اسلامیات

ماہ ربیع الاول اور ہماری ذمہ داریاں

ربیع الاول کے بابرکت مہینہ میں سرور کونین حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، اور مشیت الہی کی بناء پر آپﷺ اس دنیا سے پردہ بھی اسی ماہ میں فرماگیے۔
یہ کوئی امر اتفاقی نہیں تھا بلکہ یہ مسلمانوں کا اللہ رب العزت کی جانب سے ایک امتحان تھا، اور اس امتحان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کہ رسولﷺ کی ولادت باسعادت اور آپﷺ کی رحلت کا دن ایک ہی ہو، ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ اور میلاد النبی ﷺ کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس سے بڑی کوئی اور سعادت ایک مسلمان کیلئے ہو ہی نہیں سکتی ـ

تاریخ ولادت

تاریخِ ولادت باسعادت میں مؤرخین نے بہت کچھ اختلافات کیا ہے، جیسے کہ ابوالفداء نے 10/ربیع الاوّل لکھی ہے، بعض نے 8/ربیع الاوّل، طبری اور ابن خلدون نے 12/ربیع الاوّل اور مشہور بھی یہی روایت ہے‘ مگر سب کا اس پر تو اتفاق ہے کہ ولادت باسعادت پیر کے دن ہوئی، اور اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ پیر کا دن 9/ربیع الاوّل کے علاوہ کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتاہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولادت باسعادت کی صحیح اور راجح قول 9/ ربیع الاول ہی ہے۔

علامہ سید سلیمان ندوی نے بھی نو(9) تاریخ کو ولادت ہونا راجح قراردیا ہے۔
حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ موجودہ مروّجہ عید میلاد ہمارے نزدیک ناجائز اور بدعت ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں کہ؛ذکر ولادتِ نبوی شریف ﷺ مثل دیگر اذکارِ خیر کے ثواب اور افضل ہے اگر بدعات وقبائح سے خالی ہو۔ اس سے بہتر کیا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا
وذکرک للمشتاق خیر شراب” وکل شراب دونہ کسراب

البتہ جیسا ہمارے زمانے میں قیودات اورشنائع کے ساتھ مروّج ہے اس طرح بے شک بدعت ہے۔

ماہ ربیع الاول میں خصوصیت سے مجالس منعقد کرنا

یہ تاریخ یقینا بابرکت اور حضور اکرمﷺ کا تذکرہ خیر اس میں مزید برکت کا باعث ہے لیکن چونکہ اس کی تخصیص اور اس میں اس ذکر کا التزام کہیں سے ثابت نہیں ہے اس لیے یہ عمل بدعت اور قابل ترک ہےـ

حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت اس امت پر سب سے بڑا احسان ہے

خدائے بزرگ وبرتر نے روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں پر اپنے بے حساب انعامات و احسانات فرمائے ہیں، اسی طرح امت محمدیہ ﷺ پر لاتعداد نوازشات و مہربانیاں فرمائیں ہیں ـ نیز تا قیامت اور روز محشر میں بھی اسی طرح کے احسانات و انعامات کی بارشیں برساتا رہےگا کیونکہ وہ ذات رحمن و رحیم اور حلیم و کریم ہے، اتنی بے شمار نعمتوں کو عطا کرنے کے بعد بھی کبھی کوئی احسان نہیں جتلایا لیکن ایک نعمت عظمی ایسی تھی کہ وہ اس کو جب بنی آدم کی جانب بھیجا اور اپنی اس نعمت سے نبی انسان کو سرفراز کیا تو اس پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:

لقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

(سورۃ آل عمران 3 : 164)

ترجمہ: ”بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے“۔

اس آیت کریمہ میں آیت يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ الخ سے صاف طور پر ہمیں یہ معلوم ہورہا ہے کہ خوشی کی اصل چیز اور احسان یہ ہیکہ حضور ﷺ ہمارے لئے سرمایہ ہدایت ہیں ـ

عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

اس مروجہ عید میلاد کا ثبوت مذہب اسلام میں کہیں نہیں ملتا ہے، کیونکہ کسی زمانہ فضیلت جس قدر زیادہ ہوتی ہے اسی زمانے میں حدود شرع سے نکلنا اللہ اور اس کے حبیب محمد مصطفیﷺ کے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ عمل ہوتا ہے۔ اور حدود شرع سے نکلنے کا معیار صرف اور صرف کتاب اللہ، سنت رسول اللہ ﷺ، اجماع امت، اور قیاس سے جانا سکتا ہےـ اور ان سب دلائل سے ثابت ہوچکا ہیکہ اس ماہ مبارک میں جو اعمال بعض لوگوں میں رائج ہوچکے ہیں”مثلاً عید میلادالنبی ﷺ یعنی اللہ رب العزت کی جانب سے عطا کردہ عیدین کی طرح خوشیاں منانا، چراغاں کرنا، گھروں کر لائٹ اور قمقموں سے سجانا، جلسے جلوس نکلنا، جھنڈے گاڑنا، گھروں میں طرح طرح کے پکوان بنانا وغیرہ یہ سب حدود شرع سے متجاوز ہیں۔ نیز اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو ناراض کرنے والے کام ہیں.

عید میلاد النبی ﷺ کب سے شروع ہوا ؟

یہ ایک بہت بڑی غلطی اس ماہ میں (عید میلاد النبی ﷺ) کی ایجاد ہے ـ جس کو ایک ظالم اور فضول خرچ بادشاہ (ملک مظفرالدین) نے اپنے زمانے شروع کرایا تھاـ اور اس دور کے علماء کو حکم دیا کہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور اس میں کسی غیر کے مذہب کی اتباع نہ کریں تو اس وقت کے وہ علما جو اپنے دنیوی اغراض ومقاصد کی سرتوڑ کوششیں کررہے تھے اس کی جانب مائل ہوئے، جب انہیں موقع ملا تو ربیع الاوّل کے مہینے میں عیدمیلاد النبیﷺ منانا شروع کیا۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے عید میلادالنبیﷺ منانے والا شخص ملک مظفرالدین ہے جو موصل کے علاقے اربل کا بادشاہ تھا۔“
اس لیے یہ اسلام کے خلاف اور تعلیمات نبوی ﷺ کے بھی خلاف ہے، اسلام کو ان عارضی اور ظاہری شان و شوکت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ اسلام کی شان و شوکت تو یہ ہیکہ جب خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ملک شام تشریف لے گیے اور وہاں کے لوگوں نے نیا لباس پہننے کو کہا تو فرمایا کہ: نحن قوم أعزَّنا الله بالإسلام (کہ ہم مسلمان ایسی قوم ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم کو اسلام کے ذریعہ عزت بخشی ہے) اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو ہماری عزت بے سر وسامانی میں بھی دنیا کرے گی ـ

تعلیمات نبوی ﷺ پر غور و فکر کرنا چاہیے

حضور اکرمﷺ اس دنیا میں تشریف کیوں لائے؟
آپ علیہ السلام کا پیغام امت کے لیے کیا تھا؟
آپﷺ کی تعلیم کیا تھی؟
آپﷺ کی فکر کیا تھی؟
آپﷺ محبوب خدا ہونے کے باوجود زندگی بھر کیوں خون پسینہ بہاتے رہے؟
کیوں آپﷺ اللہ کی بارگاہ میں راتوں رات گڑگڑاتے تھے؟
کیونکہ قرآن حکیم اور احادیث نبویﷺ میں بار بار یہ مضمون دہرایا گیا ہیکہ انسان کی کامیابی وکامران اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اتناع میں ہی ہے ـ اللہ رب العزت کی فرمانبرادر محبت رسول اللہ ﷺ سے محبت کا واحد ذریعہ اور کسوٹی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے کہ؛
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
ترجمہ: اے نبیﷺ! لوگوں سے کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالی تم سےمحبت کرے گا اور تمہاری غلطیاں معاف کرے گا۔وہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا رحیم ہے۔
بغیر اتباع الٰہی کے دعوی محبت خود فریبی ہے۔
اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو سنت نبویﷺ و تعلیمات نبویﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، اور رسولﷺ کا سچا عاشق بنائے۔

salmanqasmi838@gmail.com
محمــد ســلمان قاسمی دھـــلوی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: