مضامین

لعنت ہے نفرت کی سیاست پر تبلیغی جماعت کے تئیں گودی میڈیا کا کردار

احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

کرونا وائرس کے تحت لاک ڈاؤن کے اس مصیبت زدہ وقت میں بھی تبلیغی جماعت کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر کافی جنگ چھڑی ہوئی ہے، اس عظیم کار خیر سے منسلک کچھ افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے بھگوا دہشت گرد مرکز نظام الدین پر پابندی لگانے کی بات کررہے ہیں،عصر حاضر اسلامی پورٹل کی آج کی تازہ رپورٹ کے مطابق معائنہ کردہ تین سو افراد میں سے چوبیس افراد کی رپورٹ مثبت آنے پر سنگھی ملعونوں نے نفرت کی سیاست ہوا دی ہے اور گودی میڈیا کا رول اس موضوع کو ہوّا بنانے میں سب سے زیادہ اہم رہا ہے
تبلیغی جماعت کا مختصر سا تعارف
میں واضح طور پر یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ تبلیغی جماعت وہ مبارک جماعت ہے جس میں نہ دینی اختلافات ہیں نہ مسلکی تنازعات، نہ سیاسی جکڑ بندیاں ہیں نہ حکمرانوں کے مفادات، نہ عوام کی خوشنودی ہے نہ ہی اس میں ہندو مسلم کی سیاست کو دخل ہے بلکہ تبلیغی جماعت مخلوق کو خالق سے جوڑنے اشاعتِ دینِ حنیف اور اعلاءِکلمۃاللہ کے فریضہ انجام دہی کی ایک بہترین اور منظم تحریک ہے جسکو 1926 ء میں حضرت جی مولانا الیاس رحمہ اللہ نے شروع کیا تھا جس نے اپنی قلیل مدت میں سارے عالم پر بہترین نقوش چھوڑے ہیں
کرونا کے پس پردہ نفرت کی سیاست
میں حکمران طبقے اور امیر جماعت پر ایف آئی آر درج کرنے والے حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ 15 اپریل کی شب وزیر اعظم نریندر مودی اچانک اکیس دن کے لاک ڈاؤن کی اطلاع دی گئی اور یہ کہا گیا کہ جو جہاں ہیں وہیں قیام کرے، نہ اسکو اپنے وطن جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسکے ذرائع موجود ہیں فلائیٹیں بند کردی گئیں، ٹرینوں کا نظام مسدود کردیا گیا، بسوں اور ٹراویلس پر روک لگادی گئی، ایسے میں نظام الدین مرکز میں موجود افراد کیا کرتے؟ وہ کہاں جاتے؟ ان کو کیا خبر کہ کرونا وائرس سے کون متاثر ہیں اور کون نہیں؟ کیا وزیر اعظم کی بات مان کر مرکز نظام الدین میں رکنا اور وہاں ٹہرجانا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی ہے؟ معلوم ہونا چاہیے آپ اپنا ڈیٹا استعمال کرکے دیکھ لیں کہ تبلیغی جماعت ایک مرکز ہے وہاں پر ہمیشہ ہر ملک کے ہر صوبے کے کچھ افراد رہتے ہیں، لیکن چند لوگوں کے اس وبائی مرض اور قہر خداوندی سے شکار ہوکر موت کے منھ میں چلے جانے سے کیا پورے مرکز پر پابندی درست ہے؟ بات شروع کیا ہوئی کہ گودی میڈیا، سنگھی ٹولہ اور طاغوتی کارندے شور میں آگئے،اور مرکز نظام الدین پر پابندی کی مانگ کرنے لگے، اور سرکاری طور پر تبلیغی جماعت کے خلاف قانونی پابندی کی بات کرنے لگے،اور اس عظیم کار خیر پر شکنجہ کس نے کی تیاری کرنے لگے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کے تئیں آر ایس ایس اور دہشت گرد برہمنی تنظیمیں نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہی ہیں، اور کرونا کے پس پردہ اسلام دشمنی اور مسلم نسل کشی کا زہر اگل رہی ہیں
*اگر جرم تبلیغی جماعت سے ہوا تو……….*
ایک طرف جماعت کی موجودہ صورتحال میں حکومت متحرک ہوکر جماعت پربین لگانے کی بات کررہی ہے تو دوسری طرف حکومت یوگی آدتیہ ناتھ اور یوپی حکومت پر شکنجہ کسے گی؟ کیوں ہوگی ادتیہ ناتھ نے لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہی کھلم کھلا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی اور رام مندر میں پروگرام کیا، کیا اس وجہ سے اترپردیش میں کرونا وائرس نہیں پھیل رہا ہے؟
اگر جرم جماعت تبلیغ سے ہوا ہے تو پھر
دہلی اور یوپی حکومت بھی اس وقت مجرم ہے جنہوں نے سرحدوں کو نہیں موت کا منہ کھولا اور سماجی دوری کو مکمل نظر انداز کیا،کیا ان حکومتوں پر بھی مقدمہ چلے گا؟
اگر جرم جماعت تبلیغ سے ہوا ہے تو لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ہی مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی حلف برداری کی تقریب بھی منعقد ہوئی جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جو مرکز نظام الدین کی چہاردیواری سے زیادہ خطرناک و مضر ہے۔ کیا ان پر کوئی ایف آئی آر درج ہوگا؟ ان تمام کی جانچ کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا؟ کیا ان کو بھی اسی طرح کا موضوع بناکر قومی میڈیا پر آواز اٹھائی جائے گی؟
*امیر تبلیغ سے اختلاف اپنی جگہ*
اختلاف اور مخالفت دو الگ الگ چیزیں ہیں، اکابرین دیوبند کو مولانا سعد صاحب ان کے نظریات، انکی پالیسیوں، انکے طریقہ کار سے اختلاف ہے اور بہرحال رہے گا لیکن بندہ انکی مخالفت نہیں کرتا اور جماعت تبلیغ کے سلسلے میں ہر عالم دین اور مادر علمی دار العلوم دیوبند کا یہی طرز عمل رہا ہے اختلافات سے قطع نظر جماعت تبلیغ کی محنت سے ہزاروں تشنگان دین نے ایمان و یقین کی زندگی اختیار کی، اور ایک کثیر طبقہ فسق و فجور سے تائب ہوکر اسلامی زندگی پر عمل پیرا ہوئے ہیں اس سے نہ کسی صاحب بصیرت کو اعتراض ہوسکتا ہے
اسی لئے ان اختلافات کے باوجود موجودہ قضیہ میں میں جماعت تبلیغ کے ساتھ ہوں مجھے افسوس ہے ایسے لوگوں پر جو وقت ملتے ہی اپنے ہی پیر پر کھلاڑی چلانا شروع کردیتے ہیں اور وقتی نام و نمود کے لیے حقائق سے بے خبر ہوکر سوشل میڈیا پر اپنی بکواس کو اچھالتے ہیں
خدا انکو سمجھ عطا کرے
الغرض جماعت تبلیغ پر مکمل قدغن لگانے کی باتیں کرنا، اس کار خیر کو بند کرانے کی سازشیں کرنا چاہے وہ حکومتی سطح پر ہو یا سنگھی ملعونوں کے زیر اثر یا پھر منافقین کے زیر منافقت بہر کیف ہر حال میں مجرمانہ عمل ہے_
اللہ تعالیٰ حاسدین کے حسد سے فتین کے فتن سے ظالمين کے ظلم سے جماعت تبلیغ کی اور جمیع امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: