اسلامیات

محرم کی جھرنی

محمد یاسین قاسمی جہازی

جہاز قطعہ و اطراف کے علاقوں میں ماہ محرم کی شروعات سے یوم عاشورہ تک عورتوں میں دس روز ہ کھیل کھیلنے کی قدیم رسم چلی آرہی ہے، جس کو وہاں کے عرف میں جھرنی کہاجاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مراہق بچیاں شام کو کچھ اندھیرا پھیلنے کے بعدایک جگہ جمع ہوتی ہیں اور گول دائرہ کا گروپ بناکر مخصوص گیت گاتی ہیں۔ گیت کے ساتھ بانس سے بنی جھرنیوں سے تال ملایا جاتا ہے۔ گیت کے ترنم ، جھرنی کی تان ،بدن کے تھرکنے اورصوتی ہم آہنگی میں اس قدر تناسب و توازن ہوتا ہے کہ دیکھنے سننے کے بعد ایک انجان شخص یہ اعتراف کیے بغیر نہیں رہ پائے گا کہ یہ کوئی گھریلو ، دیہاتی لڑکیاں نہیں؛ بلکہ یہ اس فن میں پروفیشنل ہیں، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کی نیچرل مہارت ہے، جو از خود سیکھ لیتی ہیں اور ہر سال اس موقع پر اس کا مظاہرہ کرنا اپنا فریضہ سمجھتی ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ لڑکیاں، ماہ محرم کے اس دس روزہ کھیل میں اپنے کن جذبات کا اظہار کرتی ہیں اور ان کے گیتوں کا کیا پیغام ہوتا ہے۔
ناچیز نے اب تک جن گیتوں پر تحقیق کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا موضوع بالعموم واقعہ کربلا اور اس کے متعلقات ہیں، البتہ ان گیتوں میں حقیقت کم اور سراسر جہالت کے مضامین بھرے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ بعض مضامین کفریہ معانی پر بھی مشتمل ہیں۔ آئیے پہلے کچھ گیت پڑھ لیتے ہیں۔
۱۔ گامو کے پیچھے ہو سید، ایکے بانسو بیربا
وہی سے بانسو رو بیربا، جھانری کنواں را با
ماہی رے انربا، دولہنیا بھرے پانی
کتھی کے گھَیلیا ہے دولہنیا، کتھی کے گے ڑولیا (نیٹھوا)
کتھی لاگے دولہنیا بھرے پانی
سونو کے گھیلیا ہے دولہنیا، روپا کے جڑولیا
ریشم لاگل دولہنیا بھرے پانی
ایکے کوسے گیلے ہے دولہنیا، دوہی کو سے گیلے
تیسری رے کوسے جھایاری رے اِنربا
ریشم لاگل دولہنیا بھرے پانی
پانی یے بھری یے دولہنیا، دیکھے رے لاگلے چاروں دس برنائے
گھوڑیاں چڑھالو آبے حسن حسین بھیا
دے ہو بھیا گھیلیا الَگائے
گھیلیا الگاؤنی کیے دے بھو دینما
تبّے دے بھوں گھیلیا الگائے
گھیلیا الگاؤنی ہو سید کانوں دونوں سونما
آرو رے دے بو گلے ہرمَل ہار
ادیا لگابو کانو دونوں سونما ہے دولہنیا
بجڑا کھسابو دولہنیا گلے ہرمل ہار
غصہ تیری مار لی ہے دولہنیا، گھیلیا لے لی الگائے
چلی رے گیلے اپنو حویلیا
ایکے کوسے گیلے دولہنیا، دوہی کوسے گیلے
تیسری رے کوسے اپنو حویلیا
گھیلیا دھرے ہے دولہنیا ماہی گھلَ سریا
گے ڑولیا پھیک لے مایے (ماں) اینگنیا
اینگنا بولیے بولی ساسو پڑھے گریا
بھائی با کھوکی گے ڑولیا دوکھے دیل کے
جانھو گاری پڑھیو ہے ساسو، بھئی با کھوکی بھتیج با
مورو رے بھیا، سورجو دیو کے مانگ لو
باپے بھٹائے گیلے بٹوہیا
لے لے ہو جاھیے ہمرو سمودبا
ہمرو سمودبا ہو بھیا بابا آگو چلی بولیھے
باباں رے سنتے، دسے لوگیں بیٹھاتے
ہمرو سمودبا ہو بھیا میو آگو چلی بولیھے
میو رے سنتے، دھرتی رے لوٹاتے
ہمرو سمودبا ہو بھیا بھوجو آگو چلی بولیھے
بھوجو رے سنتے ، او لیھے نو پہنچاتے
ہمرو سمودبا ہو بھیا آگو چلی بولیھے
بھیا رے سنتے گھوڑیا دوڑاتے
نامی نامی کوڑیا ہو بھیا، بانھیو پھسڑیا(لنگی کا چیرا) ہو بھیا
چلی رے گیلے حاجی پور ہٹیا
ایکے کوسے گیلے دوہی کوسے گیلے
تیسری رے کوسے حاجی پورے ہٹیا
پیشابے رے لاگلے بھیا، رانگے چھنگے جڑولیا
کہاں مائی دھربے گے ڑولی بریا
کہاں مائی دھربے جیٹھو بھیا
بنگلہ دھربے ساسو ، گے ڑولی کبھریا
اچَراں بیٹھابے ہے ساسو جیٹھو بھیا
کیے کیے کھلابے ہے ساسو گے ڑولی کبھریا
کیے کیے کھلابے ہے ساسو جیٹھو بھیا
وہی چوڑا کھلابے ہے ساسو گے ڑولی کبھریا
کھوا کھلابے ہے ساسو جیٹھو بھیا
کیے کیے سموکھ بے ہے ساسو گے ڑولی کبھریا
کیے کیے سموکھ بے ہے ساسو جیٹھو بھیا
پانے پھولے سموکھ بے ہے ساسو گے ڑولی کبھریا
چھوٹکو نندو سموکھ بے ہے ساسو جیٹھو بھیا
ہانسل کھیلل جاتے ہے ساسو گے ڑولی کبھریا
کانل کھینچل جاتے ہے ساسو چھوٹکو نندیا جیٹھو بھیا
۲۔ جو جنگل میں دادا، ربھے، وی جنگل گھمسان ہے
دادا نے پوکھریا کھنابے، دادی روبے جھارے جھار
ہیگے دادی تم پیاری، ناکو بے سوریا اتار
ناکو کے بے سوریا ناکھ بے راجے
کٹ گیو ،رے ہائے رے ہائے
۳۔ سیتا ھو کا سنوریا، جھاڑے ہے رے جھاڑے دُھر مے رو نہ ہو
کہاں میں دنیا ہے رے زیادہ، غم کرو رے ستم کرو
آبے گا رے ساری دنیاکے لوگیں، غم کرو رے ستم کرو
جس کا دل میں مکناں (کینہ) ہے رے مکناں
آبے گا رے ساری دنیاکے لوگیں، غم کرو رے ستم کرو
غم کرو رے مہا غم کرو، غم کرو رے ستم کرو
۴۔ گھوڑے پرسے قاسم اترے، ہاتھ میں قرآن ہے
بھور(صبح) بکت میں زینت اترے، ہاتھ میں اورمال ہے
قرآن پڑھتی ہے سکینہ، شادی کو ارمان ہے
لے چلو ندیا کنار، یاج رَینی رات ہے
رات ہے ، بے رات ہے، بڑی قتل کی رات ہے
سب حسینا کے مل کے رہیو، یاج رینی رات ہے
۵۔ بیچ رے میدان میں دونوں بھائی جوبَنَما ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
گھیرل یابے گھیرل جائے ساتو بھائے شیطنما ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
آبے رے جاتے جانو تورے پرنما ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
پہلے پکارے چھے، اللہ رسولنا ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
دوسری پکارے چھے پیرے پیغمبر ہو ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
آبے رے جاتے جانو تورے پرنما ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
جیسن کاٹے چھے کیلا تورے بگنما ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
ویسن کاٹے چھے دونوں بھائے رے ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
جیسن چلے چھے آکھر ماسے ندیا، ویسن چلے چھے خونو رو دھربا
ہائے رے اللہ ہائے رے ہائے
۶۔ کاہے کی درگھا ہو میاں، کاہے کی نی پا، لاگی
کاہے کی اورمال چھتیا، بیچ رین میں ہے کھڑی
اینٹا کی درگھا ہو میاں، دودھ کی نی پا ،لاگی
ریشم کی اورمال چھتیا، بیچ رین میں ہے کھڑی
کاہے کی لسان ہو میاں، کاہے کی دھوجا (جھنڈا)میاں
بانسے کے لسان ہو میاں، کپڑا کی دھوجا لاگی
بیچ رین میں ہے کھڑی
۷۔ کہاں سوبھے چوڑی لاری، کہاں سوبھے سورما ہے
کہاں سوبے سر پہ اوڑھنی، سید میرا رین چلو
ہاتھے سوبھے چوڑی لاری، نینا سوبھے سورما ہے
بدن سوبھے سر پہ اوڑھنی سید میرا رین چلو
پلنگ سوبھے سجنی، اچھا گھرو میں پھول بچھونا
نماز پڑھ بھے تے پڑھی لے
گیتوں پر ایک نظر
مشتے نمونے از خروارے کے طور پر یہ چند گیت یہاں پیش کیے گئے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں کہ ان گیتوں کا میں کیا کہا گیا ہے۔
گیت نمبر ایک میں کئی الگ الگ کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ قصہ کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ گاؤں کے پچھلے حصے میں بانس بٹا کے پاس ایک کنواں ہے۔ ایک دولہن جس کے پاس سونے کا گھڑا اور روپا کمپنی کا نیٹھوا (کوئی چیز سر پر رکھنے کے لیے رکھی جانے والی چیز) ہے، وہ ریشمی صفت اس کنویں سے پانی بھر رہی ہے۔ پانی بھرتے ہوئے وہ چاروں طرف دیکھتی ہے، تو اسے حسن حسین دونوں بھائی گھوڑے پر سوار آتے دکھتے ہیں اور کنویں پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ دولہن ان سے گھڑا سر پر رکھ دینے کی درخواست کرتی ہے، جس پر دونوں بھائی دولہن سے پوچھتے ہیں کہ اس کے بدلے میں وہ کیا دے گی۔ وہ کہتی ہے کہ دونوں کان کے سونا اور گلے کا ہار دوں گی۔ لیکن پھر بھی دونوں بھائی گھڑا سرپر نہیں رکھتے، جس سے وہ غصہ ہوجاتی ہے اور خود سے گھڑا اٹھاکر سر پر رکھتی ہے اورتین کوس کے فاصلہ پر واقع اپنی حویلی پہنچ جاتی ہے۔ حویلی میں گھلساری( گھڑا رکھنے کی جگہ) پر گھڑا رکھتی ہے، لیکن نیٹھوا آنگن میں پھینک دیتی ہے، جسے دیکھ کر اس کی ساس دولہن کو گالی دینے لگتی ہے۔گالی سن کر دولہن ساس کہتی ہے کہ راستے میں بٹوہیا ملا تھا، اس کے ذریعہ ہم نے اپنے والد کو یہ قصہ کہلا بھیجا ہے، وہ عن قریب آئیں گے اور دس لوگوں کو میٹنگ میں اس کا فیصلہ کریں گے اور میرا بھائی سورج بھگوان سے مانگا ہوا ہے، اس لیے یہ خبر سنتے ہی میرا بھائی کوڑی (پیسوں) کی گٹھری باندھ کر تین کوس پر واقع حاجی پور بازار جائیں گے اور نیا نیٹھوا لے کر آئیں گے۔ کہانی اور آگے تک جاتی ہے جس میں بھائی اور دوسرے رشتہ دار کے آنے پر انھیں کہاں ٹھہرائیں گے اور کیا کیا کھلائیں گے وغیرہ جیسی باتیں ہیں۔
گیت نمبر دو میں کہا گیا ہے کہ دادا جس جنگل میں رہتے ہیں، وہ بہت گھنا جنگل ہے، اس جنگل میں دادا ایک تالاب کھودوا رہے ہیں اور دادی وہیں پر پودے لگا رہی ہے ۔ دادی کی ناک میں بیسر ہے، گیت میں کہاجارہا ہے کہ وہ بیسر اتار کر دیدو دادی اسے راجا (حسین ) کو دیدیا جائے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ راجا میدان جنگ میں گئے اور کٹ گئے۔
نمبر تین کے گیت کا مضمون ہے کہ سر کے بالوں کی سیت درست کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ، لیکن دنیا کی زندگی تو بہت کم ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ غم کرنا چاہیے۔ اس غم گیری میں تنہا آپ نہیں رہیں گے؛ بلکہ پوری دنیا غم حسین میں شرکت کرے گی، اس لیے بہت زیادہ غموں کا اظہار کرو
قسط (2)
گیت نمبر ۴ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت قاسم ہاتھ میں قرآن لے کر آرہے ہیں اور علیٰ الصباح حضرت زینب بھی آرہی ہیں، جن کے ہاتھ میں رومال ہے۔ حضرت سکینہ قرآن پڑھی رہی ہیں اور شادی کی تمنا دل میں جاگ رہی ہے ۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمیں فرات ندی کے کنارے لے چلو، کیوں کہ آج بڑی قتل یعنی یوم شہادت حسین کی رات ہے اور چوں کہ آج رینی رات ہے، اس لیے سبھی حسینیوں کو مل کر رہنا چاہیے۔
پانچ نمبر گیت کہا گیا ہے کہ میدان جنگ کے بیچ سات شیطانوں نے دونوں بھائیوں کو گھیرلیا ہے ۔ حضرات حسنین اللہ اور اس کے رسول کا نام لے رہے ہیں ۔ اور جس طرح کیلا کاٹا جارہا ہے، اسی طرح دونوں بھائی شیطانوں کو میدان جنگ میں کاٹ رہے ہیں اور خون کی دھاریں پھوٹ رہی ہیں۔
گیت نمبر ۶ میں کئی سوالات و جوابات ہیں کہ حضرت حسین کی قبر اینٹ کی بنائی گئی ہے اور دودھ سے پوتائی کی گئی ہے ، اسے ریشم کے رومال کی چادر اوڑھائی گئی ہے ۔ اور لسان( جھنڈا) میں بانس اور کپڑا لگایا گیا ہے۔ یہ درگاہ میدان جنگ کے بیچ میں ہے۔
آخری گیت کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ میں چوڑیاں اور سر پر اوڑھنی اچھی لگتی ہے، لیکن جب میرا سید میدان جنگ میں گیا ہے تو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ بیوی پلنگ پر اچھی لگتی ہے ۔ ایک گھر ہے، جس میں پھول کے بستر لگے ہیں۔ اگر کسی کو نماز پڑھنی ہے تو نماز پڑھ سکتا ہے۔
آپ نے گیت اور ان کی تشریحات دونوں کو پڑھ لیا، جس سے بالیقین آپ بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہوں گے، جس نتیجہ پر راقم پہنچاہے، وہ نتیجہ و خلاصہ پیش خدمت ہے:
(۱) یہ قبائلی گیت سراسر فرضی اوردیو مالائی داستان کے عکس ہیں، جن میں نہ واقعیت ہے اور نہ صداقت ۔
(۲) ان کہانیوں کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت و تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ کربلا کی کچھ پرچھائیاں ضرور پائی جاتی ہیں۔
(۳) گیت کے بعض بندوں میں شرکیہ کلمات بھی ہے ، جیسے کہ گیت نمبر ایک کی لائن نمبر ۲۹؍ میں دولہن یہ کہتی ہے کہ میرا بھائی سورج دیو سے مانگا ہوا ہے۔ یہ سراسر شرکیہ نظریہ ہے۔
(۴) یہ گیت بالعموم سنی مسلم لڑکیاں حضرت حسین سے عشق و شیفتگی میں گاتی ہیں اور ایصال ثواب کا ذریعہ سمجھتی ہیں، جو کہ سراسر گناہ اور مذموم حرکت ہے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ محرم کے موقع پر کھیلے جانے والے کھیل ’’جھرنی‘‘ کے گیت، طریق عمل اور کھیلنے والیوں کو دیکھا جائے تو اس کا جہاں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہیں یہ سراسر قبیح اور مذموم عمل ہے۔یہ شیعی طرز فکر کے اثرات ہیں اور الحمد للہ اللہ نے آپ کو صحیح العقیدہ اہل سنت والجماعۃ کی صف میں شامل کیا ہے، اس لیے راہ مستقیم کو پانے پر اللہ کا شکر ادا کیجیے اور ہماری جو بچیاں جھرنی کھیلنے کے نام پر غول میں جاتی ہیں اور ایک طرف کفریہ کلمات گاتی ہیں، تودوسری طرف اخلاقی کمزوریوں کی بھی شکار ہوتی ہیں۔انھیں ’’محرم کی جھرنی‘‘ کھیل سے ہر ممکن دور رکھ کر اپنے گھر اور بچیوں کے اعلیٰ اقدار و کردار کو قائم و دائم رکھیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مرضیات پر چلائے۔ آمین

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: