مضامین

مثل تیرا ہم کہیں سےآہ لا سکتے نہیں ؟ (حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری قدس سرہ)

مفتی مجاہد الاسلام قاسمی خلیفہ مجاز شیخ طریقت حضرت مولانا قمرالزماں صاحب الہ آبادی ، استاذ حدیث دارالعلوم جامعہ تعلیم الاسلام آنند گجرات

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم :
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے خالق ازل نے اس عالمی فانی کے مکینوں کے لیے فنا کو مقدر کیا ہے "کل نفسن ذائقۃ الموت” جس سے کوئی بشر خالی نہیں ہر ایک کی اجل متعین ہے جس میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر ہر ایک کو سوئے آخرت روانہ ہونا ہے۔

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ _ کل ہماری باری ہے

لیکن کچھ مرنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کی رحلت پر صرف رشتہ دار تعلق والے ہی مغموم نہیں ہوتے بلکہ اطراف و اکناف اور سارا عالم ماتم کدہ بن جاتا ہے۔

ایسے ہی جانے والوں میں محدث عظیم حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری تھے۔

احقر نے 2003ء میں دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت طالب علم داخل ہوا اور مجھے اکابر کے کے سچے جانشین حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری سے پڑھنے اور ان کی کیمیائ نظری سے حسب توفیق اکتساب فیض کی سعادت ملی ہم طلبہ آپ کے درس میں جس ذوق و شوق سے جاتے تھے اس کی مثال اب شاید وباید ہی ملے گی۔

آپ کے درس کی مقبولیت کا راز جہاں ایک طرف علم و فن میں غایت درجہ کمال پنہاں ہے تو دوسری طرف آپ کے حسن بیان اور دلربا طریقہ تدریس کی وجہ سے طالبان نہایت آسانی سے ہضم کر لیتے،

اکثر طلبہ آپ کے درس میں ترمذی شریف کی کاپی لکھتے تھے آپ کے درس میں ذوق و شوق سے شریک ہوتے طلبہ آپ کے شمائل و خصائل آپ کی تدریسی مہارت بالغ نظری اور بلند خیالی کا عقیدت کے ساتھ تذکرہ کیا کرتے تھے، تقریبانصف صدی کا طویل عرصہ آپ کا مادر علمی کی چہاردیواری میں گزرا،اسی کے ساتھ بحثیت صدر مدرس بھی آپ کی بڑی خدمات ہیں اس لئے دارالعلوم کے گوشے گوشے میں ان کے فکر و عمل کے لازوال نقوش نمایاں ہیں، انسان جس درجے دوسروں کے لئے نفع بخش ہوتا ہے اسی درجہ وہ مخلوق میں محبوب ہوتا ہے۔

مفتی صاحب کی عالمی درجہ مقبولیت و محبوبیت آپ کی وفات کی خبر پہنچتے ہی دیکھنے میں آئی واٹس ایپ پر پر غم کے اظہار کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا محسوس ہوا کہ آپ کی وفات کی خبر سے سارا عالم سوگوار ہوگیا اور سب کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔

حضرت کئی دنوں سے سے بیمار چل رہے تھے اور بمبئی جوگیشوری میں زیر علاج تھے

سہ شنبہ صبح 25 رمضان المبارک 1441ھ کو ہم سب کو سوگوار کر کے داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اور آپ کی تدفین اوشوارہ ممبئ کے قبرستان میں عمل میں آئی۔

آپ کی وفات سے ہم نے وہ شخصیت کھودی ہے جو علم و فضل کا روشن مینار اور ورع و تقوی کی مثال اور نمونہ تھے موت جس کے خسارہ کو تادیر محسوس کیا جاتا رہے گا، جس کا بدل ملنا بظاہر عنقاء محسوس ہوتا ہے۔

آپ کا ایک خاص وصف دینی مسائل میں آپ کی رائے فولاد کی طرح ٹھوس ہوتی ہے اور اس پر آپ پہاڑ کی طرح جم جاتے تھے۔

آپ نے درسی و غیر درسی بہت ساری کتابیں تصنیف کی ہیں

جس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شہرہ آفاق کتاب حجة اللہ البالغہ کی شرح رحمۃ اللہ واسعۃ آپ کی اہم دینی خدمت ہے

آپ کی وفات سے ذمہ داران دارالعلوم نے ایک باوقار روشن دماغ محدث منتظم مشیر کھو دیا

جو مضبوط رائے قائم کرنے بروقت کسی الجھن کا حل ڈھونڈلینے میں بصیرت افروز قدرت رکھتا تھا

بس اب اخیر میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت الاستاذ کے مساعئ جمیلہ کو قبول فرمائے آپ کے درجات کو بلند فرمائے

آپ کے پسماندگان شاگردوں اور اہل تعلق کو صبر جمیل عطا فرمائے اور دارالعلوم دیوبند کو نعم البدل عطا فرمائے

وماذالک علی اللہ بعزیز

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: