مضامین

لمبے عرصے تک تعلیمی اداروں کا بند رہنا، طلبہ،والدین اور معاشرہ کے لئے تباہ کن

تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

علم اللہ کی بہت بڑی انمول نعمت ہے اس کی اہمیت و افادیت بے پناہ ہے اس سے کوئی بھی ذی علم، ذی شعور انکار نہیں کر سکتا اور اسلام کے ماننے والے تو اس کے منکر ہوہی نہیں سکتے کیونکہ اسلام کی مذہبی کتاب قر آن مجید کی ابتدا ہی علم پڑھو سے کی گئی ہے۔( پر افسوس مسلمان اس وقت علم میں اور قوموں کے مقابلے میں پیچھے ہیں) علم کی فضیلت وعظمت،ترغیب وتاکید جس بلیغ انداز میں دی گئی ہے اس کی نظیر کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔تعلیم وتربیت،درس و تدریس ،علم سیکھنا سیکھانا دین برحق اسلام کا’’جز لا ینفک‘‘( ایسا حصہ یا جز جو اپنے کل سے الگ نہ کیا جاسکے)ہے۔کلامِ مجید کے تقریباً اٹھتّر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پر ور دگار عالم نے اپنے پیارے محبوب رحمۃ اللعالمین ﷺ کے قلب مبارک پر نازل فرمایاوہ ،اِقْرَاْ بِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ ترجمہ: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پید اکیا۔(القرآن، سورہ العلق:96،آیت 1) (کنز الایمان)
علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ پورے قرآن مجید میں174, آیات کریمہ موجود ہیں،جو مختلف طرح سے علم کی فضیلت وافادیت ظاہر کرتی ہیں،رب تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ نصیحت فر مائی کہ ہر وقت، ہر ساعت علم میں اضافہ(بیشی،ترقی، زیادتی،بڑھوتری) کی دعامانگتے رہیں۔وَقُلْ رَّبِّ زِدْ نِیْ عِلْمًا۔ تر جمہ: اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے۔(القر آن،سورہ طٰہٰ:20,آیت114)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو علم میں اضا فے کی دعا مانگنے کی تعلیم دی،اس سے معلوم ہوا کہ علم سے کبھی سیر نہیں ہو نا چاہئے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی حرص(لالچ) اچھی چیز ہے، جیسے نبی کریم ﷺ تمام مخلوق میں سب سے بڑے عالم ہیں مگر اُنہیں حکم دیا گیا کہ زیادتی علم کی دعا مانگو۔ علم ایک بے پایاں سمندر ہے اور در حقیقت حقائق الا شیاء کا نام ہے۔انسان اور دیگر مخلوقات میں بنیادی فرق علم کا ہی ہے کہ اِن میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کریں۔ جبکہ انسان ذرائع کو استعمال کرکے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے اور کرتا آیا ہے۔ علم ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو مہذب بناتا ہے اسے اچھے اوربرے میں فرق کو سکھا تا ہے۔علم اور معلومات میں وہی فرق ہے جو information, اور Knowledge میں ہے۔ کوئی بھی مشہور شخص کب پیدا ہوا،کہاں پیدا ہوا اس کی قوم نسل رنگ وغیرہ کیا ہے،اس کی ابتدائی زندگی کہاں گزری اس نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔ یہ سب باتیں اس کے با رے میں معلومات تو فرا ہم کر سکتی ہیں ،لیکن اس کی ذات و شخصیت اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں اس کی کامیابی کے بارے میں جاننے کے لئے علم کی مدد گار در کار ہوگی۔ اسی طرح کسی بھی شے مثلاً راکٹRocket, کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ اس کی ایک مخصوص شکل وہیت(ساخت،بناوٹ) ہوتی ہے اور وہ خلا میں جا تاہے محض معلومات ہیں۔ راکٹ کن سائنسی اصولوں کے تحت بنایا جا تا ہے اور کیسے آسمان کی طرف پرواز کرتا ہے،یہ علم ہی سے جانا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

*جان لیوا مرض کووڈ۔ 19 کا اثر زندگی کے تمام شعبوں پر:*
کورونا کے قہر کی وجہ سے لاک ڈاؤن وطرح طرح کی گائیڈ لائینوں سے زندگی کے تمام شعبے متاثر ہیں ،تعلیمی شعبہ بھی اس کے مضر اثرات سے نہ بچ سکا،بلکہ اس شعبہ میں کورونا کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستداں تعلیمی شعبے کے ذمہ داران بھی قہر ڈھا رہے ہیں۔ پورے ملک میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی وحکمراں جماعت کے بڑے بڑے نیتا یوگی،جے پی نڈا وغیرہ وغیرہ مندرکے افتتاح سے لیکر الیکشن کے بڑے بڑے جلسوں کو خطاب کر رہے ہیں، کورونا کا کوئی خوف یا گائیڈ لائن کا پالن کوئی معنی نہیں رکھتا؟ اور اب تو حد ہی ہو گئی ،تلنگانہ کے دارالحکومت حیدر آباد:میونسپل کار پوریشن کے الیکشن کی کمپیننگ میں بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی ہے مودی جی ویکسین کے بہانے پہنچے تو امیت شاہ اور پوری ٹیم نے ۔وہیں اپوزیشن کے نیتا بھی پیچھے نہیں رہے،بڑے بڑے جلسے کر کے ہزاروں لاکھوں کی بھیڑ جمع کرکے اپنی باتیں کہہ رہے اور سنا رہے ہیں گویا نیتائوں کے لئے قانون کوئی چیز نہیں؟۔ ؎

حیراں ہوں دل کو روئوں کہ جِگر کو میں
مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جائوں کدھر کو میں
( مرزا غالب)
شادیوں میں 100, سے لیکر200, تک لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت ہے( الگ الگ ریاستوں کی گائیڈ لائنیںا لگ الگ ہیں) سنیما ہال سے لیکر بڑے بڑے مال،مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں۔ لیکن حیرت و افسوس تو یہ ہے کہ بند ہیں تو اسکول، کالج،تعلیمی ادارے،یہ سراسر نااِنصافی اور ظلمِ عظیم ہے۔
*تعلیمی ادارے بند کرنے پر طلبہ اور معاشرے پر اس کے تباہ کن اثرات*:
اقوم متحدہUNO, کی گائیڈ لائن کی ہدایت کے مطابق اگر لاک ڈائون کرنا ضروری ہوتو بھی تعلیمی ادارے کھلے رہنے چا ہیئے۔ جب شادیوں کی پارٹیوں میں200, لوگوں کی اجازت سنیما ہالوں میں جگہ،capacity, کے اعتبار سے آدھے لوگوں ( یعنی اگر دو ہزار کی جگہ ہے تو ہزار کو اجازت) کو سنیما دیکھنے،انجوائے کرنے کی چھوٹ اور ہمارے مہاشے جی بہنوں بھائیوں کے پرو گراموں،جلسوں میں ہزاروں ہزار لوگوں کی بھیڑ میں کرونا نہیں پھیل رہا ہے ، بہار میں الیکشن کی جیت پر بی جے پی آفس میں زبردست جشن منانے اور بنگال میں بڑی بڑی ریلیاں کرنے،پنجاب پورے ملک میں لمبے عرصے سے کسانوں کا دھرنا پردرشن چل رہا ہے حکومت کو کوئی پروا نہیں ہے بی جے پی کے بڑے بڑے نیتا حیدرآباد کے بلدیہ الکشن میں پوری طاقت جھونک دی ہے خوب ریلیاں کی جا رہی ہیں، اور اس طرح کے پروگراموں کی اجازت ہے تو پھر اسکولوں کو کیوں نہیں کھولا جارہا ہے؟،جہاں کلاس میں30, سے40, بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں کرونا کیسے پھیلے گا؟ جبکہ تعلیم ہی بچوں کا مستقبل ہے،بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ( غیر سنجیدہ کام) کیا جارہاہے۔گودی میڈیا کرونا پھیلنے کا بھوت،اورجن دیکھاکر ڈر پھیلا رہی اور حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہے،حکومت کی نیت صحیح نہیں ہے۔ ؎
نہ یہ ظلم وستم ہو تا نہ یہ بے چارگی ہوتی
حکومت کر نے والوں کی نیت نہ گر بُری ہوتی
؎
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈرکو ہے بہت مگر آرام کے ساتھ
افسوس ہے گلشن کو خزاں لوٹ رہی ہے
شاخِ گلِ ترَ سُوکھ کے اب ٹوٹ رہی ہے
( سید اکبر حسین رضوی” “1846-1921,اکبر الہ آبادی)
ڈبلیو ایچ او(who) کی رپورٹ کے مطابق 12,سال سے کم عمر بچوں میں کورونا وائرس کے چانسز تقریباً% 0 ہیں۔ بچوں کے عالمی ادارہ یونیسف،unicef کی رپورٹ کے مطابق پانچ سال تک کے بچوں کو ماسک کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے یہاں گودی میڈیا اُلٹی گنگا بہا رہا ہے،بچوں کے لئے سب سے زیادہ گائیڈ لائن بنادی گئی ہیں؟۔ جب پارک،بازار، مارکیٹ،گورمنٹ کے سارے محکموں کے دفاتر،پرائیویٹ دفاتر،ٹرینیں،بسیں سب کھلی ہوئی ہیں چل رہی ہیں تو صرف اور صرف اسکول،تعلیمی ادارے ہی کیوں بند ہیں،سمجھ سے پرے ہے۔ کیا کورونا صرف تعلیمی اداروں میں آتا ہے؟ کیا یہ سب افرادجو کھلی ہوئی جگہوں پر جارہے ہیں،کیا یہ کورونا سے متاثر ہوکر دوسروں کو متاثر نہیں کریں گے؟۔پوری دنیا میں لاک ڈائون کے دوران تعلیمی ادارے آخری آپشنoption, کے طور پر بند کئے گئے ہیں۔۔۔ ہمارے ملک میں پہلے آپشن option, کے طور پر تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے اور نہ جانے آگے کتنے دن بند رکھا جائے گا؟ ؎
بر باد گلستاں کر نے کو بس ایک ہی اُلو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
(شوق بہرائچی)
آن لائن تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں خاص کر میٹرک کے نیچے کلاس کے بچوں کو یہ سب گورکھ دھندا تعلیمی اداروں کی طرف سے فیس وصولنے کے لئے چلا یا جارہا ہے تعلیمی نظام پوری طرح کمر شیل ہوگیا ہے۔حکومت ومحکمہ تعلیم کے ذمہ داران بھی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم آنکھ کھولے ہوئے جان بوجھ کر اندھے بنے ہوئے ہیں۔
*تعلیم اداروں کو بند کرنے کی حقیقت؟*:
پوری دنیا میں کوئی بھی ایک ملک کی مثال دیجئے جس نے تمام شعبہ جات کو کھول رکھا ہو اور صرف تعلیمی اداروں کو بند رکھا ہواورکورونا پر قابو پالیا ہو؟۔ امریکہ میں اس وقت ہمارے ملک سے کئی گنا زیادہ کرونا کیسیز ہیں لیکن تعلیمی ادرے بند نہیں ہوئے۔uk, میں کورونا نے زبردست تباہی پھیلائی لیکن وہاں لاک ڈائون کے باوجود تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔ یورپی ملک فن لینڈFinland, میں کورونا کے دوران ایک دن کے لیے بھی تعلیمی ادارے بند نہیں ہوئے۔(بہت سی مثالیں موجود ہیں) یہ وہ حقائق ہیں جن کی وجہ تعلیمی اداروں کو بند کرنا اداروں کے علاوہ،بچوں،والدین اور معاشرہ کے لیے تباہ کن ہے لمبے عرصے سے تعلیم کو بند کرکے رکھنا تعلیم دشمنی اقدام ہے۔اس کی ہرسطح پہ مذمت،مزاحمت ہر باشعور اور تعلیم دوست حضرات پر فرض ہے۔ اللہ ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: