مضامین

متعصّب حکومت اورمظلوم مظاہرین

مفتی صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات

موجودہ ہندوستان کی بدلتی صورتحال کا جائزہ لینے پر یہ بات کُھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ملک روز بروز تنزلّی کی راہ پر گامزن ہے،سارے نظام درہم برہم ہوچکے ہیں،ظلم وتشدّد ایک عام سی بات ہوگئ،اور جمھوریت کاتو پورابیڑاغرق ہوچکاہے،معیشت سے لیکر اُخوّت تک سب کچھ برباد ہوگیا،بے روزگاری عام ہوگئ،آئے دن غلط افواہوں کابازار فروغ پارہا ہے،بِکاؤمیڈیانفرت بھری باتیں پھیلا رہی ہے،کچھ بکےہوئےصحافی حکومت کی مدح سرائ میں لگےہوئے ہیں،جبکہ حکومت کاکوئ بھی کام مدح سرائ کے لائق نہیں دکھائ دے رہاہے،ملک کاصحیح منظرنامہ پیش کرنےوالوں کی آوازوں کودبایا جارہا ہے،سچےاوربے باک صحافیوں کوپابندِ سلاسل کیا جارہاہے،غرض ملک بھر میں حکومت کی بد نیّتی اوربی جی پی آرایس ایس اوراسکے ذیلی تنظیموں کےسازشوں کا پردہ فاش کرنے والوں کونشانہ بنایا جارہاہے،کبھی توایسے لوگوں کوگرفتار ہی کرلیاجاتاہے،اورکبھی خفیہ طورپران پر حملے کرائے جاتے ہیں،کبھی اُنہیں لالچ دے کراپنازرخریدغلام بنالیاجاتاہے،اس ملک میں ایسے خوف وہراس کے درمیان ہم جی رہے ہیں،آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،جب اقتدارپرقابض لوگ ہی آئین کی حفاظت وپاسداری نہیں کریں گے تورعایاکیسےاسکی پاسداری کرےگی؟
ایسالگتا ہے کہ اس ملک کے لوگ آزادی کی لڑائ لڑنے اورقربانی دینے کے باوجود اب تک آزاد نہیں ہوئے،کیونکہ یہاں ڈکٹیٹر شپ چل رہا ہے،موجودہ حکومت اپنی من مانی کرتےہوئے منظّم منصوبے بناکر،آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے،معصوموں کوبلاوجہ گرفتارکیا جارہا ہےاوراصل مجرموں کو سزادینےکے بجائے انکی پشت پناہی کی جارہی ہے،سیاسی مفاد کے لیےخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے،مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی جارہی ہے،جب آئین کےخلاف بننے والے قانون پرآواز اٹھائ جاتی ہے،تواس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے،اسی سلسلے کی ایک کڑی CAA قانون ہے جسکو لیکر پورا ملک سراپا احتجاج بناہوا ہے لیکن حکومت سیاست میں لگی ہوئ ہے،اپنے سیاسی مقصد کو حاصل کرنےکے لیے طرح طرح کے حربے اپنارہی ہے،رعایاکے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے،حکومت کے اب تک کے غیرمنصفانہ رویے کوآپ جان چکے ہیں،پہلی دوسری قسط میں تفصیلات گزرچکی ہیں.
27 جنوری کو احتجاجی مظاہرے کےلیے رشوت دیے جانےکاالزام لگایاجاتا ہے،حالانکہ "احتجاج رعایامیں سے ہر ایک اپنے اپنے طورپر کر رہے ہیں،جسکے لیےکسی کونہ کوئ رقم دے گئ ہے نہ ہی کسی عہدے کی لالچ،”ایسے نفرت بھرے ماحول میں آج کے دن ہی "مرکزی وزیرروی شنکرپرساد نے ملک کےمظاہرین کوٹکڑےٹکڑےگینگ کاحامی بتایا”کتنی افسوسناک بات ہے.
اورادھربی جی پی کی ریلی میں انوراگ ٹھاکرے نے نعرہ لگایا”ملک کےغداروں کو گولی مارو…….”.
ان سب کے حوصلے کوکون بڑھا رہاہے،انہیں بڑھاواکیسے مل رہاہے؟ظاہر سی بات ہے جب کسی کے زہریلے بیان پر کوئ کارروائ نہیں ہوگی تو یہ سلسلہ تیزی بڑھتا ہی چلا جائےگا،اورایساہوبھی رہاہے.
آپ بی جی پی کی عادت جان چکے ہونگے،انکےپاس نفرت پھیلانے،آپس میں ایک دوسرے کولڑانے اورپاکستان،کشمیر کے علاوہ کوئ مدعی بچاہی نہیں،اسلیے اس طرح نفرت کازہر گھول دیتی ہےکہ کام کرنے والاکوئ اور ہواورمقصد انکا پوراہوجائے تاکہ "سانپ بھی مرجائےاورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے”.
لوگوں کو اس طرح الجھا کراُدھر حکومت ایئرانڈیا کوفروخت کرنے کی تیاری میں لگ جاتی ہے،ملک کی بہت سی ملکیت پرائیوٹ ہاتھوں میں جاچکی ہے،اوراب جوکچھ تھوڑی باقی بچی ہے حکومت اسے بھی ختم کرنے کی کےلیےکوشاں ہے،جب سرکارٹیکس لیتی ہےاورملک کی ملکیت میں ہندوستان کاہر شہری برابر کاشریک ہے توآخر ہمیں پوچھنے کاحق نہیں ہےکہ آپ ملک کی ملکیت کو پرائیوٹ ہاتھوں میں کیوں دے رہےہو؟
28 جنوری سے شاہین باغ مظاہرین کوڈرانےکے لیے ہتھیارلے جانے کاسلسلہ شروع ہوا،ایک شخص پستول لیکر وہاں پہنچا،مظاہرین نے اسے وہاں سے بھگایااورپولیس کے حوالے کردیا.
اِدھردہلی کےچناؤکی تشہیر میں لگے بی جی پی کے نیتابھڑکاؤبیان دینے میں لگ گئے اور” پرویش ورما نے کہاکہ بی جی پی حکومت بننے کے بعدمیں اپنے حلقے میں ایک بھی مسجد نہیں رہنے دوں گا”دیکھیے کس طرح مذہب کے نام پر غنڈہ گردی ہورہی ہےاورسیاست کےلیے نفرت کازہر گھولاجارہاہے،اب تک تو انسانوں کونشانہ بنایا جارہا تھا،جب اس سے بات نہیں بن سکی تواب مذہبی مقامات کونشانہ بنایا جارہاہے،لیکن نہ ہی انکے بیانات پرروک لگایا جاتاہےاورنہ ہی انکےخلاف کوئ کارروائ ہوتی ہے.
یاد رکھیے! "ملک کومذہب کے نام پرکبھی بھی تقسیم نہیں کیا جاسکتا”.
29 جنوری کو ملک کی رعایا نے ہندوستان بند کیا جس میں بڑے بڑے علاقے میں دکانیں بند رکھ کر سڑک پر نکل کراحتجاج درج کرایا،جنتر منتر پر کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور دہلی کے وکلاء بھی سڑکوں پر آگئیں، اور اس کالے قانون کے خلاف بڑے شدّومد کے ساتھ احتجاج کاسلسلہ چلتارہا،خواتین نے اس موقع سے یہ پیغام دیا کہ "اگر آپ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے تو ہم آدھا انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے”بہت سی جگہوں پر لوگوں کو پولیس کے تشدد کاسامناکرناپڑا،پولیس نے بہت سی جگہ مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جسکے نتیجے میں متعدد افرادزخمی ہوئے،بنگال کے مرشدآبادمیں 2 لوگوں کی موت ہوئ.
ہندوفوج نے اعلان کیا کہ”جہادی کو 2 فروری کوشاہین باغ سے نکال دیا جائےگا”.جیساکہ انکی عادت رہی ہےاسی کے مطابق بیان دیااورشاہین باغ کےمظاہرین کو جہادی قراردیا،حالانکہ اصل ملک کےوفادار مظاہرین ہی ہیں جنھوں نے حفاظتِ ملک کی خاطر اپنی تمام طاقتیں جھونک دی ہے.
ادھر ملک کے خزانے میں کمی کی وجہ سےسرحدوں پرمحافظ فوجوں کی تنخواہوں پرآفت آگئ،پھر بھی حکومت کے سرپرجوں تک نہیں رینگی کہ ان کوحل کیا جائے.
30 جنوری سےدہلی انتخابات کی تشہیر بڑے زوروشور سے شروع ہوئ،جس میں شاہین باغ موضوع بنا،اوراس کوبنیاد بناکرہندومسلم کرنے کی کوشش کی گئ.
اور بی جی پی کے نیتاؤں کابھڑکاؤ بیان دینے کاسلسلہ بہت پروان چڑھنے لگا”بی جی پی کے سکریٹری ترون چگھ نے شاہین باغ کو شیطان باغ ٹھہرایا”اور اپنے ایک ٹوئٹ میں "غداروں کو گولی مارو….. والے نعرہ کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی طرح غلط نہیں ہے”ان سب سے آپ انکی بد نیتی اورذہنیت کااندازہ لگاسکتے ہو.
یاد رہے! آج کادن مہاتماگاندھی کاشہادت کادن تھا،اورگاندھی جی کےخلاف نظریہ رکھنے والاہندوتوانظریہ کاحامل ایک گوپال نامی دہشت گرد نے جامعہ ملیہ کے گیٹ کے سامنے ریوالور کےساتھ جے شری رام کانعرہ لگاتاہواآیا،اورجامعہ کے شاداب نامی طالب علم کی طرف بڑھا،اور یہ کہہ کر فائرنگ کردی کہ "یہ لوآزادی”حالانکہ شاداب نے اس سے کہا تھاکہ "آؤمل کر بات کریں”شاداب کے ہاتھ میں گولی لگی،اور یہ سارامعاملہ وہاں پر موجوددہلی پولیس کی ایک بڑی تعداد ہاتھ باندھے کھڑی ہوئ دیکھ رہی تھی، جب گوپال دہشت گرد فائرنگ کرکے پیچھے بھاگا،توپولیس نے اسے حراست میں لے لیا،گویاپولیس صرف اسکو بچانے کے لیےہی کھڑی ہو،وہ شاہین باغ پرحملہ کرناچاہتا تھا،جسکا انکشاف اسکے فیس بک اکاؤنٹ سے ہواہے،مسلمانوں کےخلاف تو پوسٹ ڈالتاتھا،لیکن آج صبح اسنے پوسٹ کیاکہ "شاہین باغ کاکھیل ختم”اس واقعہ کے بعدطلبہ نے پولیس ہیڈکواٹر کاگھیراؤکیااوراسکےخلاف مقدمہ درج کرایا،ادھر اس معاملے پرامت شاہ نے بیان دیاکہ”سخت کارروائ ہوگی”اوردہلی پولس اسے نابالغ ثابت کرنے میں جٹ گئ،کیونکہ جب کبھی سنگھی غنڈے جرم کرتے ہیں تویاتوانھیں ذہنی معذورقراردیدیاجاتاہےیاانھیں نابالغ کہہ کر چھوڑدیاجاتاہے.
اس درمیان یوگی کے وزیر رگھو راج نے کہا کہ”غدار وطن کو کتے کی موت ماریں گے، گھر سمیت زندہ دفنادیں گے”آپ خودسوچ سکتے ہیں کہ کیسے نفرت کازہر گھولاجارہاہے،لیکن حکومت تماشادیکھ رہی ہے،انکے خلاف کوئ کارروائ نہیں ہوئ، مطلب یہ ہے کہ اگر آپ بی جی پی آرایس ایس اوراسکی ذیلی تنظیموں سے کسی کے رکن ہیں تو آپ کچھ بھی کیجیے کچھ بھی بولیے حکومت آپ کو کچھ نہیں کہے گی، لیکن اگر آپ اپوزیشن پارٹی سے ہیں توآپ کی حق بات پر بھی پکڑہوگی،یہ کیسی جمھوریت ہے،حالانکہ ملک کی آزادی میں سنگھیوں کاذرہ برابر بھی حصہ نہیں ہے،اور آج وہ اقتدار پر قابض ہوکر داداگیری کر رہے ہیں،انھیں شرم تک محسوس نہیں ہوتی.
31 جنوری کو شاہین باغ راستہ کھلوانے کے لیے دوگروپوں کے درمیان تصادم ہوا،شاہین باغ کے وکیل محمود پراچہ کاکہناہے کہ”کچھ لوگ آرایس ایس اور بی جی پی ملے ہوئے ہیں جو راستہ کھلوانا چاہتے ہیں تاکہ مظاہرین پر تشدد کرسکےاورشرپسند عناصر باآسانی فائرنگ کرسکے”لیکن معاملہ کو قابو میں کرلیاگیا.
ادھر بی جی پی نفرت کی سیاست میں اتنی آگے نکل گئ کہ بی جی پی رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے کیجریوال کو دہشت گرد تک کہہ دیا.
دوسری طرف مظاہرین کاگرفتار کرنے اورانکے خلاف کارروائ کاسلسلہ بدستور جاری تھا،آج ڈاکٹر کفیل کوعلی گڑھ کے کسی معاملے میں ممبئ سے گرفتار کرلیاگیا.
واضح ہوکہ 21جنوری کو کرناٹک ایک بھنینسہ نامی گاؤں میں 300 مکان تھے،جہاں غرباءبستےتھے،جسمیں ہندومسلم دونوں طبقے کے غرباء اورچھوٹی ذات کے لوگ رہتے تھے،جنکےمتعلق پہلےیہ مشہور کیا گیا کہ یہ سب بنگلہ دیشی ہے،اورآج کے دن بلاکسی ثبوت کے انکےگھروں کوتوڑدیا گیا،حالانکہ بتایاجاتاہےکہ انکے پاس ثبوت موجودہیں،بی جی پی آرایس ایس کی یہی سیاست رہی ہے کہ جھوٹ کو اتنابولاجائے کہ سب کی زبان پر وہی آنے لگےاورسچ کی تلاش دشورہوجائے،نفرت وتعصب بڑھتارہے.
جمیعة علمائے ہند نے مظاہرے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کوایک لاکھ روپیے مالی امدادفراہم کی،یہ اقدام قابل ستائش ہے.
1 فروری کو پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں مودی کی ناکامی کوکامیابی بناکر پیش کیا گیا،جبکہ مودی حکومت سے شیئر بازر کادیوالہ نکل گیاسنسکیس 988 پوائنٹ نیچے چلاگیا، اپوزیشن پارٹی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں NPR/CAA احتجاج کے خلاف احتجاج کیا،لیکن مودی حکومت نے CAAقانون پر کہا کہ”ہم غلط نہیں ہے”اورصدرجمھوریہ نے اس موقع پرجھوٹ بولتے ہوئے 370 کےخاتمے کوتاریخی اقدام قراردیا،اوراحتجاج کےنام پرہونے والے تشدد کی تنقید کی،حالانکہ احتجاج کرنے والوں پرحکومت تشددکررہی ہے،جسکو سب دیکھ رہے ہیں،عیاں راچہ بیاں.
اب نفرت کی سیاست نہیں چل سکی تومودی حکومت لالچ پراترآئ اورتیواری نے کہاکہ اگرہم جیتے تودوروپیےکیلوہوگاآٹا.
آج پھر دوپہر ساڑھے چار بجے شاہین باغ میں فائرنگ ہوئ،اس سے کوئ نقصان تو نہیں ہوا،لوگوں نے کپل نامی دہشت گرد کوپکڑکرپولیس کےحوالے کردیا، جو یہ کہتا ہوا جارہاتھا کہ”ہمارے ملک میں اور کسی کی نہیں چلے گی صرف ہندؤوں کی چلے گی”جب ملک میں نفرت کا زہر گھولا جائے گا تو ظاہر سی بات ہے، نتیجہ ایسا ہی ہوگا کہ جن کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے وہ بندوق لیکر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوکر قتل کرنے کےلیے نکلیں گے،دیکھیے!مظاہروں کوختم کرانے کےلیے اب گولی چلانے اورکھلم کھلاغنڈاگردی کرنے پراترآئے، اورمتعددبارفائرنگ ہوئ ،لیکن مظاہرین کی تعداد روزبروزبڑھتی ہی جارہی تھی،ہرخطے اورعلاقے میں ایک نیاشاہین باغ تیار ہورہاتھا،جوسلسلہ بڑھتاگیاحتی کہ یہ تحریک ملک بھرمیں پھیل گئ،اورملک گیرمظاہرےمسلسل چلنے لگے،آج کے دن ہی کلکتہ میں مظاہرہ کرنے والی خاتون کی دل کادورہ پڑنے کی وجہ سےجاں بحق ہوگئ،ادھر دیوبند میں مظاہرہ بڑے جوش وخروش کے ساتھ جاری تھا،جسے ختم کرنے کی انتھک کوشش کی گئ،لیکن کامیابی ہاتھ نہ آئ،کیونکہ آئین پر غلط نظر رکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتےہیں، اورسب نے یہ پیغام دیا کہ آرایس ایس کےایجنڈےکوملک میں ہم کبھی لاگوہونے نہیں دیں گے.
2 جنوری کو بی جی پی کےوزیر روی شنکر نے کہاکہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں،ایک کمیٹی بناکر ہمارے پاس بھیج دو،ہم اس سے بات کریں گے،سپریم کورٹ کے وکیل نےکہابندکمرے میں بات نہیں ہوگی،جوبھی بات ہوگی کھلے عام ہوگی،سپریم کورٹ ان سب قانون کی واپسی کاحلف نامہ دے اسکے بعد ہم کسی طرح کی بات کے لیے تیار ہوں گے،لیکن بات نہیں مانی گئ.
یوگی نے انتخابی ریلی میں زہراُگلاکہ”مظاہرین کےآباؤاجدادنے ملک کوتقسیم کیا”اوراپنےووٹرزسےاپیل کی کہ وہ بی جی پی کوووٹ دیں،کتنی بُری بات ہے ایک بڑےعہدے پربیٹھاہواشخص ہی جب اس طرح کی گِری ہوئ بات کرے گاتواوروں کاکیاہوگا؟
الیکشن کمیشن نے متعدد بارشاہین باغ کادورہ کیااورجائزہ لیا.
ادھر شاہین باغ مظاہرے کے خلاف کچھ شدت پسند عناصر مظاہرہ کرنے لگے،جسمیں انھوں نےنعرے بھی لگائے،اورماحول کوخراب کرنے کی کوشش کی، لیکن موقع پرپولیس پہنچ گئ،اورمعاملہ قابومیں آگیا.
مہاراشٹرا نے این آرسی نافذنہ کرنے کافیصلہ سنایا،اورکہاکہ شہریت ثابت کرنامشکل ہوگا.
ہندوتواانتہاپسندوں کی دھمکی کےباوجود ملک بھرمیں مظاہرے بدستورجوش وخروش کے ساتھ جاری رہیں.
مودی جی نے کہا کہ شاہین باغ محض اتفاق نہیں بلکہ سازش،اسکو یہیں روکناہوگا،جبکہ شاہین باغ میں ملک کی حفاظت اورسالمیت کے لیے لوگ جمع ہوئے ہیں.
حیدرآباد میں CAA کی حمایت میں آرایس ایس نےنکالی ریلی،جسمیں نعرہ بازی ہوئ، دیش کے غداروں کوگولی مارو……درحقیقت اصل غدار وہ لوگ ہیں جوآئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں،ملک کوتباہ کرنےمیں لگے ہوئےہیں،جولوگ ملک کی حفاظت وبقاکےلیے اپنی جان داؤپرلگائےہوئے ہیں وہ بھلاغدارکیسے ہوسکتےہیں؟
آج ہی رات میں 11:30 پر جامعہ نگر میں گیٹ نمبر 5/7 کے درمیان ہوائ فائرنگ ہوئ، جسمیں تین گولی چلی،جسکے بعد طلبہ نے پولیس ہیڈکواٹر کاگھیراؤکیااوربامعلوم کےخلاف ایف آئ آردرج کرائ.
3 فروری کولوک سبھا میں اپوزیشن نے لگایا نعرہ گولی مارنابندکرو،دیش کوتوڑنابند کرو،یادرکھو ! گولی کےزورپرتم آواز نہیں دباسکتے.
بی جی پی کےسابق وزیر اورپارلیمنٹ کے رکن نے آج بنگلورو میں مہاتماگاندھی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "جس آزادی کی جدوجہد کی قیادت کی وہ حقیقی تحریک نہیں تھی یہ آزادی کاڈرامہ تھاانگریز کی رضامندی سے نکالاگیاتھا،یہ سچ نہیں ہے کہ ستیہ گرہ کی وجہ سے انگریزوں نے ملک چھوڑا”تاریخ کے متعلق شاید کچھ جانتےکوئ کتاب بھی پڑھ لیتے تواس طرح تبصرہ نہ کرتے، افسوس یہ ہے کہ آج کل اقتدار پر ان پڑھ لوگ قابض ہیں،جو پڑھےلکھے ہیں وہ بھی اندھے بن چکے ہیں، جو جی میں آتا ہے بولتے رہتے ہیں.
موتیہاری میں بھی کچھ شدت پسند لوگ گھنس آئے اورمظاہرین پرپتھراؤکیا،جس سے ایک عورت بھی زخمی ہوئ، لیکن جلد ہی پولیس وہاں پہنچ گئ،اورمعاملے کوقابومیں کر لیا.
مودی جی نے کہا کہ شاہین باغ اورجامعہ کاشہریت قانون کےخلاف احتجاج ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کردے گا،حالانکہ در اصل ملک کو آئین کے خلاف چلاناملک کوٹکڑوں میں تقسیم کردےگا.
4 فروری کوچارماہ کامحمد نامی بچہ جواپنی ماں کے ساتھ مظاہرے میں برابر شریک ہوتا تھاآج ٹھنڈی کی وجہ سےاللہ کوپیاراہوگیا.
ابھی تک دہشت گردی کاسلسلہ رُکانہیں تھاآج پھر جامعہ کے گیٹ نمبر 4/5 سے آکر کچھ غنڈوں نے ماحول خراب کرکے مظاہرے کوبدنام کرنے کی سازش رچی، اندر گھنسنے کی بھی کوشش کی اورنعرےلگائے،دیش کے غداروں کوگولی مارو….. پولیس وقت پر پہنچ گئ،اورسمجاکرانھیں روکا.
اسکے بعد بھی کچھ آرایس ایس کے غنڈے مظاہرین کوہٹانے پہنچے تھے،طلبہ نے انھیں واپس بھگایا.
امت شاہ نے آج بڑابیان دیا اورکہا کہ”ملک بھر میں این آرسی نافذکرنے پرابھی کوئ فیصلہ نہیں ہوا”موجودہ سرکار اپنی زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے،جھوٹ بولنا،جملہ بازی کرنا،جھوٹے وعدےکرناتوانکےلیےعام سی بات ہےاسلیے انکی کوئ قابل اعتماد نہیں ہے،ابھی نہیں کہا یہ نہیں کہا کہ کبھی نہیں ہوگا.
بی جی پی طرف سے اب تو سوشل میڈیا پر شاہین باغ کے خلاف ویڈیو بناکر اپلوڈکیاگیا،لیکن 80 فیصد لوگوں نےاسے ناپسندکیا.
ادھر بی جی پی نے شاہین باغ احتجاج کےخلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، اورفوری سماعت کی مانگ کی.
5 فروری کوبلیرگنج میں احتجاج کر رہی خواتین پر پولیس نے دیر رات کارروائ کی،تشدد بھی کیا، آنسوں گیس چھوڑے،اورلاٹھی چارج بھی کیا،جس سے ایک خاتوں شدیدزخمی ہوئ،اور18 لوگوں کوگرفتارکیاگیا،جسمیں خواتین بھی شامل ہیں،مولناطاہر مدنی اور سابق چیئرمین عارف احمد بھی شامل ہیں،خواتین احتجاج پربضد رہیں،چناچہ صبح چار بجے پارک کوپولیس نے واٹر کین سےبھردیا،جس سے مظاہرین منتشر ہوگئیں.
گوپال نامی فائرنگ کرنے والےدہشت گرد پرالزام تھا کہ وہ عامآدمی پارٹی کے رکن کابیٹاہے،لیکن تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ وہ بھوجن سماج پارٹی میں اسکے والد پہلے تھے،اب نہیں ہے.
بابری مسجد کے لیے 5 ایکڑزمین ایودیہاسے 18 کلومیٹر دورزمین دی گئ،حالانکہ اسلامی نقطئہ نظر سے جو زمین ایک مرتبہ مسجد بن گئ وہ قیامت تک مسجد ہینرہے گی، اسےکوئ بدل نہیں سکتا.
ملک بھر کے حالات خراب ہیں اوراس سے پہلے کشمیر میں کھلم کھلاظلم وتشدد ہوچکاہے،جسکااثر اب بھی ہے،جسکی وجہ سے زائرہ وسیم نے ٹوئٹ میں اپنے درد کااظہار کیااورکہاکہ”کشمیر لگاتارپریشان ہورہاہے،اورامیدوجھلاہٹ کےدرمیان جھول رہاہے،بڑھتی تفریق والی اس جگہ پرامن وامان کاجھوٹاپروپیگینڈہ کیاجارہاہے،کشمیری لگاتارایک ایسی دنیامیں رہنے اورپریشان ہونے پر مجبور ہیں جہاں ہماری آزادی پرپابندیاں لگانا بہت آسان ہوکر رہ گیاہے”.
اورموجودہ حکومت نے بری بحری اورہوائ تینوں فوجوں کواپنے تابع کرلیا ہے،حالانکہ ان پرصدرجمھوریہ کااختیار چلتاہے،تاریخ میں پہلی بار ایساہورہاہے،نیز ان فوجوں کوآج تک کبھی بھی سیاست کےلیےاستعمال نہیں کیاگیا،لیکن آج انکاسیاست کےلیے استعمال کیاجارہاہے،اب موجودہ حکومت من مانی طورپر فوج کوجہاں چاہے استعمال کرسکتی ہے.
ان تمام تفصیلات سے پتہ چل گیا کہ ہندوتوادہشت گردوں کی تعداد روبروزبڑھتی جارہی ہے،اورحکومت مسلسل متعصّبانہ رویّہ اپنائے ہوئی ہے،جس سے حکومت کی نیّت مشکوک نظر آرہی ہے،دوسری طرف آرایس ایس اوربی جی پی کے بڑے بڑے لیڈران بھڑکاؤ بیان دے رہےہیں، نسل نَو کو تشددپرابھار رہےہیں،انکی زبان پر لگام نہیں لگایا جارہا ہے،نہ ہی ان پر کارروائ ہوتی ہے،ایسے نازک حالات میں آئین کےخلاف کالے قانون کی واپسی کامطالبہ کرنےوالوں کودہشت گرد اورملک مخالف سے کم نہیں سمجھا جارہاہے،اورپسِ پردہ حکومت اپنے تمام ناپاک منصوبوں کوپوراکرنےمیں لگی ہوئ ہے،لہٰذا ملک کو بھی خطرہ لاحق ہے،آئین بھی ختم ہونےکےدرپےہے،اورجمھوریت بھی موت کےدہانے پر ہے،اسلیے ملک کی حفاظت کےلیے ہمیں متحد ہوکر آگے آناہوگا،اورپوری طاقت وقوت سےکالے قوانین کےخلاف ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی، اورملک کو بربادکرنے والوں کےچنگل سے چھڑاناہوگا،اپنے بچوں کےمستقبل کوبچاناہوگا،اسلیےہم اس لڑائ کوجاری رکھیں گے،سنگھی غنڈوں کی دھمکیوں سے نہیں خوف کھائیں گے،کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ کوئ کتنا بھی چاہے ہمارے جذبات کو چھین نہیں سکتا،ہماری زندگی کوختم نہیں کرسکتاجب تک کہ اللہ نہ چاہے.
آؤہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم ہمت وجرأت کے ساتھ ثابت قدمی سے اس احتجاج کو جاری رکھیں گے،جب تک کہ کالے قوانین واپس نہ ہوجائے،ملک محفوظ نہ ہوجائے،ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اسکومذہب کے نام پر تقسیم نہ ہونے دیں،بلکہ ہم کو چاہیے کہ ہم ہر ایک کوجملہ باز سرکارکی حقیقت کھول کھول کر سمجھائیں،اورہرایک کوملک کےآئین سے باورکرائیں،تاکہ حکومت رعایا سےکھلواڑ نہ کرسکے،اوررعایاچین وسکون کےساتھ جی سکے،اسلیےہم منظّم طریقے سے اس تحریک کولیکر چلیں، ملک کی حفاظت میں اپنی پوری طاقت لگادیں،ہمیں یقین کامل ہے کہ ہم کامیاب ہوکر ہی رہیں گے،ان شاءاللہ .
کسی شاعر نے کیاہی خوب کہاہے؛
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
وقت آنے پہ بتادیں گے تجھے اےآسماں
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
جب جب ظلمی ظلم کرے گاستّہ کے ہتھیاروں سے
چپہ چپہ گونج اٹھے گا انقلاب کے نعروں سے
انقلاب زندآباد.

موبائل نمبر: 8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: