اہم خبریں

مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کا قیام اور جاری خدمات پر ایک نظر اور تعاون کی اپیل

jahazimediaمحترم مولانا مفتی خواجہ شریف مظاہری ترجمان مجلس ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی نے مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کا تعارف، خدمات اور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے عامۃ المسلمین کیلئے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعریفیں الله سبحانہ وتعالی کیلئے سزاوار ہیں جس نے دنیائے انسانیت کی ہدایت کے لئے حضرت محمد ﷺ کو قیامت تک کے لئے آخری نبی بنا کر بھیجا، قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی روشنی میں تمام علماء ِ امت کا متّفقہ فیصلہ ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں، جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے، کذاب ہے اور کافر ہے، مسیلمہ کذاب کو دورِ صدّیقی میں کیفرِکردار تک پہنچایا گیا، جب جب بھی نبوّت کے جھوٹے دعوے دار پیدا ہوئے، امت کے جیالے ان کے کفرکو واضح کر کے امتِ مسلمہ کو آگاہ کرتے رہے، اور ان کو جہنم رسید کرتے رہے،
گذشتہ صدی کا مکار اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی مختلف دعوے کیا، اور ا سکے متبعین نے اسلام کا لیبل لگاکر عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے جارہے ہیں، علماء حق نے ہر علاقے میں اس کے باطل عقائد ونظریات اور اس کی چال بازیوں سے امت کو آگاہ کرکے کفریہ عقائد سے بچانے کی کوشش و فکر کرتے ۔
کاماریڈی میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے، سوءِ قسمت آبائی قادیانی جو برسوں سے آباد تھے،۱۹۹۹؁ء میں کاماریڈی کے اطراف و اکناف میں اپنی ریشہ دوانیاں شروع کیں، دیہات کے بھولے بھالے مسلمان اس فتنہ کی سنگینی سے غافل رہے، قادیانیت اپنی ناپاک چال بازیوں سے مسلمانوں کو اپنی چنگل میں لیتی رہی، اور دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی قادیانیوں کی پشت پناہی سے ۲۴ دیہات قادیانیوں سے متاثر ہوچکے تھے۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے حالات پرکرم فرمایا، پھر ملت کا درد اور امت کی تڑپ فکر رکھنے والے چند احباب نے حضرت مولانا قاری عثمان صاحب دامت برکاتہم ناظم اعلیٰ کل ہندمجلس تحفظ ختم نبوت و استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند کو حالات سے مکمل واقف کروایا، ۱۲ ربیع الاول/۱۴۲۱؁ھ ۵/جون)۲۰۰۰؁ء شبِ جمعہ مجاہد ملت حضرت مولانا ابرارالحسن صاحب رحمانی
نے کاماریڈی کے نمائندہ شخصیات و نوجوانوں کے ہمراہ مکمل مجاہدانہ قیادت میں باضابطہ کام کا آغاز کیا، حضرت مجاہدِ ملت کی کاماریڈی بار بارتشریف آوری اور ہر چھوٹے بڑے دیہات کے دورے قادنیوں اور انکے ہم نواؤں سے بار بار گفت و شنید نے کفر کی جڑوں کو کاٹ دیا، ایک ایک کرکے قادیانیت سے متاثرہ ۲۴/ دیہات (جہاں قادیانی پہونچ کر اپنی ناپاک چال بازیوں سے بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے چنگل میں پھنسا چکے تھے)
تائب ہوکر حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے،
الحمد الله اسوقت ۸۵/سے زائد مکاتب قائم ہیں، جہاں ۱۱۳۱ سے زائد طلباء وطالبات کو ۶۸/سے زائد معلمین کرام علم دین اورعقائدصحیحہ، محبت نبی سے آراستہ کرر ہے ہیں۔
قادیانیت، شکیلیت و تمام باطل مذاہب کی ریشہ دانیوں سے آگاہ کرنے اور امت مسلمہ کو اپنے فرضِ منصبی کی یاد دہانی کے لئے عشقِ نبیﷺ سے سرشار ہوکر ہر سال جلسہائے ختمِ نبوت کا انعقاد عمل میں لایا جا تا ہے، مجلس تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل اینڈ چیارٹیبل ٹرسٹ کاماریڈی کے تحت اذان نماز تعلیم و تربیت اور خدمت خلق فلاحی ورفاہی کام مخیر احباب کے مخلصانہ تعاون سے بحسنِ خوبی انجام پارہے ہیں،
جن میں قابل ذکر یہ ہیں ۔
(۱) مکاتب کا قیام (۲) ائمه معلمین کا انتظام (۳) معلمین کیلئے رہائش گاہ کی تعمیر (۳) معلمین کیلئے سائیکل کا نظم (۵) مساجد کی تعمیر (۹) ڈولوں کا انتظام (2) غیرآباد مساجد کی آبادکاری (۸) پانی کا نظم بور کی تنصیب (۹) بیواؤں، یتیموں کی امداد (۱۰) غریب بچوں کی شادیوں میں تعاون (١١) یاروں کے علاج کیلئے مالی امداد (١٢) رمضان المبارک میں راشن پاک، اور عید پاک کی تقسیم (۱۳) دیہاتوں میں افطاری کا نظم (۱۴) عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے گوشت کی تقسیم۔
الله رب العزت سے دعاء ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کے تحت ہونے والے تمام کاموں کو الله شرف قبولیت سے نوازے، اور مخلصین و معاونین کو دنیا و آخرت میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے، اور ہم تمام خدام و کارکنان کو اخلاص و استقلال کیساتھ خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، روزہ قیامت حضور کی شفاعت نصیب فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ۔
اہل خیر حضرات سے دردمندانہ گذارش ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کا بھرپور تعاون فرمائیں۔
تفصیلات کیلئے الحاج سید عظمت علی سکریٹری مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی 9618156786
الحاج محمد عبدالواجد علی خازن مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی 9866505757
MAJLISE-TAHAFFUZE-KHATME NUBUWWAT EDUCATIONAL&CHARITABLE TRUST KAMAREDDY (T.S.) INDIA
A/C No: 198910100006029 (Andhra Bank) Br: New Town Kamareddy

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: