مضامین

ابرہم ہارولڈ میسلو کا تحریکی نظریہ

محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند

Abraham Harold Maslow
Theory of Motivation
ابرہم ہارولڈ میسلو کا تحریکی نظریہ
محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند
لوگوں کے اخلاق و عادات کے جاننے کا نظریہ ہے۔
دوسرے ماہرین نفسیات کے برعکس جو بیماروں کا مطالعہ کرتے تھے میزلو نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں صحت مند لوگوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
انسانی ضروریات ایک ترتیب میں پوری ہوتی ہیں۔
اگر نچلے درجے والی ضروریات مثلا جسمانی ضروریات پوری نہ ہوں تو یہ اس شخص کو اعلی درجے کی طرف جانے سے روک دیں گی۔ اگر آدمی کو آکسیجن نہ ملے تو وہ اپنی پیاس بھول جائے گا ۔
انسانی ضروریات کی ترتیب
(1) جسمانی ضروریات (Physiological needs)
ان میں ہوا ،کھانا، پانی، گھر ، اورجملہ بشری تقاضے شامل ہیں۔ اگر انسان کی اپنی فطری ضروریات پوری نہ ہوں، تو زندگی کی ثانوی درجے کی ضروریات کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ اگرایک انسان خطرناک حد تک بھوکا ہے ، تو وہ پہلے کھانے کے بارے میں سوچے گا، اعلیٰ درجے کے کپڑے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔
(2) حفاظتی ضرورتیں (Safety Needs)
جب جسمانی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں تو پھر انسانوں میں دوسرے درجے کی ضروریات کی امنگیں جوان ہونے لگتی ہیں۔ انسان محفوظ ماحول اور اپنے تحفظ کے تئیں دلچسپی ظاہر کرنے لگتا ۔اس مرحلے پر انسان اپنی بھوک پیاس کی بجائے اپنے خوف اور پریشانیوں کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے۔ وہ ایک محفوظ گھر، محفوظ ملازمت، بچوں کا تحفظ اور بڑھاپے کے لیے تحفظات کا انتظام کرنے لگتا ہے۔
(3) تعلقات کی ضروریات ( Social Needs Love and Belongingness/)
جسمانی اور اور حفاظتی ضروریات کی تکمیل کے بعد اگلا مرحلہ ، اہل خانہ ، بچوں اور دوستوں کے محبت بھرے تعلقات کی ضرورت ابھرتی ہے۔ اس ضرورت کی عدم موجودگی تنہائی، مایوسی،دماغی الجھن اور سماجی پریشانی کا باعث بنتی ہے۔
(4) عزت نفس (Self-Schema)
چوتھے مرحلے میں انسان میں شہرت، توجہ اور عزت حاصل کرنے کی خواہش جاگتی ہے۔ وہ اعتماد، مقابلہ اور آزادی کی ضرورت محسوس کرتا ہے ۔ آزادی کا مطلب بولنے کی آزادی، مرضی کا کام کرنے کی آزادی، علم حاصل کرنے کی آزادی اور اپنے تحفظ کی آزادی ہے۔اور یہ چیزیں انسان میں عزت نفس پیدا کرتی ہیں۔
(5) خود شناسی (Self-actualization)
جب اوپر بیان کی گئی سب ضرورتیں پوری جاتی ہیں ، تو انسان میں خود شناسی کی ضرورت ابھرتی ہے۔میسلو کا ماننا ہے کہ یہ جینے کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ خود شناسی انسان کو زندگی کا اعلیٰ نصب العین مقرر کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ، جس میں انسان خود کے بجائے دوسروں کے لیے جینا مرنا زندگی کا اصلی مقصد بنالیتا ہے۔ میسلو کے نزدیک ابراہم لنکن، تھامس جیفرسن، البرٹ آئنسٹائن، ولیم جیمز اور سپینوزا خود شناس لوگ تھے۔ میسلو کے خیال میں دنیا کی دو فی صد آبادی ہی خود شناس ہے۔
خود شناس لوگوں کی خصوصیات
1. یہ لوگ حقیقت شناس ہوتے ہیں۔
2. اپنی ذات سے باہر مسائل پر توجہ مرکوز کر سکتے ہيں۔
3. وہ تحلیقی ہوتے ہیں اور بہت زیادہ سماجی ضوابط کے پابند نہیں ہوتے۔
4. انھیں کام سے محبت ہو جاتی ہے۔ کام اور چھٹی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔
5. وہ اختلافات پر خوف زدہ ہونے کی بجائے مزہ لیتے ہيں۔
6. وہ اپنے دوستوں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں۔
7. ان کے نزدیک راستہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ منزل۔
8. ان کی قدریں جمہوری ہوتی ہیں۔
9. ان کے تجربات و احساسات کی شدت عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
10. وہ جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ماننے کے اصول کے پابند ہوتے ہیں۔
اسلام میں تحریکی نظریہ
اس نظریہ کی بنیاد پر بھارت میں اسکولوں میں 1995 میں بچوں کے لیے مڈ ڈے میل اسکیم کا آغاز کیا گیا تھا۔
محمد عربی ﷺ نے یہ نظام چھٹی صدی عیسوی میں ہی بنایاکر عملی شکل میں پیش کردیا تھا۔ جس کا نام تھا اصحاب صفہ۔
بھارت میں یہ نظام دارالعلوم دیوبند کے قیام(1866) کے بعد سے لے کر آج تک سبھی مدارس میں قائم ہے۔
اسلام اور ہمارے اکابر نے بھی زندگی کے مختلف پہلووں پر قابل تقلید افکارو نظریات پیش کیے ہیں؛ لیکن افسوس کہ ہم نے انھیں دنیا کے سامنے اس کی زبان و اسلوب میں پیش نہیں کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دنیا کی افکارو نظریات کے غلام ہوگئے ۔ اس پر افسوس صد افسوس!!
اسی طرح بھارت کو خود کو وشو گرو کہتا ہے؛ لیکن یونی ورسیٹی کو دور؛ پرائمری اسکول میں بھی پڑھانے کے لیے کوئی تھنکر نہیں ہے۔ اس پر بھی افسو س صد افسوس!!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: