مضامین

مجلس عاملہ گڈا کی میٹنگ قسط 06

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

مورخہ20/ مئی 1966ء میں بمقام گڈا مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں قاری خدا بخش صاحب امام جامع مسجد گڈا کی تلاوت و نعت سے مجلس کا آغاز ہوا۔ گذشتہ کارروائی کی خواندگی و توثیق ہوئی اور درج ذیل تجاویز و فیصلے کیے گئے:
فیصلہ نمبر1۔ تنظیم کے استحکام کے لیے پورے سنتھال پرگنہ کے دورہ کا پروگرام بنایا گیا، جس کے لیے تین قسم کے وفود کی تشکیل کی گئی:
(1) مرکزی وفد: پورے ضلع کے دورہ کے لیے۔
(2) دوسرا وفد: سب ڈیویژن کے دورے کے لیے۔
(3) تیسرا وفد: علاقائی حلقوں کے دورے کے لیے۔
دورہ کے آغاز کے لیے ماہ ستمبر کا وقت متعین کیا گیا۔ اور جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ نے دشہرہ کی تعطیل کے علاوہ ستمبر سے نومبر تک، مولانا شمس الحق صدیقی صاحب ناظم اعلیٰ نے دشہرہ کے تعطیلی ایام اور مولانا محمد بدرالدین قاسمی نواڈیہہ سرسرا نے ہر ہفتہ میں دو دن سب ڈویژن کے لیے، مولانا محمد شمس الحق صاحب جہاز قطعہ برائے پاکوڑ سب ڈویژن کے لیے ہر ہفتہ دو روز، مولانا محمد صفیر الدین روپنی دیوگھر ایک ماہ، ہر ہفتہ میں دو روز سب ڈویژن کے لیے، حافظ خدا بخش صاحب گڈا، ہر ہفتہ دو روز مقامی دورہ کے لیے، حاجی محمد ظہور الحق صاحب کھٹنئی اور حاجی محمد حمید الدین صاحب ایک ہفتہ علاقائی دورہ کے لیے، ایک ماہ کے ہر ہفتہ میں دو روز سب ڈویژن کے لیے اور مولانا عبدالرزاق صاحب قاسمی نے حسب موقع اپنا اپنا وقت دینے کا عدہ کیا۔
فیصلہ نمبر 2۔ جمعیت علمائے ہند نے انگریزی اخبار ”گارجین جرنلس“ کے منصوبہ کو شئیر کی خریداری کے ذریعہ کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا تھا، اس اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے درج ذیل حضرات نے حصص کی خریداری کا وعدہ کیا:
جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کھٹنئی دس حصے، حاجی مولوی حمید الدین صاحب کھٹنئی پانچ حصے، حاجی مولوی محمد ظہور الحق صاحب کھٹنئی پانچ حصے، مولوی محمد حدیث کھٹنئی دو حصے، مولانا محمد صفیر الدین صاحب روپنی دیوگھر دو حصے۔
فیصلہ نمبر 3۔ ریاستی جمعیۃ کے دفتر کے لیے ریاستی صدر محترم سے گذارش کی جائے کہ ماہ دسمبر کے بعد فراہمی مالیات کے لیے دورہ کریں۔
فیصلہ نمبر 4۔ تحریک ممبرسازی کو کامیاب بنانے کے لیے اکتوبر نومبر میں حسب سہولت ”جمعیت ہفتہ“ منایا جائے اور ضلع کا ہر رکن کم از کم سو سو ممبر بنانے کی کوشش کرے۔
فیصلہ نمبر5۔ جمعیت کانفرنس کا پروگرام آئندہ عیدالفطر کے بعد سوچا جاسکتا ہے۔
فیصلہ نمبر6۔ مسلمانوں کی شکایات کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ ان کے حل کے لیے متعلقہ افسران سے وفد کی شکل میں ملاقات کرکے میمورنڈم دیا جائے۔
میٹنگ میں میمورنڈم تیار کیا گیا، جس میں موجود تجاویز پر متن یہاں پیش کیا جارہا ہے:
تجویز نمبر (1)۔ حکومت بہار نے اردو پرائمری اسکول پر نظر کرم فرما کر تعداد میں معتدبہ اضافہ کیا ہے، لیکن ان اسکولوں کے تعلیمی معیار کی جانچ پڑتال اور دیکھ بھال کا انتظام نہیں کیا ہے، جس سے معیار تعلیم گرتا جارہا ہے۔ بعض جگہوں پر بالکل برائے نام اردو اسکول ہے۔ نہ اس میں اردو پڑھانے والے ہیں، نہ اردو تعلیم کا نظم ہے، اس لیے یہ اجلاس حکومت بہار سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ اردو تعلیم کی نگرانی کے لیے ہر انچل میں نگراں مقرر کیا جائے۔ 1958ء سے پہلے انسپیکٹنگ مولوی اور اسپیشل افسر تعلیمات اسلامی ان اسکولوں کے لیے متعین کیے جاتے تھے۔
تجویز نمبر(2)۔ جو افراد1958ء سے پہلے انسپیکٹنگ مولوی کے عہدہ پر تھے، حکومت نے ان کا یہ عہدہ ختم کرکے ان لوگوں کو عضو معطل بنادیا۔ ان کی حالت نا گفتہ بہ ہے اور در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، حالاں کہ یہ عہدے دار باصلاحیت، تجربہ کار اور ہائی کوالیفائڈ تھے، لیکن دوسرے فرقہ مثلا آدی واسی کے انسپیکٹنگ عہدہ کو ختم کرکے انھیں (L.D.S.E.S) کے عہدے پر مقرر کرکے ترقی کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ اجلاس حکومت بہار کے محکمہ تعلیمات سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ کوالی فیکشن کے لحاظ سے ان کے حقوق دیے جائیں۔
تجویز نمبر(3) آزادی کے بعد ٹیچر ٹریننگ اسکول میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ تعلیمی محکمہ نے ٹرینڈ ٹیچرس کے لیے خاص رعایت و سہولت رکھی ہے، لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اظہار کرنا پڑتا ہے کہ ان اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تربیت کے لیے کوئی معقول انتظام نہیں ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اردو جاننے والے خاطر خواہ استفادہ نہیں کرسکتے ہیں اور ناکام ہوجاتے ہیں۔اردو امیدواروں کی تعداد اکثر اسکولوں میں نسبتا کم ہوتی ہے۔ اس سے قبل اسپیشل اردو ٹریننگ اسکول تھے۔ ٹریننگ اسکولوں کے قیام کا مقصد تعلیم کے معیار کو زیادہ ترقی پسند بنانا ہے۔ان اسکولوں سے صحیح معنی میں اس وقت فائدہ پہنچ سکتا ہے جب کہ تمام علاقائی زبانوں میں تعلیم اور ٹریننگ کا معقول نظم ہو۔
تجویز نمبر(4) حکومت بہار نے پہلے کی طرح پھر سے مڈل اسکول اگزامنیشن بورڈ قائم کیا ہے۔1965ء کے امتحان میں اردو جاننے والوں کے لیے بڑی دقت ہوئی۔ بچے سوالات سمجھ ہی نہیں سکے۔ زیادہ بچے ناکام ہوگئے۔ اردو پڑھنے والے بچوں کے لیے اردو زبان میں سوالات کا انتظام کیا جانا چاہیے۔
تجویز نمبر (5) ریاست بہار میں سنسکرت اگزامنیشن بورڈ اور مدرسہ اگزامنیشن بورڈ ایک زمانہ سے قائم ہیں اور شانہ بشانہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سنسکرت کی تعلیم کو پروان چڑھانے کے لیے خاص مراعات دی گئی ہیں۔ مدرسہ والوں سے بے اعتنائی برتی گئی ہے۔ اسی طرح عربی کے اسکالر احساس کمتری کے شکار ہورہے ہیں۔ آج کل اسلامی ممالک سے رابطہ قائم رکھنے کے لیے اردو عربی کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔ اس تفریق کو دور کرکے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
تجویز نمبر (6) (الف) سنتھال پرگنہ کے پرائمری اور مڈل اسکولوں میں سابقہ روایات کے خلاف امسال تعطیلات میں بالکل ترمیم کردی گئی ہے۔ مسلم تیوہاروں میں صرف ایک ایک روز کی چھٹی دی گئی۔ باقی چھٹیوں کو دوسرے تیوہاروں میں جوڑ دیا گیا ہے۔ دور کے ٹیچر کے لیے ایک روز کی تعطیل میں گھر آنا اور تیوہار منانا مشکل ہے۔ اس سلسلہ میں توجہ کرکے تعطیلات میں اصلاح کرکے اطمینان دلانا چاہیے۔
(ب) چند جگہوں میں اردو اسکولوں کو ہندی اسکول میں ضم کردیا گیا ہے۔ اس طرح اردو پڑھنے والے بچوں کو دشواری ہورہی ہے۔ اردو اسکول علاحدہ ہی رہنا چاہیے۔
(ج) ہر ادارہ میں بھی مسلم تیوہاروں کے لیے مناسب تعطیل رہنی چاہیے۔
(د) نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ہر ادارہ میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ کی رخصت ہونی چاہیے۔
تجویز نمبر (7) حکومت بہار کے سرکلر کے باوجود اکثر اسکولوں میں اخلاقاً یا حکماً طلبہ کو رام دھون پرارتھنا، سرسوتی پوجا، سانسکرتک گوشٹھی (ثقافتی مجلس) وغیرہ میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ شرعا بالکل حرام ہے۔ فوری توجہ دے کر اقلیتی طلبہ کو اطمنان دلایا جائے۔
تجویز نمبر (8) (الف) حسب دستور گریجویٹ، عالم، فاضل، مکھیا، ممبران میونسپلٹی وغیرہ ووٹر بننے کی کوشش کریں۔ ووٹر بننے کے لیے درخواست فارم ہے۔
(ب) حکومت تعلیمی لائن میں فاضلِ نظامیہ کو فاضل مدرسہ بورڈ یعنی گریجویٹ کے مساوی تسلیم کرتی ہے۔ ایسے عالم فاضل کو بھی ووٹر بننے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
(ج) حکومت اپنی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق سنٹرل وقف ایکٹ اور ریاستی وقف قانون پر غورو خوض کرے۔ کیوں کہ بہار کا وقف ایکٹ موجودہ تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔
(د) حکومت اپنے عاجلانہ فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور انتخاب کے مسئلہ کو صحیح ڈھنگ سے حل کرنے کے لیے میعاد انتخاب میں توسیع کا اعلان کرے، تاکہ پوری ریاست کے مستحق افراد ووٹر بن سکیں۔
تجویز نمبر(9) جیون بیمہ پالیسی۔ سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کے واسطے پنشن وغیرہ میں سہولت کی غرض سے جیون بیمہ لازمی ہے، حالاں کہ اس میں بھی سودی کاروبار ہے، اس میں ترمیم کرے تاکہ سود کا اطلاق نہ ہو اور اسے اختیاری کردیا جائے۔
تجویز نمبر(10) حالات پر قابو پانے اور ملک میں امن و امان بحال رکھنے کے لیے (D.I.R) جتنا ضروری تھا، شاید اس سے زیادہ اس کا غلط استعمال کیا گیا۔ بے قصور محب وطن اور معزز حضرات کو حراست میں لے لیا گیا۔ بہت سے بے گناہ افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔ بے اعتمادی کی وجہ سے ملکی ترقی میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ اپریل1964ء میں ایک معمولی دھماکہ کی آڑ لے کر مقامی حکام نے صاحب گنج سے شریف اور سربر آوردہ حضرات کو جس طرح تنگ کیا وہ ناگفتہ بہ ہے۔ ابھی بھی چند اصحاب ماخوذ ہیں؛ لہذا اپیل ہے کہ ایسے حضرات کو جلد از جلد باعزت رہا کردیا جائے۔ بعد میں ان تجاویز کو ریاستی مجلس عاملہ میں پیش کیا گیا اور منظور کرانے کے بعد متعلقہ حکام کو بھیجا گیا۔
نشست مجلس عاملہ
مورخہ 13/ مئی 1967ء بمقام روپنی دیوگھر، بعد نماز مغرب مجلس عاملہ کی ایک نشست ہوئی، جس میں اراکین عاملہ اور مدعوئین خصوصی شریک ہوئے۔ اس میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
(1) مولانا محمد عمر صاحب پاکوڑ (رکن مجلس عاملہ) کے انتقال پر دعائے مغفرت کرتے ہوئے ان سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
(2) خشک سالی کی وجہ سے کانفرنس کا پروگرام ملتوی کیا گیا اور ریلیف کے کاموں کی طرف توجہ دی گئی۔
(3) ہندی ہفتہ وار ”شانتی مشن“ دہلی کے لیے حکیم سید مولانا حفیظ الدین ندوی گورگاواں، منشی امیر حسن کیتھیا بسنت رائے،مولانا محمد سلیمان کیتھ پورہ اعظم پکڑیا، بابو محمد نجم الدین ڈوئی امور اور مولانا محمد صفیر الدین مدرسہ سلطان المدارس روپنی دیوگھر خریدار بننے کے لیے تیار ہوئے۔
(4) ضلع جمعیت کی طرف سے اس سے قبل تیار کیے گئے میمورنڈم کو چیف منسٹر بہار اور وزیر تعلیم بہار کو بھیجا گیا تھا، اس پر فوری کارروائی کے لیے دوبارہ بھیجا جائے۔
مقامی جمعیت کھٹنئی کا اجلاس
25/ مئی 1967ء بروز جمعرات کھٹنئی میں مقامی جمعیت علمائے کھٹنئی کا اجلاس رکھا گیا، جس میں ریاست بہار کے صدر مولانا سید شاہ نور اللہ رحمانی صاحب کا پروگرام طے تھا، لیکن وہ تشریف نہ لاسکے، تاہم پروگرام ہوا اور رات بارہ بجے تک ہوا۔ جس میں کئی اہم تجاویز منظو رکی گئیں۔
احتجاجی جلسہ
مرکزی جمعیت علمائے ہند کی ہدایت کے مطابق 2/ جون 1967ء کو بعد نماز جمعہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر ایک تجویز کا متن تیار کیا گیا، جس کی نقول متعلقہ مقامات پر بھیجی گئیں۔ تجویز کا متن یہ ہے کہ
”سرزمین فلسطین پر اسرائیلی حکومت کا جارحانہ قبضہ، اس کی جارحانہ کارروائی، نیز امریکہ وغیرہ حمایتی ممالک کی اسرائیل نوازی کی شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے عرب موقف کی پوری حمایت کرتے ہیں۔“

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: