اسلامیات

محمد ؐ کون ہیں؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
(الانبیاء 21 : 107)
نبی اکرم محمد ؐ مسلمانوں کے لئے کیا ہیں؟
محمد ؐ کون تھے، ہم نے اس موضوع کا احاطہ اس سے قبل کیا ہے۔ وہ کون ہیں کہ آج بھی وہ مسلمانوں کے لئے ایک مثالی شخصیت ہیں۔ کیا وہ ایک ابدی روحانی حقیقت ہیں؟
جو لوگ نبی اکرم ؐ سے واقف نہیں ہیں ان میں غیر مسلم اور حتی کہ مسلمان بھی شامل ہیں وہ صرف یہ سوال پوچھتے ہیں کہ نبی اکرم ؐ کون تھے؟ اس طرح وہ ایک بڑی حقیقت کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔ اس سوال کے جواب کا تعلق تاریخی حقائق سے ہے اور ان تفصیلات سے جن کی غلط تشریح عین ممکن ہے بالخصوص جبکہ اس میں شر پسند مقاصد شامل ہوں یا جب سیاق و سباق اور حالات کا صحیح فہم نہ ہو۔
مسلمانوں کے نزدیک نبی اکرم ؐ تمام انسانی صفات اور روحانی فضائل کی تجسیم ہیں اور غرضیکہ نبی اکرم ؐ کی یہ حیثیت مسلمانوں کے لئے ہے۔
انسانی وصف
نبی اکرم محمد ؐ صحرائے عرب کے چھوٹے سے شہر مکّہ میں پیدا ہوئے تھے جس کا اصل نام بکہ تھا۔ (سورہ آل عمران 3 : 96، اور الزبور 84 : 5-6)۔ آپ ؐ کی پیدائش 570ء میں ہوئی۔ آپ ؐ قبیلہ قریش کے نبی ہاشم خاندان سے تھے آپ کے جدّ امجد اسماعیلؑ صحراء میں مقیم ہوئے تھے (دیکھئے بائبل کی کتاب پیدائش 21 : 21 اور 25 : 18)۔ نبی اکرم ؐ کے کوئی بھائی بہن نہیں تھے۔ ان کی پیدائش سے قبل ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور جب وہ نو عمر بچے تھے تو ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ غرضیکہ وہ ایک یتیم تھے۔ آپ ؐ کی پرورش پہلے آپ کے دادا عبد المطلب نے اور پھر ان کے بعد آپ ؐ کے چچا ابو طالب نے کی۔ ابو طالب نے آپ ؐ کی پرورش آپ ؐ کے دادا کے انتقال کے بعد کی۔ حالانکہ اُس دور کے زیادہ تر عربوں کی مانند آپ ؐ خواندہ نہیں تھے لیکن بڑے ہوکر آپ ؐ نے تجارت شروع کی اور اس مقصد کے لئے اونٹ پر سوار ہوکر مشکل صحرائی سفر کئے۔ آپ ؐ دوسرے لوگوں کے سامان تجارت لے جاتے تھے اس طرح اور یہی آپ ؐ کا ذریعہ معاش تھا۔ آپ ؐ فطری طور پر انتہائی ایماندار تھے اسی باعث اہل مکہ آپ ؐ کو الامین پکارتے تھے۔ چالیس سال کی عمر تک آپ ؐ نے عام پُر سکون زندگی گزاری۔ چالیس سال کی عمر میں جب کہ آپ ؐ اعتکاف کی حالت میں تھے اور یہ آپ ؐ کی عادت تھی تب آپ ؐ کو اللہ کی جانب سے وحی موصول ہوئی۔ وحی کے اسی مجموعے کا نام قرآن ہے۔ اس وحی کی بنیاد پر آپ ؐ نے مکہ کے معاشرے کی اصلاح کی دعوت دی تاکہ وہاں کی برائیوں کا خاتمہ ہو۔ آپ ؐ نے بالخصوص وحی الٰہی کی روشنی میں اہل مکہ کو یہ دعوت دی کہ وہ بتوں کی پرستش چھوڑ دیں اور اس کے بجائے الٰہ واحد جس کو عربی میں اللہ کہتے ہیں، صرف اسی کی عبادت کریں۔ اپنی بچیوں کے قتل کی ہولناک رسم ختم کریں۔ یتیموں کی نگہداشت کریں، عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں، غریب اور نادار افراد کو صدقہ خیرات دیں اور غلاموں کو آزاد کریں کہ یہ سب نیک اعمال ہیں۔
مکہ کے سرداروں نے آپ ؐ کے اس پیغام کو مسترد کیا۔ ان کے خیال تھا کہ یہ پیغام اور دعوت اُن کے طرز حیات کو یکسر تبدیل کردے گی اور اُن کے معاشرتی اور اقتصادی مفادات کو مجروح کرے گی۔ ان سرداروں نے ایک وفد آپ ؐ کی خدمت میں اس پیش کش کے ساتھ بھیجا : ‘‘اگر تمہارا مقصد دولت حاصل کرنا ہے تو ہم اتنی دولت جمع کردیں گے اور تمہیں دے دیں گے کہ تم ہم میں سب سے زیادہ دولت مند بن جاؤگے۔ اگر تم بادشاہت کے خواہاں ہو تو ہم تمہیں بادشاہ تسلیم کرلیں گے۔ اگر تمہارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اُس پر تم از خود قابو نہیں پاسکتے تو ہم تمہارا علاج کرائیں گے اور جب تک تم پوری طرح صحت یاب نہیں ہوجاتے تمہیں اس علاج پر کچھ خرچ نہیں کرنا پڑے گا’’ (ابن ہشام، السیرہ النبویہ)۔
اس پیش کش کے باوصف آپ ؐ اپنی دعوت میں مشغول رہے۔ اب مکہ کے سرداروں نے ظلم و ستم اور تشدد کا بازار گرم کیا۔ آپ ؐ اور آپ ؐ کے صحابی اُن کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ آپ ؐ کے متعدد متبعین کو ذلیل کیا گیا اُن کا معاشرتی مقاطعہ کیا گیا۔ اُن کو برسر عام گالیاں دی گئیں۔ جسمانی طور پر تعذیب دی گئی یہاں تک کہ اذیت دے کر اُن کو ہلاک کردیا گیا۔ بارہ سال تک ان حملوں کو صبر سے برداشت کرنے کے بعد 622ء میں آپؐ نے مکہ سے 300 میل دور شہر جو اب مدینہ کے نام سے معروف ہے، وہاں ہجرت کی، مکہ میں آپ ؐ کے اوپر 13 مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے۔ مدینہ کے بعض سرداروں نے آپ ؐ کو اور آپ ؐ کے صحابہ کو وہاں مدعو کیا تھا کہ آپ ؐ وہاں مقیم ہوجائیں۔ مدینہ میں آپ ؐ نے اپنے متبعین کو ایک امت کی شکل میں منظم کیا۔ اور وحیٔ الٰہی (سورہ حج 22 : 39-40) کے نزول کے بعد آپ ؐ نے پہلی دفعہ اپنے دفاع میں ان کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی۔ اہل مکہ اب آپ ؐ کے خلاف جنگ پر پوری طرح تیار تھے اور دیگر قبائل کو بھی مشتعل کررہے تھے۔
آٹھ سال کے مختصر عرصہ میں آپ ؐ عرب کے سب سے زیادہ طاقتور قائد کے طور پر منظر عام پر آئے۔ جنگوں میں فتح سے زیادہ آپ ؐ نے قلوب کو مسخر کیا۔ مدینہ میں گوشہ گوشہ سے اسلام قبول کرنے والے آتے گئے پھر آپ ؐ نے صحابہ کے ساتھ مکہ کو آزاد کرنے کے لئے نکلے۔ ہر چند کہ آپ ؐ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور آپ ؐ کو اور آپ ؐ کے صحابہ کو پُر تشدد دشمنی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ آپ ؐ نے فتح مکہ پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا۔ آپ ؐ نے کسی سے انتقام بھی نہیں لیا۔ فتح کے اس موقعہ پر آپ ؐ نے زبانی بھی اہل مکہ پر ملامت نہیں کی، آپ ؐ نے صرف ان سے یہ کہا : ‘‘میں تم سے وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف علیہ السلام نے کہا تھا، آج کے دن تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو’’ (البیہقی، السنن الکبریٰ)۔
فتح مکہ کے تقریباً دو سال بعد تک آپ ؐ حیات رہے۔ فتح کے باوجود بھی آپ ؐ کی زندگی بدستور آپ کے معمول کے مطابق رہی۔ آپ ؐ کی زندگی کا بیشتر حصہ نماز اور عبادت میں بسر ہوتا۔ آپ ؐ بھوکے رہتے، اپنی بھوک پر قابو پانے کے لئے آپ ؐ اپنے شکم پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح رات کے بڑے حصے میں آپ ؐ عبادت کیا کرتے تھے۔ آپ ؐ کا جو کچھ تھا اسے آپ نے تقسیم کردیا تھا بجز چند ذاتی استعمال کی اشیاء کے۔ آپ ؐ کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا تھا۔ آپ ؐ کو صفائی اور طہارت پسند تھی اور ہمیشہ آپؐ پاک صاف رہتے۔ آپ ؐ کے تین عزیز بیٹے تھے مگر ان سب کا صغر سنی میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ آپ ؐ کی چار انتہائی محبوب بیٹیاں تھیں جن میں سے تین کا آپ ؐ کی حیات مبارکہ ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ 50 سال کی عمر تک آپ ؐ کی صرف ایک اہلیہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں جو آپ ؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں۔ آپ ؐ کی شادی خدیجہ رضی اللہ عنہا سے 25سال کی عمر میں ہوئی تھی اس وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک یعنی 25 سال تک اُن کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزاری۔ اُن کے انتقال کے بعد آپؐ نے متعدد نکاح کئے جن میں سے بیشتر کا مقصد قبائلی تعلق کو مضبوط تر بنانا تھا۔ مثال کے طور پر سودہ رضی اللہ عنہا سے آپؐ نے اس لئے شادی کی تاکہ ایک بیوہ عورت کی کفالت ہو۔ آپ ؐ کا قول ہے: ‘‘تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے خاندان کے حق میں بہترین ہے’’ (ترمذی)۔
آپ ؐ لوگوں کو بالعموم پسند کرتے تھے۔ درحقیقت آپ ؐ انتہائی رحم دل، شفیق شخص تھے، سب کو معاف کردیتے تھے حتی کہ جنگ میں اپنے دشمنوں کو بھی معاف کردیتے۔ بعض اوقات آپ ؐ کو یقیناً غصہ آتا لیکن آپ ؐ اپنی آواز کبھی اونچی نہ کرتے اور نہ اپنا ذہنی توازن کبھی کھوتے۔ آپؐ سہولت پسند، نیک، دوستانہ مزاج کے خوش اخلاق، منکسر المزاج اور متوازن شخص تھے۔ آپ ؐ کی نصیحت ہے : ‘‘تقویٰ کے باعث لوگ اس لائق ہوں گے کہ وہ جنت میں داخل ہوں۔ اچھے کردار کے حامل بھی جنت میں داخل ہوں گے’’ (ترمذی)۔کبھی کبھی آپ ؐ اپنے ساتھیوں سے مذاق بھی کرتے لیکن اپنے وقار پر آنچ نہ آنے دیتے۔
قرآن میں نبی اکرم ؐ کا نام احمد آیا ہے۔ اور آپ ؐ قیامت کے دن شفاعت کا فريضہ انجام دیں گے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی پیشن گوئی کہ پیغمبر از خود کچھ نہ کہیں گے بلکہ جو کچھ وحی سے سنیں گے وہی بتائیں گے۔ وہ پیشن گوئی بھی نبی اکرم ؐ کی بعثت سے پوری ہوئی کیونکہ آپ ؐ نے وحی موصول کی اور اس طرح قرآن کی ترسیل ہوئی۔ یہ نکتہ خود قرآن میں بھی اس طرح سے بیان ہوا ہے:
اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے، یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا، اس کو سکھلایا ہے قوتوں والے نے۔(سورہ نجم 53 : 3-5)
ان سب امور سے نبی اکرمؐ کے خاتم النبیین ہونے کا ثبوت ملتا ہے (الاحزاب 33 : 40)۔ قرآنی لفظ خاتم سے مراد آخری بھی ہے اور انتہا بھی۔ اس سے یہ واضح ہے کہ اسلام آخری آفاقی مذہب ہے۔ اسی باعث مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام نے اس سے قبل کے تمام مذاہب کو منسوخ کردیا ہے۔ آخری نبی کا لامحالہ مطلب آخری مذہب ہے۔ یہ اضافہ غیر ضروری ہے کہ حقیقی انبیاء برحق مذہب کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی نبی اکرم ؐ کا مقصود تھا۔ قرآن میں آپ ؐ کو ہدایت دی گئی ہے :
اے نبی ہم نے تجھ کو بھیجا بتانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور بلانے والا اللہ کی طرف اُس کے حکم سے اور چمکتا ہوا چراغ۔
(سورہ الاحزاب 33 : 45-46)
حبّ رسول اللہ:۔ اپنے ایمان کے جز کے طور پر مسلمان نبی اکرم ؐ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ کا قول ہے کہ اہل ایمان اپنے آپ سے زیادہ رسول اللہ ؐ کو عزیز رکھتے ہیں:
ایمان والوں کو اپنی جانوں سے زیادہ نبی سے لگاؤ ہے۔ اور اس کی عورتیں اُن کی مائیں ہیں۔ اور قرابت والے ایک دوسرے سے لگاؤ رکھتے ہیں اللہ کے حکم میں زیادہ سب ایمان والوں اور ہجرت کرنے والوں سے مگر یہ کہ کرنا چاہو اپنے رفیقوں سے احسان۔ یہ ہے کتاب میں لکھا ہوا۔(سورہ الاحزاب 33 : 6)
رسول اللہ سے یہ محبت محض ان کے مشن کی اہمیت کے باعث نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ ؐ نے پیغمبری کا فريضہ اس خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا اسی لئے مسلمان آپ ؐ کو اتنا عزیز رکھتے ہیں۔ مزید برآں نبی اکرم ؐ اللہ کو عزیز ہیں۔ یہ موضوع اسلامی ادب کا ایک اہم شعبہ ہے اور اب تک لاکھوں نہیں تو کم سے کم ہزاروں بہترین نظمیں اور نعت حبّ رسول اللہ کے تحت تحریر کی گئی ہیں۔ غالباً سب سے بہترین نعت قصیدۂ بردہ ہے جو کہ بر بر شاعر شرف الدین البسیری (608ھ تا 693ھ بمطابق 1211ء تا 1294ء) کا ہے۔ اسی طرح محمد الجذولی کی دلائل الخیرات بھی ایک اہم نعت ہے۔ محمد الجذولی (807ھ سے 870ھ بمطابق 1404ء سے 1465ء) نے یہ نظم تصنیف کی۔ قرآن میں آپؐ کا ذکر اس طور پر آیا ہے :
آیا ہے تمہارے پاس رسول تم میں کا، بھاری ہے اُس پر جو تم کو تکلیف پہنچے، حریص ہے تمہاری بھلائی پر۔ ایمان والوں پر نہایت شفیق، مہربان ہے۔
( التوبہ 9 : 128)۔
حبّ رسول اللہ کا یہ سلسلہ روز قیامت تک جاری رہے گا۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن آپؐ مسلمانوں کی شفاعت کریں گے تاکہ ان کے گناہ معاف ہوں۔ اس طور پر نبی اکرمؐ مسلمانوں کے لئے صرف اس دنیا ہی میں باعث رحمت نہیں بلکہ اخروی زندگی میں بھی اُن کے لئے باعث رحمت ہوں گے۔ مسلمان مستقلاً نبی اکرمؐ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ درحقیقت قرآن میں مسلمانوں کو اسی کی تعلیم دی گئی ہے (الاحزاب 33 : 56)۔ نبی اکرم ؐ کی تعلیمات سبھی کے لئے مفید اور نفع بخش ہیں۔ اس میں فطری اور روحانی اعلان بھی شامل ہے۔ اس سے قرآن کی اس آیت کے معنی روشن ہوتے ہیں کہ اللہ نے آپ ؐ کو رحمت للعالمین بنا کر جہانوں کے لئے بھیجا (الانبیاء 21 : 107)۔ قرآن کے اس اعلان کے حوالے سے آپ ؐ کی شخصیت اور اسلام کا ادراک کیا جاسکتا ہے۔

نبی اکرم محمد ؐ کے اقوال
قانون اسلامی کا دوسرا اہم مآخذ قرآن کے بعد نبی اکرم ؐ کے اقوال ہیں جو حدیث کے طور پر موسوم ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘جو کچھ نبی تمہیں دیں اس کو قبول کرو اور جس سے منع کریں اس سے اجتناب کرو’’ (سورہ الحدید 57 : 7)۔ اسلامی اعمال اور افعال کے ضمن میں احادیث ہدایت کا ایک اہم مآخذ ہیں۔ احادیث سے اخلاقی تعلیمات، عقائد، تہذیب و ثقافت اور علم کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔ مطالعۂ اسلام میں علم حدیث بنیادی مقام کا حامل ہے اور علم حدیث کے مطالعہ کے بغیر مذہب اسلام کا مطالعہ نامکمل رہتا ہے۔ ہم نے اس کتاب میں متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ یہ اضافہ ضروری ہے کہ احادیث فصاحت اور بلاغت کا عمدہ نمونہ ہیں، یہ حکمت سے پُر، اخلاقیات سے عبارت اور روحانی رہبری سے مالامال ہیں۔ ذیل میں صرف ایک حدیث بطور مثال درج ہے جس میں اخلاقی عمل اور عمل صالح کی تاکید کی گئی ہے: ‘‘جو شخص کسی مومن کو دنیاوی مصیبت سے بچاتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن مصیبت سے محفوظ رکھے گا۔ جو کوئی قرض دار سے رعایت کرے گا اللہ اس کے ساتھ اس دنیا اور آخرت میں حسن سلوک کرے گا۔ جو کوئی کسی مسلمان کا کوئی عیب چھپاتا ہے، اللہ اس کی کمزوریوں پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا۔ اللہ اپنے بندے کی اعانت کرتا ہے اگر وہ اپنے بھائی یا بہن کی مدد کرتا ہے۔ جو شخص حصول علم کے لئے تگ و دو کرتا ہے اللہ جنت کے لئے اس کا راستہ آسان کردیتا ہے۔ جب کسی مکان میں لوگوں کا ایک گروہ تلاوت قرآن کے لئے اور مطالعہ کے لئے جمع ہو اُن پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ فرشتے اُن کے گرد جمع ہوتے ہیں اور رحمت الٰہی اُن کا احاطہ کرتی ہے۔ اللہ ان نیک بندوں کا ذکر کرتا ہے۔ جو کوئی عمل صالح کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اُس کا حسب نسب اُس کے کسی کام نہیں آئے گا’’ (مسلم)۔
اس کے باوصف علم حدیث خاصہ پیچیدہ شعبۂ علم ہے اور اس میں نازک مقامات بھی آتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ نبی اکرم ؐ سے منسوب پانچ لاکھ سے زائد اقوال تھے ان میں سے بہت سے مستند نہیں ہیں۔ السیوطی نے تقریباً دو لاکھ احادیث حفظ کی تھیں۔ ان دو لاکھ احادیث پر مسلمان علماء اور فضلاء نے مزید تحقیق کی اور ان میں سے تقریباً دو تہائی احادیث ایسی ہیں جو سلسلۂ روایت کے اختلاف سے قطع نظر یکساں ہیں یا جن کے متن میں برائے نام اختلاف پایا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کلُ متعین احادیث کی تعداد چالیس ہزار سے ساٹھ ہزار کے درمیان ہے۔ مطالعۂ اسلامیات کا ایک اہم شعبہ ہے ان احادیث کے پایۂ استناد کی تحقیق کرنا، یہ ایک دشوار عمل ہے۔ محدثین نے احادیث کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ بعض مبینہ احادیث واضح طور پر جعلی ہیں جبکہ زیادہ تر مستند ہیں۔ بہر کیف علم حدیث ایک خصوصی شعبۂ علم ہے جس کے لئے منطقی، لغوی، سوانحی، تاریخی، نفسیاتی اور اخلاقی علم اور مباحث کا شناور ہونا ضروری ہے۔ احادیث کے صرف متن سے واقفیت کافی نہیں بلکہ اسناد پر بھی نظر ہونی چاہئے۔ اسناد کے حوالے سے بیس ہزار سے زائد مردوں اور عورتوں کے نام سامنے آتے ہیں۔ محدثین نے ان تمام راویوں کی فرداً فرداً تحقیق کی ہے مثلاً یہ کہ یہ راوی کہاں مقیم تھے، انھوں نے کہاں کہاں کا سفر کیا، کس سے ملاقات کی، کس سے حصول علم کیا اور کیا کبھی وہ کذب کے مرتکب ہوئے اور اُن کے حافظہ کا معیار کیا تھا۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ان کے پایۂ استناد کو متعین کیا جائے۔ مشہور محدث علی دار قطنی (م 385ھ بمطابق 995ء) کے متعلق یہ روایت ہے کہ اگر کسی معجزے کے باعث یہ بیس ہزار راوی ان کے سامنے بیک وقت پیش ہوں تو وہ اس پر قادر تھے کہ ان میں سے ہر ایک کو اُن کے نام، اُن کے والد کے نام، اُن کے قبیلے اور اُن کے معتبر ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے اُن کی شناخت کرسکتے تھے۔
تقریباً 50 سے زائد احادیث کے ایسے مجموعے تھے جن کا سنّی علماء بالعموم حوالہ دیتے ہیں جب کہ 200 سے زائد احادیث کے مجموعے تحریری شکل میں موجود تھے۔
تاریخی اعتبار سے آخری وہ مجموعہ جس میں اس سے قبل کی احادیث درج ہیں وہ ابو بکر البیہقی (م 458ھ بمطابق 1066ء) کا ہے۔ احادیث کے جو پچاس مجموعے عام طور پر مستعمل ہیں ان میں 9 مشہور مجموعے یہ ہیں: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، سنن النسائی، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن الدارمی، مسند احمد اور مالک کی مؤطا۔ ان میں پچاس ہزار سے زائد احادیث درج ہیں اور انہیں کا علماء زیادہ تر استعمال کرتے ہیں۔ ان 9 مجموعوں میں بھی دو مجموعے مسند ترین ہیں یہ محمد البخاری (م 256ھ بمطابق 833ء) اور ان کے شاگرد مسلم ابن الحجاج (م 261ھ بمطابق 875ء) کے صحیح ہیں۔ صحیح بخاری میں 7397 احادیث ہیں جن میں سے 2602 منفرد ہیں اور صحیح مسلم میں 12000 احادیث شامل ہیں جن میں 4000 منفرد ہیں۔ ان دونوں مجموعوں پر مختلف شروح لکھی گئی ہیں اور جن میں مشہور ترین ابن حجر العسقلانی (م 852ھ بمطابق 1449ء) کی قاموسی شرح صحیح الباری جو فتح الباری کے نام سے موسوم ہے اور یحیٰ النووی (676ھ بمطابق 1277ء) کی شرح صحیح مسلم بہت مشہور ہے۔ بخاری اور مسلم کے مجموعوں میں 3626 احادیث مشترک ہیں لہذا ان کو اور زیادہ مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ اجتماعی طور پر ان کو متفق علیہ کہا جاتا ہے۔ غالباً بخاری اور مسلم کے مجموعے میں وہ احادیث سب سے زیادہ مستند ہیں جن کی سند قوی ہے۔ ان احادیث کو متواتر کہا جاتا ہے یعنی ان کی روایت تواتر کے ساتھ ہوئی ہے۔ ان احادیث کو مخفی طور پر پیش کرنا گویا ناممکن تھا اسی لئے ان احادیث کو عقیدے کے لئے مستند سمجھا جاتا ہے۔ البتہ ان احادیث کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے، السیوطی نے اپنی کتاب قتف الأزهار المتناثرة في الأخبار المتواترة میں 111 ایسی احادیث کا حوالہ دیا ہے۔‏
یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ قرآنی آیات کی تلاوت اُن کے نزول کے وقت سے ہزاروں مسلمانوں نے تواتر کے ساتھ کی لہٰذا یہ اجتماعی حافظے میں نقش ہوگئی۔ اس کے برخلاف احادیث کو افراد نے اور ذاتی طور پر یاد رکھا، اس لئے زیادہ تر احادیث متواتر نہیں ہیں بلکہ یہ بالمعنی لوگوں کو یاد رہیں، فضلاء اس نکتہ کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ اس بات کا امکان تھا کہ احادیث کو مختلف صحابی اپنے اپنے طور پر اخذ کرتے یا ان کے سیاق و سباق میں اختلاف واقع ہوتا یا الفاظ کے مقصود کے بارے میں ان میں اتفاق رائے نہ ہوتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار ایک بزرگ صحابی پر ایک اہم حدیث کو غلط انداز سے تشریح کرنے پر تنقید کی، یہ احادیث عورتوں کے مقام سے متعلق ہے، ظاہر ہے کہ یہ ایک اہم موضوع ہے۔
محمدؐکا اتباع
احکامی لحاظ سے یہ احادیث نبی اکرمؐ کی سنت کا درجہ رکھتی ہیں، جیسا کہ اس سے قبل ہم نے مشاہدہ کیا نبی اکرمؐ ایک قابل تقلید شخصیت ہیں۔ اپنی صفات اور روحانی رفعت کے لحاظ سے ایک گمنام عرب شاعر کے اشعار ہیں کہ محمدؐ ایک بشر تھے لیکن دیگر انسانوں کے برخلاف وہ ایک ہیرا تھے جب کہ لوگ صرف پتھر ہیں۔
حضورؐ کی سنت پر عمل درآمد بالخصوص عبادات کے معاملات میں احسان کا درجہ رکھتا ہے۔ باب دوم میں ہم نے اس کا ذکر کیا کہ اللہ احسان کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے اور سنت پر عملدرآمد احسان کے درجہ میں داخل ہے اور اس پر عامل لوگ اللہ کو محبوب تر ہیں۔ اللہ نے اس کی قرآن میں تصدیق اس طور پر کی ہے:

کہہ دیجئے اگر تم محبت کھتے ہو اللہ کی تو میری راہ پر چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے تمہارے گناہ۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔( آل عمران:3 31 )
یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے عمل میں نبی اکرمؐ کا اتباع کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں اور وہ آپؐ کی سنت کو خیر اور روحانی رفعت کا منتہیٰ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں آپؐ کا طریقہ بہترین ہے لہٰذا اس کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا بہترین عمل ہے۔
ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟
مذکورہ علم کا اصول متعدد اسباب کی بنا پر ضروری ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ علم حدیث اور سیرت کے مطالعہ کے بغیر کوئی شخص مذہب اسلام کی فہم حاصل نہیں کرسکتا۔ اسلام صرف کلمہ شہادت لا الٰہ الّا اللہ میں محصور نہیں ہے۔ اسلام میں دوسری شہادت کی بھی بڑی اہمیت ہے جس کی رو سے ہر مومن یہ شہادت دیتا ہے کہ محمدؐ رسول اللہ ہیں۔ یہ کلمہ شہادت کا جزو ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کا ایک سونے کا سکّہ پایا جاتا ہے، جو غالباً تجارت کے لئے استعمال ہوتا تھا، اس کو Mercia کے حکمراں جن کا عہد 757ء سے 796ء ہے اور جن کا تعلق Mercia سے ہے جو اب انگلستان کا جزء ہے اُس پر لا الٰہ الّا اللہ کندہ ہے۔ اس سے اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان امتیاز واضح ہوتا ہے۔ دیگر مذاہب کے پیرو ممکن ہے ایک اللہ میں ایمان رکھتے ہوں لیکن مسلمان اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ غرضیکہ رسول اکرم محمدؐ کی سیرت کی تفہیم کے بغیر اسلام کا مطالعہ ناقص رہے گا۔
سینٹ جان آف دمشق (م 749ء) سے آج کے اسلام دشمن عناصر میں یہ غلط فہمی مشترک ہے کہ رسول اکرمؐ کے اعمال اور مقاصد صحیح نہیں تھے۔ یہی غلط فہمی عیسائی مناظرہ بازوں اور یہودی اور عیسائی مستشرقین کے یہاں بھی پائی جاتی ہے۔ رسول اکرمؐ کے خلاف یہ تعصبات مغرب کے ذہن میں اس کی ثقافت میں اور اس کے ذرائع ابلاغ میں رچ بس گئے ہیں۔ اس کی تفصیل 1960 میں Norman Daniel نے اپنی قابل قدر تصنیف Islam and the West : The Making of an Image میں بیان کی ہے۔ لہٰذا یہ نکتہ اہم ہے کہ رسول اکرم کے بارے میں مسلمانوں کا تصور غیر مسلموں پہ غلط اور غیر صالح تصور سے قطعاً مختلف ہے۔ قرآن میں مذکور ہے : ‘‘لوگ آپؐ کی جانب دیکھتے ہیں لیکن کیا آپؐ اُس اندھے کی رہنمائی کرسکتے ہیں جو دیکھنا ہی نہیں چاہتا ہو’’ (یونس 43 : 10)۔ اگر غیر مسلم حضرات بھی مسلمانوں کی طرح سیرت کا مطالعہ کریں تو ان کے سامنے ایک قطعاً مختلف شخصیت ہوگی۔ اس کی مثال ماقبل عیسائیت کے مذاہب کے پیرؤوں کی سی ہے جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہیں جو عیسائیوں کے لئے ناقابل فہم ہے۔
رسول اکرمؐ کی کسی اہانت پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوتا ہے۔ آپؐ کی کسی اہانت سے آپؐ کی روحانی رفعت کسی طور پر متاثر نہیں ہوتی لیکن حبّ رسول کے باعث مسلمان اس باب میں اتنے حسّاس ہیں اور یہ حبّ رسول اُن کے ایمان کا تقاضہ ہے۔ مزید برآں، مسلمانوں کو یہ علم ہے کہ جب بھی اُسوۂ رسول کو نشانہ بنایا جاتا ہے اُس کا مقصد خود مسلمانوں پر حملہ ہوتا ہے اور اُن کی توہین و تذلیل مراد ہوتی ہے۔
درحقیقت مسلمانوں کے خلاف اس غیر انسانی سلوک کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ 1991 سے 1995 کے دوران بوسنیا کے ایک لاکھ سے زائد بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جیسا کہ کتاب Bosnian Book of the Dead میں مذکور ہے۔ اس قتل عام سے پہلے مذہبی بنیاد پر مسلمانوں کی شدید مخالفت کی گئی اور ان کو انسان تک تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close