اہم خبریں

لجنۃ العلماء و المفتیین نے امیر شریعت کاجانشین بننے پر مولانا سید فیصل رحمانی کو مبارکباد پیش کی

امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رح کی زندگی مشعل راہ ہے

لجنۃ العلماء و المفتیین نے امیر شریعت کاجانشین بننے پر مولانا سید فیصل رحمانی کو مبارکباد پیش کی

گڈا جھارکھنڈ / رپورٹ مفتی سفیان القاسمی

جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت راءے میں امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالنے اور ان کے ایصال ثواب کیلئے لجنۃ العلماء و المفتیین ضلع گڈا کی اہم نشتست مفتی اقبال صاحب قاسمی صدر لجنۃ کی صدارت میں مورخہ 11 اپریل کو بعد نماز ظہر منعقد ہوئی، مفتی اقبال صاحب قاسمی صدر لجنۃ العلماء و المفتیین و مہتمم مدرسہ معہد محمود سراج العلوم رجون نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امیر شریعت کا سانحہ ء ارتحال سے آج پورے ہندوستان کے مسلمان اور بطور خاص بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے مسلمان یتیم ہوگئے ہیں، کیوں کہ ان کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی جس کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان ان مخدوش اور خوفناک حالات میں ان کو اپنا سہارا سمجھتے تھے، ان کی بے باکی جرآت مندی، ظالم کے سامنے کلمہ ءحق بلند کرنے کی جرآت مندی اور مومنانہ بصیرت کی وجہ سے ان کا وجود ملت اسلامیہ کے لئے ایسے بھیانک اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن تھا، لہذا ان کے سانحہ ارتحال کی وجہ سے آج مسلمانوں کا غمگین ہوجانا اور اپنے کو بے سہارا سمجھنا ایک فطری چیز ہے ہے، حضرت کی جو لازوال خدمات ہیں ان کی وجہ سے وہ قیامت تک لوگوں کے دلوں میں زندہ و تابندہ رہیں گے اور ان کی حیات لوگوں کے لیے مشعل راہ راہ کا کام کرتی رہے، مفتی اقبال قاسمی نے کہا کہ غم کے اس ماحول میں خوشی کی ایک کرن بھی ہے جو رفتہ رفتہ روشنی کا عظیم مینارہ بن سکتی ہے اور اس کے لئے نہ صرف ہم دعائیں کریں گے بلکہ جو کوششیں ہم سے ہو سکیں گی وہ کریں گے، اور یہ کہ انھوں نے جہاں کثیر تعداد میں ایسے ارجال کار تیار کیے ہیں جو مشکل حالات میں کشتی کو سنبھال سکے وہیں ایسا لائق و قابل فرزند بھی چھوڑا جو (الولد سر لابیہ) کا حقیقی مصداق ہے اور وہ امیر شریعت و مفکر ملت کے جانشین حضرت مولانا سید محمد فیصل رحمانی کی شکل میں ہے جو اس وقت خانقاہ رحمانی کے نئے سجادہ نشین ہیں، لجنۃ العلماء ان کو مبارک باد پیش کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ امیر شریعت کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں گے، ہم ان شاء اللہ ان کا ہر ممکن تعاون کریں گے.

مفتی زاہد امان قاسمی جنرل سیکرٹری لجنۃ العلماء و المفتیین و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت راءے نے کہا کہ حضرت امیر شریعت ہر میدان کے مرد میدان تھے قلم کے بادشاہ زبان کے بادشاہ راہ سلوک وتزکیہ کے امام خانقاہ رحمانی، امارت شرعیہ، اور مسلم پرسنل لاء کے کامیاب ترین قائد و راہ نما تھے نازک سےنازک معاملہ پر نپے تلے اور معانی و تہہ دار گفتگو کرنے کا ہنر آتا تھا شرافت ونجابت جرآت وہمت وراثت میں ملی تھی اسلامی رنگ وآہنگ کے ساتھ اعلی عصری تعلیم کے کامیاب تجربے کرنے کے بانی مبانی، اسلامی ماحول میں عصری تعلیم، اس عنوان کو ملک گیر تحریک بنانے والے کامیاب کامران انسان بڑے باپ کے بڑے بیٹے اللہ پاک حضرت والا کے سارے ہی حسنات کو قبول فرمائے ہم سبھوں کو نعم البدل عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

اس موقع سے مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی و رکن لجنۃ نے حضرت امیر شریعت کی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کی رحلت صرف ملی خسارہ ہی نہیں بلکہ ایک ملکی و قومی خسارہ بھی ہے، کیوں کہ ان کی ذات صرف ملت اسلامیہ کے لئے ہی نفع بخش نہیں تھی بلکہ اس ملک کے لئے قابل فخر شخصیت تھی، اور بطور خاص نوجوانوں کے لئے ان کی زندگی ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے تاہم امید ہے کہ ان کے جانشین حضرت مولانا محمد فیصل رحمانی اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے خوابوں کی تکمیل کریں گے

نیز اس موقع سے مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ گڈا نے کہا آزاد ہندوستان میں بااثر شخصیات کی فہرست ہمیشہ سے بہت مختصر رہی ہے ان میں سے ایک اہم نام جگر گوشہ قطب الاقطاب امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہے
زمانہ طالب علمی سے ہی سے ہی قوم و ملت کی خدمت کا جزبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا چونکہ آپ کی پیدائش پرورش اور تعلیم و تربیت ایسے ماحول میں ہوئی تھی کہ جس دین اسلام کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کردیا تھا آپ سادات شیخ عبد القادر جیلانی اور بزرگ برگزیدہ خاندان کے چشم و چراغ تھے آزاد ہندوستان کو جس محاذ پر بھی آپ کی ضرورت پڑی آپ نے سینہ سپر ہوکر قربانی دی اور مردانہ وار مقابلہ دیکر کے فتح بھی حاصل کی خواہ مسلم پرسنل لا کا معاملہ ہو یا امارت شرعیہ اور تھرٹی رحمانی کا ہرسطح پر آپ کی قربانی موجود ہے
غرض یہ یہ کہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو ایسا ہے کہ جس پر باضابطہ علاحدہ علاحدہ کام کرنے کی ضرورت ہے خواہ علمی میدان ہو یا عملی فقہی ہو یا سیاسی سماجی ہو معاشرتی ادبی ہو یا غیر ادبی آپ ہر پہلو کے محور اور مرکز تھے ایسی شخصیت کا ہمارے بیچ سے چلے جانے مطلب ہےکہ ہم ہر محاذ پر یتیم ہو چکے ہیں
دلی دعا ہے کہ اللہ قوم کو ان کا بعمل بدل عطا کرے اور حضرت امیر شریعت کو اپنی جوار رحمت میں خاص جگہ عطا کرکے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین.

مفتی غلام سرور صاحب ناظم تعلیمات مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی و رکن لجنۃ نے کہا حضرت امیر شریعت بے باک اور بے خوف لیڈراو قائد تھے جنہوں نے ہر میدان میں امت مسلمہ کی بہترین راہ نمائ فرمائ حکومت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا بے پناہ ہنر آتا تھا کبھی بھی کسی سے مرعوب ہونا جانتے ہی نہیں تھے حضرت امیر شریعت کے جانے سے ایسا خلا پیدا جس کا مستقبل قریب ہونا ناممکن سا لگتا ہے ویسے تو اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اللہ پاک حضرت کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

لجنۃ کے ایک اہم رکن مفتی روشن ضمیر قاسمی رجون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ایسا حادثہ ہے؛ جس کی تلافی بظاہربہت دشوار ہے، اللہ تعالی نے ان کو گہرے علم، وسیع مطالعہ، خوبصورت قلم، شائستہ زبان کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیت اور اس سے بڑھکر قائدانہ جرأت وہمت سے نوازا تھا، وہ حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ کے صرف نسبی ہی وارث نہیں تھے؛ بلکہ غیر معمولی جرأت اور حسن تدبر میں بھی ان کے سچے اور پکے جانشین تھے، انہوں نے بہت کامیابی کے ساتھ اپنے دادا حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے لگائے ہوئے پودے ’جامعہ رحمانی مونگیر‘ کو ایک سایہ دار تناور درخت بنادیا، تزکیہ واحسان کی نسبت سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے حلقہ کو وسعت دی، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی تاسیس کے وقت سے اس میں شریک تھے، حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کی وفات کے بعد اس کے سکریٹری منتخب ہوئے، اور حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب کی وفات کے بعد بہ اتفاق رائے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ان کا انتخاب عمل میں آیا، ان کایہ دور ہندوستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے بہت ہی شورش اور آزمائش کا دور تھا، انہوں نے تدبر، حوصلہ مندی اور جرأت کے ساتھ ان حالات کا سامنا کیااور ملت کے سفینہ کی ناخدائی کرتے رہے۔انہوں نے قضاء کے نظام کو ملک کے چپہ چپہ میں پھیلایا، اصلاح معاشرہ کی کوششوں کو ایک تحریک بنادیا، قانون شریعت کی تفہیم کی کوششوں کو فروغ دیا اور ہر کام میں اپنے رفقاء کو ساتھ رکھا، وہ امارت شرعیہ بہار واڈیشہ وجھارکھنڈ کے ساتویں امیر شریعت منتخب ہوئے اور مختصر وقت میں اس کے تمام شعبوں کو منظم اور منضبط کرنے کی کامیاب جدوجہد فرمائی، عصری تعلیم کے میدان میں رحمانی 30کے ذریعہ انہوں نے جو خدمت انجام دی ہے؛ وہ ایک بڑااور مثالی کارنامہ ہے۔
یقینا ان کی وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے نہایت صدمہ انگیز واقعہ ہے، اس حقیر کو ان سے تلمذ کا شرف بھی حاصل تھا، اس لئے یہ میرے حق میں ذاتی نقصان بھی ہے، دعا کرتاہوں کہ اللہ تعالی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، امت کو ان کے بدل سے نوازے اور جن کاموں کو انہوں کیا تھا، وہ سارے کام جاری وساری رہیں۔ آمین

جامعہ اسلامیہ سین پور کے استاد و رکن لجنۃ مفتی عباد الرحمن قاسمی صاحب نے یہ کہا کہ تماتر خوبیوں اور کمالات کے حامل تھے زندگی میں بے پناہ کام کیا جن کاموں کا شمار کرنا مشکل ہے اللہ تعالیٰ حضرت کے ہر کام کو قبول فرمائے آمین ثم آمین

رکن لجنۃ و ناظم تعلیمات جامعہ اسلامیہ سین پور مفتی نورالدین صاحب قاسمی نے کہا کہ حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کئی اوصاف و کمالات کے جامع تھے، جہاں وہ دینی علوم میں تبحر رکھتے تھے وہیں وہ عصری علوم میں بھی درک رکھتے تھے، عربی کے ساتھ انگریزی میں بھی ان کو کمال حاصل تھا، اردو تو ان کی مادری زبان تھی

مفتی عبد السلام صاحب قاسمی مہتمم مدرسہ قاسم العلوم فلاح دارین للبنات امڈھیہ و رکن لجنۃ نے حضرت امیر شریعت کی رحلت کو ملت کا عظیم خسارہ قرار دیا، اور وہیں لجنۃ کے ایک مؤقر رکن مفتی صدیق صاحب قاسمی استاد مدرسہ قمر الاسلام کوریانہ نے کہا حضرت کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے ان کے پر ہونے کے آثار مستقبل قریب میں نظر آتے، ان کے اندر جو دور اندیشی، قوم و ملت کی فکر مندی، اور ملک و ملت کے لئے سعی پیہم کار فرما تھی وہ ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے، خدا کرے کہ جلد سے جلد ان کا نعم البدل ہو.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: