اسلامیات

ماہ ربیع الاول کا پیغام اور عشق نبی کا دعوی

فیاض احمد صدیقی رحیمی

بارہ ربیع الاول کا یہ دن پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے بہت اہم ہے، اسلئے کہ اسی دن تاجدار مدینہ، سید الکونین، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی، 20 اپریل 571 عیسوی بروز پیر بوقت صبح آپ مکہ میں پیدا ہوئے، گمراہ اور شرک وبدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کے لئے فلاح کی راہ دکھانے والا دستورِ زندگی لے کر آپ تشریف لائے جو ہر قوم و ہر ملک کے لوگوں کے لئے ضابطہ حیات ہے اس دستورِ حیات میں نہ کالے گورے کا فرق رکھا گیا نہ عربی و عجمی کا، نہ امیر و غریب کا نہ بادشاہ و فقیر کا، کرئہ زمین پر جہاں کہیں بھی انسانی آبادی پائی جاتی ہے یہ دستورِ حیات سب کی رہنمائی کرتا ہے، اور اسی دن آپ اس دنیا سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے تھے، یہ دن ہمارے لئے یوم احتساب ہے، اور اپنے اعمال کا محاسبہ اور جائزہ لینے کا دن ہے، آج کی یہ تاریخ ہمیں اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہم سب اپنی زندگی کا، اتباع رسول اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوی کا جائزہ لیں، غوروفکر کریں، کہ کیا واقعی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہیں، اور تعلیمات نبوی پر عمل کررہے ہیں، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جس راستے پر ہمیں گامزن کیا تھا اس پر برقرار ہیں؟ امت مسلمہ کو جن چیزوں سے روکا گیا تھا اب بھی ہم اس سے رکے ہوئے ہیں یا نہیں؟

آج ہم اس مہنیہ کی آمد پر اپنے گھروں، محلوں، بستیوں اور شہروں کو مجلسوں سے آباد تو کر لیتے ہیں لیکن اپنے دل کی تاریکیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن تعلیمات سے منور نہیں کرتے، عطر وخوشبو سے تو اپنے آپ کو اور اپنے گھروں کو تو معطر کرلیتے ہیں، مگر اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے معمور نہیں کرتے، ہماری راتیں گھومنا پھرنا اور عمدہ کھانا کھانے میں تو گزر جاتی ہیں پر ہم اسے اعمال حسنہ سے منور نہیں کرتے،

محسنِ کائنات ﷺ نے انسانوں کے لئے جو دستورِ حیات دیا اور جو نظام زندگی دیا اسکے بارے فرمایا کہ جو کوئی اس دستور کا عملی نمونہ دیکھنا چاہے وہ مصطفی ﷺ کی سیرت میں دیکھ لے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی گزارےـ

رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمھارے لئے زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرے گی اور آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا اور تمھارے لئے رسول کی زندگی ہی نمونہ عمل ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کی سب سے عظیم شخصیت ہیں، دنیا کے نامور اور انصا ف پرور مورخین نے بھی انہیں سب سے عظیم انسان قرار دیا ہے، آپ نے اس دنیا کو ضلالت وگمراہی سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کیا، آپ کی بعثت سے قبل ہر طرف ظلم وزیادتی کا دور دورہ تھا، جہالت عام تھی، لوگ ذات پات، رنگ ونسل، قبیلوں اور علاقوں کی بنیاد پر لڑ جھگڑ رہے تھے، انکی آپس کی لڑائیاں سالہا سال چلا کرتی ہے، عورتوں کی کوئی قدر وقیمت نہ تھی انکی پیدائش کو عیب سمجھا جاتا تھا، انہیں زندہ در گور کردیا جاتا تھا، ایسے حالات میں آپ نے لوگوں کو گھٹا ٹوپ تاریکیوں سے نکال کر کامیابی اور ہدایت کے شاہ راہ پر گامزن کیا اور پوری دنیا کو تاقیامت عظیم نسخہ کیمیا فراہم کیا جس پر چل کر دنیا کی کوئی بھی قوم کامیاب بن سکتی ہے.

لیکن المیہ یہ ہے کہ آج امت مسلمہ اپنے نبی کے عظیم فرمان کو فراموش کرچکی ہے، اسوہ رسول کو اپنی زندگی سے نکال چکی ہے، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کے باب میں تعلیمات نبوی سے بہت دور ہوچکی ہے، اپنا کلچر، تہذیب وثقافت کو چھوڑ کر غیروں کی تہذیب کو اپنا نے لگی ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلم قوم ذلت ورسوائی سے دوچار ہے، ہر میدان میں پچھڑتی نظر آرہی ہے،

آج کے مسلمانوں کا المیہ دیکھیئے کہ ماه ربیع الاول کی آمد پر طرح طرح کی خرافات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم عاشقان رسول ہیں، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیک کاٹا جارہا ہے اور سب لوگ ہیپی برتھ ڈے ٹو یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہیں، بے عمل اوباش قسم کے نوجوان فلمی گانوں پر ناچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم عاشقان رسول ہیں (نعوذ باللہ )کیا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے؟

کیا یہی آپ کی تعلیمات ہیں؟

افسوس صد افسوس

کیا تم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہو؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا مہینہ اس خیر جماعت کے عہد میں بارہا آیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دو بار، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دس بار، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں بارہ بار، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں چار بار آیا، مگر کوئی بھی شخص اس دور کے متعلق ایک بھی ایسی روایت دکھا سکتا ہے؟ جس میں میلاد کے جشن و جلوس کا تذکرہ ہو.

ہرگز نہیں ہرگز نہیں دکھا سکتا، کیوں کہ کبھی میلاد النبی منا ہی نہیں گیا.

عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اس طرح سے شور شرابا اور خرافات کو کوئی باشعور مسلمان جائز نہیں کہہ سکتا ہے.

بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے ہمیں چاہیئے کہ ہم سیرت کے عنوان پر جگہ جگہ جلسے کریں، ہم زیادہ سے زیادہ سیرت کے پیغام کو عام کریں، دنیا کو تعلیمات نبوی سے آگاہ کرانا وقت کا اہم تقاضاہے،

اس وقت دنیا جن حالات سے گزر رہی ہے اور پوری دنیا ہر طرح کی سہولتوں اور ترقیات کے باوجود جن پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے، ظلم وزیادتی کا دور دورہ ہے ہر طرف ایک دوسرے کے حقوق کو مارتا ہوا نظر آتا ہے، ہر ایک کو دوسرے سے شکایت ہے ہر طرف خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے اس کا علاج اگر کہیں ملتا ہے تو وہ پیغام محمدی کے دستور حیات میں ملتا ہے، دنیا کی ہر طرح کی پریشانیوں کا حل آپ کا بتایا ہوا نظام حیات ہے.

ہندوستان سمیت دنیا بھر میں مختلف موضوعات پر پروگرام کا انعقاد کیا جاتاہے لیکن سیرت نبوی کے عنوان سے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتاہے، ہندوستان اور ان ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ایسے پروگرام منعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے، جہاں غیر مسلموں کو مدعو کیا جائے انہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اور آپکی حیات طیبہ کے بارے میں بتلایا جائے، اس طرح کے پروگراموں کا بہت بڑا فائدہ ہوگا لوگوں کے دلوں میں حضورپاک صلی اللہ علیہ کی عظمت اور آپ کو پڑھنے کا جذبہ وشوق بیدار ہوگا اور وہ شوق ورغبت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں گے، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے انمول حیات وکردار سے آگاہ کیاجائے اور انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاجائے کہ آپ نے دنیا کو کیا کیا دیا ہے، آپ کی بعثت سے پہلے دنیا کس قدر ظلمت وتاریکی کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ کے آنے کے بعد کیسا انقلاب برپا ہوا…
Attachments area

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: