زبان و ادب

مجھے اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہا دم تھا ، اردو کی پکار ،۔

مجیب الرحمٰن جھارکھنڈ ،

اردو ہے جس کا نام ہمیں سے ہے داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے ،

دنیا کے مختلف زبانوں میں سے اردو بھی ایک زبان ہے ، جو خصوصا ہندو پاک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ، یہ الگ بات ہے کہ ہندو پاک کے باشندے مختلف ملکوں میں جاکر بس گئے جہاں وہ اردو کے فروغ میں لگے ہوئے ہیں ، طرح طرح کی اردو شاعری کی محفلیں سجتی ہیں جسمیں وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو اردو سے نابلد ہوتے ہیں ، گویا اردو ایک سنگم کا کام کرتی ہے ، جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے ،
اردو زبان کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو بڑی پراشوب تاریخ دیکھنے کو ملتی ہے، کبھی حکومتوں نے اس کو تاراج کرنا چاہا تو کبھی اردو پر مفلسی کا حملہ ہوا جس سے شیرازہ بکھرنے کو تھا لیکن اردو کے سچے جانشینوں نے زندگی کے تمام تر دشواریوں کے باوجود بھی اردو کو فروغ دینے میں ذرہ برابر بھی بے اعتنائی نہیں برتی، تنگ دستی و مفلسی سے اکتا کر ایک شہر سے دوسرے شہر چلتے تو اردو ہی ان کا زاد راہ ہوتی اور اردو کے سہارے ہی سفر کی صعوبتوں کو طے کرکے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتے،
خصوصا مرزا غالب میر تقی میر، سودا، ذوق، مومن ان کے علاوہ اور دیگر شعراء و مصنفین جن کا اردو کی نشر و اشاعت میں بڑا اہم رول ہے،
یہ حضرات ایسے تھے کہ تمام تر مفلسی اور قلت معاش کے باوجود اردو ہی کیلے جیتے تھے اور اسی کیلے مرتے تھے در بدر بھٹکنا پڑا لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اردو سے پہلو تہی برتی ہو ، اسی لئے داغ دہلوی نے کہا،

اردو ہے جس کا نام ہمیں سے ہے داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے،

آج اردو اپنے سنہرے ماضی کی تلاش میں ہے جس کو گردش زمانہ نے منوں مٹی ڈال کر دفن کردیا ہے،آج اردو اسی ادب کی تلاش میں ہے جس کو خود زبان کے شہسواروں نے ٹھکرا دیا اور ایک نقلی ادب کی بنا رکھی جس پر ہر کس و ناکس اپنی حکومت قائم کئے ہوا ہے، آج اردو اپنے اسی دلکشی و دلفریبی جلوہ گری وجلوہ سامانی کی جستجو میں ہے جو ماضی میں اسے میسر تھا لیکن زمانہ کی ستم ظریفی کہئیے یا اردو کی بدقسمتی اندھیر نگری نے سب کچھ نگل لیا، آج اردو اپنے اسی سنہرے اسٹیج کا خواب دیکھ رہی ہے جسمیں زبان دانی کا حق ادا ہوتا تھا ہر طرف اردو کی صدائیں باز گشت ہوتی تھیں، واہ واہی بھی اسی کو حاصل تھی جسمیں زبان کی قدرت ہوتی شجر و حجر ، چرند پرند رشک کرتے ،لیکن اس دور کے نام نہاد بڑے بڑے مشاعروں میں شرکت کرنے والے خود کو خادمین اردو کہلوانے والے کی طوفان بدتمیزی نے اردو کی رونق کو ختم کردیا ، زبان و ادب سے نا آشنا شاعروں کی ایک ٹیم گردش کررہی ہے جو اس وقت خوب واہ واہی بٹور رہی ہے ، جاہل عوام کے ساتھ زبان کا جو کھلواڑ ہوتا ہے وہ اس وقت کے سچے پاسبان اردو کو کسی قیمت گوارہ نہیں لیکن وہ حضرات بھی مصلحت کے نام پر خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں، اس واہ واہی اور بے تکا کلام نہ الفاظ کی بندش کا علم نہ عروض کی جانکاری نہ بحر پر دسترس ادھر سے ادھر کھیچا تانی کرکے شاعری کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے اس سے عوام کی ذہنیں ماؤف ہوچکی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ماضی کے ادیبوں کی کوی عبارت یا شعراء کا کوئی کلام پیش کیا جائے تو سر سے گزر جاتا ہے اور لوگوں کے رد عمل سے ایسا لگتا ہے کہ گویا کوئی منتر پڑھا جارہا ہو، حال یہ ہے کہ اس وقت بڑے بڑے اردو کے اساطین عوام کی نظروں میں بے وقعت ہیں کیونکہ ان کی اردو سمجھ سے باہر ہے، کیوں کہ ذہن ٹوٹے پھوٹے الفاظ غلط ترکیب جملوں کا الٹ پھیر کا عادی ہو چکا ہے جس کی وجہ سے صحیح زبان کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا ہے،
کچھ نئے لکھنے والے بلکہ ہر روز کوئی نہ کوئی ایک لکھنے والا جنم لے رہا ہے جو ہر اخبار کی زینت بننا چاہتا ہے اول تو زبان کا علم نہیں ثانیاً مقصد کا پتہ نہیں اخبارات میں نام آنا چاہیے یہی اس کا مبلغ علم ہے،
کچھ اردو اخبارت کے ایڈیٹروں کی بھی ستم ظریفی کا کیا کہنا صاحب تحریر کی تصویر سجا کر ایسے تحریروں کو بھی اخبار کی زینت بنا دیتے ہیں جسمیں زبان کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہو،
بہر حال اردو کیلیے یہ دور کسمپرسی کا دور ہے ہر طرف سے اس کو مسلا جارہا ہے اس کی چاشنی دلکشی و دلفریبی کو ختم کیا جارہا ہے غلط طور پر اس کی ترویج کا کام جاری ہے ایسے میں اردو کا جان کار طبقہ اپنی خاموشی توڑیں آگے بڑھ کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں جو آج اردو کو اپنوں سے حاصل ہے، انہیں اردو کا صحیح آئینہ دکھائیں تاکہ یہ زبان اپنی سابقہ خوبیوں کے ساتھ تاباں رہے، ورنہ ان عظیم ہستیوں کی اردو کے تئیں تمام تر قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی اور ایک دن جواب دہ ہونا پڑیگا،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: