جمعیت علماء هند

ماونٹ بیٹن کا تقسیم ہند کا پلان اور جمعیت علمائے ہند قسط نمبر(3)

محمد یاسین جہازی

ماونٹ بیٹن کی آمد اور ویول کی رخصتی
بھارت میں عارضی قومی حکومت قائم ہوجانے کے بعد مسٹر ایٹلی وزیر اعظم برطانیہ نے جلد از جلد مکمل اختیارات ہندستانیوں کو منتقل کرنے کے لیے وائسرائے ویول کی جگہ ماونٹ بیٹن کو ہندستان کا بیسواں اور آخری وائسرائے بناکر بھیجا۔
22/ مارچ 1947: 21مارچ کو ہندستان کا نیا وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن کراچی پہنچا۔ رات کراچی میں گذاری۔ دوسرے روز صبح 22/ مارچ کو نئی دہلی پہنچ گیا اور سابق وائسرائے لارڈ ویول سے ملاقات کی۔ 23/ مارچ کو لارڈ ویول لندن کو روانہ ہوگیا۔ 24/ مارچ کی صبح کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے وائسرائے ہاوس میں ہندستان کے نئے وائسرائے کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد چہارم، ص/333)
کیبنٹ مشن یا اس کا متبادل
بیٹن نے ہندستان آتے ہی بھارتی لیڈروں کے نظریات اور رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے میٹنگوں اور گفت و شنید کا سلسلہ شروع کردیا۔ انھوں نے بالعموم کیبنٹ مشن کو منظور کرلینے کا مشورہ دیااور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر یہ قابل قبول نہیں ہوگا، تو اس کا متبادل صورت بھی موجود ہے۔
”وائسرائے نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد یہ رہا ہے اور یہی رہے گا کہ وہ ہندستان کے سیاسی رہ نماؤں کو مکمل طور پر قائل کریں کہ ہندستان کے مستقبل کے لیے کابینہ مشن منصوبہ منظور کرلیا جائے۔ ان کو یقین کامل ہے کہ یہی منصوبہ بہترین حل ہے۔ بہرحال اس منصوبہ کو منظور نہ کرنے کی صورت میں متبادل منصوبہ بندی لازمی طور پر کی جائے گی۔ وہ فی الوقت مندرجہ ذیل خطوط پر سوچ بچار میں مصروف ہیں:
۱۔ ایک ایسا منصوبہ جس کی روح تقسیم ہو، چند امور پر مرکزی اختیار ہو، یہ منصوبہ تجربے کے طور پر شروع کیا جائے اور اس پر مستقبل قریب میں عمل شروع کیا جائے۔
۲۔ تقسیم کے نتیجے میں جو تین اکائیاں معرض وجود میں آئیں گی، اس کی صورت اس طرح ہوگی:
(الف) ہندستان: اس میں ہندو آبادی کی اکثریت کے علاقے شامل ہوں گے۔
(ب) پاکستان: اس میں مسلمانوں کی آبادی کے اکثریتی علاقے شامل ہوں گے۔
(ج) ہندستان کی ریاستیں۔
۳۔ ہر اکائی کو ڈومینین کا درجہ دیا جائے گا۔ جہاں تک ریاستوں کا تعلق ہے، تو بڑی ریاستوں کو ڈومینین کا درجہ حاصل ہوگا، جب کہ چھوٹی ریاستوں کو موزوں اکائی کے ساتھ الحاق کرنا ہوگا۔
۴۔ پاکستان کا مطالبہ منظور ہونے کی صورت میں اسی اصول کی بنا پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا جواز بھی ہوگا۔
۵۔ منصوبے کو مئی 1947میں عملہ جامہ پہنایا جائے گا اور اس کو جون 1948تک تجرباتی طور پر آزمایا جائے گا۔
۶۔ مرکزی اتھارٹی (جسے ”مرکزی حکومت“ یا ”مرکزی کونسل“ کے نام سے پکارا جائے گا) کے پاس دفاع، امور خارجہ، مواصولات، خوراک اور خزانے کے محکمے ہوں گے۔
۷۔ مرکزی اتھارٹی اور ہندستان کا دارالخلافہ دہلی ہوگا۔
۸۔ جو خاص محکمے مرکزی حکومت کی تحویل میں ہوں گے، ان کو ایک کونسل یا بورڈ چلائے گا۔
۹۔ وائسرائے کو ان مخصوص محکموں کے بارے میں کونسل کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار بدستور جاری رہے گا۔
۰۱۔ جون 1948سے تین ماہ قبل یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ مرکزی اتھارٹی اس تاریخ کے بعد باقی رہے یا نہیں۔
وائسرائے نے کہا کہ اس منصوبے کی خوبیاں یہ ہیں کہ اس سے مکمل انتقال اقتدار موجودہ اندازے سے نسبتا زیادہ جلدی عمل پذیر ہوجاتا ہے۔ اس سے تمام جماعتیں فائدہ اٹھائیں گی اور عبوری عرصے میں برطانیہ کی مدد جاری رہ سکے گی، جو کہ ہندستان کی بہتری کا متمنی ہے اور اس سے کم از کم ہندستان کو ڈومینین کا درجہ حاصل کرنے کے فوائد کا تجربہ حاصل ہوگا۔ اس سے پہلے کہ منصوبے پر مزید پیش رفت ہو، وہ منصوبے کے قابل عمل ہونے کے بارے میں مطمئن ہونا چاہتا ہے۔“ (ڈاکومنٹ نمبر34: وائسرائے کی چھٹی اسٹاف میٹنگ کی کارروائی ماونٹ پیپرز۔ ضمیمہ نمبر34۔ 31مارچ 1947(انتہائی خفیہ)۔ تحریک پاکستان اور انتقال اقتدار ص/66-68۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد چہارم، ص/348-349)
اس تجویز میں ماونٹ بیٹن نے ہندستان کی تقسیم کا جو نظریہ پیش کیا تھا، اسے ہندستانی لیڈروں کو تسلیم کرلینے کے لیے ایک حد تک راضی کرلیا۔ حتیٰ کہ کانگریس جواہر لال نہرو اور سردرا پٹیل بھی تقسیم کے حامی ہوگئے تھے۔ صرف حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ اور گاندھی جی راضی نہیں ہوئے تھے۔ حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ملک کو تقسیم سے بچانے کی آخری کوشش کرتے ہوئے 14مئی 1947کو بیٹن سے ملاقات کی۔ انھوں نے ملاقات میں کہا کہ
”میں نے ان سے اپیل کی کہ وہ کیبنٹ مشن پلان کو دفن نہ کریں۔ میں نے کہا کہ ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے، کیوں کہ اس پلان کو کامیاب بنانے کی امید اب بھی باقی ہے۔ اگر ہم نے عجلت سے تقسیم کو تسلیم کرلیا، تو اس سے ہندستان کو ایک مستقل نقصان پہنچے گا۔ ایک بار ملک تقسیم ہوگیا، تو پھر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ اور تقسیم کو مسترد کرنے کا بھی امکان نہ ہوگا۔“ (انڈیا ونس فریڈم اردو، ص/284۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد چہارم، ص/352)
اسی طرح گاندھی جی نے بھی تقسیم ہند کو روکنے کی ایک آخری کوشش کی۔
”یکم اپریل1947: گاندھی جی نے یکم اپریل کو دوسری مرتبہ ماونٹ بیٹن سے ملاقات کی اور پیش کش کی کہ وہ موجودہ عبوری حکومت ختم کرکے مسٹر جناح کو کابینہ بنانے کی دعوت دی جائے اور وہ تمام کابینہ مسلمانوں پر مشتمل بنالے۔ گاندھی جی نے یقین دلایا کہ وہ یہ پیش کش سنجیدگی سے کر رہے ہیں۔ لیکن ماونٹ بیٹن نے گاندھی جی کی پیش کش کو مسٹر جناح تک نہیں پہنچایا۔“ (ابوالکلام آزاد اور قوم پرست مسلمانوں کی سیاست، ص/577۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد چہارم، ص/354)
مسلم لیگ کا تقسیم ہند کا اصرار
۳/ اپریل 1947کو ماونٹ بیٹن اور مسلم لیگ لیڈر مسٹرلیاقت علی خان کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں مسٹر لیاقت علی خان نے تقسیم ہند کے لیے اصرار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ
”میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورت حال اس قدر ناگفتہ بہ ہوچکی ہے کہ اگر عزت مآب مسلم لیگ کو صرف سندھ کا صحرا دے دیں، تو میں اب بھی اس کو قبول کرنے کو ترجیح دوں گا اور ایک الگ مسلم ریاست بنانا پسند کروں گا، بجائے اس کے کہ کانگریس کے ساتھ بندھ کر زیادہ معقول مراعات کے ساتھ کام کروں۔“ (ڈاکومنٹ نمبر65: ریئر ایڈمرل و اسکاونٹ ماونٹ بیٹن آف برما اور مسٹر لیاقت علی خان کے درمیان ملاقات کا ریکارڈ۔ ماونٹ بیٹن پیپرز، وائسرائے کا انٹرویو نمبر26۔ (انتہائی خفیہ)۔ ۳/ اپریل 1947، بحوالہ تحریک پاکستان اور انتقال اقتدار، ص/89۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد چہارم، ص/358)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: