مضامین

قطب العالم حضرت مولاناسیدمحمدعلی مونگیریؒ کاعلمی مقام ومرتبہ

مفتی اخترامام عادل قاسمی جامعہ ربانی منورواشریف

قطب العالم حضرت مولانامحمدعلی مونگیری ؒ
جدیدہندوستان کےان معماروں میں ہیں جن کےمقررکردہ خطوط پرملت اسلامیہ
ہندیہ کاعلمی ،روحانی اوراخلاقی نظام قائم ہے،آپ نےایک طرف اس ملک کوندوۃ
العلماء جیسی انقلاب آفریں دینی تعلیمی تحریک عطاکی ،جس کی
بنیادپردارالعلوم ندوۃ العلماء جیساجدیدترین اورمعیاری تعلیمی ادارہ
وجودمیں آیا،دوسری طرف ملک میں پھیلنےوالےالحادی اورارتدادی فتنوں
کےمقابلےمیں ایک مضبوط دفاعی محاذقائم کیا،جس کےزیراثرمختلف فرقوں کے
ردمیں آپ نےایک پوری لائبریری تیارکردی ،تیسری جانب آپ کےذریعہ ایک مضبوط
روحانی واخلاقی سلسلہ جاری ہوا،جس نےخانقاہ رحمانیہ پھرجامعہ رحمانی اور
آپ کےخلفاء ،تلامذہ اورمریدین کی صورت میں پورے
برصغیرکومستفیدکیا،۔۔۔۔حضرت مونگیری ؒایک عظیم علمی وروحانی شخصیت کےمالک
اورعالمگیرفکروانقلاب کےعلمبردارتھے،آپ نےخدمت دین کےمختلف محاذوں
پرکام کیا،جس کی بیشترتفصیلات تاریخ کےصفحات پرموجودہیں ،۔۔۔۔۔۔

البتہ (جسارت کےلئےمعافی چاہتا ہوں )آپ کی شخصیت کےعلمی حصےپرجس قدرتوجہ
دی جانی چاہئےنہ دی جاسکی ،آپ کےاحوال وکمالات پرآپ کی زندگی میں بھی
اوروصال کےبعدبھی مختلف کتابیں منظرعام پرآئیں ،لیکن ان میں آپ کے
بلندعلمی مقام کوجیسی ضرورت تھی نمایاں نہ کیاجاسکا،جس کی بناپر آپ کو
جوشہرت و عظمت ایک مصلح روحانی اورمفکراسلامی کی حیثیت سےحاصل ہوئی ،وہ
ایک بلندپایہ عالم دین ،اورممتازفقیہ ومحقق کےطورپر نہ ہوسکی ،حالانکہ آپ
کامقام اپنےعہدکےعلماء میں بےحدممتازتھا،آپ بلندعلمی نسبتوں کےمالک تھے
،کثیرالتصانیف تھے ،تحقیق وتدقیق کااونچامعیاررکھتےتھے،آپ کی کتابیں
اپنےموضوع پر حرف آخر کادرجہ رکھتی ہیں ،آپ کی کتابیں آپ کی وسعت مطالعہ
کی غمازہیں ،بڑےنادراورمشکل موضوعات پرآپ نےمضامین لکھےہیں ،آپ نےایک
بڑےتعلیمی ادارہ کاخاکہ تیار کیااوراس کے نصاب ونظام تعلیم کےلئےبنیادی
خطوط مقررکئے،یہ خودآپ کی گہری علمیت کی علامت ہے،اسی طرح آپ نےفرق باطلہ
کاعلمی محاسبہ کیا، مناظرے کئےاورکرائے، ان کےردمیں کتابوں
کےانبارلگادیئے،علاوہ دیگرعلمی وفقہی موضوعات پربھی آپ کی قیمتی نگارشات
موجودہیں ،ان کاتقاضا ہےکہ آپ کے علمی وفقہی مقام پر مستقلاًروشنی ڈالی
جائے ،آپ کی علمی تحقیقات پرباقاعدہ کام کیاجائے،اورنسبتاًوسیع
پیمانےپران کودنیاکےسامنےپیش کیاجائے،اس مختصر سےمقالےمیں آپ کی علمی
شخصیت پرتفصیلی گفتگوتونہیں کی جاسکتی ،اس کےلئےحضرت کی تمام تصانیف
کامطالعہ بھی ضروری ہے،البتہ کچھ بنیادی خطوط پیش کئے جاتےہیں ،جوآئندہ
کام کےلئےشاید دلیل راہ بن سکے:

حضرت کی علمی شخصیت کےمطالعہ کےلئےتین بنیادی جہتوں
کوپیش نظررکھناضروری ہے:

٭دارالعلوم ندوۃ العلماء آپ کا علمی شاہکار

٭فرق باطلہ کاعلمی محاسبہ

٭مختلف علمی موضوعات پرآپ کی تصنیفات

(۱)

تعلیمی محاذ

دارالعلوم ندوۃ العلماء آپ کاعلمی شاہکار-فکری اورعلمی بنیادیں

ندوۃ العلماء اپنےوقت میں غیرمنقسم ہندوستان کی سب سے
بڑی علمی تحریک تھی جس کی بنیادوحدت امت اورجدیدوقدیم کےتعلیمی امتزاج
پرتھی[1] ،آپ نےاس کےلئےایک طرف علماء کامتحدہ بلاک قائم فرمایا،جس میں
ہرمکتب فکروعمل کےعلماء اورتعلیم یافتہ طبقات کونمائندگی دی گئی ،دوسری
طرف نئےدورکےتقاضوں سےہم آہنگ اورقدیم نافع اورجدیدصالح پرمبنی ایک
متوازن نصاب تعلیم کی تشکیل کی گئی ،اوراس نصاب کےمطابق لکھنؤمیں ایک
بڑے دارالعلوم کی تاسیس ہوئی ، جہاں اس نئے تعلیمی نصاب کاکامیاب تجربہ
کیاگیا،جس کاچشمۂ فیض تاہنوزجاری ہے،ظاہرہےکہ یہ دونوں کام براہ راست آپ
ہی کی جہدمسلسل کافیض ہیں،جس طرح یہ تحریک مولاناکی فکروکاوش کی مرہون
منت تھی[2]، اسی طرح دارالعلوم ندوۃ العلماء بھی آپ ہی کےاولین تخیل
اورسعی جمیل کی پیداوارہے[3]۔

"التنظیم لنظام التعلم والتعلیم "اور”مسودۂ دارالعلوم "کی تصنیف

ندوہ کےاجلاس میں طلبہ کے تعلیمی انحطاط پرآپ نےجس دلی کرب
کااظہارکیاہے[4]،اس سے اس منصوبہ کےمحرکات کااندازہ ہوتاہے،اورنصاب تعلیم
پر آپ نےجس بصیرت کےساتھ گفتگو کی ہےاس سے اسلامی علوم فنون اورکتابوں
کےمزاج ومذاق سےآپ کی گہری آگہی کاپتہ چلتاہے،آپ نےنصاب تعلیم کے موضوع
پر”التنظیم لنظام التعلم والتعلیم "کےنام سے ایک رسالہ(صفحات ۱۷۵) تصنیف
فرمایا[5]،

اسی طرح دارالعلوم کاجومسودہ آپ نےتیارکیاتھااس کااہم ترین مقصد ایسی
جماعت تیارکرناتھا جوعلوم اسلامیہ کےساتھ علوم عصریہ اورجدیدعلم کلام سے
بھی واقف ہو،اورجس کی نظرماضی کےساتھ عصرحاضرکےاحوال اور مستقبل کی
تیاریوں پربھی ہو[6]،اس میں آپ نےسلطنت واصول سلطنت ،اس کےتغیرات اور ان
تغیرات کےفوائدونقصانات کابھی جائزہ لیاہے،اورعلماء کےلئےاس کی واقفیت
کوضروری قراردیاہے،مولانانےنصاب تعلیم میں سیاسیات کےساتھ اقتصادیات کا
بھی ذکرکیاہے،ان کی خواہش تھی کہ علماء معاشیات میں بھی درک حاصل کریں
،اورمالی طورپر مستحکم ہوں ،اس مسودہ ٔنصاب تعلیم سے تاریخ ،سیاست
،اورعلوم وفنون سےگہری واقفیت اورحالات حاضرہ پرآپ کی دوراندیشانہ
نظرکاپتہ چلتاہے،اس مسودہ نے ہندوستان کےتمام دینی وعلمی حلقوں سے خراج
تحسین وصول کیا،حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒ جیسےمحتاط
اورحقیقت پسندعالم ربانی نےبھی ان الفاظ میں اس کی جلالت شان کااعتراف
فرمایا:

"مسودۂ دارالعلوم کی تجاویزکلہاصحیح اورمناسب ہیں
،ایسےعظیم الشان اورجلیل القدردارالعلوم کاوجودذہنی سےوجودخارجی میں
آناموجد

الموجودات کی قدرت کاملہ کےسامنےکوئی مستبعد امرنہیں "[7]

"مسودۂ نصاب عربی ” کی تصنیف -مسودہ بیس(۲۰)علوم وفنون کانمائندہ

"مسودۂ دارالعلوم "کی تصنیف کےپانچ (۵)ماہ بعد۱۴/جمادی الاولیٰ ۱۳۱۳؁ھ
کوحضرت مولاناؒنے "مسودۂ نصاب عربی "کےنام سےدارالعلوم ندوۃ العلماء کے
مجوزہ نصاب تعلیم کانقشہ پیش کیا،اس رسالہ میں آپ نے پوری حکیمانہ
بصیرت اورعالمانہ دوراندیشی کےساتھ ہندوستان میں نصاب درس
کےنشوونمااورارتقاکا جامع جائزہ لیاہے،ندوہ کی تمامترفکری اورعلمی
بنیادیں اسی مسودہ کی رہین منت ہیں ،آپ نےاس میں بیس (۲۰)علوم وفنون
اوران سے متعلق کتابوں کاذکرکیاہے،علوم متداولہ کےعلاوہ نصاب میں تاریخ
،اصول لغت ،تجوید،عروض ،سلوک وتہذیب نفس اوراسراراحکام چھ (۶)علوم
کااضافہ کرنےکی تجویزدی ہےاوراس کی توجیہات بھی پیش کی ہیں ،مولانانئےعلم
کلام کےپرجوش حامی تھے،وہ قدیم علم کلام کوموجودہ دورمیں ناکافی
تصورکرتےتھے،اوراس میں مفیداضافوں کےقائل تھے[8]۔

فلسفۂ جدیدسےپیداشدہ اعتراضات کاشافی جواب فلسفۂ قدیم میں نہیں ہے

مولانانےان حقائق وتوجیہات پرمنشی سعیدالدین صاحب انسپکٹرکانپورکےنام ایک
تفصیلی مکتوب میں بھی روشنی ڈالی ہے،اس میں انگریزی مدارس اورکالجوں
کےنظام تعلیم پربھی تنقیدکی گئی ہےاوراس کوایک ناقص نظام تعلیم
قراردیاگیاہے، اس مکتوب کے یہ اقتباسات ملاحظہ ہوں :

"تاریخ اورجغرافیہ کاجاننابہت ضروری ہے،مگرجس قدرانگریزی مدارس میں
پڑھایاجاتاہے،اس سےکوئی معتدبہ نفع نہیں ہے۔۔۔۔۔اس

زمانہ میں حالت بدل گئی ہے،وہ اعتراضات جوپہلےفلسفہ میں کئےگئے،اب انہیں
کوئی نہیں پوچھتا،اورنہ وہ فرقےاعتراضات کرنےوالےباقی

رہے،اب ان کےاعتراضات اورجوابات سیکھنےکی ضرورت نہ رہی ،اب نیاعالم
،نیادانہ ،نیاپانی ہے،جدیدفلسفہ کی بناپراس زمانہ کےمخالفین اسلام

نےنئے نئےقسم کےاعتراضات کئےہیں ،جوپہلےنہ تھے،جن کاکافی طورسے جواب
دیناقدیم فلسفہ کےجاننےسےنہیں ہوسکتا،اگرچہ کوئی کیساہی

دعویٰ کرے،وجہ اس کی یہ ہےکہ معترض کاجواب شافی اس وقت ہوسکتاہے،جب اس
کےمنتہائےاعتراض کواچھی طرح سمجھ لیاجائے،اوریہ

بھی معلوم ہوجائےکہ کس بناپراس نےاعتراض کیاہے؟۔۔۔یہ امرقدیم فلسفہ
سےحاصل نہیں ہوسکتا،۔۔۔۔اوروہ علوم انگریزی میں ہیں اس

لئےانہیں انگریزی کاجانناضروری ہے”[9]

مکتوب ندوہ –سترہ (۱۷)نکات پرمشتمل

۲۸/رجب المرجب ۱۳۱۸؁ھ کوحضرت مونگیری ؒ (دوران قیام دربھنگہ)نے
مولاناعبداللطیف ؒاورمولاناسیدعبدالحیؒ کےنام ندوہ (جواس وقت ایک بحران
سےگذررہاتھا)کےتعلق سےایک مفصل مکتوب (صفحات ۳۰)تحریرفرمایا،جس میں بقول
مولانامحمدثانی الحسنی :

"مولانانےاپنی عقلیت ،ثقافت ،اندازفکر،اوراسلوب بیان ،خلوص ودردمندی
،اورخلش واضطراب سب کچھ اس طرح سمودیاہےکہ

قانون کی جامعیت اوردقیقہ رسی کےساتھ خطابت کازوراورخطوط کی سادگی
،اوربےتکلفی بھی دامن دل کواپنی طرف کھینچتی ہے،اوراثرو

دلپذیری کاایک نیامرقع نظرآتاہے۔

سترہ (۱۷)نکات پرمشتمل اس خط میں چارچیزیں بہت نمایاں ہیں :

۱-جزئیات سےگہری اورعملی واقفیت جوایک کامیاب اورتجربہ
کارقائداوررہنماکےلئےبےحدضروری ہے۔

۲-دوراندیشی اوروسیع النظری

۳-اعتدال اورتوازن

۴-علوم قرآن اورادب عربی پرخاص زور

جزئیات سےواقفیت کایہ عالم ہےکہ نہ صرف نصاب اوردرسیات ،طریقۂ تعلیم
وتربیت اوردفتری اموربلکہ تعمیرات تک کےمعاملات میں ایسی

تفصیلات ملتی ہیں ،جس سے معلوم ہوتاہےکہ مولانااس سے کس درجہ باخبرتھے”[10]

تدریسی ہدایات

اسی مکتوب میں آپ نےاردوادب ،عربی ادب ،علوم قرآن اوردیگرعلوم وفنون کی
تدریس کےتعلق سے جوہدایات دی ہیں،وہ ان کےعلمی استحضاراور

جامعیت کی علامت ہیں ،مثلاًقرآن کریم کی تدریس سےمتعلق ہدایات دیتےہوئےلکھتےہیں :

"سوم :قرآن مجیدکےالفاظ اورکیاعجب کہ کل مشترک المعنیٰ ہوں ،اس پرپہلےآپ
غورکرلیں ،اورپھرطلبہ کواس پرتنبہ کرتےرہیں ،اوروہ

معنیٰ بتائیں جوبلاتاویل بنتےہوں ،اوراس پرکسی قسم کااعتراض نہ
ہوتاہو،مثلاً:مکرواومکراللہ ،نسوااللہ فانساھم ،اب مکر اورانساکے

معنیٰ کئی ہیں ،مجھےاس وقت یادنہیں رہے،بعض معنیٰ ایسےہیں کہ وہ شبہ
جومکروانساکی نسبت اللہ کی طرف کرنےمیں ہوتاہے،وہ بالکل نہیں ہوتا

،اوربلاتاویل معنیٰ بنتےہیں اوراس معنیٰ کوسندکلام عرب سے بھی تلاش کیجئے”[11]

ظاہرہےکہ یہ کسی عام عالم کامنصب نہیں ہے،بلکہ اس کےلئےعبقری اورجامع
العلوم شخصیت کاہوناضروری ہے،اس طرح دارالعلوم ندوۃ العلماء آپ کی نسبت
علمی کاسب سےاہم اورمضبوط شاہکارہے ،آپ صرف اس کےبانی نہیں ہیں بلکہ اس
کےاکثرعلمی وفکری خطوط بھی آپ ہی کےمقرر کردہ ہیں ۔

کتب خانہ رحمانیہ مونگیر–ایک علمی یادگار

٭اسی کےساتھ خانقاہ رحمانی کےاس عظیم الشان کتب خانہ کوبھی شامل کرلیں
،جوآپ کی شاندارعلمی یادگارہے،یہ بھی آپ کی نسبت علمی کابہترین مظہر ہے ،
امیرشریعت رابع حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ اس کتب خانہ کےبارے میں
لکھتےہیں :

"عربی علوم وفنون کی شایدہی کوئی قابل ذکرکتاب ہوگی،جواس کتب خانہ میں
موجودنہ ہو،یہی حال زبان فارسی کےسلسلہ میں ہے،ان

باکمال علماء کی رائےہےجنہوں نےاس کتب خانہ سےاستفادہ کیاہے،کہ علوم
اسلامیہ پربڑےسےبڑاکام اس کتب خانہ میں بیٹھ کر

کیاجاسکتاہے ،اورآج بھی علماء آتےہیں اوراس کتب خانہ میں بیٹھ کراپنی
علمی پیاس بجھاتےہیں،اس کتب خانہ کےمتعلق اتنی بات پورے

وثوق سےکہی جاسکتی ہے،کہ کم ازکم ہندوستان کےمشرقی حصےمیں
لکھنؤسےلےکربنگال کی آخری سرحدتک خدابخش خان لائبریری

(پٹنہ )اورکتب خانہ ندوۃ العلماء کےسوااتنابڑاکتب خانہ موجودنہیں
،جوتشنگان علوم کوسیراب کرسکتاہو”[12]

(۲)

دفاعی محاذ

فرق باطلہ کےردمیں علمی مساعی

حضرت مولانامحمدعلی مونگیریؒ نےجس عہدمیں اپنی آنکھیں
کھولیں وہ دور مذہبی فتنوں کےعروج کاتھا،عیسائیت ،قادیانیت،شیعیت
اورمختلف باطل جماعتیں پورےملک میں اپنےبال وپرپھیلارہی تھیں ،اس وقت
ہندوستان میں جن اکابر نےان فتنوں کامقابلہ کیا،اوران کےاستیصال کی علمی
کوششیں کیں ،ان میں سرفہرست حجۃ الاسلام ،حضرت الامام مولانامحمدقاسم
نانوتوی ؒ (متوفیٰ ۱۲۹۷؁ھ /۱۸۸۰؁ء)بانی دارالعلوم دیوبند[13]اورحضرت
مولانارحمت اللہ کیرانوی ؒ (متوفیٰ ۱۳۰۹؁ھ / ۱۸۹۱؁ء)[14]کی شخصیتیں تھیں
،ان کےبعد جس جماعت نےسب سےزیادہ ان فتنوں کاتعاقب کیااس کےہراول دستہ
میں حضرت مولانامحمدعلی مونگیری ؒکی ذات گرامی ہے ،آپ نےمختلف محاذوں
پران فرقوں کامقابلہ کیا،اوربڑی کامیابیاں حاصل کیں،بطورمثال یہاں آپ
کےچندمساعی علمیہ کاذکرکیاجاتاہے :

فتنۂعیسائیت کاعلمی احتساب

اسلامی ہندکےسقوط کےبعداس ملک کےمسلمانوں کوجن بڑی
آزمائشوں سے گذرناپڑاان میں ایک بڑافتنہ پورے ملک کوعیسائی بنانے کی سازش
کاتھا ،

ہندوستان میں تبلیغ عیسائیت کاآغاز۱۸۱۳؁ء میں ہوا،جب ولبرفورس
ممبرپارلیامنٹ کی کوشش سےہاؤس آف کامنس میں یہ بل پاس ہواکہ ہندوستانیوں
کوعیسائی بنانے کےلئےاگرپادری جاناچاہیں توانہیں اجازت ہے،۔۔۔

اس کےبعدہندوستان میں عیسائی پادریوں کی باڑھ لگ گئی ،اورحکومت کی
سرپرستی میں عیسائیت کی تبلیغ شروع ہوگئی ،۱۹۰۰؁ء سےقبل ہی ایک محتاط
اندازے کےمطابق عیسائی اداروں کےبیالیس (۴۲)مشن (جن میں ہرمشن ایک وسیع
ادارہ تھا)ہندوستان میں قائم ہوچکےتھے ، مثلاًپنجاب میں اسکاٹ
لینڈکابریری ٹرین چرچ ،راجپوتانہ اورہندوریاستوں میں آئرلینڈ کارومن
کیتھولک ،اورممالک مغربی وشمالی میں زیادہ ترامریکہ کامیتھوڈیسٹ چرچ
وغیرہ [15]

ان عیسائی پادریوں نےاسلامی تاریخ اورتہذیب کومسخ
کرنےاورمسلم حکمرانوں کی شبیہ خراب کرنےمیں کوئی دریغ باقی نہ
رکھا،حضوراکرم ﷺکی شان اقدس میں بدزبانیاں کیں ،اسلامی عقائدکےبارےمیں
شکوک وشبہات پیداکئے،اوررفتہ رفتہ یہ آندھی اتنی تیزہوئی کہ اس کی لہریں
مسلم گھرانوں کےاندرتک پہونچنے لگیں ،اوربہت سےمسلم نوجوان ان سے
متأثرہونےلگے،حضرت مولانامحمدعلی مونگیری ؒ اس وقت نوجوان تھے ،اوراپنی
آنکھوں سے کئی لوگوں کواس فتنے کاشکار ہوتے ہوئے دیکھاتھا۔

زمانۂ طالب علمی(علی گڑھ)میں عیسائیت سےمتأثرایک طالب علم سےگفتگو

جب آپ علی گڑھ میں حضرت مولانالطف اللہ علی گڑھی ؒ سے حدیث پڑھ رہےتھے
،ایک طالب علم اس زہرکاشکارہوا،اورمدرسہ کےاحاطےمیں اس نے بحث ومباحثہ
کاسلسلہ شروع کیا،حضرت مولانانے طالب علمی کےزمانےہی میں اس کےمسکت
جوابات دئیے،مثلاًاس میں ایک بات یہ تھی کہ حضرت علیؓ بڑے فصیح تھے،اوران
کادیوان (نعوذباللہ)قرآن مجیدکےہم پلہ بلکہ اس سےبھی زیادہ فصیح ہے،یہی
بات وہ مقامات حریری کےبارے میں بھی کہتاتھا،مولانانے جواب دیاکہ :

"یہ سب فصحاءجن کی فصاحت تمہیں مسلم ہے،قرآن مجیدکےبےمثل
ہونےپرایمان لائےہوئےہیں ،اوراپنی کتابوں کواس کےنزدیک ہیچ

سمجھتےہیں ،پھراب تمہیں ماننےمیں کیاعذرہے؟وہ طالب علم خاموش اورمطمئن
ہوگیا،پھراس نےابطال تثلیث پرعقلی دلائل طلب کئے،

حضرت نے۹ یا۱۰ دلیلیں اسے لکھ کردیں ،وہ بہت خوش ہوااورآپ کی بدولت اس
کاایمان سلامت رہا”[16]

اس طرح پڑھنےکےزمانےسےہی آپ کےعلمی مناظروں کاسلسلہ شروع ہوا،اورپےبہ
پےکامیابیاں نصیب ہوئیں ۔

کانپورسےاخبار”منشورمحمدی "کااجراء-عیسائیت کےخلاف ایک مہم کاآغاز

۱۲۸۹؁ھ میں اس مقصدکےلئےآپ نےکانپورسےایک اخبار”منشورمحمدی "جاری
کرایا،اوراس میں عیسائیت کی تردیدمیں مضامین شائع کئے،کوئی پادری ان
مضامین کاجواب نہ دے سکا،”منشورمحمدی ” صرف اخبار نہیں تھا ،بلکہ عیسائیت
کےخلاف ایک مضبوط علمی محاذ تھا،جس میں کئی اہل علم مولاناکےشریک تھے،اس
اخبار کاتذکرہ حضرت نےاپنی کتاب "آئینۂ اسلام "میں کیاہے[17]،

"مراسلات مذہبی” کی اشاعت

اسی ٹیم میں ایک شیخ مولابخش بھی تھے،انہوں نےپادری آئزک فیلڈ
بریوکاتحریری مقابلہ کیاان مراسلات کامجموعہ دوجلدوں میں "مراسلات مذہبی
"کے نام سے شائع ہوا،شیخ مولابخش کےبقول یہ کتاب حضرت مونگیری ؒ ہی
کافیض ہے[18]۔

مرآۃ الیقین -ایک محققانہ تصنیف

عیسائیت کےردمیں مولاناؒکی پہلی تصنیف غالباً”مرآۃ الیقین لاغلاط ہدایت
المسلمین "ہے،جوپادری عمادالدین کی کتاب "ہدایۃ المسلمین "(جوحضرت مولانا
رحمت اللہ کیرانوی ؒ کی کتاب”اعجازعیسوی”کےردمیں لکھی گئی تھی )کےجواب
میں تحریرکی گئی تھی،اورنامی پریس کانپورسےشائع ہوئی ،اب نایاب ہے[19]۔

یہ اپنےموضوع پرایک تحقیقی اورمنفردتصنیف ہے،اس کتاب سے عیسائی مذہب
اورتاریخ کےبارےمیں مولاناکی دقت نظر اوروسعت مطالعہ کااندازہ ہوتاہے،آپ
کی معلومات مسیحی مؤرخین سےکسی درجےمیں کم نہیں تھی،بلکہ بعض ایسی
جزئیات اورتاریخی مآخذپربھی آپ کی نگاہ تھی،جوبہت سےپادری محققین
اورتاریخ نگاروں کی رسائی سے بالاترتھے ،آپ نےاس کتاب میں عیسائی مؤرخین
کی کئی جہالتوں کوواشگاف کیاہے،مثلاً:عمادالدین پادری نے” گروٹیس "کی
شخصیت سےلاعلمی کااظہار کیاتھا ،وہ اس کوایک غیرمعروف شخص
قراردیتاتھا،لیکن حضرت مونگیریؒ نےدلائل سے ثابت کیاہےکہ گروٹیس عیسائی
تاریخ میں کوئی گمنام شخص نہیں تھا،بلکہ اس پر باقاعدہ کتابیں لکھی گئی
ہیں،آپ کی تحقیق لطیف کایہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

"گروٹیس تووہ شخص ہےجس کےحالات زندگی کئی مؤرخین نے قلمبندکئےہیں
۔۔۔۔سنئےچارلس ہول بیاگریفیکل ڈکشنری میں لکھتاہے،

کہ گروٹیس کےحال میں گٹن برگ نے۱۶۵۲؁ء میں ایک کتاب لکھی ،اوربرگنی
نے۱۷۵۴؁ء میں اس کےحال میں ایک کتاب لکھی ،اورچارلس

ٹیلرنے۱۸۲۶؁ء میں ایک کتاب لکھی ،یہ شخص پیداہواتھا۱۵۸۲؁ء میں
اورمرگیا۱۶۴۵؁ء میں ،خیال کرنےکامقام یہ ہےکہ گروٹیس کتنامشہور

اورمعتبرشخص ہےکہ متعدد لوگوں نےخاص اس کےحالات میں کتابیں لکھی ہیں ،اب
پادری صاحب کی جہالت کوناظرین ملاحظہ فرمائیں

کہ اتنےبڑے مشہورعالم سے مطلقاًآگاہ نہیں ہیں”[20]

تکمیل الادیان باحکام القرآن ملقب بہ آئینۂ اسلام-"نیازنامہ” کامدلل جواب

حضرت کی تمام کتابوں میں یہی تحقیقی شان نمایاں ہے،ردعیسائیت پرمولاناکی
دوسری اہم تصنیف "تکمیل الادیان باحکام القرآن ملقب بہ آئینۂ اسلام "ہے
، اس کتاب میں(جیساکہ اس کےنام سےہی ظاہرہوتاہے)قرآن کریم کی روشنی میں
اسلامی عقائد واحکام کی تفصیل بیان کرنےکےبعدادیان سابقہ سے ان کاموازنہ
کیاگیا ہے،اورثابت کیاگیاہےکہ اسلام نےتمام ادیان سابقہ کی تکمیل کی
ہے[21]۔

یہ کتاب مولانانے۱۲۹۷؁ھ میں حیدرآبادمیں قیام کےدوران تصنیف فرمائی،یہ
منشی صفدرعلی عیسائی کی کتاب "نیازنامہ "کاجواب ہے،جس میں منشی جی کی
تمام تلبیسات کاعلمی جائزہ لیاگیاہے،مثلاً :

اخلاقی شریعت اورسمی شریعت-ایک مصنوعی تقسیم کاجائزہ

"منشی صفدرعلی نےلکھاتھاکہ دوطرح کی شریعتیں نازل ہوئیں ،اخلاقی
اوررسمی ،جواعمال بذات خودنیک یابدہیں ،ان کی تعلیم دینےوالی شریعت
اخلاقی کہلاتی ہے،اورجواعمال بذات خودحسن یاقبیح نہ ہوں ،بلکہ حکم
خداوندی نےاسےحسن یاقبیح قراردیاہے،ایسی شریعت رسمی کہلاتی ہے،منشی جی
کادعویٰ تھاکہ مذکورہ دونوں شریعتوں میں اخلاقی شریعت افضل ہوتی ہے،منشی
جی نےلکھاتھاکہ حضرت موسیٰ کورسمی شریعت عطاکی گئی تھی ،اس لئےکہ اس وقت
کے انسانوں میں اخلاقی شریعت کےتحمل کی طاقت نہیں تھی،جب انسان اس درجہ
کوپہونچ گئے اوران میں اس کی اہلیت پیداہوگئی توحضرت عیسیٰؑ کوشریعت
اخلاقی دے کر بھیجاگیا،منشی جی کہتےہیں کہ اسلامی شریعت بھی رسمی شریعت
ہے،حضرت عیسیٰ ؑکی اخلاقی شریعت کےبعداب رسمی شریعت کی طرف واپس جانےکی
ضرورت نہیں ہے، ورنہ یہ اعلیٰ کےمقابلے میں ادنیٰ کواختیارکرنےکےمترادف
ہوگا،حضرت مونگیری ؒ نےاس مفروضہ کی مدلل تردیدفرمائی ،اوراس
کواتنےسوالات کےگھیرےمیں لےلیا،کہ پادریوں کے لئے منہ چھپانامشکل
ہوگیا،حضرت کانرالااندازملاحظہ کیجئے:

"یہ اعتراض چندامورپرمبنی ہے،جب تک ان کاثبوت نہ ہولےاس اعتراض کوپیش
کرنامحض نادانی ہے،پہلاامریہ ہےکہ مسیح نےشریعت

موسوی کومنسوخ کردیا،ورنہ کیوں کرثابت ہوگاکہ جب شریعت اخلاقی کی حاجت نہ
رہی ،آپ کےقول سے یاآپ کےکسی مقتداکےکلام

سےاگرچہ وہ حواری کیوں نہ ہو،حکم شریعت منسوخ نہیں ہوسکتا،دوسراامریہ کہ
جوشریعت اخلاقی حضرت مسیحؑ کوعنایت ہوئی وہ حضرت

موسیٰ یادیگرانبیاء کونہیں ہوئی تھی،ورنہ اس کےکیامعنیٰ ہونگےکہ اس وقت
کےلوگ متحمل نہ تھے،اورمسیح ؑ نےشریعت اخلاقی بیان فرمائی

،تیسراامریہ کہ شریعت اخلاقی قرآن وحدیث میں نہیں ،چوتھے یہ ثابت
کرناچاہئےکہ ہزاروں برس تک تمام دنیاکےلوگ ناقابل رہے،اور

شریعت اخلاقی کےلائق نہ ہوئے،اوریکبارگی مسیح کےوقت میں لوگ اس کےلائق ہوگئے”[22]

ظاہری اعمال بھی اثراندازہوتےہیں

مولانانےاس کتاب میں ثابت کیاکہ ظاہری اعمال بھی باطن پراثراندازہوتے ہیں
،اس لئےشریعت کےرسمی اعمال بھی افادیت واہمیت اورحکمت ومعنویت سے خالی
نہیں ہیں ،اس ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ کریں :

"اعمال ظاہری اورافعال جسمانی کی مشق سےروح پربھی اثرہوتاہے،اورجس طرح
کافعل ہاتھ، پیر،زبان سےانسان کرتاہےاس طرح کی تاثیر

اس کےقلب میں پیداہوتی ہے،مثلاًکسی شخص کوتقسیم مال یااورکوئی راحت رسانی
کی خدمت سپردکی جائے،اوروہ بےروک ٹوک اپنی خدمت کو

کثرت سےانجام دیتارہے،توضرورہےکہ اس کےقلب میں فیاضی اورراحت رسانی کی
صفت کچھ نہ کچھ پیداہوجائےگی،اوراگرپہلےسےاس کے

قلب میں یہ صفت ہوگی تواس کی وجہ سےاس میں ترقی ہوجائےگی،اسی طرح اگرکسی
شخص کوکسی وجہ سےمارنےدھاڑنے،ایذارسانی کااتفاق زائد

ہوتا ہوتواس کےقلب میں سختی ضرورآجائےگی،۔۔۔۔

غرض کہ کوئی شخص مشق ظاہری کےاثرسے انکارنہیں کرسکتا،پھرکیاوجہ ہےکہ
عبادت اورریاضت جسمانی کوبیکاربتایاجاتاہے،حالانکہ اس سے

مقصودیہی ہے،کہ اس کی وجہ سے روح میں اثرپیداہو،اوراگرروح میں بالکل غفلت
ہےتواس تحریک سےمتنبہ ہواوراگرتنبہ ہےتوکمال پیداکرے”[23]

اس کتاب کوحافظ عبدالکریم میرمجلس یعنی چیف جسٹس عدالت عالیہ حیدرآباددکن
نےنامی پریس کانپورسے پانچ سو(۵۰۰)کی تعدادمیں طبع کرایاتھا،اب مدت سے
نایاب ہے[24]

"ترانۂ حجازی”بجواب "نغمۂ طنبوری”

اسی موضوع پرآپ کی ایک اورکتاب "ترانۂ حجازی "ہے،پادری عمادالدین
اورمجتہدلکھنوی کےدرمیان ۱۸۷۱؁ء میں ایک تحریری مناظرہ ہواتھا،اس کوایک
پادری نےمجتہدصاحب کی تردیدمیں اورکچھ نئےسوالات قائم کرکے”نغمۂ طنبوری
"کےنام سےشائع کیا،”ترانۂ حجازی "اسی کتاب کےردمیں لکھی گئی ،نہایت عمدہ
اور تحقیقی کتاب ہے،اس میں آپ نےجہادکےبارےمیں صحیح اسلامی نقطۂ
نظر،اوراس کےخلاف عیسائیوں کےاعتراضات کاجواب،نبوت محمدی کاثبوت ،عصمت
انبیاء ،قرآن مجید کا توریت وانجیل سےماخوذنہ ہونا،اوراس طرح اوردوسری
چیزیں انتہائی محققانہ طورپربیان فرمائی ہیں ،یہ کتاب ۱۲۹۵؁ھ میں
مرزاسلطان احمدصاحب کے تعاون سےبہت محدودطورپر شائع ہوئی ،صاحب کمالات
محمدیہ کےبقول اس کےکل تین (۳)نسخےچھپےتھے،اب یہ نایاب ہے[25]

"دفع التلبیسات”-ردعیسائیت پرایک لاجواب کتاب

پادری عمادالدین نےحضورﷺکی سیرت طیبہ کےخلاف ایک کتاب "تاریخ محمدی”لکھی
تھی ،اس کاجواب مولوی چراغ علی صاحب نے”تعلیقات "کے

نام سےتحریرکیا،مگریہ کافی جواب نہیں تھا ،توحضرت مونگیری ؒنے اس
کاتفصیلی جواب "دفع التلبیسات "[26]کےنام سےرقم فرمایا،اس کتاب میں
نبوت محمدی کااثبات اوراناجیل مروجہ کی تحریف کومدلل طورپرثابت
کیاگیاہے،اس کتاب کوعلی بھائی سیٹھ میمن نے۱۳۰۲؁ھ /۱۸۸۵؁ءمیں کانپورسے
شائع کیا۔

حضرت مونگیری ؒکی طرف سے مذکورہ دونوں کتابوں کےجواب کابارہامطالبہ
کیاگیااوراخبارات میں جواب دینےپرانعام کی بھی پیش کش کی گئی ،لیکن پوری
عیسائی دنیامیں سناٹا چھایارہا ،اورکوئی ان کاجواب نہ دے سکا[27]۔

اس کےبعدآپ نے”ساطع البرہان "اور”براہین قاطعہ”تصنیف کیں ،جن میں
بالترتیب قرآن مجیدکےکلام الٰہی ہونےکااثبات اورعیسائیوں کےعقائد باطلہ
کارد کیاگیاہے[28]۔

"پیغام محمدی”ردعیسائیت پرایک شہرۂ آفاق تصنیف

اس موضوع پرآپ کی سب سے مشہوراورمعرکۃ الآراء کتاب "پیغام
محمدی”ہے،جومولانارحمت اللہ کیرانوی ؒ کی کتاب "اظہارالحق "یا”اعجازعیسوی
"کے پایہ کی ہے،اس عظیم تصنیف کاپس منظریہ ہےکہ صفدرعلی ڈپٹی
انسپکٹرمدراس مرتدہوکرعیسائی ہوگیاتھا،ارتدادکےبعداس نےعیسائیت کی
تائیدمیں ایک مبسوط کتاب "نیازنامہ "لکھی،اورہندسےبیرون ہندتک کےعلماء
کوچیلنج کیاکہ اس کاجواب لکھیں ،اس کتاب کی اشاعت سے مسلمانوں میں کافی
بےچینی پیداہوئی ،مگرسوء اتفاق علماء اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے،حضرت
مولانارحمت اللہ کیرانوی ؒ صاحب اظہارالحق اورڈاکٹروزیرخان جیسے اکابرمکہ
مکرمہ میں باحیات تھے،مگرعمرکےجس مرحلےمیں وہ تھےکہ وہ اس کام کوانجام
نہیں دے سکتے تھے،کئی علماء سے جواب لکھنےکی فرمائش بھی کی گئی مگروہ اس
کےلئےآمادہ نہ ہوئے ،بعض علماء کواس طرح کی چیزوں سے دلچسپی ہی نہ
تھی[29] ،اسی زمانہ میں پادری ٹھاکرداس نےبھی ایک کتاب "عدم ضرورت قرآن
"لکھی ،ان دونوں کتاب کادنداں شکن جواب یہ کتاب "پیغام محمدی "ہے، کتاب
دوجلدوں میں ہے،پہلی جلد۳۲۳ صفحات پرمشتمل ہے،کتاب کےشروع میں ایک مقدمہ
ہے،اس میں اجمالی طورپرپورےنیازنامہ کاجواب اور کتاب کانچوڑآگیا ہے۔

موجودہ انجیل میں بےشماراختلافات موجودہیں

مولانانےاس کتاب میں انتہائی معقول دلائل کےساتھ مروجہ انجیلوں کامحرف
ہوناثابت کیاہے،مثلاًانجیل متیٰ کاذکرکرتے ہوئےلکھاہے:

"اس انجیل میں اول تویہ اختلاف ہے،کہ کس زبان میں لکھی گئی ،اکثرعلماء
عیسائی اس بات کےقائل ہیں کہ متی حواری نےعبرانی میں لکھی تھی ،

مگراس کاوجودصفحۂ عالم سےناپیدہے،اس کاترجمہ یونانی میں ہے،پھرتحقیقی
طورپرمعلوم نہ ہواکہ ترجمہ کس نےکیااورکب ہوا؟بعض کہتےہیں ،

کہ یونانی میں لکھی تھی،بعض قائل ہیں کہ یونانی اورعبرانی دونوں میں
لکھی تھی ،دلیل نہیں ہےصرف اٹکل پرمدارہے،دوسرےاس امرمیں

اختلاف ہےکہ کب تصنیف ہوئی،ہارن صاحب اپنی تفسیرکی چوتھی جلدکےحصۂ دوم
کےباب دوم میں لکھتےہیں ،کہ :جوحالات ہم کوقدیم

مؤرخین کلیساسےانجیلوں کی تصنیف کےبارہ میں ملےہیں ،ایسےغیرمعین
اورابترہیں ،کہ کسی معین امرکی طرف نہیں پہونچاتے،اورپرانے

سےپرانےمتقدمین نےاپنےوقت کی گپوں کوسچ خیال کرکےلکھ دیا،اوراس
کےبعدکےلوگوں نےادب کی وجہ سے ان کےلکھےہوئے کوقبول

کرلیااوریہ روایتیں جھوٹی سچی ایک لکھنےوالےسے دوسرے لکھنےوالےتک
پہونچیں ،اوربعدگذرجانےمدت درازکےان کاپرکھناغیرممکن ہوگیا[30]

مولانانےبائیبل کےاختلافات کی تعداددس (۱۰)لاکھ بتائی ہے،اس کےعلاوہ
تثلیث وکفارہ کابطلان ،قرآن مجیداورحدیث نبوی کی حقانیت کااثبات ،شریعت
اسلامی اورشریعت مسیحی کےقوانین واحکام کامقابلہ اورجائزہ بہت
اچھےاورمفصل طریقہ پرلیاگیاہے۔

موجودہ تورات بعینہ حضرت موسیٰ ؑ پرنازل شدہ تورات نہیں ہے

منشی صفدرعلی کاایک بڑااعتراض یہ تھاکہ جب خودقرآن مجید سابقہ آسمانی
کتابوں کی تصدیق کرتاہے،توپھرمسلمانوں کواس کےماننےمیں کیاتامل ہے؟
مولانا نےثابت کیاہے،کہ قرآن جس تورات کی تصدیق کرتاہے،وہ پانچ
(۵)صحیفےہیں :پیدائش ،خروج،احیاء، گنتی ، اوراستثناء۔ قرآن مجیدمیں حضرت
موسیٰ ؑ کےالواح کابھی ذکرہے،لیکن موجودہ دورمیں تورات
کےجونسخےپائےجاتےہیں،ان کے بارے میں یہ کہنابہت مشکل ہےکہ یہ اول سےآخرتک
حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب ہے،موجودہ تورات میں کئی ایسی عبارتیں ملتی ہیں ،جن
سےثابت ہوتاہےکہ یہ تورات وہ نہیں ہےجوحضرت موسیٰ ؑ پرنازل ہوئی تھی
،بلکہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی وفات کےبعدتیارکی گئی ہے،مثال کےطورپراستثناکی
یہ عبارتیں دیکھئے :

سوخداکابندہ موسیٰ خداوندکےحکم کےموافق خواب کی سرزمین میں مرگیا،اوراس
نےاسےمواب کی ایک وادی میں بیت قفورکےمقابل

گاڑا،یہ آج کےدن تک کوئی اس کی قبرکونہیں جانتا،”

دوسری جگہ ہے:

"اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کےمانندکوئی نبی نہیں اٹھا۔۔۔[31]

یہ عبارتیں ظاہرکرتی ہیں کہ یہ تورات حضرت موسیٰ کےبعدتیارکی گئی ہے،اس
لئےکہ حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی میں اس طرح کی عبارتیں نہیں لکھی جاسکتی
تھیں۔

یہ ہےاس کتاب میں حضرت مولانامونگیری ؒ کےطرزاستدلال کاایک نمونہ ہے،پوری
کتاب ایسے استدلالات سے بھری ہوئی ہے،اس کتاب نے عیسائی مناظرین کی
کمرتوڑکررکھ دی ،حضرت کی طرف سے بارباراس کےجواب کامطالبہ کیاگیالیکن
ادھر شہرخموشاں کامنظررہا،اس طرح کی چیزوں کےمنظرعام پرآنے کےبعدعیسائی
آپ سے ایسے مرعوب ہوئےکہ صرف آپ کےنام سےہی عیسائی دنیامیں لرزہ طاری
ہوجاتاتھا،بقول صاحب کمالات محمدیہ اس شعرکےمصداق :

؎ شب کومحفل میں ہراک مہ پارہ گرم لاف تھا

صبح وہ خورشید رو
نکلا تو مطلع صاف تھا[32]

اس کتاب کےایک حصہ کاانگریزی ترجمہ حضرت مونگیری ؒکےایک متوسل کی کوشش سے
شائع ہوا،اورہندوبیرون ہندکی مشنریوں کوبھیجاگیا،کتاب کابنگلہ ترجمہ بھی
شائع ہوچکاہے[33]۔

قادیانیت کاتعاقب

ردعیسائیت کےبعدآپ کاسب سے بڑادفاعی میدان ردقادیانیت
تھا،قادیانیت کےاستیصال کےلئےآپ نےجوحکمت عملی اختیارکی وہ اپنی جگہ لیکن
علمی طورپربھی آپ نےقادیانیت کی ساری بنیادیں پست کردی ہیں،اپنےمناظروں
،علمی مکاتیب اوراپنی تصنیفات کےذریعہ آپ نےاس موضوع پر اتنامواد جمع
کردیا ہے،کہ آنےوالی نسلیں اس سےکبھی بےنیازنہیں ہوسکتی ہیں،آپ کی کوششیں
اسلامی تاریخ میں ہمیشہ یادگاررہیں گی،آپ نےاپنےایک خادم خاص
اورمعتمدکوایک خط میں تحریرفرمایاکہ:

"میراضعف وناتوانی اےعزیزتم پراورتمہارےکل سلسلہ
کےبھائیوں پرظاہرہے،کہ میں مدت سے بیکار ہوچکاہوں ،اورمیرےظاہری قویٰ نے

جواب دےدیا،مگرخدائی ارشادانانحن نزلناالذکروانالہ
لحافظوننےاپنی غیرمحدودقدرت کاایک ضعیف وناتواں ہستی میں جلوہ گر

فرماکروہ کام لیا،جس کاخیال وخطرہ بھی نہ تھا،اس قدررسائل اس ضعف
وناتوانی میں لکھوادینااسی کافضل ہے”[34]

قادیانیت کےخلاف قلمی جہاد

آپ نےقادیانیت کےخلاف جنگ کووقت کاافضل ترین
جہادقراردیا،شب وروزاس کےخلاف قلمی جہادمیں مصروف رہے،آپ پراس دورمیں اس
فتنہ کی حساسیت کاایساغلبہ تھاکہ تہجدکاوقت بھی زیادہ تراسی کام میں
صرف کرتےتھے،آپ نےقادیانیت کےخلاف سو(۱۰۰)سے زائدکتابیں لکھیں ،جن میں
چالیس (۴۰) کتابیں آپ کےنام سےاورباقی دوسرےناموں سےشائع ہوئیں ،بعض پرآپ
کےنام کےبجائےکنیت "ابواحمدرحمانی”لکھی گئی تھی،آپ کی مشہورکتاب "فیصلۂ
آسمانی ” بھی ابواحمدرحمانی "ہی کےنام سےشائع ہوئی ہے،یہ کتابیں اکثرمفت
میں تقسیم ہوتی تھیں ،اس کےپیچھےآپ نے ہزاروں روپےخرچ کرڈالے[35]آپ
ہرحال میں اس فتنہ کاخاتمہ چاہتےتھے،اپنےپورے حلقۂ احباب کوبھی آپ نےاس
کےلئے متحرک فرمایا،مال والوں کومال خرچ کرنے کی ترغیب دی ،جولوگ خوشخط
تھے ان کوکتابوں کی نقلیں تیارکرنےکی ذمہ داری دی[36]،اوراہل علم
کولکھنےپرمامورکیا،فرماتے تھے کہ :

"اتنالکھواوراس قدرطبع کراؤاوراس طرح تقسیم کروکہ
ہرمسلمان جب صبح سوکراٹھےتواپنےسرہانےردقادیانی کی کتاب پائے”[37]

چنانچہ نےحضرت نےخوب لکھااوراس وقت لکھاجب اس پرلکھنےکی
سخت ضرورت تھی اوراس عمرمیں لکھاجب ان کےلکھنےکی عمرختم ہوچکی تھی ،یہ ان
کی کرامت ذات بھی تھی اورعلم کااعجازبھی۔

"فیصلۂ آسمانی”ردقادیانیت پرایک بےنظیرتصنیف

اس موضوع پرآپ کی سب سے پہلی اوربہترین کتاب "فیصلۂ آسمانی "ہے،(تین
جلدوں میں ،جس کےتین ایڈیشن آپ کی زندگی میں شائع ہوئے)جوآپ کی تصنیفات
ہی میں نہیں بلکہ اس موضوع پرتیارشدہ پورےتحریری سرمایےمیں سب سے
شاہکارتصنیف ہے،جواپنےاسلوب بیان ،طرزاستدلال ،اوردلائل کی قوت کےلحاظ سے
ردقادیانیت کی پوری لائبریری میں ایک منفرداورممتازمقام رکھتی ہے،بقول
حضرت مولاناعبدالقادررائےپوریؒ :

"قادیانیت کےردمیں لکھی ہوئی اکثرکتابوں میں بعض بعض جگہ
احتمال کی گنجائش نکل آتی ہے،لیکن اس کتاب میں کسی جگہ احتمال کی گنجائش

یااستدلال میں کوئی خامی اورکمزوری نظرنہیں آتی "[38]

قادیانیت”نبوت محمدی”کےخلاف کھلی بغاوت

حضرت نےاس کتاب میں واضح طورپریہ ثابت کیاکہ قادیانیت نبوت محمدی کےخلاف
کھلی بغاوت اورایک متوازی مذہب کی دعوت ہے،کتاب کاپہلاحصہ مرزاکی
"منکوحۂ آسمانی "سےمتعلق ہے،اورپوری وضاحت کےساتھ مرزاکےجملہ الہامات
اورپیشین گوئیوں کوجھوٹاثابت کیاگیاہے،دوسرے اورتیسرے حصوں میں مرزاکی
غلط بیانیوں اوردعووں کاپردہ فاش کیاگیاہے،مرزانےاپنےکمال واعجازکےثبوت
کےلئے”اعجازاحمدی”لکھی یالکھوائی تھی ،اوردعویٰ کیاتھاکہ اس رسالہ اور
قصیدۂ اعجازیہ کی ادبی بلاغت اورفنی کمال کی نظیرکوئی دوسراپیش نہیں
کرسکتا،حضرت مولاناؒنےاس قصیدہ کی فنی خامیوں کواجاگرکیااوراس کےاصل
لکھنےوالےشاعر "سعید”کاپردہ فاش کیاجس نےمرزاکومعقول رقم کےعوض یہ قصیدہ
لکھ کردیاتھا،اورجان بوجھ کرایسی خامیاں چھوڑدی تھیں ،جس سے مرزاکاکذب
ثابت ہو،اس لئے کہ وہ مرزاکوجھوٹاسمجھتاتھااوراس کےکذب وافتراء کاپردہ
چاک کرناچاہتاتھا۔

فیصلۂ آسمانی کاتیسراحصہ پہلی مرتبہ ۱۳۳۲؁ھ /۱۹۱۴؁ءمیں شائع
ہوااورمرزائیوں کوچیلنج کیاگیاتھاکہ وہ اس کاجواب دیں ،۱۳۳۷؁ھ/۱۹۱۹؁ء میں
اس کا دوسرا

ایڈیشن شائع ہوااوراس میں اعلان کیاگیاکہ جوشخص اس کتاب کاجواب دےگااس
کوتین ہزار(۳۰۰۰)روپےانعام دیاجائےگا،لیکن کسی قادیانی نےاس کاجواب
دینےکی ہمت نہ کی ۔فیصلۂ آسمانی کاانگریزی ترجمہ بھی کیاگیاتھا،لیکن
شایداس کی طباعت کی نوبت نہ آسکی[39] ۔

"شہادت آسمانی”اپنےموضوع پرایک دنداں شکن کتاب

حضرت کی دوسری اہم ترین تصنیف”شہادت آسمانی "ہے،یہ دوحصوں میں ہے،”پہلی
شہادت آسمانی "اور "دوسری شہادت آسمانی "۔۔۔

اس کاپس منظریہ ہےکہ ۱۳۱۲؁ھ کےرمضان میں چانداورسورج کاایک ساتھ گہن
ہوا،مرزانےاس کواپنی مہدویت کےثبوت کےطورپرپیش کیاکہ حدیث میں آیاہےکہ ان
دونوں گہنوں کااجتماع امام مہدی کی علامت ہوگی”اسی کےساتھ اس نےیہ بھی
دعویٰ کیاکہ "رمضان میں ان دونوں گہنوں کااجتماع کسی مدعی مسیحیت یا
مہدویت کےزمانہ میں نہیں ہوا،صرف ان ہی کےعہدمیں ہوا”

مرزاکےاسی دعویٰ کی تردیدمیں یہ کتاب لکھی گئی ،حضرت نےفنی طورپرحدیث
کوناقابل استدلال قراردیا،اورتاریخی طورپراس دعویٰ کوبھی مستردکردیاکہ
ایسااس سے قبل کسی مدعی مہدویت یامسیحیت کےزمانےمیں نہیں ہواتھا،آپ
نےسائنسی اعتبارسے اسےایک عام قسم کاگہن بتایااورتاریخی حوالوں سےثابت
کیاکہ اس طرح کےگہن پہلےبھی ہوچکےہیں ،مثلاً:

"۱۲۶۸؁ھ میں گہنوں کاپہلااجتماع ہوااوران گہنوں کی تاریخ وہی ۱۳/اور ۲۸/
رمضان ہے،جن تاریخوں کومرزاصاحب مہدی کانشان کہتے

ہیں ،اس گہن کےدیکھنےوالےاب بھی موجودہیں ،اس وقت مرزاصاحب کی عمر گیارہ
برس کی ہوگی ،۱۳۱۱؁ھ کےرمضان میں اس گہن کاظہور

امریکہ میں ہوا،اس وقت مسٹرڈوڈی مدعی مسیحیت وہاں موجودتھا”[40]۔

حیرت ہوتی ہےکہ مولاناؒکس قدرباخبرآدمی تھے،جدیدوقدیم ہرطرح کےعلوم
اورتاریخی مآخذ پران کی کیسی نظرتھی؟طبقۂ علماء میں ایسےجامع اورصاحب
نظرمصنف بہت کم ہوئےہیں ۔

ردقادیانیت پرآپ نےایک لائبریری تیارکردی

ردقادیانیت پرآپ کاایک اہم رسالہ "چیلنج محمدیہ "ہے،جوعربی ،فارسی
اوراردوتینوں زبانوں میں ۱۹۱۹؁ء میں شائع ہوا،اس میں مرزاکوخوداس کی
زبانی جھوٹا ثابت کیاگیاہے،اس کتاب کوبڑی قبولیت حاصل ہوئی ،ایڈیٹرالفضل
اورخلیفۂ قادیان کویہ کتاب کئی باربھیجی گئی،لیکن کسی میں اس کاجواب
دینےکی ہمت نہ ہوئی ۔

ان کےعلاوہ چشمۂ ہدایت ،معیارصداقت ،معیارالمسیح ،حقیقۃ المسیح ،تنزیہ
ربانی ،آئینۂ کمالات مرزا،نامۂ حقانی ،اورمرزائی نبوت کاخاتمہ وغیرہ کئی
اہم کتابیں آپ نےتصنیف کیں ،چشمۂ ہدایت کےجواب پربھی دس
ہزار(۱۰۰۰۰)روپےکاانعام رکھاگیاتھا،مگرکسی قادیانی کوجواب دینےکی مجال نہ
ہوئی ،”مرزائی نبوت کاخاتمہ ” میں ختم نبوت کوثابت کیاگیاہے،اس
کاپہلاایڈیشن ۱۹۱۴؁ء میں دہلی سےشائع ہوا،اوردوسراایڈیشن ۱۹۲۵؁ء میں شائع
ہوا۔

ان کتابوں کےدفاع میں قادیانیوں نےجھوٹے الزامات اورذاتیات پرحملوں
کاسہارالیااورسب نےمل کر ایک رسالہ "اسرارنہانی "تیارکیا،جس کاذکرآپ نے
حضرت مولاناعبدالرحیم کےنام اپنےایک خط میں کیاہے،نیزصحیفۂ رحمانیہ میں
بھی اس کاذکرموجودہے[41]لیکن یہ تدبیریں زیادہ کارگرنہ ہوسکیں [42]۔

آپ کی کتابوں کافیض عالمگیرہے

آپ کی کتابوں کادائرہ صرف بہارتک محدودنہ تھا،بلکہ بہارسے باہراڑیسہ
،پنجاب،سرحد ،بنگال،مدراس ،بمبئی،گجرات، حیدرآباد،سلہٹ،ڈھاکہ، نواکھالی
،میمن سنگھ ،قریب پورے برصغیربلکہ برماوافریقہ تک آپ کی کتابیں پہونچیں
،اورجہاں جہاں آپ کی کتابیں پہونچیں ،قادیانی بھاگنےپرمجبورہوگئے[43]۔

ان کتابوں میں ردقادیانیت کےموضوع پرآپ نےاتنامواد جمع کردیا ہےکہ
آنےوالی نسلوں کودیرتک کسی اورطرف رخ کرنےکی ضرورت نہیں ہے، اکیڈمی نہیں
اکیڈمیاں آپ کےکاموں پرقربان کی جاسکتی ہیں ،آپ کاتنہایہی ایک کارنامہ
اتنابڑاہےجوآپ کی عظمت شان کےلئےبہت کافی ہےفرحمہ اللہ۔

فتنۂ عدم تقلید

"غایۃ التنقیح فی اثبات التراویح”مسئلۂ تراویح پرایک مدلل کتاب

عدم تقلیدکافتنہ بھی اس زمانےمیں کافی شباب پرتھا،اورکئی
اجماعی مسائل پرسوالات اٹھائےجارہےتھے،مثلاًبیس (۲۰)رکعت تراویح کامسئلہ
جس پرعہد صحابہ سےآج تک تعامل چلاآرہاہے،بعض غیرمقلدین نےاس کےسنت
ہونےکاانکارکیا،بعض نےتوسرےسے تراویح کوہی سنت سےخارج کردیا،اس زمانہ میں
مولوی بشیرالدین سہسوانی نےبیس (۲۰)رکعت سنت ہونےکاانکارکیا،اورصرف آٹھ
رکعت کوسنت قراردیا،جس کاجواب اس زمانہ کےایک حنفی عالم مولانا عبدالرحمن
صاحب ؒ نےدیا،تواس کےجواب میں ڈپٹی امدادعلی (کانپور)نے”امدادالسنۃ
"اورمولوی بشیرالدین قنوجی نے”امدادالقوی "کےنام سے کتابیں لکھیں ،ڈپٹی
امدادعلی نےلکھاکہ حنفیہ کےاصول کےمطابق تراویح زیادہ سےزیادہ مستحب
ہوسکتی ہے،سنت نہیں ،ان دونوں کتابوں کاجواب دینےکی سخت ضرورت تھی ،لیکن
جب کسی طرف سے پیش رفت نہ ہوئی توحضرت مونگیری ؒ نےخوداس کاعزم
فرمایا،مگرمشکل یہ تھی کہ آپ کےپاس مطلوبہ کتابیں نہیں تھیں ،چنانچہ آپ
لکھنؤتشریف لے گئے،اورحضرت ابوالحسنات مولاناعبدالحی فرنگی محلی ؒ کےکتب
خانہ سے استفادہ فرمایااورمذکورہ دونوں کتابوں کاانتہائی مدلل جواب "غایۃ
التنقیح فی اثبات التراویح "کے نام سے تحریرفرمایا،جومطبع نظامی
کانپورسےشائع ہوئی [44]۔

یہ کتاب آپ کی دفاعی صلاحیت کےعلاوہ حدیثی وفقہی مہارت کی بھی
شاندارمظہرہے،مجھےاس کتاب کی زیارت کاموقعہ نہیں ملاہے،لیکن موضوع کی
حساسیت کےپیش نظراندازہ کیاجاسکتاہےکہ مولاناکی نظرحدیث وفقہ
کےمآخذپرکتنی گہری ہوگی ۔

(۳)

مختلف علمی موضوعات پرتصنیفات عالیہ

٭دفاعی محاذ کےعلاوہ مختلف علمی موضوعات پربھی آپ کی قیمتی نگارشات
موجودہیں ،جن سے مختلف علوم وفنون میں آپ کےکمال اورجامعیت کااندازہ
ہوتاہے۔

متعلقات قرآنی

علم قرآن پرآپ کی کوئی باقاعدہ تحریراس وقت میرے
سامنےنہیں ہے،اگرکوئی تحریرایسی میسرآئےگی توان شاء اللہ
لکھاجائےگا،البتہ آپ نےقرآن کریم کی حفاظت اورجمع وترتیب پرایک رسالہ
"البرہان لحفاظۃ القرآن "تحریرفرمایاتھا،جس کی طباعت مطبع تحفۂ محمدیہ
میں شروع ہوئی تھی ،لیکن ناگہانی حالات کے تحت وہ پریس ختم ہوگیااوریہ
مسودہ بھی تلف ہوگیا،اگروہ کتاب آج موجودہوتی تویقینی طورپرقرآن کریم کی
تاریخ کےایک اہم باب پرقابل قدرروشنی پڑتی ،اس بات کا تذکرہ حضرت ؒ
نےبڑےافسوس کےساتھ اپنےاس مکتوب میں کیاہے،جومکاتیب محمدیہ (حصۂ اول )میں
موجودہے،حضرت نےلکھاہےکہ اب تواس مسودہ کے مضامین بھی ذہن میں محفوظ
نہیں رہے۔

قرآن کےجمع وترتیب پرایک اہم مکتوب

اس مکتوب میں آپ نےقرآن مجید کی حفاظت اورجمع وترتیب پربہت اچھی علمی
اورتاریخی گفتگوکی ہے، آپ نے ثابت کیا ہےکہ قرآن کریم کی حفاظت کاکام
خودسرکاردوعالم ﷺکی نگرانی میں ہوا،اوراس کےلئےدوطریقےاختیارکئےگئے،عام
صحابہ اسےیادکرلیتے ،اورکاتبین اسے قلمبندکرتے،اورقلمبندکرنےکے بعددوبارہ
اسے سناتے ،آپ نےقرآن کریم کی تلاوت اوریادکرنےکی اتنی فضلیتیں بیان
فرمائیں کہ قدرتی طوپرتمام صحابہ نےحفظ قرآن کااہتمام
کیا،اورباربارپڑھنےکی عادت بنائی ،علاوہ قرآن کریم میں اللہ پاک نےایسی
لذت رکھی ہےکہ اس کوباربارپڑھنےمیں حظ اورلطف بھی ملتاہے،پھرچندقراء
صحابہ کوتعلیم قرآن کےلئے مامور فرمایا،جن میں سات (۷)قراء صحابہ (حضرت
علی ؓ،حضرت عثمان غنی ؓ،حضرت ابی بن کعب ؓ،حضرت زیدبن ثابت ؓ،حضرت
عبداللہ بن مسعودؓ،حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ ، اورحضرت ابوالدرداءؓ)کوزیادہ
شہرت حاصل ہوئی ،پھرعہدصدیقی میں جمع وترتیب کاکام ہوا،تاکہ اس کوکتابی
صورت میں محفوظ رکھنا آسان ہو،اس کےبعدعہدعثمانی میں اسی مصحف صدیقی کی
اشاعت عام ہوئی ہے،اوردوبارہ حفاظ وقراء قرآن سے اس کی ایک ایک آیت کی
تصویب کرائی گئی ،البتہ لغت قریش کےعلاوہ دیگرقبائل کی لغات کوشامل نہیں
کیاگیا، جن لوگوں نےعہدنبوت میں اپنےطورپرقرآن لکھاتھا،مثلاًحضرت علی ؓ
اورحضرت عبداللہ بن مسعودؓ وغیرہ ،یاجن کےپاس قرآن کے متفرق اجزاء
موجودتھے ،ان سے کوئی تعرض نہیں کیاگیا،نہ ان کوتلف کیاگیا،اورنہ ان
پرکوئی پابندی عائدکی گئی ،قرآن کریم کےصرف ان اجزاء مکتوبہ کونذرآتش کیا
گیاجو ناقص طورپرلوگوں نےبطورخودلکھ رکھےتھے ،وہ اگرتلف نہ کئےجاتے
توقرآن کریم میں خلط کااندیشہ تھا،اس طرح حضرت مونگیری ؒ نےاپنےمکتوب
میں انتہائی تفصیل کےساتھ ثابت کیاہےکہ موجودہ قرآن بعینہ وہی ہے ،جونبی
کریم ﷺپرنازل ہوا،اس میں ایک شوشےکابھی فرق نہیں ہے،آپ نےاس کی تائیدمیں
کئی شیعہ اہل علم کی عبارتیں نقل کی ہیں ،جنہوں نےقرآن کریم کےمکمل
محفوظ ہونےکااعتراف کیاہے،یہ خط تقریباًبڑے سائزکےچوبیس (۲۴)صفحات
پرمشتمل ہے،انتہائی عالمانہ ،اوربصیرت افروز،اورزبان وبیان بےحدسادہ ،عام
فہم اوراثرانگیزہے[45]،فجزاہم اللہ احسن الجزاءعناوعن جمیع المسلمین

حدیث وعلم الحدیث

فن حدیث سے آپ کوخاص شغف تھا،اورہروہ عالم جسےعشق رسول کی دولت بھی
میسرہو،اسےعلم حدیث کےساتھ شغف ہوناناگزیرہے،آپ کوطالب علمی ہی کےزمانےسے
اس فن کےساتھ بےپناہ انس تھا۔

شرح نخبۃ الفکربزبان عربی

چنانچہ حدیث سے فراغت کےبعد۱۲۹۳؁ھ /۱۸۷۶؁ءمیں جب آپ سہارن پورسےوطن تشریف
لائے، توپہلا تصنیفی کام علم حدیث کےموضوع پرکیا، اصول حدیث کی مشہورکتاب
"نخبۃ الفکر”پرآپ نےعربی زبان میں مستقل حواشی تحریرکئے،مگرافسوس وہ
زیورطبع سے آراستہ نہ ہوسکے، آپ نےاسی زمانےمیں مطبع نظامی سے نخبۃ الفکر
کاایک نسخہ چھپوایاتھا،جس پرکچھ حواشی بھی تھے،مگریہ اس سے الگ چیزہے،آپ
نےہرہرجزوپرعربی زبان میں جوباقاعدہ شرح یا حواشی لکھےتھے،وہ اب نایاب
ہے،جب کہ حضرت کی یہ واحد کتاب ہےجوعربی زبان میں تصنیف کی گئی تھی[46] ۔

فقہ وفتاویٰ

٭فقہ وفتاویٰ اورمسائل کی تحقیق وتدقیق سے بھی آپ
کوابتداہی سے لگاؤ تھا،زمانۂ طالب علمی میں حضرت مولاناسیدحسین شاہ ؒ
(جومدرسہ فیض عام میں آپ کےاستاذاورمتبحرعالم دین تھے)سے بعض موضوعات
پرتین تین روزتک علمی بحثیں ہوئی ہیں ،استاذمحترم حضرت مولانالطف اللہ
علی گڑھی ؒسے بھی اکثرمسائل کی تحقیق کرتےتھے۔۔۔۔بعدکےادوارمیں حضرت
مولانارشیداحمدگنگوہی ؒسے بھی ایک بارمیلاد کےمسئلہ پرآپ نےگفتگوکی تھی
،اورحضرت گنگوہی ؒ نےفرمایاتھا،جو میلاد حضرت مولانالطف اللہ علی گڑھیؒ
پڑھتےہیں ہم اس میلادکےخلاف نہیں ہیں [47]۔

علمی وفقہی مسائل کی تحقیق کےلئےسفرلکھنؤوپٹنہ

کانپورکےزمانۂ قیام میں فقہی مسائل کی تحقیق کےلئےآپ اکثرلکھنؤکاسفر
فرماتے اوروہاں کئی کئی روزقیام کرکےحضرت مولاناعبدالحی فرنگی محلی ؒ
کےکتب خانہ سے استفادہ کرتے تھےاورحضرت فرنگی محلیؒ سے مذاکرہ بھی
فرماتے،حضرت مولانامفتی محمدسہول صاحب ؒ کےنام اپنےایک مکتوب میں لکھتے
ہیں :

"میں نےعمرکااکثرحصہ علم ہی کی خدمت میں گذاراہے،اورخداکےفضل سے طالب
علمی کےزمانہ ہی سے تحقیق مطالب اورتنقیح مسائل کا

شوق رہاہے،بعدختم فقہی مسائل کی تحقیق کاشوق پیداہوا،اس وقت کتابیں
موجودنہ تھیں ،صرف تحقیق کی غرض سے لکھنؤ جاتاتھا،اوردس

دس پندرہ پندرہ روزقیام کرکےمولوی عبدالحی صاحب مرحوم سےکتابیں
لےکردیکھتاتھا،اوربعددیکھنےکےمولوی صاحب موصوف سے گفتگو

ہوتی تھی "[48]۔

مونگیرکےزمانۂ قیام میں بھی ایک بار بعض کتابوں کےلئےپٹنہ تشریف
لےگئےاورخدابخش خان اورینٹیل لائبریری میں بیٹھ کرمطالعہ کیا[49]۔

کارافتاء اورفقہی آراء کامجموعہ

کمالات محمدیہ سے معلوم ہوتاہےکہ جن دنوں آپ تدریس سے وابستہ تھے،آپ
باقاعدہ فتویٰ کاکام بھی کرتے تھے ،رسمی تدریس کاسلسلہ منقطع ہونے کے
بعدبھی عرصہ تک آپ کی فتویٰ نویسی کی خدمت جاری رہی [50]،آپ کےفتاویٰ
کامجموعہ توشایدمرتب نہ ہوسکا،لیکن آپ کےفقہی مضامین وتحقیقات کاایک
اچھاخاصا مجموعہ "کتاب المسئلۃ "کےنام سے تیارہواتھا،جوغالباًخانقاہ
رحمانی میں موجودتھا،پتہ نہیں وہ بھی زیورطباعت سے آراستہ ہوایانہیں
،اورکتب خانہ رحمانیہ مونگیرمیں اس کی کوئی کاپی محفوظ ہےیانہیں ؟[51]،

محکمۂ افتاءکاقیام

مولاناکےاسی فقہی ذوق کانتیجہ تھاکہ آپ نےتحریک ندوہ کےدرمیان محکمۂ
افتاکےقیام کی تجویزرکھی ،اورگیارہ(۱۱) دفعات پرمشتمل اس کاخاکہ
تیارکیاتھا ، چنانچہ آپ کی تجویز کےمطابق ندوہ کےتحت دارالافتاءقائم
ہوا،اوربہت کامیابی کےساتھ چلا،”سیرت مولانامحمدعلی مونگیری” کےمطابق
دارالافتاءسےصرف ایک سال کی مدت میں پانچ سوپینسٹھ (۵۶۵) استفتاءات
کےجوابات دئیےگئے،جن میں سینتالیس (۴۷)فتاویٰ انتہائی مشکل اورپیچیدہ
تھے،ان کےعلاوہ تئیس (۲۳)مسئلوں کی بطورخودتحقیقات کی گئی [52]۔

علماء کوزمانہ شناس ہوناچاہئے

حضرت مولاناؒکی فقہی چیزوں کامطالعہ کرنےسے اندازہ ہوتاہےکہ وہ محض رسمی
مفتی یاناقل فتویٰ نہیں تھے،بلکہ اجتہادی شان رکھنےوالے فقیہ تھے،ان کا
خیال تھاکہ علماء کوزمانہ شناس ہوناچاہئے،جس مفتی کی نظرحالات زمانہ پرنہ
ہو،وہ حکم شرعی کی تہ تک نہیں پہونچ سکتا[53]۔

احکام شرعیہ میں فرق مراتب کالحاظ ضروری

حضرت مولانااحکام شرعیہ میں فرق مراتب پربہت زوردیتے تھے ،کس حکم
کاکیامحمل ہے؟اگرمفتی میں یہ امتیازنہ ہواوروہ مدارج احکام کےفرق کونہ
سمجھ سکےتوایساشخص حقیقت میں فقیہ نہیں ہوسکتا،کمالات محمدیہ کےحوالےسے
مولانامحمدثانی ؒ نےآپ کی ایک عبارت نقل کی ہے،جواس موضوع پرانتہائی
بصیرت افروز اورچشم کشاہے:

"طالب خداکواورشریعت مصطفیٰ ﷺکےچلنےوالےکوبہت ضرورہےکہ جوحکم جس مرتبہ
کاہےاس پررکھے،کمی بیشی نہ کرے،اوراپنے

اعتقادمیں وہی مرتبہ اس کاسمجھتارہے،مستحب کوواجب وفرض نہ خیال کرے،یعنی
مستحب کےتارک کوایسابرااورلائق ملامت نہ سمجھےجیسا

کہ تارک فرض وواجب کوسمجھناچاہئے،کیونکہ مستحب کاترک جائزہے،اس وجہ
سےاگرکسی نےترک کردیاتووہ ملامت کامستحق نہیں ہوسکتا،

خصوصاًاس وقت میں کہ شریعت پرچلنادشوارہوگیاہے،یہاں زیادہ غورطلب
اورضروری یہ کہناہےکہ اگرکوئی شخص مستحب کوبدعت کہدے

،اوراس سے انکارکرے،تواس کاکیاحکم ہے،اس وقت اسی بنیادپربہت جھگڑے
رہتےہیں،اوراکثرطرفین سےافراط وتفریط ہوجاتی ہے،ایسے

کم حضرات دیکھےجاتے ہیں ،جوافراط وتفریط کوچھوڑکرمیانہ روی اختیارکریں
،اورعوام کوامرحق اس طرح سمجھائیں ،کہ وہ سمجھ جائیں ،کہ اس

قدرزیادتی وکمی ہے،اس قدرغلط ہےاوراس قدرصحیح امرہے،جس پرہمیں عامل ہوناچاہئے۔

مستحب کی دوقسمیں ہیں :وہ مستحب جس کاثبوت جناب رسول اللہ ﷺکےفعل سے
یاخلفائےراشدین کےقول وفعل سے ہے،اسے کوئی

بدعت نہیں کہہ سکتا،اورجوکہےوہ غلطی کرتاہے،باقی رہاوہ مستحب جس کاثبوت
صرف اگلےبزرگوں کےقول وفعل سے ہوتاہے،اسےکوئی

بدعت کہے،اوراس پرعمل نہ کرے،تواس کی مختلف حالتیں ،ہیں ،عمل نہ کرنےکی
ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے،کہ اس کاخیال ہےکہ اس فعل کو

اگرسب کرنےلگیں گے،اورہمیشہ کرتےرہیں گے،توعوام اسےضروری مثل فرض وواجب
اعتقادکرنےلگیں گے،اورعوام کواس غلط اعتقاد

سے بچاناضرورہے،یاکوئی بڑےپایہ کاشخص ہے،وہ جانتاہےکہ اگلےبزرگوں نےیہ
فعل جس مصلحت سے کیاہے،وہ مصلحت اس وقت نہیں ہے

،اورجناب رسول اللہ ﷺنےیاخلفائےراشدین نےاسےکیانہیں،اس لئےنہیں
کرتا،ایساشخص ملامت کےلائق نہیں ہوسکتا،بلکہ تعریف

کےلائق ہے۔۔۔مسلمانوں کااورخصوصاًاہل علم کاایسےفعل کوبدعت کہہ کراس
قدرشورکرناکہ باہم فتنہ وفسادقائم ہوجائےنہایت براہے[54]

احکام التراویح –ایک فقہی رسالہ

٭ بعض تذکروں میں آپ کی ایک کتاب "احکام التراویح "کاذکرملتاہے،جس میں
آپ نےتراویح کےمفتیٰ بہ مسائل کوجمع کیاتھا،اورابتدائےکتاب میں
چاندکےمسائل بھی ذکرکئےتھے ،یہ کتاب اولاًمطبع نظامی کانپورسےشائع ہوئی
،پھرخودمصنف کی ترمیم واضافہ کےبعدمولوی عبدالعلی مدراسی صاحب ؒ نےاپنے
مطبع اصح المطابع سے طبع کرایا[55]۔

"مسلمان ایک امت،ایک جماعت”مسئلۂ امارت کی تفہیم پرایک شاہ کلید

٭آپ کی ایک انتہائی اہم تحریرجومسئلۂ امارت کی شرعی
حیثیت اوراس دورمیں اس کی ضرورت واہمیت کےموضوع پرہےجسےامارت شرعیہ
نے”مسلمان ایک امت ایک جماعت "کےنام سے کتابی صورت میں شائع کیاہے،وہ
میرےپیش نظرہے ،نہیں معلوم یہ عنوان حضرت مونگیری ؒ کاخودقائم کردہ
ہے،یابعدمیں رکھا گیا،لیکن کتاب کےنام سےیہ اندازہ نہیں ہوتاکہ یہ کسی
علمی وفقہی مسئلہ پرکوئی محققانہ تحریرہوگی،بادی النظرمیں یہ کوئی دعوتی
یااصلاحی کتاب متصورہوتی ہے ،لیکن حقیقت یہ ہےکہ یہ مسئلۂ امارت پرعلمی
اورفقہی نقطۂ نظرسے اولین تحریرہے،اس سے قبل بانی امارت شرعیہ حضرت
مولاناابوالمحاسن سجادؒنےاپنےپہلےدعوتی خط میں نیز حضرت مولاناعبدالباری
فرنگی محلیؒ کےخطوط کےجوابات میں حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ
،اورحضرت امیرشریعت اول حضرت شاہ بدرالدین صاحب قادری پھلواروی ؒ نےمسئلۂ
امارت کےتعلق سے بعض اشکالات کےجوابات دئیے تھے ،لیکن اس موضوع پرپہلی
مفصل علمی اورفقہی تحریرحضرت مونگیری ؒ نےتیارفرمائی ، آپ کو اس تحریرکی
ضرورت کااحساس امیرشریعت اول کےانتخاب کےوقت سے ہی تھا،جس کی طرف آپ
نےاپنےجوابی مکتوب میں اشارہ بھی فرمایا تھا[56]،لیکن اپنے ضعف وعلالت کی
وجہ سے نہ لکھ سکے،لیکن امیرشریعت ثانی کےانتخاب کےموقعہ پرجب بحیثیت
صدرجلسہ آپ سے منظوری لی گئی توآپ نےاپناخطبۂ صدارت اسی موضوع پررقم
فرمایا،جس میں مسئلہ کی اکثرجہتوں کوانتہائی مدلل اورمفصل طورپرقرآن
وحدیث اورفقہی عبارتوں کی روشنی میں منقح فرمایا،آپ نےعصرحاضرمیں علماء
کی ذمہ داریاں یاددلائیں ،اورامارت شرعیہ کوشرعی نقطۂ نظرسے موجودہ
دورمیں امت کی شیرازہ بندی کی واحد شکل قراردیا،آپ نےلکھاہےکہ امت کی
تنظیم و اجتماعیت کی منصوص صورت یہی ہے،باقی انجمنیں ،تنظیمیں ،کمیٹیاں
وغیرہ یہ سب غیرمنصوص اوراسلامی اصطلاحات سے جداگانہ چیزیں ہیں ،آپ نےاس
ضمن میں علماء کے فتاویٰ بھی نقل فرمائےہیں،خاص طورپرحضرت شاہ
عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ اورحضرت مولاناعبدالحی فرنگی محلی ؒ کےفتاویٰ
،اسلامی تاریخ میں اس کے بعض نظائربھی بیان کئے،امیرشریعت کےاختیارات
اورفرائض پربھی روشنی ڈالی ،وغیرہ ۔

امیرشریعت ثانی کےانتخاب کےوقت جب آپ کےصاحبزادے حضرت مولاناشاہ لطف اللہ
رحمانی ؒ نےیہ خطبۂ صدارت پیش فرمایا،توعام علماء کےلئےیہ ایک عظیم علمی
وفقہی انکشاف تھا،اوراس خطبہ نےامارت شرعیہ کےلئےفضاصاف کرنےمیں اہم رول
اداکیا،تریپن (۵۳)صفحات پرمشتمل یہ رسالہ مسئلۂ امارت کی علمی تحقیق میں
ایک شاہ کلید کی حیثیت رکھتاہے،بعدکی اکثرتحریریں حضرت مونگیری ؒ کےبیان
کردہ علمی خطوط سے مستفادمحسوس ہوتی ہیں ،فجزاہم اللہ احسن

الجزاء ۔

ع قیاس کن
زگلستان من بہارمرا

تصوف وسلوک

تصوف وسلوک توآپ کامیدان ہی تھا،آپ ولایت
کےخمیرسےپیداہی ہوئےتھے،عملی طورپرآپ کی ذات گرامی سے خلق خداکوجوفیض
پہونچاوہ حد و حساب سےباہرہے،لیکن علمی طورپر بھی آپ نےاس موضوع کوبہت
مالامال کیاہے۔

"ارشادرحمانی وفضل یزدانی” – اخلاقی محاسن،روحانی تعلیمات اورعلمی نکات
کی جامع کتاب

اس موضوع پرآپ کی سب سے شہرۂ آفاق تصنیف "ارشادرحمانی وفضل یزدانی”جس
کے(۱۹۷۴؁ء تک ) انیس (۱۹) ایڈیشن شائع ہوچکےتھے ،(میرے پاس انیسواں
ایڈیشن ہے،ناشر خانقاہ رحمانی مونگیر)اس کتاب کوعوام وخواص ،علماء
وصوفیاء ہرحلقےمیں پذیرائی ملی ،خود آپ کےپیر طریق حضرت مولاناشاہ فضل
رحمن گنج مرادآبادی ؒ نےاس کتاب کوسندتحسین عطاکی اوراپنی دعاؤں سے
نوازا،اوراپنےدست بابرکت سے یہ لکھ کردستخط ثبت فرمائےکہ :

"یاالٰہی ازیں رسالہ مؤمناں رانفع باشد” (حررہ فضل رحمن غفراللہ
تعالیٰ لہ ولآبائہ وابنائہ ومریدیہ ،آمین ثم آمین )

یہ کتاب حضرت گنج مرادآبادیؒ کےسرہانےکےطاقچےمیں رہتی تھی ،اوروقفہ وقفہ
سےحضرت ؒاس کوملاحظہ فرماتے تھے[57]۔

یہ دراصل حضرت گنج مرادآبادی ؒکےملفوظات وارشادات ،اوراد وظائف ،بعض
اعمال واشغال ،روحانی فوائداورعلمی نکات ولطائف کامجموعہ ہے،جوابتداءً
محض قلمی یادداشت کےطورپرلکھاگیاتھا،پھربعدمیں اس کاانتخاب شائع
کیاگیا[58]،کتاب کےشروع میں حضرت مونگیری ؒ نےاپنےروحانی سفر بالخصوص
حضرت گنج مراد آبادی ؒ کی بارگاہ تک پہونچنے کی مختصرروئدادبھی لکھی
ہے،اس کتاب کی پہلی طباعت نواب نورالحسن خان بہادر (خلف نواب صدیق حسن
خان مرحوم بھوپال )نےاپنے مطبع شاہجہانی میں کرائی ، کتاب چھپنےکےبعد
مولانالطف اللہ صاحب کےخالہ زادبھائی مولانامحموداحمدصاحب کتاب لےکرحضرت
مولانا فضل رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوئے ،حضرت نےپورارسالہ ایک ہی مجلس
(بعدنمازظہرتاعصر)میں ملاحظہ فرمالیا،اورپھرسراٹھاکرفرمایا”جوکچھ
لکھاہےحق لکھاہے”[59]

دوسری طباعت مولانانورالدین صاحب تاجرکتب مصرکانپورنےکرائی ،اس دوسرے
ایڈیشن میں حضرت گنج مرادآبادی کےکچھ مزیدارشادات وملفوظات شامل
کئےگئے،تیسراایڈیشن مطبع مجتبائی سےشائع ہوا،چوتھا۱۳۲۰؁ھ میں
محمودالمطابع کانپورسےشائع ہوا[60] ۔

یہ کتاب اخلاقی محامدومحاسن اورروحانی تعلیمات کےعلاوہ بہت سے علمی
نکات(جوعام طورپرکتابوں میں دستیاب نہیں ہیں) پرمشتمل ہے،جس سے حضرت
مولانافضل رحمٰن ؒکی شان علمی کےعلاوہ حضرت مونگیری ؒ کےحسن انتخاب کی
بھی عکاسی ہوتی ہے، بطورنمونہ دومثالیں پیش ہیں:

معیت انبیاءکےذکرکےبعدمعیت صدیقین وشہداء کی ضرورت؟

٭قرآن کریم میں ایک آیت کریمہ ہے:

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ
اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ
وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا[61]

اس آیت کریمہ کےتحت حضرت فضل رحمن ؒ نےارشادفرمایا:

"بھلابتاؤتوسہی کہ جب انبیاء کےساتھ معیت بیان کردی توصدیقین وغیرہ کی
معیت بیان کرنےکی کیاحاجت تھی،میں نےعرض کیاکہ

حضورہی ارشادفرمائیں ،تأمل کےبعدارشادہوا،کہ حقیقت حال تواللہ ہی
جانتاہے،اورشریعت کی روسےایسی باتوں کےجاننےکی تکلیف

نہیں ہے،البتہ قرآن مجیدکےنکات ہیں ،ہمارےذہن میں تویہ آتاہےکہ اس بیان
سےمقصودیہ ہےکہ جواللہ و رسول کی اطاعت کرے

گاوہ سبھوں کاپیاراہوگا،جیسےکوئی آدمی المشرب ہوتاہے،اورکوئی ابراہیمی
المشرب اورکوئی محمدی المشرب ،اورکسی کوسب سے نسبت ہوتی

ہے،اس کی مثال اس طرح سمجھوکہ لڑکوں کوہرایک پیارکرتاہے،اس کاحاصل یہ
ہےکہ اگرچہ اعلیٰ شخص کی توجہ اورانس سےادنیٰ کی توجہ

ہوہی جاتی ہے،مگراس سےذاتی توجہ اورانس لازم نہیں آتااورآیت میں ہرایک
کی ذاتی توجہ اورانس مقصودہےاس کوحاجت ہویانہ ہو”[62]

دم عیسیٰؑ کی توجیہ

٭”ارشادہوااس کی کیاوجہ تھی کہ حضرت عیسیٰ ؑ سینکڑوں مریضوں کوایک پھونک
میں اچھاکردیتے تھےپھرخودہی جواب میں

دوشعرپڑھےتھے،جن میں کا ایک شعریہ ہے: ؎

گفتۂ اوگفتۂ اللہ بود
گرچہ ازحلقوم عبداللہ بود[63]

"مفیدالطالبین”آداب سلوک پرایک اہم کتاب

٭حضرت مونگیری ؒطالبین وسالکین طریق کےلئےضروری آداب وہدایات پرایک مفصل
کتاب لکھناچاہتے تھے ،اس لئےکہ بعض مرتبہ ذراسی بےتوجہی سےسالک کی ترقی
رک جاتی ہے،بلکہ کبھی روحانی طورپرنقصان مبتلاہوتاہے،اگرمرشدوقت کی جانب
سے ابتداءًہی میں ضروری ہدایات وآداب کی رہنمائی کردی جائے توطالب راہ
سلوک کےبہت سے خطرات سے محفوظ ہوجائےگا،حضرت مونگیری ؒ اپنی خدادادبصیرت
اورقیمتی تجربات کی روشنی میں ایک مفصل خاکہ تیارکرنا چاہتے تھے،جس کا
آغازبھی آپ نےفرمادیاتھا،لیکن شاید اس کومکمل نہ کرسکے،اوردرجۂ اجمال سے
بات آگے نہ بڑھ سکی[64] ،اس کتاب کانام "مفیدالطالبین”ہے، یہ گو کہ
نامکمل ہےلیکن موجودہ حالت میں بھی انتہائی اہم اورہرطالب وسالک
کےلئےقابل مطالعہ ہے خواہ وہ کسی سلسلےکامریدہو،اس طرح کی بنیادی ہدایات
عصرحاضرکے اکثرمشائخ کے یہاں بہت کم دستیاب ہیں ،اس رسالہ کاایک ایک نکتہ
اتنا قیمتی ہےکہ صفحات کےصفحات اس کی تشریح کےلئےدرکارہیں ،اورخاص بات یہ
ہےکہ ہر نکتہ قرآن وحدیث کےنصوص سے ماخوذ ہے،اوراس کامأخذ بھی
ذکرکردیاگیاہے،علاوہ اس میں حضرت ؒکےاپنےسلسلےکےبعض شجرات بھی ہیں ۔

یہ کتاب "ارشادرحمانی "کےضمیمہ کےطورپرمطبوعہ ہے،میرےپیش نظر۱۹۷۴؁ء میں
خانقاہ رحمانی کا شائع کردہ نسخہ ہے۔

فیوض رحمانی

٭تصوف کےموضوع پرآپ کی ایک مشہورکتاب "فیوض رحمانی "بھی ہے،اس میں ذکرکی
فضیلت ،دعا ئیں،اورمجرب اورادواذکارتفصیل کےساتھ لکھے گئےہیں ،اصح
المطابع کانپورسےشائع ہوئی ہے[65]۔

شجرۂ قادریہ

٭”شجرۂ قادریہ "بھی آپ کاایک مشہوررسالہ ہے،جس میں شجرۂ قادریہ کی مکمل
تحقیق کی گئی ہے،خاص طورپرپیران پیرحضرت شیخ عبدالقادرجیلانیؒ کے
اوپرکےسلاسل بیان کئےگئےہیں ،اورسلسلۂ آبائی میں جواختلاف ہےاس کی تنقیح
کی گئی ہے،یہ آپ کی کنیت "ابواحمدرحمانی "کےنام سے شائع ہوئی تھی ،آپ کے
بڑے صاحبزادے کانام "احمدعلی "تھا،انہی کی طرف یہ کنیت منسوب تھی ،گوکہ
زیادہ مشہورنہیں تھی[66]۔

مکتوب وحدۃ الوجودووحدۃ الشہود

٭آپ کےمجموعۂ مکاتیب "مکاتیب محمدیہ "(حصۂ اول )میں ایک مکتوب وحدۃ
الوجوداوروحدۃ الشہودکےموضوع پرہے،یہ تصوف کاانتہائی دقیق اورمعرکۃ
الآراء مسئلہ ہے،لیکن جس وضاحت کےساتھ آپ نےمسئلہ کی تفہیم کی ہےوہ آپ ہی
کاحق ہے،گوکہ یہ مسئلہ اسلامی عقیدہ کاحصہ نہیں ہے،جس کاسمجھنادینی
نقطۂ نظر سے ضروری ہو،یہ محض تصوف کاایک نظریہ ہے،جو علمی سے زیادہ عملی
ہے،اوراس کاتعلق فکروفہم کےبجائےمشاہدات وواردات سے ہے،یہ اصلاً ایک
مقام معرفت ہے،جہاں صوفیاء برسوں کی ریاضت کےبعدپہونچتے ہیں ،یہ
مبتدیوں کی چیز نہیں ہے،اس لئےمبتدیوں کےسامنےاس طرح کےمسائل
چھیڑناتشویش کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں دیتا۔اس بات کاذکر حضرت نےاپنےاس
مکتوب میں کیاہے۔

مکتوب سےمعلوم ہوتاہےکہ انہوں نےتصوف پرایک رسالہ اپنےپہلےپیر حضرت شاہ
کرامت علی قادری ؒ سےپڑھناشروع کیاتھا،لیکن جب وحدۃ الوجود کےمقام
پرپہونچےتوحضرت شاہ صاحب ؒ کی حالت متغیرہوگئی ،اورکچھ دیرتک یہی کیفیت
رہی ،افاقہ ہواتو:”آہستہ سے فرمایاکیابیان کروں جب دیکھوگےتوجان لوگے
یعنی اس کی کیفیت بیان میں نہیں آسکتی دیکھنےسےتعلق رکھتی ہے”[67]۔

یہ پیرطریق کی طرف سے اس مقام تک پہونچنےکی پیش گوئی تھی ،جوظاہرہےکہ
پوری ہوئی ہوگی،۔۔۔۔اسی کافیض ہےکہ ایسے دقیق مسئلےکواتنےعام فہم
اندازمیں آپ نےبیان فرمایاہےکہ معمولی تأمل سے مبتدی بھی اس کوسمجھ
سکتاہے ،وحدۃ الوجوداوروحدۃ الشہوددوجداگانہ نظریات ہیں ،وحدۃ
الوجودکانظریہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی ؒکی طرف منسوب ہے ،جب
کہ وحدۃ الشہودکےعلمبردارحضرت علاء الدین سمنانی ؒ اورحضرت مجددالف ثانیؒ
ہیں ،اورجیساکہ عرض کیاگیایہ ایک مقام ہےجس کاتعلق مشاہدہ سے ہے،اوریہ
منتہیوں کامقام ہے،اورمشاہدہ کےفرق سے نقطۂ نظرمیں اختلاف ہوسکتاہے،اس
کےعلاوہ قرآن وحدیث میں دونوں نقطہائےنظرکےمؤیدات موجودہیں ،اس لئےفیصلہ
کن نتیجہ تک پہونچناناممکن ہے،اس لئےصوفیاء کےان اختلافات میں کف لسان
بہترہے،کسی کوغلط کہنا درست نہیں ،تاویل کادروازہ کھلاہواہے،دونوں طرف
تاویلات کےامکانات ہیں ،الایہ کہ اللہ پاک خودکسی کوصاحب مقام
بنادےاوروہ اپنےمشاہدےکےمطابق فیصلہ کردے۔

وحدۃ الوجوداوروحدۃ الشہود-تعریفات اورمصادر

حضرت مونگیری ؒنےمکتوب میں وحدۃ الوجوداوروحدۃ الشہودکےدلائل کی بھی
نشاندہی کی ،اوریہ بھی لکھاہےکہ دونوں طرف تاویل کےامکانات موجودہیں
،اورجب مشیت الٰہی نےاس کافیصلہ نہیں کیاتوہمیں عقل کاگھوڑادوڑانےسے
کیافائدہ ؟ بطورنمونہ مکتوب کےچنداقتباسات ملاحظہ فرمائیں :

” صوفیہ کی اصطلاح میں وجودمطلق خدائے تعالیٰ کوکہتےہیں اوروجودکےمعنیٰ
موجودکےہیں اس لئےوحدت وجودکاحاصل یہ ہواکہ موجودصرف

ایک ذات ہے،اورعالم اوراس میں جس قدرنیرنگیاں ہیں ،وہ اس
موجودکےاطواراوراس کی شانیں ہیں ،جس طرح دریامیں لہریں اورموجیں طرح

طرح کی اٹھتی ہیں،کسی وقت اس دریاکی سطح پرحباب جسےبلبلہ کہتےہیں،کثرت
سےنظرآتےہیں ،کسی وقت وہی دریاکاپانی سردی سےجم کریخ ہوجاتا

ہے،اورچمکتی ہوئی چٹانیں دکھائی دیتی ہیں ،مگرحقیقت میں وہی دریاکاپانی
ہےجوطرح طرح کی شانوں سےنظرآتاہے،مگردریاایک متناہی چیزہے،

اس لئےاس کی مختلف حالتیں کتنی ہی ہوں مگرمتناہی ہونگی،اوراس ذات بےچوں
کی ذات غیرمتناہی ہےاس کی کچھ انتہانہیں ،ہمیشہ ہروقت میں

ازل سےلےکرابدتک بےشماراطوار سےاس کی شانوں
کاظہورہورہاہےاورہوتارہےگا،اوراس کی مرضی کےمطابق نئےنئےرنگ سے اس کی

جلوہ گری ہوتی ہے،کل یوم ھوفی شان کایہی مطلب ہے،اب یہاں نازک بات یہ
ہےکہ جس طرح اس موج یاحباب کویااس برف کو

دریانہیں کہتے،اوردریامیں جوعظمت وشان ہےاورجواس میں قدرت ہے،وہ اس موج
وغیرہ میں نہیں ہے،اسی طرح اس بےچوں وچگوں کی

شانوں کوخدانہیں کہہ سکتے۔۔۔۔۔جوحضرات وحدت وجوددیکھ رہےہیں ان کاحاصل
مطلب یہی ہے،۔۔۔۔۔الغرض یہ مسئلہ اس یکتائے بے

چون کی ذات اورصفات سے متعلق ہےکیونکہ وحدت وجودکاحاصل یہ ہوگاکہ تمام
مخلوق کاوہ عین ہے،غیریت محض اعتباری ہے،اوروحدت

شہودکاحاصل یہ ہےکہ اس کی ذات مخلوقات سےبالکل علٰحدہ
ہے،اورمغایرہےیایوں کہاجائےکہ اس کی ذات ایسی محیط اورغیرمتناہی ہےکہ
غیر

کی گنجائش ہی نہیں یایہ کہ اس کی ذات غیرمتناہی توبےشک ہےمگرغیرکی گنجائش ہے۔۔۔۔

وحدت شہودکامطلب یہ ہےکہ اس خالق بےچوں کی ذات مخلوق کی ذات سےبالکل
علٰحدہ اورغیرہے،مگرسالک کوغلبۂ محبت الٰہی سے یہ حالت

پیش آتی ہےکہ وہ اسےایک ذات کامشاہدہ کرتاہے،دوسرااسےنظرہی نہیں
آتا،یایوں کہاجائے،کہ جب کثرت اذکاراوراشغال اورمرشد کی

صحبت اورتوجہ سےاس ذات کےانوارپیش نظرہوتے ہیں ،توان کی روشنی
غیرکوچھپالیتی ہےجس طرح آفتاب کی روشنی ستاروں کوچھپالیتی ہے،

اوردن کوستارےنظرنہیں آتےحالانکہ ستارےموجودہیں ،ناپیدنہیں
ہوگئے،مگرآفتاب کی روشنی ایسی غالب ہےکہ ستاروں پرنظرپڑہی نہیں

سکتی ،الغرض اصحاب وجوداورارباب شہوداس امرمیں متفق ہیں کہ سالک راہ
خداکی یہ حالت ہوتی ہےکہ وہ ایک ہی ذات کودیکھتاہےدوسرااسے

نظرنہیں آتا،مگراختلاف اس میں ہے،کہ دوسری شےجواس ذات بےچوں کی غیرہوواقع
میں ہےیانہیں وحدت شہودوالےکہتےہیں ،کہ ہے،

اورتمام عالم جسےلوگ دیکھ رہےہیں ،یہ اس ذات کی غیرہےاوروحدت
وجودکےماننےوالےکہتےہیں کہ اس کی غیرکوئی شے نہیں ہے ؎

ہرچہ
آیددرنظرغیرازتونیست

یا
توئی یا بوئے تو یا خوئے تو

اس اختلاف سےیہ توبخوبی ثابت ہوتاہےکہ اصحاب حال اپنی حالت میں
جومعائنہ کریں یاجس امرکاانہیں یقین اوراعتمادہوجائےاس کاواقع میں

صحیح ہونا ضرورنہیں،اب اس کی صحت معلوم کرنےکےلئےکوئی سبیل نہیں
ہے،بجزاس کےکہ کلام خدااورکلام رسول ﷺکی طرف رجوع

کیا جائے، اوراس میں اس کی صحت دریافت کی جائے،مگرمعاملہ نازک یہ ہے،کہ
وہاں سےبھی صاف فیصلہ نہیں ہوتا،بعض کلام اہل وجودکے

مؤیدہیں ،بعض اہل شہودکے،مثلاًقرآن مجیدمیں ہے،ھوالاول والآخر
والظاھروالباطن یعنی وہی اول ہےوہی آخرہےوہی ظاہر

ہےوہی پوشیدہ ہے،اس آیت کاظاہرصریح اہل وجودکی مؤیدہے،اس طرح حدیث میں
آیاہے،اللھم لاشے الاانت اے اللہ توہی ہے،

تیرےسواکوئی نہیں ہے،دوسری حدیث قدسی ہےغالباًاس کےالفاظ یہ ہیں ،یوذینی
ابن آدم یسب الدھر واناالدھریعنی انسان زمانہ

کوبراکہتاہےحالانکہ زمانہ میں ہوں – اہل شہودکی مؤیدوہ آیتیں ہیں،جن میں
خداوندتعالیٰ کی معیت یاقربت مخلوق کےساتھ یااحاطہ کرنامذکورہے

،مثلاًواللہ معکم اینماکنتماللہ تمہارےساتھ ہےتم جہاں ہو،نحن اقرب الیہ
من حبل الوریداللہ تعالیٰ فرماتاہےہم بندہ کی شہ

رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں ،واللہ من ورائھم محیط اللہ انہیں
گھیرےہوئےہے،اسی طرح ارشادخداوندی ہے، مَا يَكُونُ مِنْ

نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ
سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ
مَعَهُمْ یعنی کوئی تین شخص مشورہ نہیں

کرتے مگروہ یعنی اللہ ان کاچوتھاہوتاہے،اوراگرپانچ شخص مشورہ کرتےہیں
،تووہ چھٹاہوتاہے،یاان سے کم وبیش ہوں ،مگروہ ان کےساتھ ہے،

ان آیتوں سےدوباتیں نہایت واضح طورسےثابت ہوتی ہیں ،ایک یہ خدائےتعالیٰ
اوربندہ علٰحدہ علٰحدہ ہیں ،جب تک دونہ ہوں ،تویہ نہیں کہہ سکتے

کہ یہ چیزاس کےساتھ ہے،یااس کےقریب ہے،ساتھ ہونےکےلئےاورقریب
ہونےکےلئےدوکاہوناضرورہے،آخرآیت میں تصریح ہےکہ

وہ تین ہیں تویہ چوتھاہے،وہ پانچ ہیں ،تویہ چھٹاہے،اس سے بخوبی
ظاہرہے،کہ اس بےچوں کی ذات بندےکی ذات سے علٰحدہ ہےاوراہل شہودکا

یہی دعویٰ ہے،دوسری بات یہ کہ خدائےتعالیٰ ہرشےکےساتھ ہےاس سے علیحدہ
نہیں ہے،اب اگران میں تاویل کرکےپہلی آیت اورحدیث

کےمطابق کیاجاوےتواہل شہودپہلی آیت اورحدیثوں میں تاویل کرکےان آیتوں
کےمطابق کریں گے،غرض کہ تاویل کاباب بہت وسیع ہے[68]

حضرت مجددالف ثانیؒ کادفاع

٭تصوف کےاعیان وائمہ کادفاع کرنااوران کی عظمت کاتحفظ کرنابھی ارباب سلوک
کےفرائض میں شامل ہے،مکاتیب محمدیہ میں ایک مکتوب حضرت مجدد الف ثانی
شیخ احمدسرہندی ؒ کےخلاف اٹھنےوالےاعتراضات کےجواب میں ہے،بلاشبہ حضرت
مجددالف ثانی ہندوستان ہی نہیں پورےعالم اسلام میں سلسلۂ نقشبندیہ کےاہم
ترین ستون ہیں ،ہندوستان میں سلسلۂ نقشبندیہ کےبانی حضرت خواجہ باقی
باللہؒ کےفیوض عالیہ سب سے زیادہ آپ ہی کےتوسط سے سارے عالم میں
پہونچے،اس لئےآپ کی طرف سے دفاع اس سلسلہ کےعلماء ومشائخ کامنصبی فریضہ
ہے،حضرت مونگیری ؒکےزمانےمیں بھی بعض بےنصیبوں نےحضرت مجددؒ کےخلاف زبان
طعن درازکی تھی ،حضرتؒ نےاپنےمکتوب میں اس کابھرپوردفاع کیاہے۔

ہردورمیں اللہ والےاہل ستم کانشانہ بنےہیں

آپ نےاپنی گفتگوکاآغازاس سےکیاکہ اعتراضات کی چھینٹوں سے کسی ولی کادامن
محفوظ نہیں رہاہے، بلکہ انبیاء بھی نہیں بچ سکے،اوریہی نظام قدرت
ہے،قرآن کریم میں ہے[69]:

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ
وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ[70]

حضرت مجددؒپربھی اعتراضات کاسلسلہ بہت قدیم ہے،ان کی حیات طیبہ میں بھی
ان کوستایاگیا،اورگزرجانےکےبعدبھی اہل عداوت چین سے نہ بیٹھے،لیکن ان
کےجوابات سے اہل علم فارغ ہوچکےہیں ،بعض اعتراضات کےجوابات توخودحضرت
مجددؒکےصاحبزادگان نےدئیے،حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ نے بھی کچھ
شبہات کےجوابات دئیےہیں ،آخری دورمیں مولوی وکیل احمدسکندرپوری ؒ(جوریاست
نظام حیدرآبادمیں ایک ممتازعہدہ پرفائزتھے) نےایک ایک اعتراض کاتفصیلی
جواب تحریرکیاہے،انہوں نےاس موضوع پرتین رسالے لکھے ٭انواراحمدیہ (مطبوعہ
مجتبائی دہلی ۱۳۰۹؁ھ)٭ہدیۂ مجددیۂ(مطبوعہ مجتبائی ۱۳۱۱؁ھ)٭ الکلام
المنجی بردایرادالبرزنجی(مطبوعہ مجتبائی ۱۳۱۲؁ھ)۔

اہل علم کوان کتابوں کامطالعہ کرناچاہئے ۔

بزرگوں کی شان میں گستاخی کرناخطرناک ہے

دراصل جس کی شخصیت جتنی بلندہوتی ہےاس کےدشمن بھی اتنےہی زیادہ ہوتے ہیں
،نیزسلاسل کےدرمیان بھی آپس میں کبھی تفاخر ہوتاہے ،مگریہ غلط
چیزہے،اصولی طورپرہرسلسلہ کااحترام ضروری ہے،کسی بزرگ کی شان میں زبان
درازی کرناانتہائی خطرناک بات ہے،اس سے بہت ڈرناچاہئے،حضرت مونگیری ؒ نے
اپنےسلسلہ رحمانیہ کےبارے میں لکھاہےکہ :

"الحمداللہ ہمارے خاندان میں کسی کوبرائی
سےیادکرنےکاتوکیاذکرہےمشہورخاندانوں میں سےکسی کوترجیح دیتےبھی حضرت قبلہ
کونہیں سنا،بلکہ

جب کسی نےترجیح کی نسبت دریافت کیاہےتوآپ نےبےتأمل یہ آیت پڑھ دی
ہےلانفرق بین احدمنھمیعنی ہم ان میں کچھ فرق نہیں کرتے

،سب طریقے موصل الی اللہ ہیں اورہرطریقے میں ہزاروں اولیاء اللہ ہوئےہیں
،ایسی حالت میں کسی طریقہ کوبراکہناہزاروں مقربین خداکوبراکہنا

ہے،اب غیرت الٰہی ان براکہنےوالوں کےساتھ کیامعاملہ کرےمیں نہیں کہہ سکتا[71]

"مجددالف ثانی”کاخطاب-توجیہات اورمظاہر

٭حضرت مجدد ؒکو مجددالف ثانی کیوں کہاجاتاہے،جب کہ حدیث میں مجددمأۃ
کاذکرہے،مجددالف کاذکرنہیں ہے؟حضرت مونگیری ؒفرماتے ہیں کہ بلاشبہ احادیث
میں صرف مجددمأۃ کاذکر ہے،الف کانہیں ہے،لیکن اس کی نفی بھی نہیں کی گئی
ہے،دراصل جس طرح مجددین کاتعین اہل زمانہ ان کی خدمات کےلحاظ سے کرتے ہیں
،اسی طرح یہ بھی ممکن ہےکہ کسی مجددکےفیوض کئی صدیوں تک جاری رہیں،یہ
حضرت مجددؒکوخودالہام ہواتھاکہ آپ مجددالف ہیں ،یعنی اگلےہزارسال تک آپ
کےتجدیدی فیوض جاری رہیں گے ،اورآنےوالےصدی مجددین آپ کےمقررکردہ خطوط سے
استفادہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔اوربعدکےادوارمیں حضرت مجددؒ کے لئے سب سے پہلےیہ
لقب علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کےقلم سے نکلا،اورایسامقبول ہواکہ حضرت
مجددؒکےنام کاجزوبن گیا،اورتاریخ اسلام میں آپ کےسواکوئی ایسی شخصیت نہیں
ہے”مجددالف ثانی” جس کےنام کاجزوبن گیاہو۔

٭علاوہ اس کی تصدیق صدیوں سے جاری اسلامی خدمات کےتسل

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: