اسلامیات

قربانی کے چند اہم مسائل، قسط نمبر (١)

مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

( قربانی چونکہ سال میں ایک مرتبہ کی جاتی ہے اس لئے عام طور سے لوگوں کے ذہن سے اس کے مسائل محو ہوجاتے ہیں یہاں چند بنیادی مسائل پیش کئے جارہے ہیں تاکہ قربانی صحیح طور سے ادا کی جاسکے)

۔۔۔ قربانی کا ثواب۔۔۔

قربانی کا بڑا ثواب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالی کو پسند نہیں ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول ہوجاتا ہے لہذا خوب خوشی سے اور دل کھول کر قربانی کیا کرو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔۔
سوچنے کا مقام ہے کہ کس قدر اللہ تعالیٰ نے قربانی کرنے پر ثواب عنایت کیا ہے کہ ایک قربانی کرنے پر ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جاتی ہیں ، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم بڑھ چڑھ کر اس مبارک اور پاکیزہ عمل میں حصہ لیں،

۔۔۔۔۔۔۔ قربانی کن پر واجب ہے۔‌‌۔۔۔۔

ہر مسلمان مرد و عورت،آزاد ، مقیم،جو ضروریات زندگی کے علاوہ مقدار نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ ( تقریباً ساڑھے ستاسی گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت یا بنیادی ضروریات کے علاوہ اس قیمت کی جائیداد و سامان کا دسویں ذی الحجہ کی صبح مالک ہو اس پر قربانی واجب ہے،
امام ابو حنیفہ کے نزدیک بالغ، عاقل ہونا ضروری نہیں اگر نابالغ بچہ یا پاگل اتنی جائیداد کا مالک ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے اس پر قربانی واجب ہے اور اس کا باپ یا اس کا ولی اس کی طرف سے قربانی کرے گا،

۔۔۔۔۔۔ قربانی کا جانور۔۔۔۔
قربانی کے جانوروں میں اونٹ پانچ سال سے کم نہ ہو، اس کے علاوہ بیل، بھینس، گائے دو سال سے کم نہ ہو، اور بھیڑ بکری دنبے ایک سال سے کم نہ ہوں، اگر بھیڑ اور دنبہ چھ ماہ سے زائد کا ہو اور اتنا موٹا ہو کہ ایک سال کا نظر آرہا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، قربانی کے جانوروں کو فربہ، تندرست اور بے عیب ہونا چاہیے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کے جانوروں کو کھلا پلا کر خوب قوی کیا کرو کیونکہ پل صراط پر وہ تمہاری سواری ہونگے،
قربانی کا جانور اگر ایسا مریل اور کمزور ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا ہی نھ رھ گیا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں، ایسا جانور جو اندھا ہو یا کانا یا لنگڑا ہو جو مذبح تک نہ جاسکتا ہو یا اس کا کوئی عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو تو ان سب کی قربانی جائز نہیں،
جس جانور کی سینگ پیدائشی طور پر ہی نہ نکلی ہو یا نکلی ہو مگر کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ البتہ جس جانور کی سینگ بالکل جڑ سے ہی ٹوٹ گئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں،
وہ جانور جس کے پیدائشی طور پر کان نہیں ہیں یا ہیں تو بہت چھوٹے ہیں اس کی قربانی درست ہے،
جس جانور کے دانت بالکل ہی نہ ہو اس کی قربانی درست ہے،
گائے اور بکری اگر حاملہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اگر بچہ زندہ نکل جائے تو اس کو ذبح کرکے کھانا بھی درست ہے،
دنبہ بکرا بکری میں صرف ایک ہی حصہ ہو سکتا ہے ایک سے زائد کئی آدمی اس کے حصہ دار نہیں ہوسکتے،۔ بیل گائے اور اونٹ میں سات حصے ہوسکتے ہیں سات سے زائد نہیں،

۔۔۔۔۔ قربانی کا وقت۔۔۔۔۔
دسویں ذی الحجہ سے لیکر بارہویں تاریخ کی شام تک قربانی کرنے کا وقت ہے۔۔ چاہیے جس دن قربانی کرے۔ لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہتر دن بقرعید کا دن ہے، پھر اگیارہویں اور بارہویں تاریخ، بقرعید کی نماز ادا ہونے سے پہلے قربانی جائز نہیں، جب لوگ نماز پڑھ چکیں تب قربانی کی جائے، رات کو قربانی جائز ہے پسندیدہ نہیں، قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو کسی اور سے ذبح کروالے البتہ ذبح کے وقت جانور کے سامنے کھڑا ہونا بہتر ہے،

۔۔۔۔۔۔ قربانی کا گوشت۔۔۔‌

افضل اور بہتر ہے کہ قربانی کا گوشت ایک تہائی غرباء ومساکین پر صدقہ کردے، ایک تہائی اپنے عزیزوں اور دوستوں کو دے، اور ایک تہائی اپنے اہل و عیال کیلیۓ رکھ لے، لیکن اگر کسی شخص کا کنبہ بڑا ہو یا کوئی اور ضرورت ہو تو تمام گوشت خود استعمال کرسکتا ہے، البتہ فروخت کرنا یا قصاب کو مزدوری دینا منع ہے، کئ حصہ دار ہوں تو قربانی کا گوشت آپس میں برابر وزن سے تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے،

۔۔۔ قربانی کرنے والے کیلئے بال اور ناخن تراشنے کا حکم۔۔۔۔

جو شخص قربانی کرے اس کیلئے مستحب ہے کہ ماہ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی نہ کرلے جسم کے کسی عضو سے بال و ناخن صاف نہ کرے کہ قربانی کرنے والا اپنی جان کے فدیہ میں قربانی کررہا ہے اور قربانی کے جانور کا ہر جز قربانی کرنے والے کے جسم کے ہر جز کا بدلہ ہے تاکہ جسم کا کوئی جز نزول رحمت کے وقت غائب ہو کر قربانی کی رحمت سے محروم نہ رھے، ۔۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حکم دیا ہے،۔ لیکن چالیس دن سے زائد کی مدت ہو جاتی ہو تو کراہت سے بچنے کی خاطر بال و ناخن کی صفائی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،

۔۔۔۔۔۔ چند اہم مسائل۔۔۔۔
کسی پر قربانی واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اس جانور کی قربانی واجب ہو گئ ۔۔ کسی پر قربانی واجب تھی لیکن قربانی کے تین دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت کے برابر خیرات کردے اور اگر بکری خریدی تھی تو بعینہٖ وہی بکری خیرات کردے، اگر قربانی کیلئے جانور خریدا اس وقت کوئی ایسا عیب پیدا ہوگیا جس سے قربانی درست نہیں تو اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے، ہاں۔ اگر غریب آدمی ہو جس پر قربانی واجب نہیں تو اس کیلئے درست ہے کہ وہی جانور قربانی کرے، ۔۔
متوفی رشتہ داروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے بزرگوں کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے، البتہ قربانی واجب ہے تو اپنی طرف سے کرنے کے بعد جب سہولت اور گنجائش ہو تو دوسروں کی طرف سے کرے، اگر اپنی خوشی سے کسی مردے کو ثواب پہنچانے کیلئے قربانی کرے تو اس کے گوشت میں سے خود کھانا، کھلانا بانٹنا سب درست ہے، لیکن اگر میت کی وصیت پر قربانی کرتا ہے تو پورا گوشت غرباء ومساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے، قربانی کی کھال کی قیمت کسی کو اجرت میں دینا جائز نہیں اس کا خیرات کرنا ضروری ہے،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: