اسلامیات

لایعنی کام

انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت قیمتی بنایا ہے۔ اس کو قیمتی بنانے کا لازما تقاضا یہ ہے کہ اس کو جتنی بھی دنیاوی زندگی ملی ہے، اس کا ہر ہر لمحہ قیمتی ہے۔ وقت کے بیش قیمت ہونے کے تعلق سے بزرگوں کا کہنا ہے کہ الوقت اثمن من الذھب کہ سونے سے زیادہ بیش قیمت وقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان سونا خرید سکتا ہے، لیکن انسان کی زندگی سے جو وقت گذر چکا ہے، وہ بے شمار کوششوں کے باوجود واپس نہیں لاسکتا، جو لمحہ گذر گیا، سو گذر گیا۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ الوقت کالسیف، ان لم تقطعہ، یقطعک۔ یعنی وقت ایک تلوار ہے۔ اگر تم اس سے کاٹنے کا کام نہ کروگے تو وہ تمھیں کاٹ ڈالے گا۔ المختصریہاں دو چیزیں ہیں: ایک انسان۔ اور ایک اس کی زندگی کی شکل میں وقت۔ انسان بھی انمول ہے اور اس کی زندگی کے لمحات بھی بیش قیمت۔ لہذا انسان کو پہلے اپنی قدرو قیمت سمجھتے ہوئے وقت کی بھی قدر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انسانی نیچر ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ انمول ہوتی ہے، اس کے تحفظ کی اتنی ہی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے گھروں میں زیورات کے تحفظ اور عام برتنوں کے تحفظ کے طرز عمل سے اس کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں۔ لہذا جب وقت انمو ہے اور اس سے کہیں زیادہ انمول اور بیش قیمت انسان ہے تو ان دونوں انمولوں کے لیے تحفظ کے لیے بھی ہمارا طرز عمل انتہائی حساسیت پر مبنی ہونا چاہیے۔ چنانچہ اس تعلق سے ہدایت دیتے ہوئے نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ
من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ(مؤطا امام مالک،بعض اقاویل مالک ؒحفظ اللسان)
آدمی کو اسلام یہ خوبی بخشتا ہے کہ وہ فضول اور لایعنی کاموں سے پرہیز کرے۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ اس فرمان نبوی علیہ السلام پر عمل کرتے ہوئے اپنی قیمت کو بھی پہچانے اور وقت کی قدر کرنا بھی سیکھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: