مضامین

مجلس عاملہ کی مجلس قسط نمبر 15

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

25/ نومبر1984ء اتوار کے دن بعد نماز مغرب عاملہ کی مجلس منعقد ہوئی۔ ابتدائی کارروائی کے بعد مجلس بہت مختصر رہی، کیوں کہ ارکان کی اکثریتی تعداد موجود نہیں تھی، اس لیے دعا پر مجلس برخاست کردی گئی۔
مختصر رپورٹ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ بہار1985
سنتھال پرگنہ غربت و جہالت ارو وسائل کی کمی کے سبب حکومت بہار کی طرف سے پسماندہ علاقہ قرار دیا گیا ہے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف قسم کے پلان چلائے جارہے ہیں مگر عوام میں بیداری اور کارکنوں میں ایمانداری کی کمی کے باعث خاطر خواہ فائدے نہیں ہورہے ہیں۔
(۱) دینی تعلیم کے لئے مدارس و مکاتب کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ ان میں اکثر و بیشتر ملحق ہیں۔ حالانکہ ہزاروں گاؤں میں مسلم آبادی ہے ان پریشانیوں کے باوجود چند مدارس آزاد و اسلامیہ کی شکل میں کام کررہے ہیں۔ جیسے،(۱) مدرسہ اسلامیہ کھٹنئی وایہ پنجوارہ گڈا۔(۲)مدرسہ اسلامیہ رحمانہ جہاز قطعہ(۳) مدرسہ عربیہ خورد سانکھی(۴) مدرسہ اسلامیہ سین پور(۵) مدرسہ اسلامیہ تلجھاری (۶) مدرسہ اسلامیہ مورنے دیوگھر (۷) مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ دودھائی دمکا (۸) مدرسہ شمس الہدیٰ دلال پور صاحب گنج (۰۱)مدرسہ بدرالہدیٰ ہیرن پور پاکوڑ۔(۱۱) مدرسہ نظامیہ دارالقرآن دگھی۔
(۲) سنتھال پرگنہ کی سطح پر تعلیمی بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے جس کے ذریعہ پروگرام کے ماتحت تحریک چلاکر تعلیم کے پرچار کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہرمکتب و مدرسہ میں دینی تعلیمی بورڈ کا نصاب جاری کیے جانے کی ترغیب، اسکولوں میں دینی تعلیم سے لگاؤ پیدا کرکے دینی ماحول تیار کرنے کی کوشش نیز ہرگاؤں میں مخلص ہمدرد کے ذریعہ صباحی یا شبینہ مکتب چلانے کیلئے نظم وغیرہ زیر غور ہے۔
(۳) صحیح مقاصد کی تکمیل کے لیے تعلیمی بورڈ میں متفرق اداروں سے مختلف مکتبہ فکر کے رکن منتخب کیے گئے ہیں۔ جمعیتہ علماء کے عہدیداروں اور مدرسہ اسلامیہ کمیٹی کے ذمہ دار و اراکین دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت کے ساتھ دنیاوی علوم و فنون کی طرف بھی متوجہ کیا کرتے ہیں۔
(۴) اصلاح معاشرہ کے لئے متفرق مضامین، پمفلٹ، کتابچے، چارٹ وغیرہ کے ذریعے خدمات انجام دئے جاتے ہیں۔دور دور دیہاتوں کا باضابطہ دورہ کرکے لوگوں کو چھوڑا جاتا ہے۔
(۵) سنتھال پرگنہ کی سطح پر شرعی پنچایت قائم ہے۔افہام و تفہیم کے ذریعہ فریقین کے درمیان صلح و مصالحت کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم آٹھ سالوں کے درمیان صرف تین مقدمات دائر ہوئے اور فیصل ہوئے۔لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے۔چونکہ قانونی طور پر اختیار حاصل نہیں ہے اسی واسطے عوام بلکہ خواص میں بھی اہمیت و وقعت نہیں ہے۔غربت کے باوجود جہالت کی وجہ سے مقدمات میں بڑی دلچسپی معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے تاکہ اپنی اپنی کمائی کا صحیح استعمال کیا جاسکے۔مسلم عوام کی تعداد کم ہونے کے باوجود مقدمہ بازی میں نمبر بہت زیادہ آگے ہے۔ اگر حکومت شرعی پنچایت کو تسلیم کرلے تو بڑی اہم خدمات انجام دی جاسکتی ہے۔
تھانہ پاکوڑ صاحب گنج میں مسلم پنچایت کے ذریعہ کافی تعداد میں مسلم مسائل و مقدمات حل ہوتے رہے ہیں۔ جمعیتہ علماء کی نگرانی میں یہ پنچایت کام کررہے ہیں۔
(۶) فسادات اور قدرتی آفات میں امداد و ریلیف کے سلسلہ میں کمیٹی و مرکزی جمعیتہ کی ہدایت پر امداد دی جاتی ہے۔ علیحدہ سے کوئی نظم نہیں ہے۔
(۷)عبادت گاہوں، موقوفہ جائیداداور قبرستانوں کی حفاظت کے لئے کوئی خاص قدم نہیں ا ٹھایا گیا ہے۔ البتہ جب کبھی کہیں ضرورت پیش آئی تو ان کی رہنمائی و معاونت کردی گئی۔ مقامی طور سے لوگ اپنے مسائل کو حل کرتے رہے ہیں۔البتہ اس سلسلے میں پورے ضلع میں سروے کرکے خاکہ تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔
(۸) اقلیتوں کے قانونی اور آئینی تحفظ کے لیے1987؁ کی کانفرنس دمکا کی تجویز کے مطابق بورڈ کی تشکیل کی گئی مگر عملی اقدام نہیں ہوسکا۔
(۹)قومی یکجہتی اور امن عامہ کے قیام کے لئے موقعہ بموقعہ کانفرنس، جلسہ اور اجتماعات میں وطنی بھائیوں اور افسران وغیرہ کو بھی مدعو کیاجاتا ہے اور اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔
(10)مسلم فنڈ کی شاخوں کی تعداد16 / ہے کہیں کہیں 20-22 سالوں سے قائم ہے، مگر کارکنان کی کمی، غربت و افلاس بلکہ لوگوں کی کم توجہی سے عمدہ پیمانہ پر کام نہیں ہو پارہے ہیں مگر چند شاخوں میں تشفی بخش طور پر ہے۔ مزید توسیع اور عمدہ کارکردگی کے لیے کوشش جاری ہے۔ مناسب فنڈ ہونے پر ٹکنیکل فنڈ وغیرہ کے قیام کا منصوبہ ہے، ان شاء اللہ۔
تعلیمی وملی کانفرنس کے لیے جائزہ میٹنگ
14/ فروری 1986ء جمعہ کی شام کو مدرسہ روپنی میں تعلیمی و ملی کانفرنس کے سلسلہ میں ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میں اراکین عاملہ و منتظمہ کے علاوہ قوم وملت کے بہی خواہ حضرات شریک ہوئے۔ ابتدائی کارروائی کے بعد مالیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ مولانا محمد عرفان مظاہری جہاز قطعہ ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ قابل مبارک باد ہیں، جنھوں نے محمد نجم الہدیٰ کھٹنوی کے ساتھ بذریعہ سائکل سب ڈویژن دیوگھر، دمکااور پاکوڑ کا دورہ کیا اور مالیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی۔ علاقائی ہمدرد حضرات نے بھی محنت سے کام کیا ہے اور مزید کام کا وعدہ کیا ہے۔ مقامی حضرات بھی سرگرمی سے محنت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سبھوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
کاموں میں سہولت کے لیے چند کمیٹیاں بنائی گئیں، جن میں (۱) پنڈال، اسٹیج کمیٹی۔ (۲) روشنی، شامیانہ، لاوڈسپیکر کمیٹی۔ (۳) پانی کا نظم کمیٹی۔ (۴) کھانے پینے کا انتظام کمیٹی۔ (۵) مہمانوں کے استقبال اور دیکھ بھال کے لیے استقبالیہ کمیٹی۔ (۶) نگراں کمیٹی۔
اس میٹنگ میں درج ذیل اہم فیصلے لیے گئے:
(۱) کھانے پینے کی سہولت کے لیے ٹکٹ طعام چھپوالیے جائیں۔
(۲) مختصر تاریخ جمعیت اور کارگذاری کی جانکاری کے لیے خطبہ استقبالیہ دو ہزار کی تعداد میں چھپوائے جائیں اور اس میں مختصر طو رپر ہمدردوں کی فہرست بھی شائع کی جائے۔
(۳) مالیات کی فراہمی کے لیے کانفرنس کے نام سے رسید چھپوائی جائے۔
(۴) ہمدردوں کی طرف سے ایک اشتہار قبل ہی پرچار اور جانکاری کی غرض سے شائع کیا گیا ہے۔ بروقت اردو اور ہندی میں اشتہار چھپوالیا جائے۔
(۵) ضرورت کے مطابق بینر، بیج (بلا) وغیرہ تیار کرائے جائیں۔
(۶) کانفرنس کے بعد جلد ہی آمدو خرچ کا حساب بتادیا جائے۔
(۷) اگر ضرورت ہو تو قریب وقت میں ضروری میٹنگ طلب کرکے مشورہ کرلیا جائے۔
(۸) محترم مولانا محمد عرفان مظاہری جہاز قطعہ ناظم اعلیٰ سے گذارش ہے کہ خاص طور پر وقت لگاکر کانفرنس کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔
10/ بجے رات میں دعا پر مجلس ختم کی گئی۔
تعلیمی و ملی کانفرنس کا انعقاد
مورخہ13، و14/ اپریل 1986ء بروز اتوار، سوموار بمقام روپنی (کھروا بلتھر) تھانہ موہن پور ضلع دیو گھر تعلیمی و ملی کانفرنس سنتھال پرگنہ کا انعقاد ہوا۔ مقامی و علاقائی علمائے کرام کے علاوہ پورے سنتھال شمال پرگنہ کے نمائندہ حضرات شریک ہوئے۔ تلاوت و نعت کے بعد مولانا محمد نور الہدیٰ قاسمی کھٹنوی، مولانا محمد سلیمان مظاہری مرکٹہ نانی ڈیہہ، مولانا محمد بدر الدین قاسمی نواڈیہہ سرسرا، مولانا محمد ادریس مظاہری سین پور، مولانا حافظ محمد اسلام امام جامع مسجد دیوگھر اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ دوسرے دن حضرت فدائے ملت ؒ کا خصوصی خطاب تھا، لیکن ٹرین پانچ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ وقت کی تنگی کے باوجود بعد نماز مغرب نکاح خوانی کے بعد حضرت کا مختصر مگر جامع خطاب ہوا۔
ایجنڈوں پر غورو خوض کے بعد درج ذیل تجاویز منظور ہوئیں:
(۱) چوں کہ ضلع سنتھال پرگنہ کی تقسیم چار ضلعوں: دیوگھر، دمکا، صاحب گنج،گڈا کے نام سے ہوچکی ہے۔ سنتھال پرگنہ کی حیثیت کمشنری کی ہوگئی ہے، لہذا آئندہ ٹرم میں ممبر سازی کے بعد چاروں ضلعوں کے انتخابات الگ الگ کرائے جائیں تاکہ باضابطہ ضلع اور تنظیم کی تشکیل کی جائے۔
(۲) پسماندگی اور مشکلات کے پیش نظر چاروں ضلعوں میں تعلق برقرار رکھنے کی غرض سے کمشنری کی سطح پر تنظیم کا قیام ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی و ریاستی جمعیۃ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ مرکز سے رہنمائی مل گئی ہے۔ ریاستی جمعیۃ سے باضابطہ منظوری حاصل کر لی جائے تاکہ آئندہ کارروائی میں آسانی ہو۔
(۳) مسلم پرسنل لاء کے سلسلہ میں عوام کو بیدار کرتے ہوئے اپنے طور پر شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے ماحول سازگار کیا جائے۔ حکومت یا اکثریت کے غلط نظریات کی بھی تردید کی جائے۔
(۴) آئندہ کانفرنس کے لیے موضع بوڑھا (ردی پور) تھانہ مہیش پور سب ڈویژن پاکوڑ صاحب گنج کی دعوت کو ترجیح دیتے ہوئے موقع دیا جاتا ہے کہ پوری محنت و لگن سے کانفرنس کی تیاری کی جائے، تاکہ آئندہ مارچ و اپریل میں انعقاد کیا جاسکے۔ تفصیلات آئندہ فیلڈ پر طے کیے جائیں گے۔
(۵) آئندہ ٹرم میں ممبر سازی مہم اور مجوزہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے باضابطہ آرگنائزر کی بحالی کی جائے۔
(۶)1984-85ء میں دن کا پروگرام ملنے کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا تھا، اس مرتبہ پروگرام ہی کے لیے خاص دہلی جانا پڑا۔ رات کا وقت مل گیا۔ حضرت قاری محمد فخر الدین گیاوی پروگرام مرتب کرتے تھے۔ وہ باہر کے سفر کی وجہ سے دلی نہ جاسکے، اس لیے ان کی ہدایت کے مطابق دلی سے تمام سامان اشتہار، کتابچہ بینر وغیرہ کے ساتھ پٹنہ اتر کر گیا مشورہ کے لیے جانا پڑا۔ وقت نہ ہونے کی وجہ سے مجبورا دن کا وقت لینا پڑا۔ چوں کہ ساری تیاری مکمل ہوچکی تھی، تاخیر بالکل مناسب نہیں تھی، جس جوش و جذبہ سے کانفرنس کی تیاری کی گئی تھی،وقت کی گڑبڑی سے بڑی مایوسی ہوئی۔ صدر صاحب نے تہیہ کرلیا تھا کہ اس بار پروگرام کرلینا چاہیے، چاہے جتنی محنت و قربانی دینی پڑے۔ پہلے بھی چندہ واپسی کے بعد سارا خرچ صدر صاحب نے برداشت کیا تھا، اس بار بھی صرف تین چار ہزار روپیے کے قریب چندہ ہوا، حالاں کہ خرچ قریب دس ہزار روپیے ہوگئے۔ یہ پروگرام بائیس سال کے بعد ہوسکا، یعنی ۵۶۹۱ء سے ہی سوچا جارہا تھا۔ دوسرے دن حاضرین کو حساب پیش کردیا گیا۔ رسیدات اور رجسٹر وغیرہ دفتر روپنی میں رکھ دیے گئے تاکہ بعد میں بھی دیکھ کر اطمینان کیا جاسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: