مضامین

ماہ صیام کا الوداعی پیغام

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی

مسلمانوں،قو م کے غیور نوجوانوں!
میرے آمد کی تم گیارہ مہینے سے منتظر تھے، میرے آمد کی شوق میں بچھے جا رہے تھے ، میرے استقبال کے لیے تم فرش راہ بنے ہوئے تھے،یہاں تک کہ میں اپنے تمام فیوض و برکات کے ساتھ تم پر سایہ فگن ہو گیا، میرے آمد سے ہر سمت موسم بہار کا سا سماں ہوگیا،نورانیت کا دور دورہ ہو گیا،میرے نزدیک لفظ تفریق کوئی چیز نہیں، میں جس طرح اہل علم پرسایہ فگن ہوا،اسی طرح ناخواندہ پر بھی،امیر ہو یا غریب شہری ہو یا دیہاتی، محلوں میں رہنے والے ہوں یا ساکنان جھونپڑی ، میں ہر ایک کا مہمان بن کر آیا، میرے آمد کی برکت سے جنت کے دروازے کھول دئیے گئے، جہنم کے دروازے بند کر دئیے گئے، اور تمہارا سب سے بڑا ازلی دشمن شیاطین کو کو قید کر دیا گیا، تاکہ تم اپنے یک ماہی مہمان کی چین و سکون سے ضیافت کرسکو ، میرے آنے کا مقصد اور غرض وغایت سے بھی تم واقف تھے ،تبھی تو تم ہمارے انتظار شدت سے منتظر تھے ، تمہارے پیش نظرمیرے آنے کا مقصد یہی تھا نا کہ میرے آنے کے بعد تم متقی و پرہیزگار بن جاؤ گے، تم تقوی کی صفت سے سے اپنے آپ کو مزین کر لو گے، تم گناہوں کی دلدل میں ڈوب چکے تھے، تمہارا یہی خیال تھا نا کہ میرے آمد کے بعدتم رو رو کر، گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگو گے، آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کرو گے، اللہ سے رحمت و مغفرت کی بھیک مانگوگے، اپنے پالنہار کو گیارہ ماہ ناراض کرتے رہے اب ندامت کی آنسو سے اسے راضی کرو گے۔
ہاں ہاں !تم مال کی محبت میں اس قدر غرق ہوگئے تھے کہ فرائض و واجبات کو بھی ترک کرنے لگے تھے ، تمہارا یہی خیال تھا نا کہ ہماری آمد پر بذل و عطا داد و دہش اور جودوسخا کی زیور سے آراستہ ہوجاؤگے۔
سن لو! میں آیا اور اب میں رخصت ہوا ہی چاہتا ہوں ،چل چلاؤ کا وقت ہے،میں تو آتا ہی رہوں گا لیکن کیا پتہ پھر تم آئندہ میرا میزبانی کر سکو گے یا نہیں؟ اس سے پہلے کہ میں تم سے رخصت ہو جاؤں، آؤ اور مجھ سے لپٹ جاؤ، مجھ سے گلے لگ جاؤ ، اور اپنے ان تمام وعدے پر نظرثانی کرو ، جو تم نے میرے آمد سے قبل کیے تھے، کیا تم رو رو کر اپنے ناراض خدا کو منا لیے؟ کیا تم اپنے رب رحیم سے رحمت و مغفرت کی بھیک مانگ لئے؟ کیا تم میری موجودگی میں گناہوں کی دلدل سے نکل گئے؟ کیا تم اپنے دل سے مال وزر کی محبت نکال کرغنا واستغنا کی صفت سے متصف ہو گئے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا تم متقی و پرہیزگار بن گئے ؟
کیونکہ میرے آنے کا مقصد اصلی ہی یہ ہے کہ میرے آمد سے تمام مسلمان متقی و پرہیزگار بن جائے، میں تو تمہاری تربیت کیلئے ہی آیا ہوں۔
قرآن بھی یہی کہتا ہے:
*ياايهاالذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون*
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو۔
آؤ میں تمہیں قرآن ہی کی زبانی بتاتا ہوں کہ متقی کسے کہتے ہیں، قرآن کھولو سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتوں پر ہی غور کرو!
*الم ،ذالك الكتاب لاريب فيه،هدي للمتقين،الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقنهم ينفقون*
الف لام میم یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، اور نماز کی پابندی کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
غور کرو!
تقوی والوں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں، اول :غیب پر ایمان لانا، کیونکہ جو نظام غیبی پر ایمان نہ رکھتا ہو،وہ قرآن پر ایمان نہیں لا سکتا،اور جو قرآن پر ایمان نہیں لاتا وہ متقی نہیں ہو سکتا۔
دوم :نماز قائم کرنا کیا تم پکے سچے نمازی بن گئے؟ کیا تم ایسے نمازی بن گئے کہ وقت سے پہلے نماز کی تیاری کرنے والوں کی فہرست میں تمہارا نام آنے لگا ؟
سوم : اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تم کو دیا ہے کیا تم اس میں دوسروں کا حق محسوس کرنے والے بن گئے؟
اپنے اندر اتر کر خود کا محاسبہ کرو،میرے آنے کے بعد کیا تمہارے اندر یہ تین صفتیں پیدا ہوئیں یا نہیں؟
اگر ہوئیں تو خدا کا شکر ادا کرو!اور اگر نہیں ہوئیں تو ابھی میں موجود ہوں صرف ایک دو دن کا مہمان ہوں، اس وقت بھی اپنے رب کی طرف دوڑو بھاگو ، اور اپنے روٹھے رب کو آہ و بکا سے مناؤ ! وہ ضرور مانے گا۔
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ایک چھوٹا بچہ جب اپنی کسی ضد پر والدین کے سامنے روتا ہے تو روتا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ ہچکیاں لینے لگتا ہے، پھر والدین بھی اس کی ضد کے سامنے جھک جاتے ہیں اور بچے کی خواہش پوری کرتے ہیں۔
کیا تمہارا رب تمہارے والدین سے زیادہ تم کو چاہنے والا نہیں ہے؟ ہے یقینا ہے، تم ایک بار اسے مناکر دیکھو تو سہی، وہ تو ہر رات آسمان دنیا سے اعلان کرتا ہے، ہے کوئی ہدایت کا طالب؟ اسے ہدایت بخشی جائے گی۔
ہے کوئی مغفرت کا طالب؟
اسے مغفرت کا پروانہ دیا جائے گا، ابھی بھی وقت ہے اپنے رب کی طرف دوڑو !
اگر ہماری موجودگی میں تم بخشش و مغفرت سے محروم رہ گئے تو تم سے بڑا محروم کوئی نہ ہوگا۔
*ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں*
*راہ دکھلائیں کسے راہ رو منزل ہی نہیں*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: