اسلامیات

ماہ ربیع الاول کا پیغام امت مسلمہ کے نام

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی خادم تدریس جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش

*ماہ ربیع الاول کا پیغام امت مسلمہ کے نام*

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس
جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش

اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ماہ "ربیع الاول” ہم پر جلوہ فگن ہوچکا ہے، اس مہینہ سے تاریخ انسانی کا ایک عظیم واقعہ وابستہ ہے، اور وہ واقعہ "ولادت رسول ﷺ” ہے، ربیع بہار کو کہتے ہیں بلاشبہ کائنات کی تاریخ میں انسانیت کے خزاں رسیدہ چمن کے لئے نبی کریم ﷺ کی آمد سے بڑھ کر کوئی بہار نو نہیں آئی۔
گرچہ تاریخ ولادت کی تعیین میں علماء اسلام کے درمیان اختلاف ہے لیکن مہینہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے کفر و شرک کے اندھیارے چھٹے، ظلم و ستم کا خاتمہ ہوا، حق کا بول بالا اور باطل سرنگوں ہوا۔
نبی کریم ﷺ نے صرف تئیس سال کے قلیل عرصہ میں وہ انقلاب برپا کیا کہ کل تک جو راہزن تھے وہ راہبر بنے، کفر و شرک کی گندگی میں لت پت انسان توحید سے آشنا ہوئے، انسانیت کو بلندی اور تہذیب و تمدن کو ترقی ملی۔
آمد رسول ﷺ سے قبل کا دور، دور جاہلیت سے جانا جاتا ہے، جہاں ہر سمت برائیوں کا ڈیرا تھا، انسان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، ہر بڑا چھوٹے کو پاؤں تلے روند رہا تھا، صنف نازک کے ساتھ وہ زیادتی تھی کہ بن کھلے مرجھا دیا جاتا تھا
اس دور کا نقشہ خود اللہ رب العزت نے کھنیچا ہے قرآنی زبان ملاحظہ فرمائیں:
*ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِى النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۞* (الروم:41)
لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا۔ تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔
اسی دردناک اور کربناک دور کا منظر کشی کرتے ہوئے کسی نے سچ کہا ہے:
*بدی کا زور تھا ہر سو جہالت کی گھٹائیں تھی*
*فساد وظلم کی چاروں طرف پھیلی ہوائیں تھی*
*ذرا سی بات پر تلوار چل جاتی تھی آپس میں*
*تو پھر جنگ آتی نہ تھی دوچار کے بس میں*
*اگر لڑکی کی پیدائش کاذکر گھر میں سن لیتے*
*تواس معصوم کو زندہ زمین میں دفن کرتے*
*غرض جو بھی برائی تھی سب ان میں پائی جاتی تھی*
*نہ تھی آنکھوں میں شرم و حیا گھر گھر بے حیائی تھی*
*مگر اللہ نے جب ان پر اپنا رحم فرمایا*
*تو عبداللہ کے گھر میں خدا کا لاڈلا آیا*
لیکن آمد رسول ﷺ سے دنیا کا نقشہ بدل گیا، ہر ایک کو اس کا حق دیا گیا، ظالم کو ظلم سے روکا گیا، مظلوم کی داد رسی کی گئی، صنف نازک کو ماں کی شکل میں جنت کو ان کے پاؤں تلے رکھا گیا، بیٹی کی شکل میں اس کی تعلیم و تربیت پر جنت کی خوشخبری دی گئی، شریک حیات کی شکل میں ان کو دنیا کے سب سے عمدہ اور نفیس متاع کہا گیا۔
اب ذرا ہم یہاں ٹھہر کر گرد و پیش پر ایک نگاہ ڈالیں، دور جاہلیت کا موجودہ دور سے موازنہ کریں، ایک دوسرے سے کمپائر کریں، کیا اس وقت ہم دور جاہلیت میں نہیں ہیں؟ کیا اس وقت ہمارے درمیان وہ تمام برائیاں عود نہیں کی ہیں؟ کیا اس وقت ہمارے معاشرے میں وہ تمام خرابیاں پنپ نہیں رہی ہیں؟
کسی دانش مند نے درست کہا کہ اس وقت انسان "جدید دور جاہلیت” میں سانسیں لے رہا ہے۔
ماہ "ربیع الاول کا پیغام امت مسلمہ کے نام” یہی ہے کہ وہ از سر نو اسلام کی طرف لوٹے، اسلامی آئین کی پاسداری کرے، نبی کریم ﷺ کے لگائے ہوئے شجر سایہ دار کے نیچے آئے، آپ ﷺ کے برپا کردہ انقلاب سے سبق حاصل کرے، اصحاب رسول ﷺ کے نقش پا پر چلنے کا عزم کرے، سنت رسول ﷺ کو حرز جاں بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں از سر نو اسلام کی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: