مضامین

مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں اور شخصیات کے تعزیتی پیغامات

مولانا اسرار الحق قاسمی کی وفات پر تاثرات و پیغامات

جمعیۃ علماء ہند
نئی دہلی ۷؍دسمبر۲۰۱۸ء
جمعیۃ علماء ہند کے صدر امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا سید محمود اسعد مدنی نے معروف ملی رہنمامولانا اسرارالحق قاسمی کے سانحہ ارتحال پرگہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مولانا ممدوح ایک بے مثال منتظم، شیریں بیاں واعظ، قلم کار اور اس سے بڑھ کر،” الخلق کلھم عیال اللہ” کے پاس دار تھے۔ ان کی وفات یقیناًموت العالم موت العالَم کی مصداق ہے۔
مولانا ممدوح دس سال تک (1980-1991) جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری رہے۔ وہ حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند سے عقیدت و شاگردی کا رشتہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ان کی رفاقت میں ملک و ملت بچاؤ تحریک، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے تحفظ ، مسلم پرسنل لاء کے تحفظ جیسی سرگرمیوں میں نمایاں کردار اد اکیا. وہ جمعیۃ کے ترجمان اخبار الجمعیۃ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ ساتویں دہائی کے اوائل میں غالبا وہ بہار کے کسی مدرسہ میں مدرس تھے ، ملاقات کے دوران حضرت فدائے ملت ؒ نے ان کے اندر کے جوہر کو پہچانا اور اپنی تحریک سے وابستہ کرلیا۔ پھر وہ مولانا اسعد مدنیؒ کی تربیت میں ملت کا انمول اثاثہ بن گئے۔
مولانا منصورپوری اور مولانا مدنی نے مرحوم کی وفات کو عظیم ملی خسارہ بتاتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ کا اظہار کیا ہے اور جمعیتی احباب اور ارباب مدارس سے گذارش کی ہے کہ وہ مرحوم کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔
دریں اثنادفتر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر جمعیۃ علماء بہار کے نائب صدر مولانا جاوید اقبال کشن گنجی کی قیادت میں ایک وفد مولانا مرحوم کے وطن تاراباری ضلع کشن گنج پہنچا ، جہاں وہ نماز جنازہ میں شرکت کرے گااور اہل خانہ سے مل کر جمعیۃ کی جانب سے تعزیت پیش کرے گا۔ 
مولانامحمدولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ
امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے مشہورعالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی رح کی رحلت پرگہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی رحلت سے مجھے ذاتی صدمہ پہونچاہے، مولانا سے دیرینہ روابط رہے، آپ کی خدمات کادائرہ وسیع ہے،آپ نے مختلف پلیٹ فارموں سے اورمختلف جہتوں سےاہم خدمات انجام دیں، نیز علاقے میں مکاتیب کی توسیع کی، ملت کے تئیں ہمدردی رکھنے والے، باصلاحیت، فکرمندعالم دین تھے،وہ بورڈکے بھی باوقار رکن تھے،سادگی آپ کا خاص وصف تھا، اللہ تعالٰی پسماندگان کوصبرجمیل دے، مولاناکے حسنات اورخدمات کوقبول فرمائے، آخرت کے لیے ذخیرہ بنادے، آمین۔
مولانا سید ارشد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند
صدر جمعیۃ علماء ہند مولاناسید ارشد مدنی صاحب نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مولانا قاسمی کی رحلت کو ملت اسلامیہ ہند کے لئے خسارہ سے تعبیر کیا اور کہا کہ مولانا مرحوم اپنی سادگی،منکسرالمزاجی اور ملنساری کی بدولت ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبول تھے۔ مولانا کو تقریر و تحریر دونوں میں ملکہ حاصل تھا۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن کے ماتحت درجنوں دینی و تعلیمی اداروں کے قیام کی بنیاد پر مولانا مرحوم ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے مولانا کی رحلت پرگہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی رحلت سے مجھے ذاتی صدمہ پہونچاہے، مولانا سے دیرینہ روابط رہے۔آپ نے مختلف پلیٹ فارموں سے اورمختلف جہتوں سےاہم خدمات انجام دیں، سادگی آپ کا خاص وصف تھا۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان وسکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمیؒ ایک بلند پایہ عالم دین ، مقبول مقرر، نامور صاحب قلم اور زمامہ شناس سیاست داں تھے، انہوں نے اپنی دینی اور علمی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیںجو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے،انہوں نے جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ ہو کرپورے ملک میں دینی وملی خدمات انجام دیں، آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے رکن رکین تھے، آل انڈیاملی کونسل کے ذمہ دار اور اس کے نائب صدر تھے، اسلامک فقہ اکیڈمی سے بھی ان کا شروع ہی سے ہمدردانہ اور بہی خواہانہ تعلق تھا۔
انہوں نے سیمانچل کے پسماندہ علاقے میں تعلیمی وسماجی ترقی کے لئے آل انڈیاملی وتعلیمی فاؤنڈیشن قائم کیا، اس کے تحت بعض ادارے بھی قائم کئے اور وہ اسی کے ذریعہ انجینئرنگ کالج قائم کرنے کے لئے کوشاں تھے، اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کشن گنج میں قائم کرنے میں ان کی کوششیں بہت نمایاں تھیں،غرض کہ ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔دار العلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ انہیں مولانا کی وفات کی خبر پر کافی دیر تک یقین نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ قحط الرجال کے اس دور میں صاحب علم وکمال جیسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور عالم دین، بہترین مصنف، صحافی، دانشور، سیاسی اور مذہبی قائد ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ دار العلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے کہا کہ دار العلوم وقف دیوبند سے مولانا اسرار الحق قاسمیؒ کا مخلصانہ ومحبانہ تعلق تھا جس کا اظہار ہر ملاقات کے موقع پر بہت اہتمام سے فرمایا کرتے تھے آج وہ ادارہ کی تاریخ کا حصہ ہے۔
مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، امیر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہاکہ مولانا قاسمی ایک عالم با عمل تھے انہیں قوم وملت کے مسائل سے گہری دلچسپی تھی او رملک کی سیاست میںجچی تلی رائے رکھتے تھے،جو قوم وملت کے مفاد میں ہوتا تھا۔ انہوں نے سیاست کے پلیٹ فارم سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

مولانا بدرالدین اجمل قاسمی، صدر آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ ورکن پارلیمنٹ
آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر ورکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے کہا کہ مولانا نور اللہ مرقدہ ان چنندہ اشخاص میں سے تھے جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور اپنے کارناموں اور قربانیوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میںہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔حضرت مولانا ایک جید عالم دین، متقی و پرہیزگار، بہترین خطیب،باکمال مضمون نگار،بے داغ سیاسی لیڈر، کامیاب سماجی رہنما اور قوم کی فلاح وبہبود کے لئے ایک مخلص قائد اور اس کے تئیں جہد مسلسل کے پیکرتھے۔

اسلامی علوم کے ماہر ہونے کے ساتھ وہ ملکی مسائل پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے جس کا ندازہ ان کے مضامین کو پڑھنے کے بعد یا ان کی تقری سننے کا بعد بخوبی ہوتا تھا ۔ وہ اسلامی ماحول کا اسکول، مدارس اور مکاتب قائم کرکے تعلیمی ترقی کے لئے کوشاں رہے۔
دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے مولانا اسرار الحق قاسمی کی وفات پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ کا زبردست خسارہ بتایا۔
مولانا حسیب صدیقی نے ممبر پارلیمنٹ ورکن شوریٰ مولانا اسرار الحق قاسمی کے سانحہ ارتحال پر اپنے شدید صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات ملت اسلامیہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے انہوں نے پوری زندگی احقاق حق وابطال باطل کے لئے وقف کردی تھی مولانا مرحوم نے اپنے انفرادی انداز سے ملک وقوم کی جو ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ممبراسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ مولانا کی رحلت ملّت کا ایک عظیم نقصان ہے۔ قرآن وحدیث سے حضرت مولانا کی محبت اور سادگی وبے نفسی کے بہتیرے واقعات مشہور ہیں۔
جناب ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ مولانا قاسمی صاحبؒ کی علمی، سماجی ورفاہی خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ ایسے دور میں بھی پارلیمنٹ کے لئے وہ فتحیاب اور منتخب ہوکر آئے جب ان کی پارٹی کا بہار میں سیاسی وصب اور اثر ورسوخ تقریباً ختم سا ہوگیا تھا۔ کسی بھی قسم کی حرص وطمع سے عاری مولانا کا رہن سہن نہایت ہی سادہ تھا اور تعلیمی مشن کے تحت جگہ جگہ مدارسِ دینیہ کے قیام کے لئے ہمہ وقت جاری اُن کی کوششوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر ملّت کا درد رکھتے تھے اور امتِ مسلمہ کو بہرصورت تعلیم سے بہرہ آور کرنا چاہتے تھے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا مستقیم احسن اعظمی صاحب اور قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری الحاج گلزار احمد اعظمی صاحب نے مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سیکرٹری مولانا حلیم اللہ صاحب قاسمی نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی تمام ذیلی اکائیوں سے مرحوم کی مغفرت اور ترقی درجات کے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اسرار الحق قاسمی نے فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی ؒ کے دورصدارت میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃعلماء ہندکے ناظم عمومی کی حیثیت سے ملک و ملت کے لئے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئر مین ای ابوبکر نے شدید غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کی رحلت سے امت ایک عظیم عالم دین اور سیاسی رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔
مولانا قاسمی کشن گنج کے عوام کے ایک سچے قائد اور نمائندے تھے، جنہوں نے سماجی، تعلیمی اور معاشی ہر میدان میں عوام کی رہنمائی کی۔ ای ابوبکر نے پاپولر فرنٹ کی سرگرمیوں کو حاصل ان کی حمایت کو بھی یاد کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا قاسمی نے کالیکٹ میں منعقدہ قومی سیاسی کانفرنس سمیت تنظیم کے مختلف عوامی پروگراموں سے خطاب کیا ہے۔
ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی نے بھی مولانا کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک تھے آپ کی پوری زندگی قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے جد و جہد کرتے ہوئے بیتی ، آپ کی گوناگوں صلاحیتوں سے قوم و ملت نے خوب استفادہ کیا ۔
امارت شرعیہ سے بھی آپ کو قلبی تعلق تھا ، آپ یہاں کی شوریٰ کی مجلسوں میں شریک ہوتے اور مفید مشورے دیتے تھے ۔جمعیۃ علما ہند کے خازن مولانا حسیب صدیقی نے کہا کہ ملک کے موجودہ مسائل پر آپ کی گہری نظر تھی آپ ہمیشہ ملک وقوم کے مسائل پر بے باکانہ انداز میں لکھتے تھے ان کی تحریروں کو اسی لئے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
عالمی روحانی تحریک کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی نے مفکر ملت مولانا اسرار الحق قاسمی کی اچانک موت کی اطلاع پر اپنے دلی صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کا زمانہ طالب علمی بعد ازاں پارلیمنٹ تک کا سیاسی سفر اور عالمی دینی دانشگاہ دار العلوم دیوبند کے رکن شوریٰ نامزد ہونے تک کا سفر ایک تاریخ ہے۔ مولانا زبردست عالم دین ہونے کے ساتھ خاموش طبیعت اور سادہ لوح انسان تھے۔
معروف قلمکار اور ماہانہ ترجمان کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی نے مولانا اسرار الحق قاسمی کی وفات پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے سانحۂ ارتحال کی خبر دل ودماغ کو اس قدر جھنجھوڑ دینے والی تھی کہ چند ساعتوں تک یقین نہیں آیا اور شاید جس نے بھی سنا ان سب کا یہی حال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ ہند آج اپنے ایک مخلص قائد اور سچے قائد سے محروم ہوگئی ہے۔ دار العلوم وقف دیوبند کے استاذمولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ مولانا مرحوم بلند فکر انسان اور ممتاز عالم دین اور ملک وقوم سے ہمدردی رکھنے والے انسان تھے سادگی ان کا خاص وصف تھا۔
دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ مولانا انوار الرحمن نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند کے ممبر شوریٰ ، جمعیۃ علماء ہند کے سابق جنرل سکریٹری اور دو مرتبہ ممبر پارلیمنٹ رہے ،آپ ملت اسلامیہ ہند کے ان عظیم قائدین میں سے تھے جن کی تعلیمی ، سیاسی اور سماجی خدمات وسرگرمیاں بظاہر خاموش ہوا کرتی تھیں لیکن درحقیقت ان کے نتائج پراثر اور پرشور ہوا کرتے تھے، ان کی عظیم خدمات سے ایک نسل رہتی دنیا تک فائدہ اٹھائے گی۔ فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ مولانا مرحوم مشہور روحانی پیشوا مفتی مظفرحسین اورمولانا قمرالزماں الٰہ بادی سے فیض یافتہ تھے اور اس عنوان سے تزکیہ واحسان میں بھی مولانا کو خاص مناسبت تھی ۔
مولانا کا نمایاں وصف ان کی صحافتی نگارشات اور روشن قندیلیں تھیں وہ مختلف اخبارات کے کالم نویس تھے اور ہر موقع پر قوم وملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔ جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید نے مولانا مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کااظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ مولانا اسرار الحق قاسمی بڑے پیمانے علمی ،دینی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ان کاشمار اسلامی دنیا کے بڑی شخصیات میں ہوتا تھا-
جمعیۃ علماء ہند کے صوبائی صدر مولانا متین الحق اسامہ قاسمی نے کہا کہ مولانا کی وفات سے ملت اسلامیہ ایک دردمند اور فعال شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)نے لوک سبھا کے سٹنگ ممبرمولانا اسرار الحق قاسمی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایک عظیم رہنما کو کھودیا ہے جنہوں نے مسلمانوںکو تعلیمی طور پر آگے بڑھانے کیلئے انتھک محنت کی تاکہ ان کی پسماندگی ختم ہوجائے ۔
مولانا موصوف کشن گنج بہار سے رکن پارلیمان تھے اور اس کے ساتھ ہی وہ مرکزی حکومت کے وزرات داخلہ کمیٹی کے ایک رکن بھی تھے۔
ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مولانا اسرارالحق کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مولوی سے سیاستدان بنے مولانا اسرا ر الحق ایک ایسے معزز عالم تھے جو لاکھوں ناخواندہ اور غریب مسلمانوں کیلئے امید کی کرن تھے۔

خبر وفات ملتے ہی سب سے پہلے جہازی میڈیا کا رنج و غم کا اظہار
انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر لکھی جارہی ہے کہ قوم و ملت کے بے لوث خادم معتبر عالم دین تواضع و انکساری کی مجسم مثال معروف عالم دین حضرت مولانا محمد اسرارالحق صاحب قاسمی، سابق جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء ہند و رکن شوری دارالعلوم دیوبند وایم پی کشن گنج کا آج بروز جمعہ07/12/2018 صبح 03/30پر ہارٹ اٹیک کی وجہ سےکشنگنج میں انتقال ہوگیا۔اِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُون. جہازی میڈیا کی پوری ٹیم سوگوار ہے اور اپنی طرف سے اور جہازی میڈیا کے سبھی قارئین کی طرف سے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے. دعا کریں کہ
اللّٰه رب العزت ان کی مغفرت فرمائے اور تمام پسماندگان کوصبرِجمیل بخشے۔ آمین.
مولانا کے ایک قریبی رشتہ دار جناب قاری نوشاد عادل صاحب آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند سے فونک گفتگو پر ملی جانکاری کے مطابق نماز جنازہ مولانا مرحوم کے آبائی گاؤں ٹپو تاراباری میں بعد نماز جمعہ شام تقریبا 4بجے اداکی جائے گی۔ اور وہیں پر موجود ملی گرلز اسکول کے آس پاس تدفین عمل میں آئے گی۔
جہازی میڈیا اپنے سبھی قارئین و احباب سے دعائے مغفرت کی درخواست کرتا ہے.
مولانا اسرارالحق قاسمی نے سادگی کے ساتھ ملک و قوم کی بیش بہاخدمات انجام دیں
ملی گرلزاسکول، کشن گنج میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد،مختلف علماء،دانشوران اور سماجی و سیاسی رہنماؤں کا اظہار خیال
ملک کے ممتاز عالم دین وممبر پارلیمنٹ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی اچانک وفات سے پورے ہندوستان کے علمی،سماجی وسیاسی حلقے میں رنج و غم کی لہر دوڑگئی ہے اورہر چہارجانب مولانا کے ایصال ثواب کے لئے تعزیتی مجلسوں کا انعقاد ہورہاہے۔اسی حوالہ سے آج حضرت مولانامرحوم کے قائم کردہ ملی گرلز اسکول کے وسیع و عریض احاطے میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیاگیا،اس موقع پرسیمانچل کی بزرگ شخصیت اور دارالعلوم بہادر گنج کے ناظم مولانا انوار عالم نے کہاکہ اتنا بڑا مجمع اس بات کی علامت ہے کہ عوام مولانا سے بے لوث محبت کرتے تھے،مولانااخلاق و کردار میں اپنی مثال آپ تھے،کسی دوسرے کو ان کی نظیر میں پیش نہیں کیاجاسکتا،ان کی شخصیت ایسی تھی کہ کوئلے کی کان میں رہ کر بھی صاف رہے،اسی طرح وہ سیمانچل کے ایسے واحد شخص تھے جنہیں ایشیاکی عظیم درسگاہ اور ان کی مادر علمی دارالعلوم دیوبند نے رکن شوری منتخب کیا،ان کی انکساری،تواضع ،سادگی،خوش اخلاقی ہم سب کے لئے قابل تقلیدتو ہے ہی ،مگر خاص طورپر سیاست دانوں چاہئے کہ وہ مولانا کی زندگی کو اپنے لئے نمونہ بنائیں،کیوں کہ مولانا مرحوم موجودہ سیاست دانوں کے بیچ شاید واحد ایسے انسان ہوں گے جنہوں نے ممبر پارلیمنٹ رہتے ہوئے بھی نہایت سادگی سے اپنی زندگی گزاری اور ذاتی طورپر ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ حضرت کی زندگی میں ان کے بعض سیاسی مخالفین نے ان کے خلاف بے جا طعن و تشنیع اور دشنام طرازیاں بھی کیں جنہیں مولانانے کبھی ایک لفظ نہیں کہا،ان لوگوں کو چاہئے کہ اب جبکہ حضرت اس دنیامیں نہیں رہے اپنی اس غلط حرکت پر نادم و شرمندہ ہوں اوراللہ تعالیٰ سے معافی طلب کریں۔
اس موقع پر مولانا کے خادم خاص مولانا نوشیر احمد نے مرحوم کی زندگی پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے قوم و ملت کے تئیں ان کی بے مثال خدمات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حضرت نے پوری زندگی جس جدوجہد ،قربانی اور قوم و ملت کی خدمت کرتے ہوئے بسر کی،وہ ہمارے لئے سبق ہے اور ہم سب عہد کرتے ہیں کہ حضرت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین و ملت کی خدمت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مولانا کی وفات ہم سب کے لئے ذاتی صدمہ ہے بلکہ یہ پورے ملک کے مسلمانوں کا ذاتی صدمہ ہے،کیوں کہ مولانا نے پوری زندگی تمام مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کی فکر مندی میں بسر کی اور ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں سرگرم رہے۔انہوں نے مولانا کو حسن اخلاق اور شرافت نفس کا پیکر قراردیتے ہوئے کہاکہ ممبر پارلیمنٹ ہونے اور سیکڑوں اداروں کے سرپرست ہونے کے باوجود حضرت نہایت سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے اور ان کے طرز عمل میں کسی قسم کی شان و شوکت کا شائبہ بھی نہیں پایاجاتا تھا، موجودہ دور میں سادگی و انکساری اور بے ریا زندگی گزارنے میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ ان کے نزدیک پورا ملک ان کا اپنا گھر تھا اور ہر جگہ پہنچنا وہ اپنے لیے فرض عین سمجھتے تھے، انتہائی جفا کش تھے، ملک کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی ان کو ملت کے کسی معمولی سے کام کے لیے بھی مدعو کرتا تو وہ ضرور حاضری دیتے تھے، وہ ذاتی آرام و آسائش پر جسمانی تکالیف کو اہمیت دیتے تھے،ان کی زندگی کا بس ایک مقصد تھا کہ اگر ان کی ذات سے کسی کو کوئی چھوٹا سا بھی فائدہ پہنچ جائے ،تو وہ اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔مولاناکے صاحبزادہ مولاناسعود اسرارندوی نے کہاکہ آپ حضرات نے میرے والد محترم کے ساتھ جس محبت و احترام کا معاملہ کیا اور ان پر اعتمادکیامیں کوشش کروں گا کہ ان کی جانشینی کرتے ہوئے آپ حضرات کے اعتماد پر کھرااتروں اور والد محترم نے عوامی خدمات کا جو مضبوط سلسلہ قائم کیاتھا،اسے اسی طرح جاری و ساری رکھوں۔بائسی ودھان سبھا کے سینئرکانگریس لیڈرنثاراحمدنے حضرت کے ساتھ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ جس طرح سے مریضوں اور غریبوں کی خدمت کرتے تھے،اسی طرح میں بھی حضرت کی اس روایت کو جاری رکھوں گا اور میں چوں کہ دہلی میں رہتاہوں تومیں وہاں حضرت کی نسبت سے مریضوں کی خدمت پہلے کی طرح ہی کرتارہوں گا ،اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ مولاناکے چھوٹے بھائی اور بہار کے سابق وزیر زاہدالرحمن نے کہاکہ میرے بھائی نے مجھے جوتربیت دی ہے اور جس انداز میں انہوں نے عوام اور دبے کچلے طبقے کی خدمت کی ہے اس سلسلے کوانشاء اللہ جاری رکھوں گا ۔ اجلاس میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈروسابق مرکزی وزیرملک ارجن کھڑگے،گلبرگہ کے ایم ایل سی اقبال سرڑگی،کرناٹک کے سابق وزیر قمرالاسلام مرحوم کی اہلیہ اور جمعیۃ علماء گلبرگہ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے محمد عبدالمقتدر الیاس نے شرکت کی اور ان کی طرف سے تعزیتی پیغام پیش کرتے ہوئے مولانا اسرارالحق قاسمی کی علمی،دینی،سماجی و سیاسی قربانیوں اور ملک و قوم کی خدمت کے لئے ان کی جدوجہد کو مثالی و تاریخی قراردیتے ہوئے کہاکہ مولانا جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور آپ کی وفات سے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنا ایک سچا و مخلص رہنما کھودیاہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا کے بعض سیاسی مخالفین نے کشن گنج کے علاوہ حیدرآباد کے علاقے میں بھی مولانا کے خلاف بدزبانی کی اور بے بنیاد الزامات لگائے، مگرجب اس سلسلے میں حضرت کو پتاچلاتوآپ نے فرمایاکہ انہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے،میں اپنا اوران کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرتاہوں۔ اس موقع پر دیگرمختلف علماء،ائمۂ مساجد،دانشوران اورسماجی وسیاسی رہنماؤں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیاجن میں جناب میراۃ الحق، للت متل، وندو با بو، مفتی ابصار، مفتی اظہار، مولانا مسعود، مولانا مناظر، مفتی اطہر جاوید، قاضی عارف، اخترالایمان، محمد فہد، محمد سہیل اختر، محمد فیصل، فیضان ندوی، جناب عمران صاحب ضلع پاریشد وغیرہ قابل ذکر ہیں۔۔اخیر میں مولانا کے برادر خورد زاہد الرحمن اور مولانا سعود عالم ندوی ازہری نے تمام دوردراز علاقہ سے تشریف لائے مہمانوں کا شکریہ ادا کیااور مولانا انوار عالم کی رقت آمیز دعاء پر نشست کا اختتام ہوا۔

مولانا اسرارالحق قاسمی کاانتقال ؛ملک وملت کےلئے عظیم خسارہ:مولانا محمدقاسم
جمعیۃ علماءبہار کے زیراہتمام تعزیتی نشست منعقد
(پٹنہ،7دسبر)مشہور عالم دین،مصنف،صحافی،دانشور،سیاسی اور مذہبی قائد،دارالعلوم دیوبند کی شوری کے رکن،ایم پی،اور جمعیۃ علماءہند کے سابق جنرل سکریٹری جناب مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی کے انتقال پرملال پر پوراملک اور خصوصااہل علم سوگوار ہے،جمعیۃ علماءبہار کے صدرمحترم جناب مولانا محمدقاسم صاحب کی صدارت میں نفیس کالونی پٹنہ میں جمعیۃ علماءبہار اور جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ کے زیراہتمام آج ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئ،جس میں صدرمحترم کے علاوہ جمعیۃ علماءبہار کے جنرل سکریٹری اور جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ کے ناظم جناب مولانا محمدناظم صاحب،مولانا محمدسالم، اور پٹنہ کی معزز شخصیات شریک ہوئیں،قران کریم کی تلاوت کے بعد جمعیۃ علماءبہار کے صدرمحترم جناب مولانا محمدقاسم صاحب نے گہرے رنج وغم کااظہار فرمایا، انہوں نے کہا:جناب
مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے انتقال پرملال سے ملک وملت کےلئے ایک عظیم خسارہ ہوگیاہے،انہوں نے کہا:مولانا محترم سے ہمارے دیرینہ تعلقات تھے،اور جب بھی پٹنہ میں کسی پروگرام کاانعقادکیاتو مولانا قاسمی کو ہم نے ضرور مدعوکیا،واضح رہے کہ 1986میں دینی تعلیمی بورڈ کے کےاحیاءنوکے موقع پر جمعیۃ علماءہند کے سابق صدر وامیرالہند حضرت فدائے ملت مولانا سیداسعد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جناب مولانا محمد قاسم صاحب کو ریاستی دینی تعلمیی بورڈ بہار وجھارکھنڈ کاصدرمنتخب فرمایاتھا،اس وقت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی،بھی اس پروگرام میں موجود تھے،اورآپ جمعیۃ علماءہند کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے صدرمحترم جناب مولانا محمدقاسم صاحب نے فرمایا:وہ سادگی کے انتہائی پیکر،سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہی درویشانہ صفت،اپنے کام سے مطلب،ان کی شناخت تھی،وہ دارالعلوم دیوبند کی شوری کے رکن بھی تھے اورلوک سبھاکشن گنج کے ایم پی بھی،آل انڈیا دینی ملی تعلیمی فاونڈیشن کے صدر بھی تھے اور ملک میں ہزاروں اداروں کے سرپرستی بھی فرماتے تھے،کلکتہ میں،دہلی میں،کشن گنج میں وہ کئ اداروں کے کامیاب مہتمم تھے،وہ جمعیۃ علماءہند کے ایک زمانہ تک جنرل سکریٹری بھی رہے،ہندوستان کی تاریخ پر پران کی بڑی گہری نگاہ تھی،ان کی عمر ستر پارکرگئ تھی:لیکن گرجتی ہوئ آواز تھی،وہ ایک عظیم خطیب بھی تھے،سیمانچل کو ان پر ناز تھا،مگر عمر نے وفانہ کی اور سیمانچل کو یتیم کرکے وہ اس دنیاسے چلے گئے۔جمعیۃ علماءبہار کے جنرل سکریٹری جناب مولانا محمدناظم صاحب نے بھی گہرے رنج وغم کااظہار فرمایا،انہوں نے کہا:ابھی گذشتہ سال سیمانچل میں آئے تباہ کن سیلاب کے موقع پر سرکٹ ہاوس کشنگنج میں میں مولانا قاسمی سے ملاقات ہوئ تھی،بڑی محبت وشفقت کااظہار فرمایا۔کشنگنج میں منعقدجمعیۃ علماء بہار کے دسواں اجلاس عام میں شرکت کی میں نے دعوت دی،تو انہوں نے قبول کیااور تشریف لاکر ذرہ نوازی کی،یقیناوہ ہمہ جہت شخیت کے مالک تھے،ان کے انتقال سے ایک خلاہوگیاہے۔جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ ایصال ثواب کااہتمام بھی گیا۔جناب مولانا محمدقاسم صاحب کی دعاءپر تعزیتی نشست اختتام کو پہونچی۔

مولانااسرارالحق قاسمیؒ عالم باعمل، مقرر ، صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایماندار ممبرپارلیمنٹ تھے:علماء
مولانا اسرارالحق قاسمی ؒ کے سانحہ ارتحال پرمدرسہ تعلیم القرآن تکیہ کالے خاں میردرد روڈ،نئی دہلی میں تعزیتی پروگرام کا انعقاد، دہلی کے ائمہ و علما اور مدارس کے ذمہ داران کی شرکت
نئی دہلی (پریس ریلیز)معروف و مشہور عالم دین و قوم وملت کے مخلص مفکر ملت حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی ؒ ایم پی کشن گنج و رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند ،رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر تعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے سانحہ ارتحال پرمدرسہ تعلیم القرآن تکیہ کالے خاں میردرد روڈ،نئی دہلی میں ایک تعزیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیاجس میں دہلی کے ائمہ و علما اور مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔ پروگرم کی صدارت مولانا عارف قاسمی صدر آل انڈیا امام فاؤنڈیشن اور سرپرستی مفتی اعجازارشد قاسمی نے کی، جبکہ نظامت قاری احرار جوہر قاسمی نائب صدر آل انڈیا امام فاؤنڈیشن نے کی۔ اس موقع پر تعزیت پیش کرتے ہوئے مفتی اعجازارشد قاسمی نے کہاکہ مولانا اسرارالحق قاسمی نہایت نیک ملنسارکے ساتھ ایک عالم باعمل ہونے کے ساتھ ایماندار ممبرپارلیمنٹ تھے۔وہ ملت وقوم کیلئے چھوٹے چھوٹے پروگرام میں لمی مسافت طے کرکے چلے جاتے تھے ، ان کی شفقت ومحبت میرے اوپر ہمیشہ رہی ہیں۔انہو ں نے مولانا قاسمی کی شفقتوں کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی میری کتابیں شائع ہوئیں توحضرتؒ نے مفصل مقدمات لکھ کر میری تحریر اور تصانیف کی حوصلہ افزائی کی۔مولاناساجدرشیدی صدر آل انڈیا امام ایسوسی ایشن نے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مولاناقاسمیؒ سے میری بہت کم ملاقاتیں ہوئی ہیں مگر جب بھی ملاقات کا شرف حاصل ہواتو انہیں ملت کے لئے فکرمند پایا۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہمیشہ مدارس اسلامیہ کی تعمیر ترقی کیلئے فکرمند رہتے تھے۔ مولانا عارف قاسمی نے کہاکہ مولانااسرارالحق قاسمیؒ بیک وقت ایک عالم باعمل، مقرر ، صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایماندار ممبرپارلیمنٹ تھے۔انہوں نے مولانا قاسمیؒ کاخدمات کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ ملت کے نونہالوں کی تعلیمی ترقی کے لئے انہوں نے آل انڈیا تعلیمی وملی کونسل کی بنیاد ڈال کر بڑی خدمات انجام دی ہیں ،کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کا قیام بھی ان کی ہی کوششوں کا ثمرہ ہے جو قوم کے لئے نعمت مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ مدرسہ تعلیم القرآن تکیہ کالے خاں میردرد روڈ،نئی دہلی کے بانی ومہتمم مولانا قاسم نوری نے کہاکہ حضرت مولانا کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مولانا اسرارالحق قاسمیؒ سے میری ملاقات دہلی کے ایک معروف ادارہ میں ہوئی تو ٹوٹے جوتے پہن رکھے تھے ، مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ اتنا بڑا عالم اور کئی مدارس اورتنظیموں کے ذمہ دار ہونے کے باوجود خاکساری کتنی ہے۔ انہوں نے مولاقاسمی ؒ جیسا قوم وملت کے لئے رہنما، مخلص اور ہمدردصدیوں پیدا ہوتے ہیں ،مولانا کے انتقال سے امت میں جو خلا پیداہواہے اس کی تلافی ناممکن ہے۔ اس موقع پر قاری عبدالسمیع نے مولانا قاسمی ؒ کے انتقال پر تعزیتی نظم پیش کیا۔ تعزیتی جلسہ میں قاری شاہدبدری، مولاناتسلیم الدین، مولانا محمدقاسم بھوری بھٹیاری، حافظ اسلام الدین بوانہ،حاجی امین الدین،مولانا واعظ الدین،مولانا غیاث الدین، حافظ توحید، حافظ عبدالحلیم، قاری محمد جاوید، حافظ عاشق الٰہی، قاری محمدشہباز، خالد بھائی وغیرہ نے تعزیت پیش کی۔ مولانا اسعد اللہ کی دعا پر تعزیتی پروگرام کا اختتام ہوا۔

مولانا اسرارالحق کے انتقالِ پرملال کے بعد ملت اسلامیہ میں گہرا سوگ
مولانا محمد یحییٰ کریمی۔ (صدر جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب)

مشہور عالم دین، بےباک خطیب،دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن،اور ممبر آف پارلیمینٹ جناب مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی کے انتقال پرملال پر جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب ہماچل پردیش و چندی گڑھ کے صدر جناب مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب نے گہرے رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہا مولانا اسرار الحق صاحب کی وفات کی خبر سن کر گہرا رنج ہوا اور دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرماکر مولاناکو اپنی جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔اور مولانا کریمی نے مزید کہا کہ مولانا اسرار الحق صاحب کا انتقال ملک وملت کےلئے ایک عظیم خسارہ ہے، کیونکہ مولانا ایک نمایاں شخصیت کے مالک اور گوناگوں خصوصیات کے حامل تھے، تمام لوگوں کے یہاں یکساں طور پر مقبول اور محبوب بھی تھے۔مزید برآں مولانا مختلف میدانوں میں آخری سانس تک دینی، سیاسی سماجی خدمات انجام دیتے رہے اور1986میں دینی تعلیمی بورڈ کے کےاحیاءنوکے موقع پر جمعیۃ علماءہند کے سابق صدر وامیرالہند حضرت فدائے ملت مولانا سیداسعد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دور میں جمعیۃ علماءہند کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔جمعہ کی نماز کے بعد گاؤں ترواڑہ میں دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا اور دیگر جمعیتہ علماء کے کارکنان سے بھی ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کے اہتمام کی اپیل کی گئی۔مولانا کریمی نے کہا کہ مختصر الفاظ میں مولاناقاسمی ایک عظیم اور باکمال شخصیت کے مالک تھے، اور وہ صرف ایک سیاسی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ ہندوستان کے چند مایہ ناز علماءکرام میں سے ایک تھے ۔ وہ ایک متبحر عالم دین اور مصلح قوم بھی تھے ۔بالخصوص تاریخ اسلام پر ان کی گہری نظر تھی اور اس میں وہ کافی ممتازاور نمایاں تھے اور فن صحافت کے شاہکار ہونے کے ساتھ وہ فن خطابت کے شہسوار بھی تھے۔اللہ تعالی امت اسلامیہ کو مولانا کا نعم البدل عطاءفرمائے۔اوران کی بال بال مغفرت فرمائے۔

کرما ہاٹ بانکا میں مولانا اسرارالحق قاسمی کی حیات و خدمات پر خصوصی جلسہ کا انعقاد
بانکا بہار( گراونڈ رپورٹ : محمد سفیان القاسمی ایڈیٹر جہازی میڈیا جھارکھنڈ )

جمعیۃ علماء بلاک دھوریا ضلع بانکا کے زیر اہتمام مورخہ 12 دسمبر کو کرما کے تاریخی مقام شاہی عیدگاہ کرما ہاٹ میں مفکر ملت مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی رح کی حیات و خدمات کے موضوع پر ایک پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں گڈا بانکا اور بھاگلپور سے علماء دانشوران اور عام لوگوں نے شرکت کی. مجمع سے خطاب کرتے ہوئے صدر جلسہ اور جمعیۃ علماء بلاک دھوریا بانکا کے صدر مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی رح صرف عالم دین اور عابد شب بیدار ہی نہیں تھے بلکہ قوم و ملت اور ملک کے بےلوث اور سچے خادم بھی تھے انھوں نے جہالت کے خاتمے کے لئے مسلسل جدوجہد اور انتھک کوششیں کیں. مولانا عرفان قاسمی نے کہا کہ حضرت مولانا کا انتقال ضرور ہوا ہے لیکن ان کا مشن ختم نہیں ہوا ہے ان کا مشن تھا جہالت، ناخواندگی اور پسماندگی سے مقابلہ کرنا اور محتاجوں و بے سہاروں کی مدد کرنا آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ آپ لوگ تہیہ کریں کہ اس مشن کو آگے بڑھائیں گے اور اس کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے
مفتی نظام الدین قاسمی نے کہا کہ 2018 کا سال ہمارے کے لئے صدمہ اور ناقابل تلافی نقصانات کا سال رہا. اس سال بہت سی عظیم شخصیتوں کا سانحہء ارتحال پیش آیا اور تازہ سانحہ جو مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی کی وفات کی شکل میں میں پیش آیا وہ بلا شبہ بےحد جانکاہ ہے
مولانا سفیان قاسمی نے کہا کہ مفکر ملت نور اللہ مرقدہ ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک تھے اور ان صلاحیتوں کا استعمال انھوں نے قوم و ملت کی خدمت کے لئے کیا. بلاشبہ ان کے احسانات عظیم اور ان کی خدمات لازوال ہیں اور ان خدمات و احسانات کا تقاضہ ہے کہ قوم بھی اپنے محسن کو یاد کرے چنانچہ آج کے اس پروگرام کے انعقاد پر منتظمین اور سامعین تمام لوگ قابل مبارکباد باد ہیں
مفتی زاہد امان قاسمی نے کہا کہ حضرت نور اللہ مرقدہ کا مبارک ساعت میں اور تہجد کی نیت سے اٹھنا اور وضو کی حالت میں اپنے محبوب حقیقی کے پاس جانا ان کی عند اللہ مقبولیت اور اعلی مقام و مرتبہ کا حامل ہونے کی دلیل ہے جبکہ مولانا خالد اقبال قاسمی نے کہا کہ ان کے اخلاق و کردار بہت اعلی تھے انھوں نے مدارس و مکاتب کا جال بچھا یا اور کشن گنج میں ایک اقامتی گرلز اسکول قائم کرنے کے علاوہ کشن گنج میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کے قیام کے لئے بڑی جد و جہد کی، بلا شبہ ان کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے
ان کے علاوہ مولانا ثناء الحق قاسمی مولانا عبد القدوس اور مولانا سرفراز صاحب قاسمی نے پر مغز خطاب کیا اور مولانا شمیم اختر نے اپنی نظم سے سامعین کو محظوظ کیا پروگرام 11بجے سے شروع ہوکر 3بجے اختتام کو پہنچا اخیر میں مولانا محمد یونس جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بلاک دھوریا نے تمام سامعین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا مفتی ظہیر الدین صاحب کی دعا پر مجلس ختم ہوئی اور دعا سے پہلے قرآن پڑھ کر ایصال ثواب بھی کیا گیا سامعین میں مولانا محمد نظام الدین جے پور مولانا مقصود رحمانی کلیم ٹیلر محمد بشارت اور ڈاکٹر طیب وغیرہ وغیرہ تھے اس پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا محمد الیاس ثمر قاسمی نے انجام دیئے

مولانا اسرار الحق قاسمی مشہور مبلغ دین و عظیم سیاستدان تھے
مجاہدالاسلام صدیقی صدر مدرسہ تجویدالقرآن ایجوکیشن ٹرسٹ مصطفی آباد لونی غازی آباد یوپی
حضرت مولانا کا انتقال ملت اسلامیہ کے لیے عظیم خسارہ ہے حضرت کے انتقال سے پوری علمی دنیا سوگوار ہیں حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی رحمتہ اللہ علیہ سادگی کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے والے عظیم سیاستدان تھے حضرت کا جو مقام علماء و سیاستدانوں میں تھا وہ اپنی مثال آپ ہے حضرت سادگی منکسرالمزاجی اور ملنساری کے بدولت ہر طبقے کے لوگوں میں مقبول تھے حضرت مولانا کو تحریر و تقریر دونوں پر ملکہ حاصل تھا حضرت والا کا تعلق سیاست کے ساتھ مدارس دینیہ اور ملک کی مشہور تنظیم آل انڈیا تعلیمی وملی فاؤنڈیشن سے تھا آل انڈیا تعلیمی وملی فاؤنڈیشن سے پہلے آپ ملک کی مشہور تنظیم جمعیۃ علمائے ہند سے جڑےہوئے تھے اور ابھی حال ہی میں آپ کو ملک کی ممتاز یونیورسٹی ام المدارس دارالعلوم دیوبند کارکن شورہ منتخب کیا گیا آپ ایک کامیاب سیاستدان تھے لیکن آپ نے ہمیشہ اپنی توجہ علم دین سے رکھا آپ مختلف اداروں کے سرپرست بھی تھے آپ نے بہت ساری کتابیں لکھیں جس سے مدارس کے طلباء فیضیاب ہو رہے ہیں حضرت والا بے مثال وائس تھے آپ کا انتقال موت العالم موت العالم ہے اللہ حضرت کے درجات کو بلند کرے اور آپ کی رحلت اسلامیہ میں خلا پیدا ہوئی ہے اللہ اپنے فضل سے اس کو پر فرمائے آمین ثم آمین۔

مولانااسرارالحق قاسمی کی ملی و سماجی خدمات ناقابل فراموش
ٹیڑھاگاچھ بلاک کے جھالاچوک میں منعقدہ تعزیتی جلسہ میں مولانا انوار عالم ،مفتی جسیم اختر قاسمی اور ایم ایل اے مجاہد وغیرہ کا اظہار خیال

کشن گنج:حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت دینی،ملی،سیاسی اور سماجی حلقوں کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پرہونا بظاہرمشکل نظر آتاہے۔ان خیالات کا اظہاربزرگ عالم دین اور دارالعلوم بہادرگنج کے ناظم مولانا انوار عالم نے ٹیڑھاگاچھ بلاک کے جھالاچوک میں منعقدہ تعزیتی جلسہ میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں علماء،سماجی کارکنان اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ موجودتھے، اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔انھوں نے کہاکہ مولانا کی نماز جنازہ میں جتنی بڑی تعداد جمع ہوئی اور جس بڑے پیمانے پر لوگوں نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیاہے اور اب تک پورے ملک میں تعزیتی جلسوں اور دعائے مغفرت و ایصال ثواب کا جولگاتار سلسلہ جاری ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے حلقے میں بلکہ ملک بھر میں کس درجہ مقبولیت حاصل تھی اور لوگوں کے دلوں میں ان کی کتنی زیادہ قدر تھی۔مولانا انوار نے کہاکہ مولاناجیسا بے نفس اور ملت و قوم کے دردمیں گھلنے والا انسان اب شاید ہی ہمیں دیکھنے کو ملے،انہوں نے اپنا سب کچھ ملت کی خدمت کے راستے میں قربان کردیا،ممبر پارلیمنٹ ہونے کے باوجود کوئی ذاتی جائیداداور مال و دولت نہیں اکٹھاکیا،انہوں نے سیاست کو سماج کی خدمت کے ذریعہ کے طورپر اختیار کیاتھا،چنانچہ جس طرح وہ پہلے سماجی شعبوں میں خدمت کررہے تھے اسی طرح ایم پی بننے کے بعد بھی لوگوں کی خدمت میں مصروف رہے۔دارالعلوم بہادر گنج کے استاذ حدیث مفتی جسیم اختر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ حضرت مولانا کی رحلت سے ہم سب نہایت مغموم ہیں اور ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ و پسماندگان اور سیمانچل کے لئے عظیم سانحہ ہے،بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کاناقابل تلافی نقصان ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فقیر صفت انسان تھے اور بڑی بے نیازی سے قوم کی خدمت کرتے رہے،زندگی کے آخری لمحات تک انہوں نے دین کی خدمت کی اور مسلمانوں کو مساجد و مدارس اور دین سے محبت کرنے کی تلقین کرتے رہے۔انہوں نے کہ اس موقع پر جمع ہونے والے ہزاروں کے مجمع اور مختلف بلاکوں اور سماجی حلقوں کے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کایہاں شریک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ مولانا سے کس قدر عقیدت رکھتے تھے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کا انتقال ہوتا رہتا ہے اور آیندہ بھی ہوتا رہے گا لیکن مولانا کی وفات پر جس طرح تمام ملک میں تعزیتی جلسے،ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیاجارہاہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ہم نے مولانا کے مقام و مرتبہ کو پہچاننے میں غلطی کی اور ان کی جس طرح قدرکرنی چاہئے تھی ہم نے ان کی ویسی قدر نہیں کی۔انہوں نے اپنی پوری زندگی علاقے کے لوگوں کی ترقی بھلائی اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے کی جدوجہد میں صرف کرنے کے ساتھ اپنے آپ کو ملت کی فلاح و بہبودکے لئے وقف کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ مولانا اسرارالحق صاحب اپنے مخالفین سے بھی بدلہ نہیں لیتے تھے ،وہ صبر کے معاملے میں ہمالیہ پہاڑکی طرح مضبوط تھے ،ایم پی رہنے کے دس سال کے درمیان میں نہ توانہوں نے اپنے کسی سیاسی مخالف کو پریشان کیانہ انہیں جیل بھجوایا،اسی طرح وہ اپنے سیاسی مخالفین کے الزامات وغیرہ کا جواب دینے کے بجائے مثبت انداز میں اپناکام کرتے رہتے تھے ،سیاست میں بھی انہوں نے اسلامی روایات کو قائم رکھا اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی تھی۔ یہ پروگرام مدثرآزاد چھوٹے مکھیا کے زیر اہتمام منعقد کیاگیا تھا۔اس موقع پر انہوں نے مولانا کی وفات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کشن گنج کو اب مولانا جیسا سیاسی و سماجی رہنما اور عظیم رہبر نہیں مل سکتا،وہ اس علاقے کے تمام لوگوں کے مخلص قائد و خادم تھے اور انہوں نے پوری زندگی دوسروں کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔اس موقع پرایم ایل اے ماسٹر مجاہد، ڈاکٹر ظریف احمد،رحمان گنج کے مولانا نفیس احمد،جمعیۃ علماء بہادر گنج کے نائب سکریٹری قاری تنویر احمد،قاری مسعود،قاری مشکور،مفتی شاہ نجم اور مفتی جاوید اطہر وغیرہ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔پروگرام کے دوران اسجد امینی نے مولانا اسرارالحق قاسمی کی شان میں ایک نہایت دردانگیز مرثیہ پڑھاجسے سن کر سامعین متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور سب کی آنکھوں سے آنسورواں ہوگئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: