مضامین

مجاہدملت حضرت مولاناامیدعلیؒ صاحب نیموں

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

نصف صدی سے علاقہ ایک ایسی نیک سیرت ہستی سے فیض حاصل کررہاہے اورآئندہ امیدلگائے بیٹھاہے جنکودنیاحضرت مولاناامیدعلی کے اسم گرامی سے یادکرتی ہے،بلندوبالاقد،خوش روووجیہ چہرہ،دہرابدن،کھلتاہواگندمی رنگ،چہرے پرخوبصورت داڑھی،آنکھیں روشن جن سے ذہانت وبلندنگاہی عیاں،کشادہ پیشانی،سرسے پاؤں تک کھدرمیں ملبوس،نفاست ولطافت کی زندہ تصویرہیں،آپکی آنکھوں نے1915ء میں پہلی باربہاردنیاکانظارہ کیا،اوائل میں آپنے مدرسہ شمسیہ سے شرف تلمذحاصل کیابعدمیں ازھرہنددارالعلوم دیوبندسے تعلیم وتزکیہ نفس کی تکمیل کی،فراغت کے بعدکئی سال تک مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ کی خدمت فرماتے رہے،اسکی شہرت میں آپکی خدمات کونمایاں دخل ہے۔
آپ کی بیتاب طبیعت شروع ہی سے اس بات کے لئے مضطرب تھی کہ اپنے گاؤں کے اطراف میں کوئی معیاری درسگاہ قائم ہواورتشنگان علوم نبوی اس سے سیرابی حاصل کریں،اس خواب کوعملی جامہ پہنانے کے لئے خردسانکھی کی کھلی فضامیں مدرسہ اسلامیہ کی بنیادڈالی اورخودمدرس ومنتظم کی حیثیت سے عرصہ تک بحال رہے،کئی درسگاہیں تعمیرکروائی،چہارجانب احاطہ بنوایااورتعلیم وتربیت کاوہ نمونہ پیش کیاکہ لوگ دنگ رہ گئے،طلبہ کی کشش کایہ عالم تھاکہ دمکاتک کے پروانہ نبوی اس شمع کے گردجمع ہوگئے تھے، اس مدرسے میں ایک عرصہ تک آپکاطوطی بولتارہا،بعدمیں مدرسہ چشمک اورنزاع باہمی کاشکارہوگیاجس سے مجبورہوکرآپ مدرسی سے سبکدوش ہوگئے۔
بسنترائے کی عیدگاہ علاقے کی سب سے بڑی عیدگاہ ہے 1979ء میں اسکی احاطہ بندی کاپروگرام بنایاتوفسادپسندعناصرنے اسمیں رخنہ اندازی کی بھرپورکوشش کی،مقدمہ دائرکیا،پولس افسران کی باربارآمدہوئی،حضرت مولانانے ہرموقع پراپنی سیاسی بصیرت اورعلمی جوہرسے مسلمانوں کو مستفیدفرمایا،اعلی افسران سے رودرروگفتگوکی واضح الفاظ میں مصالح ومضرات پرروشنی ڈالی اورافسروں کوشرارت کرنے سے بازرکھا،آپکی سرپرستی میں کثیرتعداد مسلمان جمع ہوئے اورصرف ایک ہفتہ میں تقریباڈیڑھ بیگھہ طویل وعریض پختہ احاطہ تعمیرکروایا،اس وقت آپکازورخطابت،جذبہ انگریزترغیب اورخلوص ولگن دیکھنے کے قابل تھا۔
پرسا اسکول اورملت کالج کے تعاون اورمشوروں میں بھی آپ نے کلیدی کردار ادا کیاہے اورہمیشہ ان دونوں اداروں کے سرگرم ومتحرک رکن وممبررہے ہیں۔اعلی کمیٹی کی تحریک میں آپکاکمال ثریاسے باتیں کرتانظرآتاہے،ہرجگہ بیدارمغزی اور حاضردماغی کھل کرسامنے آتی ہے،بڑے بڑے صاحب فضل وکمال،کہنہ مشق ومرد میداں کی جھرمٹ میں کمیٹی کی صدارت کے لئے آپکاانتخاب ہوتا ہے،آپ اعلی کمیٹی کی ہرمجلس کے امیر اورکرسی صدارت پرجلوہ افروزنظرآتے ہیں،اتنی ہمہ گیرکمیٹی کاصدرہوناآپکی انتظامی صلاحیت کی شہادت وسندہے۔1983 میں استاذالاساتذہ حضرات مولانا عبدالمجید صاحب گورگاواں رحمتہ اللہ علیہ کی یادمیں مجیک یہ مسافرخانہ گڈاکی تعمیرکافیصلہ ہواتوتمام اہل دانش کی متجس نگاہیں آپ ہی کی طرف اٹھی،انکارواصرارکے باوجودآپکوصدرمنتخب کیا،آپ نے اتنی تیزرفتاری اورسرعت سے مالی فراہمی کاکام انجام دیاکی مختصرسے عرصے مییں وسط شہرمیں ڈیڑھ لاکھ روپئے کی زمین خریدی اوروسیع وعریض تین منزلہ عمارت تعمیرکرنے کے لئے بنیادڈال دی اورابھی جلد تکمیل کی فکرفرمارہے ہیں۔
ہمہ جہت خدمات کے پیش نظرآپکویہ شعرگنگنانے کابجاطورپرحق حاصل ہے ؎
گلوں پہ شبنم، فضا میں جگنو، فلک پہ خورشید و ماہ و انجم
کہاں نہیں ہیں ہمارے آنسو کسی کا دامن بچا نہیں ہے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: