اسلامیات

قلب سے مراد کیا ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

کیا سیر نہیں کی ملک کی جو اُن کے دل ہوتے جن سے سمجھتے یا کان ہوتے جن سے سنتے، سو کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں پر اندھے ہوجاتے ہیں دل جو سینوں میں ہیں۔ (الحج 22 : 46)
انسان کیا ہے؟
اس سے قبل ہم نے اس جانب اشارہ کیا کہ قرآن کے مطابق ہر انسان کا جسم ہے۔ انفرادی روح ہے اور روح، انا اور ضمیر سے عبارت ہے اور وہ زندگی جو اللہ نے پہلی دفعہ آدم میں پھونکی۔ ہم نے یہ تذکرہ بھی کیا کہ روح کی کچھ صفات ہیں مثلا، عقل، مرضی، احساسات، غزالی جیسے علماء نے ان تینوں کا ذکر بطور ان صلاحیتوں کے کیا ہے، ذہانت اور غصہ اور خواہش اور قوت گویائی، تخیل اور حافظہ۔ جسم حواس خمسہ سے عبارت ہے ان حواس خمسہ کا تعلق، دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے ہے۔ جسم فانی ہے اور موت جسم کو روح سے جدا کردیتی ہے۔ روح ہی انسان کی اصل ہے اور یہ لافانی ہے۔ قرآن کی رو سے روح کے تین اہم اجزاء ہیں۔ ایک وہ نفس ہے جو انسان کو برائی پہ اکساتا ہے (یوسف53 : 12 )، ایک ملامت کرنے والا نفس ہے (القیامہ 2 : 75) اور نفس مطمئنہ جس کا ذکر سورہ الفجر کی آیت 27 میں ملتا ہے۔ نفس عبارت ہے انا، ضمیر اور اس کیفیت سے جو کہ انا سے ماوراء ہے۔ روح فرد کی شخصیت سے بالاتر ہے اور اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
اور تجھ سے پوچھتے ہیں روح کو، کہہ دے روح ہے میرے رب کے حکم سے اور تم کو علم دیا ہے تھوڑا سا۔(سورہ الاسراء 85 : 17 )
نفس فرد کا اندرونی طور پر شاہد ہوتا ہے اور جسم کا حکمراں۔ روح ایک فوق الفطری اندرونی شہادت ہے۔ قرآن میں کامیاب افراد کے لئے دو جنتوں کا ذکر کیا گیا ہے (الرحمن 55 : 46)۔ اور بعض مفسرین نے اس سے مراد نفس اور روح کی جنتیں لی ہیں۔ بالفاظ دیگر نفس اور روح کے لئے انتہائی مسرت کی کیفیات ہیں۔
قلب کیا ہے؟
ہم نے اس جانب بھی اشارہ اس سے قبل کیا کہ جسمانی قلب جو بدن میں خون کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانوں میں ایک غیر مرئی روحانی قلب بھی ہوتا ہے جو کہ حرکت عظمیٰ کی سطح پر کام کرتا ہے۔ یہی روحانی قلب نفس اور روح کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ قرآن میں اس کی چار منازل بیان کی گئی ہیں: صدر، قلب، فواد اور لُب۔ لُب سے مراد اندرونی قلب اور عقل دونوں ہیں۔ صدر کا تعلق نفس سے ہے اور لُب کا تعلق روح سے۔ اللہ انسان کے قلب کا معائنہ کرتا ہے جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا۔ نبی اکرم محمدؐ کا قول ہے کہ ‘‘اللہ تمہارے ظاہر اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے اعمال اور تمہارے قلوب پر نظر رکھتا ہے ’’ (مسلم)۔ غرضیکہ انسان کو اپنے اندرونی قلب کی صحت کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئیے۔
اسی اندرونی قلب کی مدد سے انسان روحانی حقائق کا ادراک کرتا ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
کیا سیر نہیں کی ملک کی جو اُن کے دل ہوتے جن سے سمجھتے یا کان ہوتے جن سے سنتے، سو کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں پر اندھے ہوجاتے ہیں دل جو سینوں میں ہیں۔ (سور الحج 46 : 22 )
اندرونی قلب بصیرت سے بھی معمور ہوتا ہے۔ نبی اکرم محمدؐ کا ذکر قرآن نے اس طور پر کیا ہے:
جھوٹ نہیں کہا رسول کے د ل نے جو دیکھا۔(سورہ النجم 11 : 53)
تاریخ کے مختلف ادوار میں بے شمار مسلم علماء اور صوفیاء کرام نے روحانی قلب کی تصدیق اور تشریح کی ہے۔ مثال کے طور پر سہل التستری (م 283ھ بمطابق 896ء) قرآن کے اولین مفسر ہوئے ہیں۔ ایک نظم میں وہ رقمطراز ہیں : سالکین کے قلب میں آنکھیں ہوتی ہیں جن سے وہ جو کچھ دیکھتے ہیں وہ بظاہر دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا۔ ان کے پاس ایسی زبانیں ہوتی ہیں جن سے وہ اُن اسرار اور رموز کی نقاب کشائی کرتے ہیں جو کہ اعمال درج کرنے والے فرشتوں کو بھی میسر نہیں۔ ان کے پاس ایسے پر ہوتے ہیں جن سے وہ پرواز کرتے ہیں اور ان کی یہ پرواز رب العالمین کی کائنات کی جانب ہوتی ہے۔ علم غیب کی ایسی مئے ہمارے پاس ہے جو کہ علماء کے علم و فضل سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔
مابعد الطبیعاتی علم کے بارے میں مغربی فلسفیوں اور علماء نے جرمن فلسفی ایمنیل کانت کی تصنیف Critique of Pure Reason (1781ء) سے قبل زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس سے قبل البتہ روحانی بصیرت ایک معروف مذہبی عقیدہ تھا۔ مثال کے طور پر افلاطون کی تصنیف ریپبلک میں سقراط کا یہ قول ملتا ہے : ‘‘فلسفیانہ مطالعہ سے ہر طالب علم کی روح کا تزکیہ ہوتا ہے جو کہ دیگر مصروفیات کے باعث مدہم پڑ جاتی ہے اور تباہ ہوجاتی ہے اور اسی عضو کی مدد سے وہ حق کا ا دراک کرتا ہے’’ (ص 527E)۔
اسی طرح میتھیو کی انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ملتا ہے : ‘‘بابرکت ہیں وہ لوگ جن کے قلب پاک و صاف ہیں اور خدا کا نظارہ کریں گے’’ (میتھیو 5 : 8)۔ البتہ قرآن میں یہ تصریح ملتی ہے کہ اللہ کو اس زندگی میں نہیں دیکھا جاسکتا البتہ اندرونی بصیرت کے باعث روحانی حقائق کا ادراک عین ممکن ہے۔ اللہ فرماتا ہے :
نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پاسکتا ہے آنکھوں کو اور وہ نہایت لطیف اور خبیر ہے۔ تمہارے پاس آچکیں نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے پھر جس نے دیکھ لیا سو اپنے واسطے اور جو اندھا رہا سو اپنے نقصان کو، اور میں نہیں تم پر نگہبان۔(الانعام 103-104 : 6)۔
خود شناسی
یہ نکتہ قابل لحاظ ہے کہ قلب کی بصیرت خود شناسی ہے اور اس خود شناسی کا تعلق روحانی حقائق کا ادراک ہے۔ ہم نے باب 4 میں یہ ذکر کیا کہ اللہ نے انسانوں کو اس لئے تخلیق کیا ہے کہ وہ اُس کی معرفت حاصل کریں پھر باب 6 میں ہم نے یہ وضاحت کی کہ قرآن لوگوں کی یہ تربیت کرتا ہے کہ وہ خود شناسی کے مقام پر فائز ہوں۔ یہ اضافہ مناسب ہے کہ خود شناسی ہی ادراک الٰہی اور روحانی حقائق کی معرفت میں معاون ہوتی ہے۔ درحقیقت اللہ نے روح کو معرفت الٰہی سے سرفراز کیا ہے اور خود شناسی کی مدد سے انسان یہ شہادت دینے پر قادر ہوتا ہے :
اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے اُن کی اولاد کو اور اقرار کرایا اُن سے اُن کی جانوں پر کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب، بولے ہاں ہے، ہم اقرار کرتے ہیں، کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔
(الاعراف 172 : 7)
اللہ کا یہ حکم ہے کہ لوگ اس شہادت کو دیں اور زندگی میں خود شناسی کے مقام پر فائز ہوں۔ اللہ فرماتا ہے :
اے ایمان والو! یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کی کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے اور جو کوئی یقین نہ رکھے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر وہ بہک کر دور جا پڑا۔ (النساء 136 : 4 )۔
مزید برآں، اللہ کا قول ہے:
نہیں پا سکتیں اُس کو آنکھیں اور وہ پاسکتا ہے آنکھوں کو اور وہ نہایت لطیف اور خبردار ہے۔ تمہارے پاس آچکیں نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے پھر جس نے دیکھ لیا سو اپنے واسطے اور جو اندھا رہا سو اپنے نقصان کو، اور میں نہیں تم پر نگہبان۔ (الانعام 103-104 : 6 )
غالباً یہی وجہ ہے کہ قدیم یونان میں Delphi پر یہ پیغام درج تھا کہ عرفان ذات حاصل کرو۔ اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ اس کائنات پر غور و فکر اور خود شناسی کی بدولت انسان حقیقت کاادراک کرسکتا ہے :
اب ہم دکھلائیں گے ان کو اپنے نمونے دنیا میں اور خود ان کی جانوں میں یہاں تک کہ کھل جائی اُن پر کہ یہ ٹھیک ہے، کیا تیرا رب تھوڑا ہے ہر چیز پر گواہ ہونے کے لئے۔ (سورہ فصّلات 53 : 41 )۔
قلب پر زنگ لگ جانا
البتہ ہر قلب اس بصیرت کا حامل نہیں ہوتا۔ قلب کی یہ صلاحیت انسان کے اعمال پر موقوف ہوتی ہے۔ نبی اکرم محمدؐ کا قول ہے جب کوئی اللہ کا بندہ کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ دھبّہ نمودار ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائے اور دعا کرے مغفرت کی درخواست کرے تو اس کا قلب پھر سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ بندہ اس گناہ میں پھر ملوث ہو تو یہ سیاہی اس کے قلب پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ نے اس طور پر تذکرہ کیا ہے:
کوئی نہیں پر زنگ پکڑ گیا ہے اُن کے دلوں پر جو وہ کماتے تھے۔
(سورہ المطففین 14 : 83 ) (ترمذی)
بالفاظ دیگر قلب اسی وقت ادراک کے لائق ہوتا ہے جب کہ وہ پاک صاف ہو، روحانی بصیرت اوصاف حمیدہ، توبہ اور استغفار سے منسلک ہے۔ اس کے برخلاف گناہ اور انا پرستی کا یہ وبال ہوتا ہے کہ انسان روحانی طور پر نابینا ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر ایسی غفلت طاری ہوتی ہے جیسی کہ سورج گرہن کے موقعہ پر ہوتی ہے۔ چونکہ قلب ہی ایمان کا مرکز ہے۔ روحانی علم ایمان میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے :
وہی ہے جس نے اتارا اطمینان دل میں ایمان والوں کے تاکہ اور بڑھ جائے ان کو ایمان اپنے ایمان کے ساتھ اور اللہ کے ہیں سب لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ ہے خبردار حکمت والا۔ (سورہ الفتح 4 : 48 )۔

قلب پر زنگ کو دور کرنا
زندگی میں انسان کے قلب پر جو زنگ لگ جائے اس کو کیسے انسان دور کرسکتا ہے۔ نبی اکرمؐ کی ہدایت ہے کہ ایک طریقہ ہے جس سے زنگ دور ہوسکتا ہے اور قلب کے لئے ذکر الٰہی وہ طریقہ ہے جس سے زنگ دور ہوتا ہے۔ اس سے قبل ہم نے درج ذیل آیت کا حوالہ دیا :
تمہارے لئے بھلی تھی رسول اللہ کی چال اس کے لئے جو کوئی امید رکھتا ہے اللہ کی اور پچھلے دن کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت سا۔ (سورہ الاحزاب 21 : 33 )۔
قرآن میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم محمدؐ ایک بہترین اُسوہ کے حامل ہیں۔ مذکورہ بالا آیت میں ایک کیفیت اور ایک عمل کا ذکر ہے۔ یہاں ذکر سنّت رسول اللہؐ کا ہے اور کیفیت عشق کی ہےاور اس آرزو کی جو کہ خدا سے ملاقات اور یوم آخرت سے متعلق ہے اور اس کی بنیاد عشق ہے۔ عمل سے مراد یہاں کثرت سے ذکر الٰہی ہی ہے۔ غرضیکہ اسوۂ رسولؐ کا اتباع، کثرت سے ذکر الٰہی کرنا ہے اور یہ عشق کی مدد ہی سے ممکن ہے۔ قرآن کاسب سے اہم حکم یہ ہے کہ اللہ کا ذکر اور حمد کی جائے اور صالح نیت کے ساتھ یہ عمل کیا جائے اس میں جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا تلاوت قرآن کا عمل بھی شامل ہے۔ زیادہ تر سنت کا تعلق دعاؤں سے ہے، یہ دعائیں اعمال و افعال کے دوران یا اُن کے اختتام پر کی جاتی ہیں اس میں پیدائش سے موت تک کے تمام مراحل شامل ہیں۔ اس میں ہفتہ کے ہر دن اُس کا آغاز اختتام شامل ہے۔ اس میں صبح سو کر اٹھنے سے لے کر رات تک سونے کا عمل بھی شامل ہے۔ یہ دعائیں صبح مرغ کے بانگ سے لے کر شب میں چاند دیکھنے تک سے متعلق ہیں۔ یہ دعا ئیں کپڑا پہننے سے بھی متعلق ہیں اور کپڑا اتارنے سے بھی۔ یہ دعائیں کھانے اور پینے اور غسل خانے جانے کے بارے میں بھی ہیں۔ ان دعاؤوں کا تعلق غصہ پر قابو پانے اور وظیفۂ زوجیت ادا کرنے سے بھی ہیں۔ ایسے جسمانی اعمال جیسے کھانسنا، چھینکنا، ہنسنا، جمائی لینا اس کے بارے میں بھی دعائیں مذکور ہیں۔ اسی طرح گھر سے نکلتے وقت یا گھر میں داخل ہوتے وقت، کسی کو سلام کرتے وقت یا خدا حافظ یا رخصت ہوتے وقت یا نماز سے قبل اور آخر میں گفتگو سے قبل اور اس کے اختتام پر وغیرہ وغیرہ سبھی شامل ہیں۔ جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نبی اکرمؐ کے بارے میں ہے کہ ‘‘آپؐ اللہ کا ذکر ہر وقت کیا کرتے تھے’’ (مسلم) خود آپؐ کا قول ہے : ‘‘اپنی زبانوں کو ذکر الٰہی سے تر رکھو’’ (ترمذی)۔
اس سے احسان کے تصور کی وضاحت ہوتی ہے۔ احسان کا تصور نبی اکرمؐ نے متعارف کیا اور اس کی تصدیق جبرئیل علیہ السلام نے بھی کی۔ اس سے متعلق روایت ہم نے باب دوم میں بیان کی ہے۔ احسان کی تعریف نبی اکرمؐ کے الفاظ میں یہ ہے : ‘‘اللہ کی اس طور پر عبادت کرنا گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ تصور کرنا کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے’’ (بخاری)۔ اس انداز سے اللہ کی عبادت سے مراد ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہنا ہے یا کم از کم جس حد تک یہ ممکن ہو یہ محبت کے جذبے کے تحت ہی ہوتا ہے۔ اور یہ ذکر الٰہی فرض نمازوں کے علاوہ ہونا چاہئے۔ احسان کا مطلب اللہ سے زیادہ سے زیادہ رجوع کرنا ہے اور یہی سنت رسولؐ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء ذکر الٰہی میں مشغول رہتے۔ روایتی تصوف کا مقصود احسان ہے یعنی اللہ کی اس طرح عبادت گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں۔ یہ کہنا صحیح ہے کہ صوفیاء سے زیادہ احسان کے حصول کی کوشش اور اللہ کی جانب متوجہ رہنے کی کاوش تاریخ اسلام میں کسی اور نے نہیں کی ہے۔ اس لحاظ سے صوفیاء احسان کے متخصصین ہیں جس طرح عالم دینیات ایمان کے اور فقہاء اسلام کے ماہرین ہوتے ہیں۔ صوفی طرق متخصصین مثلاً قادریہ، شاذلیہ، نقشبندیہ، باعلویہ اور تیجانیہ کے مطالعہ سے مذکورہ بالا نکات مزید روشن ہوتے ہیں۔
تذکیر الٰہی انسان کے لئے باعث راحت ہے، اگر نفس ذکر الٰہی میں منہمک نہ ہو تو انسان کی انا اس کا ذہن غلط خیالات کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اُس کے جی میں اور ہم اُس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ’’(ق 16 : 50 )۔ نفس دوسرے لوگوں کے بارے میں بُرے خیالات ذہن میں لاتا ہے حتی کہ اللہ کے بارے میں عجیب عجیب خیالات پیدا کرتا ہے اور انسان کو غلط کام کرنے پر اکساتا ہے، اسی باعث اس کو ایسے نفس سے تعبیر کیا گیا ہے جو بُرائی کی جانب مائل کرتا ہے۔ انا پر اگر قابو نہ کیا گیا تو وہ غرور کا شکار ہوجاتی ہے اور اپنی معمولی فتوحات پر فخر کرنے لگتی ہے، اسی لئے اللہ متنبہ کرتا ہے : ‘‘اور جو کوئی آنکھیں چرائے رحمن کی یاد سے ہم اس پر مقرر کردیں گے ایک شیطان پھر وہ رہے گا اُس کا ساتھی’’ (الزخرف 36 : 43 )۔ البتہ جب قلب میں ذکر الٰہی موجود ہو تو یہ فاسد خیالات ختم ہوجاتے ہیں اور قلب کو حقیقی طمانینت ملتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے:‘‘وہ لوگ جو ایمان لائے اور چین پاتے ہیں اُن کے دل اللہ کی یاد سے، سنتا ہے اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں دل’’ (الرعد 28 : 13 )۔ اس صورت میں انسان اللہ کی معیت میں ہوتا ہے بالخصوص خیال کی سطح پر اللہ فرماتا ہے : ‘‘میرا ذکر کرو میں تم کو یاد رکھوں گا’’ (البقرہ 152 : 2 )۔ غرضیکہ کثرت سے ذکر الٰہی قلب کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو صحیح اور سالم رکھتا ہے، زیادہ تر لوگوں کے لئے یہی بہت اہم ہے بالخصوص جب وہ دنیا سے رخصت ہوں۔ اللہ کہتا ہے: ‘‘جس دن نہ کام آئے کوئی مال اور نہ بیٹے مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لے کر دل چنگا’’ (الشعراء 88-89 : 26 )۔ کچھ لوگوں کے لئے ذکر الٰہی حقیقی روحانی رویاء اور الہام کا باعث ہوتا ہے۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ فرماتا ہے : ‘‘مجھے اس سے زیادہ عزیز کوئی شئے نہیں کہ میرا بندہ میرا قرب حاصل کرے اور عبادت کرے جیسا کہ میں نے اُس پر فرض کی ہے، کسی بندے کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ میرا قرب حاصل کرے جب تک کہ میں اسے عزیز نہ رکھوں اور جب میں کسی بندے کو عزیز رکھتا ہوں تو وہ میری سماعت سے سنتا ہے اور میری بصارت سے دیکھتا ہے اور اُس ہاتھ سے اشیاء کو پکڑتا ہے اور اُس پیر سے چلتا ہے’’ (بخاری)۔
ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟
قلب کے بارے میں یہ معلومات مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر ضروری ہیں:
۱۔ قلب کے بارے میں علم لازم ہے کیونکہ اسی سے انسان کو تزکیہ نفس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور انسان اپنی انا پر قابو حاصل کرتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:‘‘سو ڈرو اللہ سے جہاں تک ہوسکے اور سنو اور مانو اور خرچ کرو اپنے بھلے کو، اور جس نے بچایا اپنے جی کے لالچ سے سو وہ لوگ وہی مراد کو پہنچے’’ (التغابن 16 : 64)۔ انسان کی عظمت اس کے قلب میں پنہاں ہے۔ انسان جو بھی عمل کرتا ہے اُس کا مصدر قلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا لطیف ترین جزو اس کا قلب ہے، اس کے لئے مستقل روحانی اعمال کی ضرورت ہوتی ہے بالخصوص حمد و مناجات کی۔ اپنی نظم میں انگریزی شاعر ہینری وڈسورتھ لانگ فیلو رقمطراز ہیں :
مجھ سے یہ مت کہو کہ زندگی ایک خالی خواب ہے کیونکہ مردہ روح کی صورت میں اشیاء ایسی نظر نہیں آتیں جیسی کہ وہ ہیں۔ زندگی ایک حقیقت ہے، زندگی کو مخلصانہ طور پر بسر کرنا چاہئے۔ قبر اس کی منزل نہیں ہے۔ تم خاک سے بنے ہو اور خاک ہی میں مل جاؤگے، اس کا اطلاق روح پر نہیں ہوتا۔ لطف اور غم ہمارا مقصود نہیں ہے بلکہ ہمارے اعمال کے ذریعہ ہم آگے کی جانب رواں دواں رہتے ہیں۔ مستقبل خواہ کتنا ہی خوش کن کیوں نہ ہو اُس پر اعتماد نہ کرو۔ ماضی کو بھول جاؤ، حال میں صرف عمل کرو۔ قلب کی گہرائیوں کے ساتھ اور خدا کے شعور کے ساتھ۔
۲۔ قلب کے بارے میں اس لئے بھی علم ضروری ہے کیونکہ یہ ایمان، عقل، خیر و شر کے بارے میں ہم کو مطلع کرتا ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب بات ہے کہ بظاہر عقل مند لوگ ایمان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اور بظاہر غبی لوگ ایمان کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجوبہ ہے کہ کچھ ہی لوگ ہیں جو نیک عمل کرتے ہیں لیکن اُن کا ایمان نہیں ہے اور اس کے برخلاف کچھ بدکردار لوگ ہیں لیکن اُن کا ایمان ہے اور وہ بظاہر غیر دیندار نظر آتے ہیں۔ قلب کے بارے میں اس علم سے یہ نکتہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان ذہنی برتری سے متعلق نہیں۔ ایمان کا تعلق عقل سے نہیں بلکہ فعال نیکی سے ہے۔ غرضیکہ ذہانت ایمان سے منسلک نہیں ہے۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو بدکردار ہیں اور ایمان کے حامل ہیں وہ درحقیقت اپنی بداعمالی کے ذریعہ اپنے ایمان کھوتے جاتے ہیں۔ اُس کے برخلاف وہ لوگ جو نیک عمل کرتے ہیں بے غرضی کے ساتھ اور انا کے کسی مسئلہ کے بغیر وہ رفتہ رفتہ ایمان کے قریب آتے جاتے ہیں وہ اپنے قلب کی صفائی کرتے ہیں۔
۳۔ قلب کے بارے میں علم اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج کے دور میں زیادہ تر تعلیم یافتہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ذہن ہی اصل شئے ہے اور جسم اُس سے محض ملحق ہے۔ ذہن کو تجربے کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں مراد جسمانی ذہن سے ہے اور کمپیوٹر کی مانند ذہن کی کارکردگی پر تمام تر توجہ رہتی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں کمپیوٹر یا موبائل فون کا تصور رہتا ہے گویا کہ وہ کمپیوٹر مستقلاً بند کردیا جائے یا ٹوٹ جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس تصور کے پس پشت طبی شہادت بھی ہےکیونکہ جسم کے اگر تمام اعضاء کام کرنا بند کردیں اور دماغ کام کرتا رہے تو یہ امکان رہتا ہے کہ سرجری کے ذریعہ دیگر اعضاء کی کارکردگی بحال ہوسکتی ہے۔ البتہ دماغ میں چوٹ پہنچنے سے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ غرضیکہ خواہ ہم اس کا اظہار کریں یا نہیں، غیر شعوری طور پر ہم اپنے آپ کو کمپیوٹر کی مانند سمجھتے ہیں اور یہ تصور عام ہے کہ ہم حقیقت کا ادراک اپنے بدن اور حواس خمسہ سے کرتے ہیں۔
اس کے باوصف ہم کو جو تجربے ہوتے ہیں وہ مذکورہ تصور کے مطابق نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگوں کو اکثر یہ پہلے ہی سے علم ہوجاتا ہے کہ فون پر اب اس سے کون بات کرنے والا ہے خواہ ایسے اوقات میں اُس شخص کا عام طور سے فون نہ آتا ہو یا اُس شخص کے فون کی بظاہر کوئی توقع نہ ہو۔ اکثر فون اٹھاتے ہی یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں تمہارے بارے ہی میں سوچ رہا تھا۔ اس کا اطلاق اُن لوگوں پر بطور خاص ہوتا ہے جن کے باہمی تعلقات بہت گہرے ہیں۔ بسا اوقات ہمیں کسی واقعہ کا احساس سا ہونے لگتا ہے اور پھر جب وہ واقعی ہوتا ہے تو ہمارا خیال درست ثابت ہوتا ہے۔ اکثر یہ احساس غلط بھی ثابت ہوتا ہے اور اس میں محض ہماری خواہش کو دخل ہوتا ہے لیکن یہ صحیح بھی ہوتا ہے۔ یہ امر حیران کن ہے کہ پالتو جانوروں میں یہ خصوصی حس کیسے ہے جس کی مدد سے اُن کو یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اُن کے مالک اب واپس آنے والے ہیں۔ اس باب میں سائنسی تحقیقات کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھئے Rupert Sheldrake کا مضمون Dogs that Know when their Owners are Coming Home and The Sense of Being Stared At۔ اسی طرح سے بسا اوقات ہم کچھ ایسے خواب دیکھتے ہیں یا ہم کو کچھ ایسے اشارے موصول ہوتے ہیں جس سے آئندہ واقعہ کا ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کسی بُرے تجربے کے بارے میں بھی ہمیں قبل از وقت احساس ہونے لگتا ہے، بظاہر اس کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ہمیں خطرہ کا احساس ہوتا ہے۔ ان تمام مذاہب کی توجیہ کے لئے ماہرین نفسیات اور ماہرین شماریات کے پاس متعدد نظریات ہیں لیکن یہ ہر معاملے کی توجیہ نہیں کرسکتے۔ لوگوں کو اپنے تجربے سے خود علم ہوتا ہے کہ کس طرح کے الہام پر ان کو سنجیدہ ہونا چاہئے اور کن اشاروں کو انہیں نظر انداز کردینا چاہئیے۔ قلب کے بارے میں علم ضروری ہے کیونکہ اس کی روشنی میں ہم اپنے الہامات کا بہتر اور معروضی طور پر جائزہ لے سکتے ہیں بالخصوص آئندہ خطرات کے بارے میں۔ قلب کے بارے میں بہتر معلومات سے ہم اپنے احساسات اور جذبات کی تہذیب کرسکتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: