مضامین

قسط نمبر 2 جمعیۃ علماء ضلع سنتھال پرگنہ کی تشکیل

ماسٹر شمس الضحٰی کھٹنئی

اس انجمن کا دائرہ عمل کھٹنئی، لوبندھا، مال پکڑیا، بھانجپور،بسنت رائے و اطراف، دگھی، شکراواں مواضعات پر مشتمل رہا۔ جس کو وسعت دینے کے لیے علاقے کے علمائے عظام کی ایک میٹنگ ہوئی اور اسی میں جمعیۃ علماء ضلع سنتھال پرگنہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ مولانا محمد رمضان علی صاحب گورگاواں کو صدر اور مولانا محمد امید علی نعمانی صاحب نیموہاں کو ناظم اعلیٰ بنایا گیا۔
ملک میں آزادی کی لہر چل رہی تھی، جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ نے اس میں اپنا فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنے مرکزی صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کو علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور جگہ جگہ حصول آزادی کے عنوان سے پروگرام منعقد کیے۔ چنانچہ اس سلسلے کا ایک پروگرام ماہ اپریل ۴۴۹۱ء میں موضع قصبہ تھانہ مہگاما میں ہوا، جس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ صدر جمعیۃ علماء ہند تشریف لائے۔اس اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ مولانا محمد رمضان علی صاحب نے عربی زبان میں ایک سپاس نامہ تیار کیا، جسے مولانا ابوالانصار صاحب سرمدپوری نے پیش کیا۔
حضرت شیخ الاسلام ؒ کی تشریف آوری سے لوگوں میں جذبہ آزادی بھڑک اٹھا اور اہل علاقہ سرمد پورنے ایک مرکزی جگہ پر صوبائی اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا، چنانچہ ۵۴۹۱ء میں سنہولا ہاٹ بھاگلپور میں ریاست بہار کا اجلاس عام ہوا، جس میں صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، جنرل سکریٹری مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاریؒ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒصاحبان نور اللہ مرقدہم اوردیگر اکابرین تشریف لائے۔ اس اجلاس نے لوگوں کو آزادی کے تعلق سے انتہائی حساس بنادیا اور فیصلہ کیا کہ اس طرح کا پروگرام ہوتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ اس قسم کا ایک دوسرا پروگرام ۶۴۹۱ء میں نوا کھالی بنگال میں رکھا گیا، لیکن عین پروگرام کی تاریخ میں یہاں فرقہ وارانہ فساد ہوگیا، جس کی وجہ سے پروگرام ملتوی کردیا گیا، لیکن جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ کے کارکنان اس اجلاس کے تعلق سے بہت پرجوش تھے، اس لیے آناً فاناً یہ فیصلہ کیا کہ ملتوی اجلاس کو گڈا میں کیا جائے۔ چنانچہ اس کے کچھ ہی دنوں بعد گڈا کے اترہاٹ والے میدان میں ایک عظیم الشان اجلاس عام کیا گیا، جس میں مسلمانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں برادران وطن بھی شریک تھے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پید اکرنے کے لیے اس کی صدارت گڈا ہائی اسکول کے ماسٹر رادھا کرشن پرساد سے کرائی گئی۔ اس جلسہ میں حضرت شیخ الاسلامؒ بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت شیخ ؒنے تاریخی حوالے سے انگریزوں کی سازش و عیاری پر تفصیلی خطاب کیا، جس سے حاضرین بے حد متاثر ہوئے اور پورے ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے میں ایک نقطہ انقلاب ثابت ہوا۔اس پروگرام کے کنوینر پروفیسر عبدالباری صاحب تھے۔ پروفیسر صاحب اس کے بعد جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے الیکشن بھی لڑے؛ لیکن مسلمانوں کی تعداد کم ہونے اور کچھ افراد کی لیگی ذہنیت کی وجہ سے وہ الیکشن ہار گئے۔
انتخابی اجلاس
۷۴۹۱ء یا ۸۴۹۱ء میں جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ کا شہر گڈا میں ایک انتخابی اجلاس منعقد ہوا، اس میں مولانا انور علی نیموہاں استاذ مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ نے سابق صدر جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ مولانا محمد رمضان علی صاحب کا نام دوبارہ صدارت کے لیے پیش کیا۔ مولانا محمد امید علی صاحب نیموہاں نے تائید کی؛ لیکن مولانا محمد رمضان علی صاحب نے شکریہ کے ساتھ اپنا نام واپس لے لیا اور مولانا محمد محی الدین صاحب کھٹنئی کا نام پیش کیا۔ مولانا کے حسن انتخاب پر حاضرین نے اتفاق و تائیدکی۔
از ۷۱، تا۹۱/ اپریل۹۴۹۱ء میں جمعیۃ علماء ہند نے لکھنو میں آزاد کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ کے کارکنان نے بھرپور تیاری کی اور اس علاقے سے کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
ہندستان آزاد ہوچکا تھا۔ جمعیۃ علماء کی کوششوں سے اس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا قائم تھی، تاہم مسلمانوں کے سامنے مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں تھا، چنانچہ مسلمانوں کو آزاد ہندستان میں حق اور فخر کے ساتھ جینے کا حوصلہ دینے کے لیے ۸، ۹ / اگست ۴۵۹۱ء میں گڈا میں اور اگلے دن بسنت رائے میں عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا سید نور اللہ رحمانیؒ صدر جمعیۃ علماء بہار اور نائب صدر جمعیۃ ریاست بہار حضرت مولانا فخر الدین گیاویؒ بھی شریک ہوئے۔ اس اجلاس نے علاقے میں انقلاب پیدا کردیا، جن کے اثرات اس کے مشاہدین اور شرکت کنندگان میں آج بھی موجود ہیں اور اس جلسہ کا ذکر خیر کرتے ہیں۔
ایڈھاک کمیٹی کی تشکیل
۵/ جنوری ۳۶۹۱ء کو جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ کے صدر محترم مولانا محی الدین صاحب کھٹنی کا انتقال ہوگیا، جو علاقہ کے لیے ایک عظیم حادثہ تھا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ انتہائی فعال جمعیۃ تعطل کی شکار ہوگئی اور تنظیمی کاموں کا تسلسل ٹھہر گیا۔ بعد ازاں ریاست بہار کے صدر مولانا سید نور اللہ رحمانی اور نائب صدر مولانا فخر الدین گیاوی نور اللہ مرقدھما نے اس جمود کو توڑنے کے لیے ۸۱/ دسمبر ۳۶۹۱ بدھ کے دن کھٹنئی میں مقامی جمعیۃ کھٹنئی کے زیر اہتمام ایک اجلاس عام کیا، جس میں فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ، مولانا محمد قاسم صاحب میل کھیڑا میوات، مولانا عبدالرحمان کرنپور صدر جمعیۃ علما بھاگلپوراور دیگر اکابرین بھی شریک ہوئے اور خطاب سے نوازا۔
اسی موقع پر صدر جمعیۃ علماء بہار مولانا محمد نور اللہ رحمانی ؒ کی صدارت میں ایک خصوصی نشست ہوئی، جس میں گیارہ افراد پر مشتمل ایڈھاک کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔ افراد کے نام یہ ہیں:
(۱) مولانا سید حفیظ الدین صاحب ندوی گور گاواں
(۲) مولانا محمد شمس الحق صدیقی لوچنی (کنوینر)
(۳) مولانا محمد علاء الدین صاحب دگھی
(۴) جناب ماسٹر محمد تمیز الدین صاحب انجنا
(۵) مولانا الحاج عبدالمجید صاحب گورگاواں
(۶) حاجی محمد ظہور الحق صاحب کھٹنئی
(۷) مولانا حبیب عالم صاحب دگھی
(۸) مولانا انور علی صاحب کیتھیا
(۹) ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کھٹنئی
(۰۱) مولانا محمد حسین صاحب دمکا
(۱۱) محمد شرف الدین صاحب دھپرا
میٹنگ کے بعد مدرسہ اسلامیہ کھنٹئی کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور حلقہ بیعت منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ حضرت فدائے ملت ؒ سے بیعت ہوئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: