مضامین

لاک ڈاؤن ، مہنگائی اور بے رحم حکومت!

نعیم الدین فیضی برکاتی اعزازی ایڈیٹر: ہماری آواز رانی پور مہراج گنج

چھپن انچ کا سینہ لے کر پڑوسی ممالک کو لال لال آنکھ دکھانے والے وزیراعظم موجودہ صورتحال میں خود ہی چاروں خانے چت دکھائی دے رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی معیشت کی جو بری حالت ہوئی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ آج بھی ہر انسان اس درد کا احساس کرکے کرا رہا ہے۔ ملک کا متوسط طبقہ جو مزدوری وغیرہ کر کے خود اپنا اور اپنے پورے پریوار کا پیٹ پال رہا تھا وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اہل و عیال سمیت گھر پر تقریبا تین ماہ سے بے روزگاری کے ایام گزارنے پر مجبور ہے۔ ضروریات زندگی سے محروم یہ لوگ آخر جائیں تو کہاں جائیں؟ کیا سرکار کو ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں بنانا چاہیے تھا،جو باہر سے آئے ہوئے مزدوروں کے لیے راحت کاسامان ہوتا؟صحیح بات تو یہ ہے کہ اس حکومت کو عوام کی تو بالکل بھی فکر نہیں ہے۔ امید تو یہی تھی کہ پڑوسی ممالک سے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے وزیراعظم کے ذریعے جلد بازی میں کیا گیا لاک ڈاؤن کا فیصلہ جلد ہی کورونا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا اور پھر زندگی چند دنوں کے بعد ہی حسب معمول پٹری پر گامزن ہو جائے گی۔پر امید بر نہیں آئی۔ ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی حکومت کے ذریعہ کیا گیایہ فیصلہ بری طرح ناکام ہوگیااور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر خود ہی عوام کو ‘خود کفیل’بننے کا مجرمانہ راگ الاپنے لگی۔عوام بھی کیا کرتی،پے چاری پہلے سے سہمی ہوئی،کام پر لگ گئی۔
مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ مزید دراز ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کب تھمے گا اور زندگی حسب معمول کب پٹری پرلوٹے گی یہ خود ہمارے وزیراعظم کو بھی معلوم نہیں ہے ۔ہاں! بابا رام دیو نے شاید کورونا کو جڑ سے ختم کرنے کا کوئی نسخہ ڈھونڈ لیا ہے،جو ایک خوش آئند خبر کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بڑے فخر کی بات ہے ۔مگر اس میں کتنی سچائی ہے اور کتنی جملے بازی ہے یہ تو خود وہی بتائیں گے ۔بہرحال! موجودہ صورتحال سب کے لیے تشویشناک ہے اور اذیت ناک بھی ۔امیر سے لے کر غریب تک ہر کوئی اپنے اپنے حسب حیثیت اس مہلک اور لاعلاج وبا سے بری طرح متاثر ہوا ہے ۔صرف پالش بچی ہے۔اندر سے سب کوکھلا ہوچکا ہے۔ ملکی معیشت بھی حکومت کی ناکامیوں اور اوٹ پٹانگ کی پالیسیوں کی وجہ سے ہچکولے کھارہی ہے۔اس لاک ڈؤن میں بے روزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔سرمایہ داروں کے کاروبار کا جنازہ نکل چکا ہے۔فیکٹریاں ماتم کدہ میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔متوسط طبقہ بےروزگاری کی وجہ سےبالکل کنگال ہو چکا ہے ۔غریب اور مزدور طبقے کی بات کی جائے تو وہ کام نہ ملنے کی وجہ سے فاقہ کشی اوربھوک مری کے دن شمار کرنے پر مجبور ہیں ۔ہر کوئی اپنی موت آپ مر رہا ہے ۔اب ایسے عالم میں عوام کی تحفظ اور اس کی روزمرہ کی ضروریات وسہولیات کے لیے حکومت کی طرف سے کیا امدادی مراعات اور انتظام ہے وہ جگ ظاہر ہےکہ کھائے تو مرجائے اور نہ کھائے تو مرجائے۔ مختلف شہروں اور صوبوں سے گھر آئے ہوئے مزدوروں کو راحت کے لئے کیا سامان مہیا کرایا گیا ہے،ان کو دیکھ تو صرف لالی پاپ کی یاد آتی ہے جو چھوٹے بچوں کو رونے پر دے کر چپ کرایا جاتا ہے۔مزید اس پر لوٹ گھسوٹ اور کرپشن کی ایسی مار کہ اللہ ہی بچائے ان مافیاوں سے!۔ جب سے کرونا آیا ہے تب سے ‘مار مار’ ہی کی آواز سننے میں آ رہی ہے ۔کبھی لاک ڈاؤن کی مار توکبھی کرپشن کی مار ۔کبھی بےروزگاری کی مار تو کبھی مہنگائی کی مار ۔مار مار کی تکرار سے مجھے بی جے پی کا وہ پرانا نعرہ یاد آ گیا جو اس نے 2013 میں گانگریس کے دور اقتدار میں پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھنے پر دیا تھا۔وہ نعرہ یہ تھاکہ ‘بہت ہوئی پٹرول کی مار اب کی بار مودی سرکار’۔
مگر یہی نعرہ لگاتارحالیہ 18 دنوں سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زیادتی کے بعد الٹا ہوگیااور ایک طرح سے پرانے نعرہ کا جواب مل گیا،جو2013میں موجودہ حکومت کے ذریعہ ہی لگایا گیا تھا ۔ اب نعرہ یوں ہوگیاہے”جب سے آئی مودی سرکارلوگوں پر پڑی پٹرول کی مار”۔کہتے ہیں نا!کہ آج تمہاری کل ہماری باری ہے۔ کانگریس کے لیڈران بھی تیل کے دام بڑھنے پر زبردست احتجاج کررہے ہیں اور عوام اور کسان کی پریشانیوں کو لے کر نعرے بازی کررہے ہیں۔ مگر وہی ہے کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے اندر کسی کی بات سننے کی سکت ہی نہیں بچی۔ کیا تھا کچھ کو گرفتار کروادیا اورکچھ کے اوپر کیس۔ بس تیل کا کھیل ختم۔اب کون ہے جو زبان کھولے گا۔

پٹرول اور ڈیزل کے دام میں مسلسل زیادتی نے نہ صرف یہ کہ مہنگاہونے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاکر ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ کسانوں اورعوام کے بنیادی مسائل سے حکومت کی عدم توجہی اور مجرمانہ چشم پوشی بھی ثابت کر رہےہیں۔ یاد رہے! ملک میں مسلسل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا یہ بیسواں دن ہے۔ جب کہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت میں زبردست گراوٹ آئی ہے جس سےتیل سستا ہونا لازم ہے۔مگر حکومت اپنی ناکامی کوچھپانے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھاکر عوام کے بچے کھچے پیسوں پر ڈاکہ ڈالنے کا کام کررہی ہے۔ایندھن کے دام بڑھنے سے سڑک کے ذریعہ مال برداری کی قیمت میں 12فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کا بوجھ اس وقت عوام کے جیب پر ہوگا۔ تیل کے دام بڑھنے سےلوگوں کو بالخصوص کسان کو اپنی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل میں بہت ساری مشکلات سینہ تانے کھڑی ہیں۔ جس سے مزید مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سو بات کی ایک بات یہ ہے کہ اگر حکومت کے کورونا سے لڑنے کے سارے داؤ پیچ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگاکہ حکومت اس جنگ میں جہاں پوری طرح ناکام ہوئی ہے وہیں پر عوام اور کسان کے بنیادی مسائل کے تئیں بڑی بے رحم ثابت ہوئی ہے۔اسی وجہ سے بلا وجہ تیل کے دام میں زیادتی کرکے عوام کو مزید چوسنے کا کام کر رہی ہے جس کا خمیازہ انہیں اگلے انتخاب میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: