مضامین

محرومیوں کا سال

مفتی مرغوب الرحمن صاحب پلاسمنی بہادرگنج،نزیل حال: دارالقرآن سرخیز احمد آباد گجرات

مولانا اسرار الحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی انھوں نے کبھی بھی ملی وقومی ذمے داری سے راہ فرار اختیار نہیں کی وہ ہمیشہ مظلوم طبقات اورملت کے وقار واختیار کی جنگ لڑتے تھے اور سیاسی وسماجی طور پر عوام کو بیدار کرتے رہے تھے، مولانا کی کوششوں سے ہندوستانی مسلمانوں کوہی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ انکی قیادت سے برادرانِ وطن بھی فیضیاب ہوئے آپ ذہن مذہبی اور مسلکی تعصب سے پاک تھا، ان کے اندر بے پناہ عجز وانکساری تھی، یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی عوام کی نظر میں مولانا کو ہردلعزیزرہنما کی حیثیت حاصل تھی.
مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ 1942ء میں موضع ٹپو کشن گنج بہار میں پیدا ہوئے اور 1964ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی. دورانِ تعلیم مولانا ہمیشہ ممتاز طالب علموں میں سرفہرست تھے، فراغت کے بعد ملی وسماجی کاموں میں پورے جوش وجذبہ کے ساتھ مشغول ہوگئے تھے، دینی، ملی، سماجی، امور میں انکی بے پناہ دلچسپی کی وجہ سے جمعیۃ علماء ہند جیسی مقتدر تنظیم کےاکابرین نے 1981ءمیں انہیں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری کے عہدہ پر فائز اس اعلی عہدے پر فائز رہتے ہوئے انھوں نے نہ صرف جمعیۃ کے دائرئہ تعارف اور حلقہ اثر کو وسعت عطا کی بلکہ مختلف سطحوں پرایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے جو جمعیۃ کی تاریخ کا روشن حصہ بن گئے تھے، مولانا اسرار الحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ وسیع تعلیمی، سماجی اور سیاسی خدمات کے پیشِ نظر برسہا برس سے عوام و خواص کا ایک بڑاطبقہ مولانا رح کو پارلیمنٹ میں دیکھنے کا متمنی تھا اور اصرار کررہاتھا کہ وہ پارلیمنٹ میں پہنچ کراس خلاء کو پر کریں جو مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کے بعد سے چلاآرہاتھا. مسلسل اصرار اور ملی خدمت کے جذبے کے تحت حضرت مولانا میدان میں آئے اور واضح فتح حاصل کرکے پارلیمنٹ پہنچے تھے اس کے بعد پوری جرات مندی کے ساتھ پارلیمنٹ میں ملی، سماجی اور تعلیمی مسائل اٹھا رہے تھے، تعلیمی فروغ کے لئے مولانا رح نے ملک کے سب سے زیادہ پسماندہ ضلع کشن گنج میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کے قیام اور اس کے تعاون کے سلسلہ میں آواز بلند کی تھی پارٹی سے اوپر اٹھ کر انہوں نے خواتین بل اور طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی تھی، اسکے علاوہ مولانا مرحوم پارلیمنٹ میں ہر اس مسئلہ پرآواز بلند کرتے تھے جو ملک کے عوام کی بھلائی اور انکی خوشحالی سے وابستہ ہے. مولانا رح نے ملک وملت کی خدمت کا ایک اور طریقہ یہ اختیار کیا تھا کہ انھوں نے اپنے قلم سے ملک ومعاشرے کی رہنمائی کرتے تھے مولانا رح کا قلم رواں، انداز بیاں سہل، شگفتہ اور دردمندانہ تھا. مولانا رح سیاسی، سماجی، اور تصنیفی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سلسلہ تصوف سے وابستہ تھے، اور فقیہ الاسلام حضرت مفتی شاہ مظفر حسین مظاہری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے، انکی وفات کے بعد انہوں نمونہ اسلاف حضرت مولانا قمرالزماں کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، اور خلافت واجازت حاصل تھی،
مولانا قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف موضوعات پر ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں تھیں، جن میں خاص طور پر، سلگتے مسائل؛ ہندوستان مسلمان؛ مسائل اور مزاحتیں؛ اسلام اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں؛ معاشرہ اور اسلام؛ خطبات لیسٹر؛ دعا عبادت بھی حل مشکلات بھی؛ اور انسانی اقدار؛ جیسی کتابوں کو غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور علماء امت نے ان کتابوں کی زبردست پذیرائی کی.
خلاصہ یہ کہ حق تعالٰی نے آپ کو بے شمار خصائص وامتیازات عطا فرمائے تھے، ملت کوآپ کی ذات سے نفع کثیر حاصل ہورہاتھا ۔
آپکے پسماندگان میں تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں…..

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: