مضامین

ماہ ربیع الاول کی آمد آمد

مجیب الرحمٰن جھارکھنڈبہنپ

دنیا اپنی سانسیں لے رہی تھی ماہ و سال گزررہے تھے صبح شام بھی اپنا مشغلہ جاری رکھے ہوئے تھی چرند پرند بھی اپنی اپنی زندگی گزاررہے تھے اس دنیا میں بسنے والے انسان تاریکی سے اجالے میں آنے کی تمنا کررہے تھے وہ ہر طرح کی آلائشوں کی تاریکیوں سے اکتا چکے تھے دنیا میں روشنی پھیلے ایک لمبا عرصہ گزرچکا تھا ہلکی سی جو ٹمٹاہٹ تھی وہ بھی کہیں کہیں اب مکمل طور سے بجھ چکی تھی دنیائے انسانیت کو ایک طرز زندگی کی ضرورت تھی جو انہیں صحیح ڈگر پہ لے آئے اور جس طرز زندگی کو وہ اپنا کر اپنے مضطرب دل کو سکون دے سکے لیکن ماحولیات کی آلودگی اور ہر طرف فتنہ فساد نے خوشحالی اور امن و آشتی کی تمام امیدیں روند ڈالی تھیں بلاآخر قدرت نے ترس کھایا اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ کا انتخاب ہوا جس مہینہ میں دنیائے انسانیت کیلئے ایک چاند طلوع ہوا اور ایک ایسی روشنی پھیلی کہ تاریکیاں چھٹنے لگیں اندھیروں کی حکمرانی ختم ہوگئی باطل اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے باوجود بل کھانے لگا بے جان پتھروں کے بت جو خدا تصور کیا جاتا تھا منہ کے بل گرپڑا شر و فساد نے بھی اپنے پر سمیٹ لئے برائیاں نظریں چراتی پیٹھ پھیرتی اپنے راستے پر گامزن ہوگئیں ، ظلم و بریبت کا خاتمہ شروع ہوگیا کفر و الحاد نے اپنے جمے ہوئے قدم واپس کھینچ لئے ، اور پھر تاریخ انسانی کا ایک نیا دور شروع ہوا جسمیں حق والوں کو اسکا حق دیا جانے لگا حق چھیننے والوں کا قلع قمع کیا جانے لگا، یتیموں کے سر پر چادر شفقت تان دی گئی، بیکسوں کو اسکا سہارا مل گیا، مظلوموں کی حمایت ہونے لگی ظالموں کا خاتمہ شروع ہوا، وحی الٰہی کا دور شروع ہوا باطل قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، احکام الٰہی کا نفاذ شروع ہوا صاف وشفاف معاشرہ کی تشکیلِ ہوئی معاشرہ میں پھیلی برائیوں کی بیخ کنی شروع ہوئی اور پھر انسانوں میں جینے کا طریقہ و سلقیہ آیا یہاں سے ایک قابل رشک زندگی کی شروعات ہوئی،

ہم خوش نصیب ہیں کہ اس وقت ہم اسی مہینہ کی (ماہ ربیع الاول) کی شروعات کررہے ہیں مہینہ شروع ہوتے ہی ہر طرف خوشیوں کا ماحول ہے جگہ جگہ اس مناسبت پر جلسے جلوس کے اشتہار چسپاں ہیں اور اسی مہینہ کے بارہویں تاریخ کو وہ روشن دن ہے جسکی روشنی دنیا میں پھیلی اور ہر سو اجالا چھاگیا، اکثر مقامات پر نبی کے محبین اور عاشقین حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اور بدعات و خرافات کے دلدل میں جا دھنستے ہیں خوشی میں اس قدر پاگل پن کا شکار ہوتے ہیں کہ حدودِ شرعیہ کو پھلانگتے ہوئے غیروں کے رسوم و رواج میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے ہیں اور اس مبارک مہینہ میں بھی خود کو عذاب سے محفوظ نہیں رکھ سکتے خوشی منانے والوں کیلئے اتنی سی بات عرض ہے کہ جس تاریخ کو آپ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی مناتے ہو اسی تاریخ کو آپ کی وفات بھی ہوئی یہ غم ایسا ہے کہ اس سے بڑا کوئی غم نہیں ہوسکتا لہذا دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا قدم بڑھائیں ، سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم حضور صلی االلہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اپنائیں آپ کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کریں یہ خوشی دائمی ہے اور آپ کے طریقہ سے ہٹ کر جو خوشی ملتی ہے وہ عارضی ہے عقلمندی والی بات یہ ہے کہ ہم عارضی پر دائمی کو ترجیح دیں،

(نوٹ)

بارہ ربیع الاول کے سلسلہ میں گھڑے ہوئے خرافات اور طرح طرح کے رسوم و بدعات پر انشاءاللہ اگلی آئیندہ ضبط تحریر کرکے افادہ عام کیلئے ہدیہ ناظرین کیا جائے گا،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: