مضامین

مجلس عاملہ کی میٹنگ و مجلس منتظمہ کا اجلاس قسط نمبر 08

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

مجلس عاملہ کی میٹنگ
25/ اگست 1967ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں درج ذیل فیصلے لیے گئے:
(1) مولانا محمد عمر پاکوڑ کے انتقال کی وجہ سے خالی جگہ پر حاجی مولوی محمد ظہور الحق کھٹنئی کو ماسٹر محمد شفیع الہدیٰ صاحب کے جامتاڑا میں نہ رہنے کی وجہ سے مولوی عبدالحفیظ رجون کا انتخاب کیا گیا۔
(2) احتجاجی جلسوں، مظلومین عرب کے لیے ریلیف فنڈ کی فراہمی، موسم برسات میں کاشتکاروں کی مشغولیت کی وجہ سے 31/ اگست 1967ء تک ممبرسازی کا ہدف پورا نہیں ہوسکا، اس لیے توسیع مدت کے لیے مرکزی جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی جائے۔
(3)وزیر اعلیٰ حکومت بہاراور وزیر تعلیم نیز ضلعی تعلیمی سپرنڈینٹ کی خدمت میں میمورنڈم پیش کیا گیا تھا، لیکن مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اس لیے اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرانے کے لیے وفد کی شکل میں متعلقہ حکام سے ملاقات کی جائے اور دوبارہ میمورنڈم بھی دیا جائے۔
(4) کاشتکاری موسم کی وجہ سے ریلیف فنڈ کی فراہمی سردست مشکل ہے، اس لیے مرکزی جمعیت سے ملی رقم پانچ سو روپیے کو مختلف علاقوں کے ضرورت مندوں کے درمیان تقسیم کرنے کا نقشہ تیار کیا گیا۔
(5) پختہ رسید کے علاوہ ضلع دفتر کے لیے سادہ کاغذ پر رسید تیار کرلیا جائے اور مرکز سے مزید امداد کی گذارش کی جائے۔
مجلس عاملہ و مجلس منتظمہ کا اجلاس
مدرسہ اسلامیہ کھٹنئی میں 12/ نومبر 1967ء مطابق 9/ شعبان 1386ھ بروز اتوار زیر صدارت مولانا فاروق الحسینی ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بہار، و زیر نگرانی مولانا محمد غلام حسین صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بھاگلپور مجلس منتظمہ کا اجلاس بعد نماز عصرشروع ہوا۔ پہلے پرچم کشائی کی گئی، بعد ازاں اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔ شہید اور وفات پانے والے حضرات کے لیے دعائے مغفرت اورایصال ثواب کیا گیا۔ بنیادی دینی تعلیم، اقتصادی ترقی، تنظیم کی توسیع و استحکام اور انگریزی اخبار گارجین کے حصص کی خریداری وغیرہ سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔ پھر بعد نماز عشا مجلس منتظمہ کا اجلاس کیا گیا، جس کا بنیادی ایجنڈا انتخاب تھا۔ چنانچہ مولانامحمد عصمت اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ کیتھا ٹیکر بھاگلپور، مولانا رضا احمد بھاگلپور اور مولانا غلام حسین بھاگلپور نگراں انتخاب مقرر کیے گئے۔ اتفاق رائے سے درج ذیل افراد کا انتخاب عمل میں آیا:
1۔ صدر جناب ماسٹرمحمد شمس الضحٰی صاحب کھٹنئی
2۔ ناظم اعلیٰ مولانا محمد شمس الحق صاحب لوچنی
3۔خازن حاجی محمد ظہور الحق صاحب کھٹنئی
4۔نائب صدر مولانا محمد بدر الدین صاحب نوا ڈیہہ سرسرا سارواں
5۔ ناظم مولانا عبد الرزاق صاحب مدھوبن سارواں دیوگھر
عہدیداران کے علاوہ چھ اراکین عاملہ کا بھی انتخاب کیاگیا، جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
1۔ مولوی محمد شمس الحق چھوٹی قدر جناں صاحب گنج
2۔ مولوی محمد اسماعیل استہ جوڑاکاٹھی کنڈ دمکا
3۔ حافظ محمد داود امام جامع مسجد پاکوڑ
4۔ قاضی عبدالمنان کنڈھت جامتاڑا
5۔ مولوی محمد حمید الدین دگھی مہگاما
6۔ مولوی محمد نظام الدین تالجھاری پوڑیا ہاٹ گڈا
اسی مجلس میں چودہ اراکین منتظمہ کا بھی انتخاب کیا گیا، جن کے نام یہ ہیں:
1۔ مولوی عبدالقدوس صاحب جہاز قطعہ
2۔ مولانا منصور احمد قاسمی بیلسر
3۔ مولانا محمد علاء الدین صاحب دگھی
4۔ مولانا محمد سلیمان صاحب سمرھی
5۔ حاجی عبدالمجید صاحب رجون
6۔ مولوی محمد ارشاد علی مصرا ڈیہہ سارواں
7۔ ماسٹر ناظر حسین گھاگھی جسی ڈیہہ
8۔ مولوی جمال الدین بلتھر
9۔ مولوی منصور علی بہادر پور پالو جوری
10۔ مولوی عطا ء الرحمان گھگھر جوری مدھو پور
11۔ مولوی محمد عثمان بارہ پنسار سارٹھ
12۔ جناب محمد حبیب عالم ہتھنواں دمکا
13۔ مولوی سراج الدین بنیارا دمکا
14۔ مولوی محمد انور علی دودھانی دمکا
اس پروگرام میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ مولانا محمد حدیث صاحب حسب سابق ناظم دفتر اور نشرو اشاعت کا کام کریں گے، جس کی حوصلہ افزائی کے لیے دس روپیے ماہانہ دیے جائیں گے۔ مولانا منتخب الاسلام مظفر پوری، مدرس بنیادی دینی تعلیم گاہ سبزی باغ پٹنہ، جناب محمد شبیرصابری متعلم مدرسہ حسینہ باغ پٹنہ سیٹی نے مختلف عنوانات پر اظہار خیال کیا۔ مولانا منصور احمد قاسمی آرگنائزر ضلع جمعیت نے تنظیم جمعیت سے متعلق سوال و جواب پر مشتمل ایک مکتوب پڑھ کر سنایا۔ مولانا محمد بدر الدین قاسمی نوا ڈیہہ سرسرا نے آمدو صرف1965-67ء کا گوشوارہ اور 1967-69ء کا میزانیہ (بجٹ) پیش کیا، پھر ضلع جمعیت کی کارگذاری پیش کی گئی۔ جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر ضلع جمعیت نے عوام بالخصوص ذمہ داروں میں بیداری، لگن اور حوصلہ پیدا کرنے کی غرض سے ذاتی تجربات اور واقعات کی بنیاد پر آنے والی رکاوٹوں اور دقتوں پر قابو پانے کی صورتوں، نیز نازک ترین حالات میں کام کرنے کے طریقوں کو پیش کیا۔ مولانا محمد فاروق الحسینی ناظم اعلیٰ ریاست بہار نے مختصر انداز میں جمعیت کی خدمات کو بیان کیا۔ جناب حاجی ایوب صاحب چلمل مجاز حضرت شیخ الاسلامؒ نے کارکنوں کے لیے مفید مشورے دیے اور کہا کہ اس ضلع میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے، ایسے حضرات کو ترغیب دلاکر کاموں سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ مولانا انور علی صاحب نے ایصال ثواب کرتے ہوئے دعا کراکر مجلس کا اختتام کیا۔ سرد رات ہونے کے باوجود پروگرام بہت کامیاب رہا۔
لیگل سیل کا قیام
آزادی کے بیس سال سے زائد عرصہ گذرجانے کے باوجود فرقہ وارانہ فسادات کا تسلسل، قومی یکجہتی کا فقدان اور مسلمانوں کی نسل کشی کی منظم کوششوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے مرکزی جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 9/ نومبر1967ء کو منعقد ہونے والی میٹنگ میں ماہر قانون پر مشتمل ”مرکزی جمعیت لیگل کمیٹی“ تشکیل دی۔ اسی کی پیروی کرتے ہوئے ریاست بہار کی جمعیت نے بھی ”ریاستی لیگل کمیٹی“ بنائی اور اس کے اخراجات کی تکمیل کے لیے ہمدردان ملت اسلامیہ سے پرخلوص اپیل کی گئی۔
جلسہہائے مجلس عاملہ
مدرسہ اسلامیہ کھٹنئی میں مورخہ12/ جنوری1968ء، مطابق 11/ شوال 1385ھ بروز جمعہ بعد نماز مغرب مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔جس میں چند ضروری تجاویز کے علاوہ علاقہ میں جگہ جگہ دورے کے لیے پندرہ افراد نے اپنا وقت دینے کا وعدہ کیا۔
اس کے بعد مورخہ19/ فروری 1968ء مطابق19/ ذی قعدہ 1387ھ بروز دو شنبہ بعد نماز فجر بمقام دفتر جمعیت علمائے روپنی دیوگھر مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی کے ذریعے بنائے گئے دورے کے خاکہ کو منظوری ملی۔ اسی طرح تقسیم ریلیف کا حساب پیش کیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ انگریزی اخبار کے لیے حضرت فدائے ملت ؒ کے دورہ کے لیے ایک ہفتہ کا وقت لیا جائے تاکہ فراہمی مالیات میں سہولت ہو۔
8/ نومبر 1968ء کے اجلاس کے لیے ایک ایجنڈا جاری کیا گیا، مگر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے 21/ نومبر1968ء کے لیے دوبارہ ایجنڈا جاری کیا گیا۔ لیکن اس بار بھی بیرونی اراکین تشریف نہیں لاسکے، اس لیے عید الفطر کے بعد مناسب موقع پر مجلس طلب کیے جانے کی بات طے ہوئی۔
13/ فروری 1969ء، مطابق 25/ ذی قعدہ 1388ھ بمقام کھٹنئی مجلس عاملہ کی نشست ہوئی۔ انگریزی اخبار کی مالیات کی فراہمی کے لیے فدائے ملتؒ کا دورہ اور ریاستی جمعیت بلڈنگ کے لیے چندہ فراہمی کی تجویز منظور ہوئی اور یہ طے کیا گیا کہ ضلعی سطح پر ایک کانفرنس کرنے کا ایجنڈا رکھا جائے۔
23/ دسمبر1969ء مطابق12/ شوال1389ھ کے لیے ایجنڈا جاری کیا گیا؛ مگر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا اور اس کے بعد30/ اپریل 1970ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب بمقام مدرسہ اسلامیہ کھٹنئی میں یہ پروگرام کیا گیا، جس کی صدارت حکیم حافظ محمد داود صاحب امام مسجد پاکوڑ نے کی۔ درمیان پروگرام مدرسہ کے طلبہ نے خوبصورت پروگرام پیش کیے۔ مولانا بدر الدین قاسمی نائب صدر، مولانا منصور احمد قاسمی، مولانا ظہیر الدین قاسمی اور ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر اور دیگر حضرات نے مختلف عناوین پر خطاب کیا۔ بعد ازاں انتخابی عمل ہوا، جس میں اتفاق رائے سے سابقہ تمام عہدیداران کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا گیا۔اخیر میں حاجی ظہور الحق نے ایصال ثواب کرایا اور مجلس اختتام کو پہنچی۔ بعد الفجر جدید مجلس عاملہ کی خصوصی نشست منعقد ہوئی۔
اگلی تاریخ 18/ فروری 1971ء مطابق 21/ ذی الحجہ1390ھ کومدرسہ اسلامیہ کھٹنئی میں ایک میٹنگ ہوئی۔ کرنل جمال عبد الناصر مصری، شیخ زین العابدین کھٹنئی صدر محترم کے والد، حافظ دیانت احمد دچکدریہ بھاگلپور، مولوی کمال الدین نیا ڈیہہ بھاگلپور مقیم مرکٹہ نانی ڈیہہ (سارواں) وغیرہ کے لیے ایصال ثواب کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی گئی۔ یکم جولائی 1970ء میں ہونے والے ’فساد روکو“ مظاہرہ کی تائید، شادی ختنہ وغیرہ کے موقعوں پر بے جا خرچ کی روک تھام، ضرورت مندوں کی امداد کے لیے مسلم فنڈ کا قیام(مسلم فنڈ موضع کھٹنئی اور دودھانی دمکا میں قائم کیا جاچکا ہے)، 31/ مارچ 1968ء کے بعد بھی ملحقہ مدارس کے مدرسین کو اسکیل پے، مدرسین مدرسہ کے لیے خصوصی ٹریننگ کا انتظام، دینی تعلیمی بورڈ کا قیام، دینی تعلیم کے متعلمین کے لیے تربیتی پروگرام، الیکشن میں سیکولر ذہن والے امید وار کو کامیاب بنانے جیسے امور سے متعلق تجاویز منظور کی گئیں۔ اسی طرح مردم شماری کی اہمیت کے پیش نظر یہ ہدایت دی گئی کہ اپنے گھر اور خاندان کے تمام افراد کا اندراج کرایا جائے۔ کالم نمبر10۔ میں مذہب اسلام، کالم14۔ میں مادری زبان اردو، کالم15۔ میں دیگر زبانیں میں کوئی دو زبان مثلا عربی، فارسی، ہندی، انگریزی، سنتھالی، بنگلہ وغیرہ درج کرائیں۔ ذاتی پرچیوں کے اندراج کے بعد اس کی جانچ کرکے اطمینان کر لیا جائے۔
گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے لیے ڈگری ہولڈر کارڈ ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات یعنی بی۔اے۔ فاضل وغیرہ خود سے کارڈ بھریں۔ اس میٹنگ میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی لیا گیا کہ ناظم اعلیٰ ضلع جمعیت مولانا شمس الحق صاحب اپنی مشغولیتوں کی وجہ سے شریک مجلس نہیں ہو پارہے ہیں اور جماعتی کاموں میں دل چسپی بھی نہیں لے رہے ہیں، اس لیے ان کی جگہ مولانا منصور احمد قاسمی کو ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے منتخب کیا۔ اور انھیں پابند کیا گیا کہ وہ جلد از جلد ناظم اعلیٰ صاحب سے چارج، رجسٹر، مہرو غیرہ وصول کرکے مطلع کریں گے۔ رات تقریبا بارہ بجے مولانا حمید الدین صاحب کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
انتخابی میٹنگ
حسب اعلان و اطلاع مورخہ 17/ مئی 1973ء بروز جمعرات بوقت شب بمقام مدرسہ اسلامیہ کھٹنئی ضلع جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ کا ایک انتخابی اجلاس زیر صدارت مولانا محمد مظہر الحق صاحب، زیر نگرانی الحاج مولوی محمد ظہور الحق صاحب منعقد ہوا۔ مولانا عالمگیر کی تلاوت قرآن مجید کے بعد تمام کارروائیاں متفقہ طور سے عمل میں آئیں۔ صدر محترم جناب محمد شمس الضحیٰ صاحب نے ایک گھنٹہ تک جمعیۃ علماء کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اور درج ذیل شخصیات کا انتخاب عمل میں آیا:
1۔ صدر ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کھٹنوی
2۔ ناظم اعلیٰ مولانا محمد مظہر الحق صاحب جہاز قطعہ
3۔ خازن الحاج مولوی ظہور الحق کھٹنوی
4۔ نائب صدر مولوی محمد سراج الدین بنیارا دمکا
5۔ نائب صدر مولانا محمد بدرالدین نواڈیہہ دیوگھر
6۔ نائب ناظم حکیم مولوی مرتضیٰ دمکا
7۔ نائب ناظم حکیم محمد داود جامع مسجد پاکوڑ
8۔ ناظم دفتر مولوی محمد عرفان مظاہری جہاز قطعہ
اس کے علاوہ مولانا شمس الحق پاکوڑ، مولوی محمد ارشاد علی مصراڈیہہ دیوگھر، الحاج مولوی حمید الدین دگھی، حافظ منیر الدین مال پکڑیا، مولانا خلیل احمد کیتھپورا مجلس عاملہ کے رکن منتخب کیے گئے۔ الحاج مولانا محمد زبیر احمد پاکوڑ ریاستی نمائندہ منتخب کیے گئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: