتاب نہیں مثلاً افلاطون کے مکالموں کی طرح، نہ ہی یہ دینیات اور اخلاقیات کی مروجہ کتابوں کی مانند ہے مثلاً پلوٹینس کی Enneats۔ اسی طرح قرآن فلکیات اور منطق کی کوئی منظم کتاب نہیں ہے مثلاً ارسطو کی میٹافزکس یا Organon ، بلکہ اس میں حکمت کے موتی جابجا بکھرے ہوئے ہیں اور یہ قاری کا فرض ہے کہ وہ ان کو یکجا کرے۔
ہ۔ قرآن ایک عملی کتاب ہے یہ کوئی قیاسی کتاب نہیں ہے۔ اس کے مطالعہ سے انسان میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن کے مطالعہ کے لئے یہ شرط ہے کہ قاری ایسے طالب علم کے طور پر اس کا مطالعہ کرے جو کہ علم کا متلاشی ہو۔ یہ کوئی ایسی کتاب نہیں جس کے بارے میں سرسری مطالعہ کے بعد یا شوقیہ طور پر کوئی رائے قائم کی جائے۔ مذکورہ بالا رویہ اور نیت عام طور سے کتابوں کے مطالعہ میں ہم نہیں استعمال کرتے۔ اگر ہم اس رویہ اور نیت کو اختیار نہیں کرتے تو قرآن کے مطالعہ سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ قارئین کے تحفظات ذہنی میں اضافہ ہی ہوگا۔ اللہ فرماتا ہے۔
اور پھر پھیر کر سمجھایا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ سوچیں اور ان کو زیادہ ہوتا ہے وہی بدکنا۔(سورہ الاسراء 41 : 17)
جہاں تک قارئین میں موجود رکاوٹوں کا تعلق ہے وہ درج ذیل ہیں:
الف۔ قرآن اور قاری کے درمیان زمانے، مقام، ثقافتی پس منظر، تجربوں اور سیاق و سباق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
ب۔ قرآن پر غور و فکر یا اس کے مفید مطالعہ میں یہ رکاوٹیں بھی سامنے آتی ہیں مثلاً قارئین کا ذہنی انتشار ، توجہ کی کمی، بے لگام تخیل، جسمانی ضروریات کی بنا پر رکاوٹ، صبر کی کمی، صالح نیت کا فقدان، عاجزی کی کمی اور روحانی حقائق سے بے نیازی کے باعث بھی ایک شخص قرآن سے کما حقہٗ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اللہ نے تفکر کی دعوت دی ہے، دیکھئے سورہ النحل آیت 43-44، سورہ الحشر آیت 21، الرعد آیت 3 اور آل عمران آیات 190-192۔ قرآن میں اللہ کی نشانیاں مذکور ہیں ان پر تدبر کی ضرورت ہے دیکھئے آیات النساء آیت 82، المومنون آیت 68، سورہ ص آیت 29، سورہ محمد 24 اور سورہ ق آیت 37۔ تفکر ایک ایجابی اور فعال رویہ ہے۔ راغب الاصفہانی کی معجم المفردات الفاظ القرآن کے مطابق تفکر میں ایک ذہنی تصویر سامنے ہوتی ہے جبکہ تدبر ایک انفعالی رویہ ہے لیکن یہ زیادہ عمیق مطالعہ کا متقاضی ہے۔ تدبر کا لفظ دُبر سے ماخوذ ہے جس سے مراد تہہ تک پہنچنا ہے۔ تدبر کے معنی کسی چیز کی اصل تک رسائی حاصل کرنا ۔ تدبر اور تفکر دونوں قاری کے قلب میں جمع ہوسکتے ہیں۔ اور اپنے وجدان اور فہم کی مدد سے وہ حقائق کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے اور قرآن میں مذکور حقائق اور ان کے باہمی ربط کو اپنے گرفت میں لاسکتا ہے:
بھلا جس کا سینہ کھول دیا اللہ نے دین اسلام کے واسطےسو وہ روشنی میں ہے اپنے رب کی طرف سے، سو خرابی ہے اُن کو جن کے دل سخت ہیں اللہ کی یاد سے وہ پڑے پھرتے ہیں بھٹکتے صریح۔ اللہ نے اتاری بہتر بات کتاب آپس میں ملتی دوہرائی ہوئی، بال کھڑے ہوتے ہیں اُس سے کھال پر اُن لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے۔ پھر نرم ہوتی ہیں اُن کی کھالیں اور اُن کے دل اللہ کی یاد پر۔ یہ ہے راہ دینا اللہ کا، اس طرح راہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جس کو راہ بھلائےاللہ اُس کو کوئی نہیں سجھانے والا۔(سورہ الزمر 22-23 : 39 )۔
ج۔ قرآن اپنے قارئین سے کچھ مطالبات کرتا ہے۔ قرآن میں صرف احکام ہی درج نہیں ہیں بلکہ اخلاقی اصول بھی مذکور ہیں اور ان کا مطالبہ ہم سے بغور مطالعہ کا متقاضی ہے۔ یہ ممکن ہے انسان کے اندرون میں کوئی رکاوٹ ہو۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان کی انا کو یہ پسند نہیں کہ اس کو یہ بتایا جائے کہ وہ کیا کرے اور اپنی مرضی کی کوئی چیز کو ترک کردے۔ مکمل تبدیلی تو بعد کا مرحلہ ہے۔
جہاں تک قرآن کے متن میں رکاوٹوں کا معاملہ ہے تدبیر الٰہی سے اس میں متعدد مقامات ہیں اور قاری رفتہ رفتہ ان کا عادی ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
الف۔ عربی میں التفات کا صیغہ عام ہے اور اس کی رو سے موضوع اور بیانیہ میں مستقل تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ ضمائر میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ بعض مقامات پر اللہ نے اپنا حوالہ بطور وہ کیا ہے جبکہ دیگر مقامات پر میں کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور کہیں کہیں ہم کا اور بعض جگہ اسمائے الٰہی استعمال ہوئے ہیں۔ اللہ کو ضمائر کی مدد سے محدود نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح اللہ کے سلسلہ میں کوئی ایک متعین نقطۂ نظر بھی ممکن نہیں۔ مذکورہ بالا مستقل تبدیلیوں کے مخصوص معنی اور راز ہیں، کبھی کبھی قرآن کے مخاطب بھی بدل جاتے ہیں، بعض مقامات پر نبی اکرم ؐ مخاطب ہیں بعض مقامات پر اہل ایمان اور بعض مقامات پر کافر اور بعض مقامات پر پوری بنی نوع انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ہر نئے خطاب کا مقصود کسی نئے نکتہ کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس تبدیلی سے قارئین یا سامعین کو ایک دھچکا سا لگتا ہے اور وہ اپنے ذہنی تحفظات سے باہر آتے ہیں اور انہیں اپنے بارے میں عرفان نصیب ہوتا ہے۔
ب۔ بظاہر قرآن میں متعدد مقامات پر مبہم اور گنجلک اشارے، تکرار، بیچ میں منقطع جملے، تلخیص اور محذوفات ملتے ہیں البتہ ان سب کے اپنے اپنے معنی اور اسرار ہیں اور ان پر حاوی ہونا لازم ہے۔ ان کے باعث قارئین غور و فکر پر مائل ہوتے ہیں اور غالباً اسی باعث یہ قرآن میں پائے جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا مقامات ایسی چٹانوں کی مانند ہیں جو کہ بظاہر سادہ نظر آتی ہوں لیکن ایک بار ان میں داخل ہونے کے بعد انسان کو غیر متوقع طور پر انتہائی حسین و جمیل مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ج۔ بہت سے ایسے اجزاء بھی قرآن میں ہیں جو بظاہر عجیب و غریب ہیں اور جدید قارئین کے لئے باعث حیرت۔ ان میں سے کچھ کا ہم نے تذکرہ کیا مثلاً آخرت کا مفصل تذکرہ۔ بعض نکات کا ہم آئندہ تذکرہ کریں گے مثلاً قرآن میں شریعت، جہاد اور قلب وغیرہ کا بیان۔ بعض قرآنی مندرجات ساتویں صدی کے عرب کے سیاق و سباق کی عکاسی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر صحراء کا ماحول، قدیم عرب اور بائبل میں مذکور پیغمبروں کے تذکرے اور تجارت سے متعلق علامات اور لفظیات۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن نے ہر انسان کی ذہنی سطح کو پیش نظر رکھا ہے۔ قرآن نے قارئین کی تعلیمی سطح، ان کی نفسیات اور روحانی طور پر معروف موضوعات کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ غرضیکہ قرآن کے مندرجات ہر قاری کے لئے قابل مطالعہ ہیں۔
قرآن کے موضوعات
قرآن کے موضوعات کیا ہیں؟ ابو حامد الغزالی (م 505ھ بمطابق 1011ء) اپنی کتاب جواہرات فی القرآن میں رقمطراز ہیں کہ قرآن کی 6263 آیات 6 بنیادی موضوعات سے متعلق ہیں۔ وہ موضوعات یہ ہیں:
۱۔ اللہ، اس کے نام اور اس کے اسماء اور افعال بشمول تخلیق۔
۲۔ روحانی حکمت اور راہِ الٰہی بالخصوص ذکر الٰہی۔
۳۔ آخرت کا بیان۔
۴۔ ماقبل اسلام کے پیغمبروں، رسولوں اور کافروں اور گنہگاروں کے قصے۔
۵۔ ایمان کے حق میں دلائل اور کفر کی تردید اور
۶۔ احکام، حلال اور حرام اور زندگی بسر کرنے کے طریقے۔
کوئی قرآنی آیت ایسی نہیں ہے جو مذکورہ بالا موضوعات سے متعلق نہ ہو۔ اس کی وجہ غزالی کے الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن کا مقصود لوگوں کو اللہ کی جانب دعوت دینا ہے۔ اسی باعث قرآن کی تمام سورتیں اور آیات انہیں چھ موضوعات سے متعلق ہیں (غزالی ص 3)۔
بالفاظ دیگر قرآن ایسے موضوعات سے متعلق ہے جو انسانوں کے لئے مفید ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ انسان کی فہم میں آئے یا نہ آئے۔ یہ موضوعات انسان کے مذہب اور ان کے روحانی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کے لئے اہم ہیں۔ غرضیکہ قرآن کے موضوعات یہ ہیں:
۱۔ اللہ، ۲۔ اللہ کی جانب راہ اور اس کی حقیقت، ۳۔ اللہ کی جانب مراجعت، ۴۔ ان لوگوں کا بیان جو اللہ کے راستےپر گامزن ہیں اور ان لوگوں کا تذکرہ جنہوں نے یہ راستہ اختیار کرنے سے انکار کردیا اور ان کا انجام، ۵۔ راہ الٰہی کے حق میں دلائل اور اس کے خلاف نکات کی تردید اور ۶۔ راہ الٰہی کے ظاہری احکام۔
قرآن میں کوئی ایسی معلومات نہیں ہے جو روحانی طور پر بے مصرف ہو۔ قرآن میں غیر ضروری تفصیلات کا گزر نہیں وہ اپنے ہدف سے ذرا بھی نہیں ہٹتا، وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقصود پر عمل پیرا رہتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر یہ ہوتا کسی اور کا سوا اللہ کے تو ضرور پاتے اس میں بہت تفاوت۔ (سورہ النساء : 82 : 4)
قرآن بطور آئینہ
قرآن میں انسانی صفات اور انسان کے روحانی وسائل کی تصویر ملتی ہے۔ یہ انسانی روح پر بھی گفتگو کرتا ہے۔ غرضیکہ قرآن انسان کے اندرون کی کیفیت، جذبات اور کردار پر اظہار خیال کرتا ہے۔ یہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ کیا دیکھنے سے قاصر ہے۔ یہی نکتہ درج ذیل قرآنی آیت میں ملتا ہے:
اب ہم نے تمہارے لئے وحی بھیجی ہے اس کتاب میں تمہارے لئے ذکر ہے۔ کیا تم عقل سے کام نہ لوگے؟ (الانبیاء 10 : 21 )
فخر الدین الرازی (م 606ھ بمطابق 1209ء) کی معروف تفسیر مفاتیح الغیب میں مذکور ہےکہ ذکر سے مراد انسان کے ذریعہ اللہ کا ذکر نہیں بلکہ اس کے مثل ہے۔ بالفاظ دیگر قرآن ایک ایسا حیرت انگیز آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل دیکھ سکتا ہے اور اس کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ وہ کیا اور کیا بن سکتا ہے اور کیسے اپنے آپ کو تبدیل کرسکتا ہے؟ اس آئینے میں اپنا عکس دیکھنے کے لئے ذہن اور روح کو پوری طرح سے متوجہ ہونا چاہئے۔ اس نکتے کا تفصیلی جائزہ ہم باب 8 میں لیں گے، جہاں قلب کے خالص ہونے کے بارے میں ہم نے گفتگو کی ہے۔ اللہ کا قول ہے کہ شب و روز میں جو بھی آرام کرتا ہے وہ اللہ ہی کا ہے (الانعام13 : 6 )۔ لوگ جب روحانی طور پر پُرسکون ہوں تبھی وہ قرآن پر غور و فکر کرسکتے ہیں اور اس کا فہم حاصل کرسکتے ہیں۔ درحقیقت یہ کوئی نیا نکتہ نہیں ہے۔ زبر 10 : 46 میں یہ ہدایت ہے کہ پُر سکون اور خاموش رہو اور یہ سمجھو کہ میں خدا ہوں۔ اپنی مثنوی (1538-1544) میں رومی نے اسی نکتہ کو بخوبی ادا کیا ہے:
‘‘قرآن پیغمبروں کی کیفیات کا تذکرہ ہے۔ یہ شوکت الٰہی کے مقدس سمندر کی مچھلیاں ہیں۔ اگر تم قرآن کا مطالعہ کرو اور اس پہ ایمان نہ لاؤ تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کیا تم نے واقعی پیغمبروں اور اولیاء کو دیکھ لیا۔ البتہ جب تم یہ قصے کھلے ذہن کے ساتھ پڑھو تو تمہاری روح کا طائر قفس میں بے چین ہوگا، وہ طائر جو قفس میں ایک قیدی ہے اور فرار نہیں حاصل کرنا چاہتا یہ جہالت ہے۔ خارج سے ان کے پاس صدا آتی ہے اور روح سے بھی، جو ان کو راہ فرار بتاتی ہے۔ اگر ہم اس قفس سے آزاد ہوگئے پھر کوئی مسئلہ نہیں’’۔
قرآن کی اہمیت
اسلام اور مسلمانوں کے لئے قرآن کی جو اہمیت ہے اس کے اعادے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسلمان روزانہ پنج وقتہ نمازوں میں قرآن کی ابتدائی سورہ الفاتحہ اور دیگر آیات کی تلاوت کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ Reformation کے مذہبی انقلاب سے قبل عام عیسائیوں کو براہ راست بائبل کے مطالعہ کی اجازت نہیں تھی۔ بائبل میں ۸ لاکھ ۷ ہزار الفاظ ہیں۔ تقریباً 6 لاکھ 23 ہزار عہد نامہ قدیم میں اور ایک لاکھ چوراسی ہزار عہد نامہ جدید میں۔ قرآن میں صرف 78 ہزار الفاظ ہیں۔ اس میں صرف 114سورتیں اور 6 ہزار 236 آیات ہیں اور کلاسیکی عربی کے 70 ہزار مادوں میں سے قرآن میں صرف 1800 مادے استعمال ہوئے ہیں۔ اسی باعث قرآن کا مطالعہ اور حفظ آسان ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ امر بالکل واضح ہے کہ تاریخ عالم میں قرآن سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسی طرح قرآن وہ کتاب ہے جس کو سب سے زیادہ حفظ کیا گیا ہے۔ آج دس لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں جن کو قرآن بخوبی زبانی یاد ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جنہوں نے اس کا کچھ نہ کچھ حصہ کبھی یاد کیا اور وہ ان کے دل و دماغ میں پوری طرح سے محفوظ ہے۔ ماضی میں زیادہ تعداد میں مسلمان حفظ کیا کرتے تھے گو کہ ماضی میں آج کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ قرآن ہی ان کی تعلیم اور خواندگی کی بنیاد تھا۔ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے ۔
تاریخ میں ایسی کوئی کتاب کی کوئی نظیر نہیں ملتی جس کی اتنی زیادہ تفاسیر تحریر کی گئی ہوں۔ قرآن کی توضیح و تشریح پر مشتمل مکمل تفاسیر ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان تفاسیر میں قرآن کا جائزہ مختلف نقطۂ نظر سے لیا گیا ہے مثلاً لغوی،قانونی، تاریخی، دینیاتی، فلسفیانہ، روحانی اور حد یہ کہ سائنسی نقطۂ نظر سے۔ بعض تفاسیر میں ان نکتہ ہائے نظر کا اجتماع بھی ملتا ہے۔ بہت سی تفاسیر ہزاروں صفحات کو محیط ہیں۔ سنّی اہل علم کی مشہور تفاسیر درج ذیل ہیں:
۱۔ جامع البیان فی تاویل القرآن از محمد ابن جلیل الطبری (م 310ھ بمطابق 222ء) یہ تاریخی تفسیر ہے۔
۲۔ احکام القرآن للشافعی از ابو بکر البیہقی (م 458ھ بمطابٍق 1066ء) یہ احکامی تفسیر ہے۔
۳۔ مفاتیح الغیب از فخر الدین الرازی (م 606ھ بمطابق 1209ء) یہ دینیاتی اور فلسفیانہ تفسیر ہے۔
۴۔ تفسیر الکشّاف از محمود الزمخشری (م 538ھ بمطابق 1143ء) یہ لغوی اور نحوی تفسیر ہے۔
۵۔ الجامع لاحکام القرآن از محمد القرطبی (م 671ھ بمطابق 1272ء) یہ احکامی تفسیر ہے۔
۶۔ ایک جلد پر مشتمل حوالہ کی تفسیر جلالین از جلال الدین المحلّی (م 864ھ بمطابق 1459ء) اور جلال الدین السیوطی (م 911ھ بمطابق 1505ء)۔
ہم اس نکتہ کا بالتفصیل جائزہ آئندہ لیں گے کہ اسلام کی دو بڑی شاخیں سنّی اور شیعہ اسلام ہیں۔ غالباً سب سے اہم شیعہ کلاسیکی تفاسیر یہ ہیں:
۱۔ تفسیر از العلی القمّی (م 307ھ بمطابق980ء)۔
۲۔ التبیان بالتفسیر القرآن از محمد الطوسی (م 459ھ بمطابق 1067ء) اور
۳۔ مجمع البیان از فضل الطبرسی (م 459ھ بمطابق 1067ء)۔
البتہ ان کے علاوہ درجنوں سنّی اور شیعہ تفاسیر اور بھی ہیں جو انتہائی اہم اور مستند ہیں یہ مذکورہ بالا فہرست کے علاوہ ہیں۔ ہمارے اپنے دور میں بھی متعدد تفاسیر منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ بعض تفاسیر کی شرح بھی تصنیف کی گئی ہے اور ان شروح پربھی شرحیں تحریر کی گئی ہیں۔ ان سب سے یہ ثابت ہے کہ تاریخ عالم میں قرآن کےعلاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس کا اس وسیع پیمانے پر اور بالاستیعاب مطالعہ اور تلاوت کی گئی ہو جس کے بارے میں ایسا غور و فکر ہوا ہو اور جس کے متعلق اتنا کچھ لکھا گیا ہو۔ اسی طرح قرآن سے زیادہ کسی کتاب کو حفظ نہیں کیا گیا ہے۔ ان تمام پہلؤوں کے لحاظ سے قرآن صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ تاریخ عالم کی ایک اہم ترین کتاب ہے۔
فکر اسلامی پر قرآن کا اثر
یہ امر بالکل واضح ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کے تصور عالم کو متاثر کیا ہے۔ ہر موضوع پر قرآن کی اپنی رائے ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو بازؤوں سے مگر ہر ایک امت ہے تمہاری طرح، ہم نے نہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز، پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے۔(سورہ الانعام 38 : 6 )۔
تمام اسلامی دینی علوم کی بنیاد قرآن ہے خواہ وہ عقائد ہوں یا دینیات شریعیہ ہوں یا روحانی اعمال اور اخلاقیات۔ جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا قرآن ہی عربی زبان کی تمام لسانیاتی شاخوں کا اصل ہے، اس میں علم المعانی، علم الاشتقاق، تفسیر، بلاغت، منطق، نحو، صوتیات، تلاوت، کتابت، خطاطی، مسودے، کتاب سازی، مصوری اور رنگ بھرنے کے شعبے بہ شامل ہیں۔ البتہ یہ نکتہ اتنا واضح نہیں ہے کہ قرآن اسلامی فلسفہ کی بھی اساس ہے مثلاً نفسیات، علم الانسان، علم المعاشرت، فلکیات، مابعد الطبیعیات، علم الاعدادا، محبت، وقت، منطق، شعور جیسے موضوعات کی اساس بھی قرآن پر ہے۔ دور جدید میں بعض حضرات قرآن کا مطالعہ طبعی سائنس کی روشنی میں کرتے ہیں لیکن یہ امر متنازع ہے کیونکہ سائنسی معلومات ہنوز ترقی پذیر ہیں اور ان میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں لہٰذا اگر کسی آیت قرآنی کی تشریح سائنس کے کسی متعین پہلو سے کی جائے اور پھر اس پہلو میں کوئی تبدیلی واقع ہوجائے تو اس سے مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس قبل مذکور ہوا قرآن اسلامی فنون لطیفہ بالخصوص خطاطی اور فن تعمیر کی بنیاد ہے۔ قرآن کی لحن کے ساتھ تلاوت ایک مزید فن ہے۔ اس کو موسیقی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ لوگ خوش الحانی کے ساتھ تلاوت قرآن کو اس کے صوتیاتی اسلوب کے باعث بڑی شوق کے ساتھ سنتے ہیں۔ اگر کسی مسلم ممالک میں ٹریفک بند ہو تو اس بات کا امکان ہے کہ کوئی شخص اپنی گاڑی میں بیسویں صدی کے کسی مصری قاری مثلاً عبد الباسط، عبد الصمد یا محمود الشاری یا محمد الطبلاوی کی تجوید سے محظوظ ہورہا ہو۔ قرآن مسلمانوں کے روز مرہ زندگی کے رویوں کی بھی بنیاد ہے۔ یہ ہر معاملہ میں قول فیصل ہے اور ہر جذبہ کی تہذیب کا ذریعہ بھی۔ درحقیقت مسلمان کی زندگی کا ہر پہلو قرآنی فقروں سے عبارت ہے اور ہر درجہ متاثر۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں مسلمان قرآنی فقرےاس کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ یہ ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے حتی کہ غیر عربی داں مسلمان بھی ان قرآنی فقروں کو بآسانی اور کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے قرآنی طریقۂ سلام السلام علیکم کا تذکرہ کیا۔ اس کے علاوہ اسلامی ثقافت میں درج ذیل قرآنی فقرے بھی معروف ہیں مثلاً :
بسم اللہ یا بسم اللہ الرحمن الرحیم جس کا مطلب ہے اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ کسی کام کی ابتدا کرنا۔
الحمد للہ یا الحمد للہ رب العالمین جس کا مطلب ساری تعریف سب جہانوں کے رب کے لئے ہے۔ یہ فقرہ عام طور سے کسی چیز کے اختتام پر یا کسی پُر مسرت موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔
انشاء اللہ یعنی اگر اللہ کی مرضی ہو۔ مستقبل کے بارے میں کسی بات کے لئے یہ فقرہ استعمال ہوتا ہے۔
ماشاء اللہ اس کے معنی ہیں جو اللہ کی مرضی ہو۔ بالعموم کسی خوبصورت چیز کی تعریف کے موقع پر اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
لا قوۃ الّا باللہ یا لاحول ولا قوۃ الّا باللہ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قوت یا طاقت نہیں۔ اس کا استعمال بے کسی اور بے بسی کے عالم میں کیا جاتا ہے۔
توکلنا علی اللہ اس سے مراد ہے کہ ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا استعمال بالعموم سفر سے قبل کیا جاتا ہے۔
حسبی اللہ یا حسبنا اللہ و نعم الوکیل اس کے معنی ہیں کہ اللہ میرے لئے کافی ہے یا کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور کیسا عمدہ ولی اور سرپرست ہے۔ اس کا اظہار صبر، طمانیت اور مسائل سے درپیش ہونے پر ہوتا ہے۔
سبحان اللہ اس کے لفظی معنی اللہ ہی کے لئے ساری پاکی ہے۔ اس کا استعمال کسی حیرت انگیز چیز کے بارے میں کرتے ہیں۔
اللہ اکبر اس کے لغوی معنی ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ بالعموم فتح یا کسی چیز پر قابو پانے یا اس کی فہم حاصل کرنے کے موقع پر اس کو استعمال کرتے ہیں۔
تبارک اللہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ برکت دے یا اللہ عظیم ہے۔ یہ فقرہ قرآن میں سورہ الفرقان کی آیت ۱ میں اور دیگر مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کا استعمال شمالی افریقہ میں بہت عام ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ ہی ہر برکت اور خیر کا باعث ہے۔
انّا للہ و انّا الیہ راجعون اس کے لغوی معنی ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کے پاس لوٹیں گے۔ اس کا استعمال مصیبت یا وفات کے موقع پر ہوتا ہے۔
یا لطیف اس کے لغوی معنی ہیں شفیق، انتہائی تکلیف کے موقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔
أعوذ باللہ یا أعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم جس کا مطلب ہے کہ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں یا یہ کہ میں مردود شیطان سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ بدی یا برائی سے نبرد آزما ہونے کے لئے یہ فقرہ استعمال ہوتا ہے۔
اللھم صلی علی سیدنا محمد اس کے معنی ہیں یا اللہ ہمارے مولیٰ محمد ؐ پر برکت اور سلامتی ہو۔ اس کا استعمال غصہ پر قابو پانے یا کسی بات کو یاد کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
لا الٰہ الّا اللہ جس کے معنی ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ کلمہ موت سے قبل پڑھا جاتا ہے۔
مختصراً قرآن اسلام کی روحانی زندگی، اخلاقیات، علم، علوم و فنون، زبان، تصور حیات، معاشرتی معاملات، فنون اور ثقافت کا براہ راست مآخذ ہے۔
قرآن کی تشریح
کسی بھی مفصل متن کی تشریح مختلف طریقوں سے عین ممکن ہے۔ غلط تشریح کے باعث متن کے بالکل برخلاف مطلب پیش کیا جاسکتا ہے مثال کے طور پر ولیم شیکسپیر (م ۱۶۱۶ء) کا ایک طویل ڈرامہ ہیملٹ ہے جو کہ اپنی ضخامت میں قرآن سے بہت کم ہے۔ اس ڈرامے میں ہیملٹ اوفیلیا سے کہتا ہے ‘‘اچھی صفات ہمارے قدیم عادتوں کو متاثر نہیں کرسکتیں لیکن ہم ان سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں’’۔ اگر سیاق و سباق کا خیال نہ کیا جائے تو مذکورہ بالا سطروں سے مفہوم برآمد ہوتا ہے کہ برائی برائی ہی رہتی ہے اور اس میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ یا اس سے یہ مفہوم ابھرتا ہے کہ صفت محض ایک التباس ہے۔ لیکن درحقیقت اس ڈرامے میں اور مذکورہ بالا سطروں میں اس حقیقت کا اثبات ہے کہ ہمیں اپنی فطرت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہئے اور گناہ سے باز رہنا چاہئے۔ یہی ان سطروں کا مطلب ہے لیکن اس مطلب کو اخذ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس ڈرامے کے سیاق و سباق سے واقف ہوں اور اس کے مالہٗ اور ما علیہ پر حاوی ہوں۔
ایک دوسری مثال انجیل کی ہے۔ عہد نامہ جدید کی چاروں کتابیں بھی ضخامت میں قرآن سے کم ہیں۔ انجیل کا پیغام بنیادی طور پر محبت، امن اور اُخروی زندگی کا ہے۔ اس کے باوصف کوئی شخص عیسیٰ علیہ السلام کے ان الفاظ کے بالکل دوسرے معنی لے سکتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے کہ میں امن قائم کرنے کے لئے نہیں بلکہ تلوار لے کر آیا ہوں (میتھیو 34 : 10)۔ یا ان کا یہ فقرہ کہ ان کو آنے پر مجبور کرو (لیوک23 : 14 ) یا عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول کہ میرے سامنے میرے دشمنوں کو لاؤ جو یہ نہیں چاہتے کہ میں ان پر اپنا اقتدار قائم کروں ان کو میرے سامنے قتل کرو (لیوک 27 : 19)۔
مذکورہ بالا فقروں سے کوئی شخص یہ مطلب نکال سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے پوری دنیا میں جنگ برپا کرنے یا لوگوں کو زبردستی عیسائیت میں داخل کرنے ورنہ قتل کئے جانے کا حکم دیا۔
یہی خطرہ قرآن کی غلط تشریح سے بھی متعلق ہے۔ مثال کے طور پر اس آیت کا مطالعہ کریں جو آیت سیف سے موسوم ہے:
پھر جب گذرجائیں مہینے پناہ کے تو مارو مشرکوں کو جہاں پاؤ اور پکڑو اور گھیرو اور بیٹھو ہر جگہ ان کی تاک میں، پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا رستہ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ التوبہ5 : 9 )۔
اس آیت میں واضح طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں کو قتل کیا جائے جب کہ ان کو متنبہ کرنے کا عرصہ ختم ہوجائے البتہ جس سیاق و سباق میں مذکورہ بالا آیت آئی ہے اس کے مطالعہ کے دوران یہ آیت بھی پیش نظر رہنا چاہئے:
کیا نہیں لڑتے ایسے لوگوں سے جو توڑیں اپنی قسمیں اور فکر میں رہیں کہ رسول ان کو نکال دیں اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے۔ کیا اُن سے ڈرتے ہو، سو اللہ کا ڈر چاہئیے تم کو زیادہ اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ (سورہ التوبہ13 : 9 )۔
مذکورہ بالا آیت سے یہ واضح ہے کہ زیر گفتگو جنگ ایک دفاعی جنگ تھی۔ مسلمانوں کے خلاف مشرکین نے اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ان مشرکوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدے سے غداری کی اور یہ معاہدہ توڑ ڈالا۔ قانونی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے اب ایک بالکل مختلف صورتحال تھی۔ مزید برآں، مذکورہ بالا آیت ایک مخصوص معاملے اور مخصوص سیاق و سباق سے متعلق ہے۔ اس کو عمومی رنگ دینا اور کسی دوسرے دور یا کسی اور صورتحال میں اس کا انطباق کرنا قطعاً غلط ہے۔ غرضیکہ کسی قرآنی آیت کا اپنی مرضی کے مطابق انتخاب صحیح نہیں بلکہ اس کو اس کے پورے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔
ایک اور آسان مثال درج ذیل ہے۔ قرآن میں یہ فقرہ آیا ہے ‘‘اے اہل ایمان نماز کے قریب بھی مت آؤ’’ (سورہ النساء 43 : 4 )۔ اگر کوئی شخص محض یہ فقرہ سنے تو یہ سمجھے گا کہ نماز منسوخ ہے اور نماز پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی بھی مذہب میں یہ تصور بہت ہی عجیب و غریب ہے۔ درحقیقت مذکورہ بالا فقرہ شراب کو حرام قرار دئیے جانے کا ایک جزو ہے اور مکمل آیت یہ ہے کہ ‘‘اے اہل ایمان! جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب بھی مت آؤ یہاں تک کہ تم اس حال میں ہو کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اسے اچھی طرح سمجھو (سورہ النساء 43 : 4 )۔ غرضیکہ اپنی مرضی کے مطابق یا نا مکمل طور پر قرآن سے اقتباس لینا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ امر طمانیت بخش ہے کہ قرآن نے اپنی توضیح اور تشریح کے قواعد اور ضوابط خود طے کردئیے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں یہ وعدہ کیا ہے کہ اللہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کی وضاحت کرے۔ (القیامہ19 : 75)۔ ان قواعد و ضوابط کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں البتہ بعض بنیادی اصولوں کا تذکرہ ذیل میں درج ہے:
۱۔ جیسا کہ ابھی ہم نے مشاہدہ کیا کسی بھی معاملے پر بحث کرتے ہوئے ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ قرآن نے اس معاملے میں جو کچھ کہا ہے اس کو پیش نظر رکھا جائے اور صرف قرآن ہی نہیں متعلقہ احادیث کا بھی مطالعہ کیا جائے۔ اس ضمن میں ہم اپنی مرضی کے مطابق کسی آیت کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے : ‘‘کیا تم کتاب کے صرف ایک جزو میں یقین رکھتے ہو اور دوسرے جزو کا انکار کرتے ہو’’ (البقرہ 85 : 2 )۔ اللہ نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے خلاف ہمیں خبردار کیا ہے (الحجر91 : 15 )۔
۲۔ جیسا کہ ہم نے مشاہدہ کیا جہاں تک ممکن ہو قرآنی آیات کے اسباب نزول ، سیاق و سباق اور تاریخی پس منظر کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ قرآن نے ایسے افراد کی مذمت کی ہے جو سیاق و سباق کے بغیر بات کرتے ہیں۔ قرآن کا الزام ہے کہ یہ لوگ سیاق و سباق سے غیر متعلق الفاظ کو غلط معنی دیتے ہیں اور جس بات کی ان کو تذکیر کی گئی تھی اس کو فراموش کردیتے ہیں (المائدہ 13 : 5 )
۳۔ سیاق و سباق اور مکمل آیت ہونے کے علاوہ ایک پہلو عربی زبان کا بھی ہے جو شخص قرآن کی تشریح کرے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ کلاسیکی عربی پر قادر ہو اور قرآن کے غیر عربی الفاظ سے بھی واقف ہو۔ اس شخص کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ کلاسیکی عربی کے قرآن میں مستعمل الفاظ کے معنی سے واقف ہو اور اسے یہ بھی معلوم ہوکہ بعض الفاظ کے ایک سے زیادہ معنی بھی ہوتے ہیں اور کسی سیاق و سباق میں ایک سے زیادہ معنی ممکن ہیں۔ قرآن میں آتا ہے: ‘‘یہ وہ قرآن ہے جو الرحمن اور الرحیم کی جانب سے وحی کیا گیا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی نشانیاں عربی قرآن میں اہل علم لوگوں کے لئے بیان کی گئی ہیں’’ (فصّلات 1-3 : 41)۔ غرضیکہ قرآن کی تشریح کے لئے نحو، بلاغت، لفظیات مثلاً مبالغہ، محذوفات، استعاروں اور دیگر صنائع بدائع کا شعور ہونا چاہئے۔ اسی طرح الفاظ کی ترتیب و ترکیب اور علم المعانی، علم الاشتقاق کا علم بھی لازمی ہے۔ ماقبل اسلام کی جاہلیہ شاعری سے بھی واقف ہونا چاہئے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کی اور اسے علم البیان سکھایا (الرحمن 3-4 : 55)۔
۴۔ قرآن کی صرف 5 فیصد آیات صرف احکام سے متعلق ہیں۔ یہ آیات اپنے معنی کے لحاظ سے بالکل واضح ہیں۔ دیگر آیات کا تعلق حقیقت عظمی، نیک صفات، حکمت، ہدایت، نبی اکرم ؐ سے قبل کے انبیاء کفار آخرت اور دیگر موضوعات سے متعلق ہیں۔
قرآن کی متعدد آیات متشابہ اور علامتی ہیں اللہ نے خود قرآن میں اس کا ذکر کیا ہے کہ اس نے کتاب نازل کی ہے اور اس میں کچھ آیات محکم ہیں اور وہ قرآن کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہ ہیں۔ (آل عمران 7 : 3 )۔ غرضیکہ جو شخص قرآن کی تشریح کا خواہشمند ہے اس کو یہ بخوبی علم ہونا چاہئے کہ کون سی آیات احکامی ہیں اور کیوں۔ مزید برآں، کچھ احکامی آیات مشروط ہیں اور کچھ مطلق اور کچھ آفاقی اور عمومی ہیں اور کچھ مخصوص اور متعین۔
۵۔ ٍاحکامی آیات واضح ہیں لغوی اعتبار سے بھی اور اپنے معنی کے لحاظ سے بھی لیکن کچھ احکامی آیات مثال کے طور پر سورہ النساء کی آیت 130 میں استعاراتی زبان استعمال کی گئی ہے۔ متشابہ آیات لغوی ہیں اور ان بعض میں یہ صورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سورہ الاسراء کی آیہ 72 میں بصارت نہیں بلکہ بصیرت کا ذکر ہے۔ اس کے یہ لغوی معنی نہیں ہیں کہ سبھی نابینا حضرات آخرت میں عذاب کے مستحق ہوں گے۔
۶۔ متشابہ آیات کی علامتی تشریح جائز ہے۔ بشرطیکہ یہ تشریح لغوی اعتبار سے صحیح ہو اور کسی عقیدے یا شریعت کو مسخ نہ کیا جائے۔ اور اس کے ایک واحد معنی پر اصرار بھی بجا نہیں ہے۔ نبی اکرم ؐ کا قول ہے کہ ‘‘ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور معنی کے لحاظ سے باطن” (صحیح ابن حبان)۔ مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں ایک مفسر کا قول ہے ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ کسی آیت کے باطنی معنی بیان کرتے ہوئے یہ اصرار نہیں کرنا چاہیئے کہ اس کے یہی واحد معنی ہیں اور اس کے سوا اس کے کوئی اور معنی ممکن نہیں۔ کیونکہ باطنی اور عام تشریح میں فرق ہے۔ ابن عباس کی درج ذیل آیت کے بارے میں یہ رائے ہے۔ آیت ہے :
اللہ آسمان سے بارش بھیجتا ہے اور وادیاں اپنی صلاحیت کے لحاظ سے بارش سے بھر جاتی ہیں۔ (الرعد 17 : 13)۔ ابن عباس کی رائے میں بارش سے مراد یہاں علم ہے اور وادیوں سے مراد قلوب۔ (عبد الرحمن عیدرث، The Fragrant Scent، ص۔1)۔
قرآن کے مطالعے کے دوران یہ واضح ہوتا ہے کہ کفار کا اندرون بیان ہوا ہے اور ان کے دلائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ابنیاء اکرام اور ان کی تلمیحات کی بھی عکاسی ہے۔ وہ مقامات جہاں یہ انبیاء آئے ان کے اپنے خود کے قلوب ہیں اور قرآن میں مذکور شر اور خیر ہمارے روحانی اور دنیاوی رویہ کے مطابق ہیں اور یہ تلاطم روح میں برپا ہوتا رہتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ قرآن ایک حیرت انگیز آئینہ ہے جولوگوں کو ان کی اصل تصویر دکھاتا ہے اور یہ لوگوں کو یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ وہ کیا بن سکتے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے۔ اس کا ذکر اس باب کے آغاز میں درج آیت میں بھی ہوا ہے۔
اب ہم نے تمہارے لئے وحی بھیجی ہے اس کتاب میں تمہارے لئے ذکر ہے۔ کیا تم عقل سے کام نہ لوگے؟ (الانبیاء 10 : 21 )
۷۔ وحی کی ترتیب:۔ کچھ آیات قرآنی دیگر آیات قرآنی کی ناسخ ہیں۔ بعض آیات سے متعلق دیگر آیات میں مناسب تبدیلی کی گئی ہے:
جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے برابر، کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(سورہ البقرہ106 : 2)۔
غرضیکہ قرآن کے مفسر کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ وحی کی ترتیب اور تمام احکامی آیات سے بخوبی واقف ہو۔
مذکورہ بالا مباحث سے ایسا تاثرہوتا ہے کہ اس ضمن میں بہت کام کی ضرورت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرون وسطیٰ یا کلاسیکی ذریعہ تعلیم میں خواہ وہ عالم اسلام میں ہو یا مغرب میں، مذکورہ بالا موضوعات کا درس بچوں اور نوجوانوں کو دیا جاتا تھا۔ یہ ان کی فکر کے لازمی اجزاء تھے۔ باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے نحو، منطق اور بلاغت کو لازمی تصور کیا جاتا تھا اور یہ کلاسیکی تعلیم کا جزو لاینفک تھے۔ ان علوم کی مدد سے طالب علم اخذ کرنے اور غور فکر کرنے پر قادر ہوتا۔ آج متن کی تشریح ایک دشوار عمل محسوس ہوتا ہے بالخصوص قرآن کی تفسیر۔ لیکن ماضی میں یہ ایک فطری اور معقول سرگرمی تھی۔
اس سب کے باوصف مفسر قرآن کو متعدد امور کا علم ہونا چاہئیے۔ مثال کے طور پر آیات قرآنی کی نبوی تشریح اور توضیح، کلاسیکی تفاسیر کا مطالعہ، یہ علم کہ کون سی آیات کا اطلاق عمومی ہے اور کن کا خصوصی، قرآن کے اندرونی شہادت اور حوالے اور یہ علم کہ قرآن میں کچھ بھی فاضل یا غیر ضروری نہیں ہے۔ نظری طور پر قانون سے واقفیت اور منطق کے قوانین سے باخبر ہونا بھی ضروری ہے۔ ان اصولوں کا تذکرہ السیوطی (م 911ھ بمطابق 1505ء) کی تصنیف الاتقان فی علوم القرآن میں بالتفصیل درج ہے۔ البتہ زیر بحث نکتہ یہاں یہ ہے کہ حکمت اخذ کرنے کے لئے کوئی بھی شخص قرآن کا مطالعہ کرسکتا ہے۔ لیکن آیات قرآنی سے احکام مستنبط کرنا ہر ایک کے لئے ممکن نہیں اور جو شخص اس ضمن میں باصلاحیت نہ ہو اس کو یہ کوشش بھی نہیں کرنا چاہئے۔ نتائج برآمد کرنا اور استنباط کرنا علم طب کی مانند ہے۔ کوئی بھی شخص علم طب سے مستفید ہوسکتا ہے لیکن چند تربیت یافتہ افراد ہی باقاعدہ معالج بن پاتے ہیں۔لہٰذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کا مطالعہ لائق اساتذہ کی نگرانی میں ایک عرصہ تک کیا جائے۔ اس کا اطلاق ایسی تشریح پر بالخصوص ہوتا ہے جس سے لوگوں کو ضرر پہنچنے کا خدشہ ہو۔ نبی اکرم محمد ؐ نے اس بارے میں بالخصوص متنبہ کیا۔ آپ ؐ نے فرمایا ‘‘جو کوئی قرآن کے بارے میں اپنی رائے یا لاعلمی کی بنیاد پر کچھ کہتا ہے تو اس نے اپنا مقام دوزخ میں بنالیا’’۔ (ترمذی، ابو داؤد اور احمد)۔
قرآن کے بارے میں جن لوگوں کے ذہن میں سوال ہوں ان کی رہنمائی کے لئے وسائل موجود ہیں۔ عالم عرب میں دنیا کی تین قدیم ترین دانشگاہیں ہیں اور یہ اسلامی جامعات ہیں۔ یہ ہیں: الزیتونیہ یونیورسٹی، تیونس جو ۱۲۰ھ بمطابق ۷۳۷ء میں قائم ہوئی۔ قراوین یونیورسٹی فیض، مراکش میں جس کی بنیاد ایک عرب خاتون نے 859ء میں رکھی اور قاہرہ میں جامعہ الازہر جو کہ 975ء میں قائم ہوئی اور اب دنیا کی سب سے بڑی دانشگاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ سنّی دینیات اور علوم کا سب سے بڑا مرکز الازہر ہے اس کے چار ہزار تدریسی مراکز ہیں اور پانچ لاکھ سے زائد طالب علم، جبکہ 20 لاکھ طلباء اس کے زیر اہتمام اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں لہٰذا بہترین صورت یہ ہے کہ ان جامعات سے اور ان جامعات کے علماء یا ان جامعات کے فارغین یا عصر حاضر کے دینی اداروں مثلاً برّ صغیر ہند و پاک میں دار العلوم دیو بند اور اس کے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائیے کہ ان اداروں میں معیاری طریقوں پر عمل ہوتا ہے۔

قرآن کی حفاظت
اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن کی حفاظت کیسے کی گئی۔ اس معاملے میں آج کے دور میں بعض افراد ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں جو قرآن ہے وہ ہوبہو وہی قرآن ہے جو اللہ نے نبی اکرم محمد ؐ پر نازل کیا تھا، لفظاً لفطاً حرفاً حرفاً یہ وہی قرآن ہے۔ اس طرح سے یہ دنیا کی مذہبی کتب میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کی اس صفت میں دنیا کی عام کتابیں شریک نہیں ہیں جیسا کہ ہر ناشر کے علم میں ہے۔ کتابوں میں عام طور پر نظر ثانی کی جاتی ہے یا ان کی کتابت کے دوران کچھ غلطیاں در آتی ہیں اور یہ بات آج کے دور کے کمپیوٹر اور ڈیجیٹل دور پر بھی صادق آتی ہے۔
قرآن کو جس طرح سے محفوظ کیا گیا اس کی تمام تفصیلات پوری طرح سے محفوظ ہیں اور تاریخی لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ نبی اکرم ؐ کے حیات مبارکہ میں جب بھی کبھی نئی آیتیں نازل ہوتی تھیں صحابہ کرام ان کو ہڈیوں، پتھروں، لکڑی کے تختوں، کھجور کی شاخوں اور کھال اور دیگر چیزوں پر لکھ لیا کرتے تھے۔ پھر ان آیات کی وہ نبی اکرم ؐ کی موجود گی میں تلاوت کرتے۔ یہ واضح رہے کہ نبی اکرم ؐ خواندہ نہ تھے۔ ابتدائی وحی بھی اسی طور پر دائرہ تحریر میں لائی گئی۔ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ جو بعد میں خلیفہ راشد بھی ہوئے وہ مکّہ میں 616ء یعنی مدینہ ہجرت سے 6 سال قبل ایمان لائے۔ ہجرت وہ واقعہ ہے جس سے اسلامی تقویم کا آغاز ہوتا ہے۔ اسلام لانے سے قبل عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی اپنے بہنوئی سعید ابن زید اور اپنی بہن فاطمہ سے تلخ کلامی ہوئی جو اس وقت سورہ طٰہٰ کی تلاوت میں مشغول تھے (ابن ہشام، السیرہ النبویہ)۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وحی کے پہلے سال ہی سے قرآن کو تحریری شکل میں محفوظ کیا جانے لگا تھا۔
نبی اکرم ؐ کے تقریباً 65 صحابہ نے مختلف اوقات میں نبی اکرم ؐ کے کاتب کے طور پر فرائض انجام دئیے۔ نبی اکرم ؐ بذات خود آیات اور سورتوں کی ترتیب کی نگرانی کرتے تھے۔ اپنی حیات مبارکہ میں نبی اکرم ؐ نے یہ ممانعت کررکھی تھی کہ قرآن کے سوا کسی اور چیز کو تحریر میں نہ لایا جائے اور اس کا اطلاق آپؐ کی احادیث پر بھی ہوتا تھا تاکہ کسی غلط فہمی کا امکان نہیں رہے۔ غرضیکہ نبی اکرم ؐ کی حیات مبارکہ ہی میں مکمل قرآن تحریری شکل میں دستیاب تھا۔
نبی اکرم ؐ کی وفات ۱۱ھ بمطابق 632ء میں ہوئی۔ اور اس سے خاصا قبل چونکہ کوئی نئی وحی نہیں آئی تھی اور آپؐ کی حیات میں پورے قرآن کو ایک کتابی شکل نہیں دی گئی تھی۔ نبی اکرم ؐ کی وفات کے بعد جنگوں میں خاصی تعداد میں حافظ قرآن شہید ہوئے۔ آپؐ کے صحابہ درحقیقت معلموں اور علماء کی ایک جماعت تھے۔ وہ نہ صرف قرآن کا مطالعہ کرتے بلکہ وہ کلاسیکی عربی میں بھی درک رکھتے تھے۔ عربی زبان ماقبل اسلام کی عرب تہذیب و ثقافت میں ایک باعث افتخار شئے تھی۔ غرضیکہ کہ جب حفاظ صحابہ کی تعداد میں کمی واقع ہونے لگی تو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں قرآن ضائع نہ ہوجائے لہٰذا خلیفہ اول نبی اکرم ؐ کے جانشین ابو بکر الصدیق ابن ابی قحاٖفہ رضی اللہ عنہ (ان کا دور حکومت 11ھ تا 13ھ بمطابق 632ء تا 634ء ہے) نے قرآن کے معروف کاتب زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد یہ ذمہ داری کی کہ وہ قرآن کے تمام تحریری اجزاء کو ایک مصحف کی شکل دیں۔ یہ امر قابل غورہے کہ زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ خود بھی حافظ قرآن تھے۔ ہر چند کہ زید رضی اللہ عنہ نوجوان صحابی تھے لیکن ان کو نبی اکرم ؐ کا اعتماد حاصل تھا اور پوری امت مسلمہ ان پر اعتبار کرتی تھی۔ وہ ان چند خوش نصیب صحابہ میں شامل تھے جو ان مجالس میں موجود تھے جن میں جبرئیل علیہ السلام نے مکمل قرآن کی ماہ رمضان میں نبی اکرم ؐ کے سامنے تلاوت کی۔
حالانکہ زید رضی اللہ عنہ خود حافظ قرآن تھے انھوں نے آنحضرتؐ کی حیات مبارکہ میں تحریر کئے جانے والے تمام اجزاء کو جمع کرنا شروع کیا اور ان کی جانچ پڑتال کی۔ انھوں نے کسی ایسے جز کو قبول نہیں کیا جس کی تصدیق دو گواہوں نے نہ کی ہو۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پوری امت مسلمہ کو یہ حکم دیا تھا کہ جو بھی باصلاحیت صحابی ہو وہ جمع قرآن کے اس عمل میں شریک ہو ۔ جمع قرآن کی یہ سرگرمی مسجد نبوی، مدینہ میں انجام پاتی تھی۔ اس کے نتیجہ میں قرآن مکمل طور پر جمع ہوگیا گو کہ اس کے صفحات کا حجم مختلف تھا۔ اس کی تکمیل کے بعد اس مصحف کو نبی اکرم ؐ کی بیوہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ کردیا گیا۔
خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں اسلام دور دراز مقامات تک پھیل چکا تھا۔ اسلام ایشیا سے افریقہ تک اپنے جھنڈے گاڑ چکا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاعات ملیں کہ مختلف مقامات پر قرآن کو مختلف لہجوں میں پڑھا جاتا ہے لہٰذا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ قرآن کو ایک باقاعدہ مصحف کی شکل دی جائے اور اسے قبیلہ قریش کے لہجے میں مرتب کیا جائے یہ وضاحت غیر ضروری ہے کہ قریش کا قبیلہ نبی اکرم ؐ کا قبیلہ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس مصحف کے کئی نسخے تیار کرائے اور ان کو اہم شہروں کو روانہ کیا۔ تحریری متن کی صحت کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ جمع قرآن اور شہادت کے طریقۂ کار کو ایک بار پھر بروئے کار لائے۔ اس طریقہ پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی عمل درآمد ہوچکا تھا۔ صحابہ اکرام اور 12 صاحب علم صحابہ کی مجلس شوریٰ نے جمع قرآن کی اس سرگرمی پر نظر رکھی۔ اس مجلس میں زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ پھر اس مصحف کا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود مصحف سے مقابلہ کیا گیا اور دونوں نسخے بالکل یکساں پائے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس مصحف کا مقابلہ ان اجزاء سے بھی کیا جو نبی اکرم ؐ کی دوسری بیوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دیا کہ قرآن کے بقیہ نسخوں کو تلف کردیا جائے یا ان کو اس سرکاری مصحف سے ہم آہنگ کرلیا جائے تاکہ کتابت کی غلطی کا کوئی امکان نہ رہے۔ پھر انھوں نے اس مصحف کے متعدد نسخے تیار کرائے اور ان کو کوفہ، بصرہ، شام، مکہ، بحرین، مصر، الجزیرہ یعنی موجودہ شمالی عراق اور یمن روانہ کئے۔ ان میں سے بعض نسخے آج بھی محفوظ ہیں۔ انھوں نے ایک نسخہ اپنے لئے محفوظ رکھا اور اس کا اصل نسخہ مدینہ میں محفوظ رکھااس کے بعد کی تمام مسلمان نسلوں نے یہ اہتمام کیا ہے کہ قرآن کے متن میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہونے پائے اور مطبوعہ قرآن کا ہر نسخہ ۱۰۰ فیصدی درست ہو۔ یہ امر واقعہ ہے کہ آج ہمارے ہاتھوں میں قرآن کا جو نسخہ موجود ہے وہ ہو بہو وہی ہے جو کہ مصحف مدینہ ہے اور قرآن کے کسی نسخے میں علاقائی اختلافات نہیں پائے جاتے۔
رفتہ رفتہ تحریری عربی رسم الخط میں ایسی ترقی ہوئی جس سے متن قرآن کی صحیح تلاوت میں سہولت ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے غیر عرب افراد بھی مسلمان ہوئے اور ان کو متن کے تلفظ کے لئے مزید مدد کی ضرورت تھی۔
مسلمانوں نے صوتیات کو ایک پورے شعبۂ علم کے طور پر ترقی دی تاکہ قرآن کی تلاوت و تلفظ میں کوئی غلطی نہ در آئے اور مترادف قرأت کو بھی محفوظ رکھا گیا لہٰذا جہاں دیگر زبانوں پر مقامی لہجوں اور وقت کا اثر پڑا ہے مثلاً انگلستان میں انگریزی کے علاوہ امریکہ کی انگریزی، آسٹریلیا کی انگریزی اور اسی طرح فرانس کی فرانسیسی کی علاوہ، کناڈا کی فرانسیسی وغیرہ وغیرہ پائی جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف قرآنی عربی آج بھی اسی طرح لکھی اور پڑھی جاتی ہے اور ایسا ہر مقام پر اور ہر قومیت کے افراد کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی عمل پر مسلمان تیار نہیں ہوتے۔ مزید برآں، قرآن کی بعض آیات روزانہ کم از کم تین دفعہ بآواز بلند باجماعت نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں اور ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے دور سے آج تک دنیا کی ہر مسجد میں ہوتا ہے اور یہ تلاوت ہر جگہ بجنسہٖ یکساں ہوتی ہے۔
مختصراً تاریخ میں کوئی ایسا اور متن نہیں ہے جس کی تحفیظ پر اتنی توجہ دی گئی ہو۔ اس کے باوصف گزشتہ دوسو سال سے مستشرقین کا یہ مسلسل الزام ہے کہ قرآن کے متن میں تبدیلیاں ہوئی ہیں لیکن ان کے دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے۔ اور اس کا سبب محض حسد اور مشنری جذبہ یا محض دشمنی ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے محمد مصطفیٰ الاعظمی کی کتاب The History of Quranic Text from Revelation to Compilation)۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی حفاظت ایک معجزہ ہے اور اس کی حفاظت کی پوری تاریخ محفوظ ہے۔ درحقیقت اللہ نے 1400 سال پہلے یہ متعین وعدہ کیا تھا کہ وہ قرآن کی حفاظت کا نظم کرے گا۔ اور یہ فی نفسہٖ قرآن کے معجزہ ہونے کا ثبوت ہے۔ اللہ نے فرمایا : ‘‘بے شک ہمیں نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہمیں اس کو محفوظ رکھیں گے’’ (الحجر9 : 15 )۔
ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟
مذکورہ بالا نکات کی صراحت ضروری ہے۔ اس سے بھی ضروری ہے کہ جنگوں اور دہشت گردی کے اس ماحول میں جن کو انتہا پسند عناصر برپا کرتے رہتے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے یہ جرائم قرآن سے ماخوذ ہیں۔ اس کا بڑا سبب جہالت ہے۔ انتہا پسند عناصر غیر تربیت یافتہ اور جاہل شیوخ کی باتوں پر عمل کرتے ہیں جو کہ قرآن اور حدیث کی عجیب و غریب اور من مانی تشریح کرتے ہیں اور وہ مسلم علماء کے اجماع کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس صورت حال میں اس وقت تک اصلاح نہیں ہوگی جب تک لوگ یہ بخوبی نہ سمجھ لیں کہ قرآن کی صحیح تعبیر و تشریح کے لئے خاصی محنت اور علم کی ضرورت ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اللہ کے بندوں میں صرف علماء ہی اللہ کا خوف رکھتے ہیں’’ (سورہ فاطر 28 : 35 )۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: