اسلامیات

مدارس، مدرسین اور مال زکوٰۃ۔۔

*باسمہ تعالی*

*مدارس، مدرسین اور مال زکوٰۃ۔۔۔*

*زین العابدین ندوی*
سنت کبیر نگر۔ یوپی

مدارس اسلامیہ یقینا بلا شک وشبہ ایمان ویقین کی حفاظت گاہ بھی ہیں اور اس میں اضافہ کا ذریعہ بھی، ایک طویل ترین مشاہداتی تاریخ جس کی گواہ ہے، ہر زمانہ میں اس کی افادیت و اہمیت مسلم رہی ہے اور آج بھی شرعی منہاج اور شفاف نظام کے ساتھ جو بھی ادارہ قائم ہے اس کا اپنا ایک اثر ہے، ان سب حقائق کے اعتراف کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں مدارس کے لبادہ میں کسب معاش کا ایک جال پورے ملک میں پورے نظم و انتظام کے ساتھ بچھایا جا چکا ہے، خدمت دین کے نام پر انصرام دنیا کا کاروبار بھی زوروں پر ہے، گلی محلہ، چوک چوراہے پر جا اور بیجا مدارس کا قیام جس کی کھلی دلیل ہے، اس وقت دنیا میں سب سے بڑا کاروبار تعلیم کا کاروبار ہے بلکہ تعلیم کا مقصد ہی حصول دنیا بن چکا ہے learning for earning کا تصور ہر دل ودماغ میں ثبت کر دیا گیا ہے، افسوس تو یہ ہے کہ یہ فکر اب ان مدارس میں سرایت کر گئی ہے جس کی بنیاد میں بھی اس کا تصور نہ کیا گیا ہوگا اور اس کے بانی اول جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو معرفت رب، اصلاح نفس اور تمییز بین الخیر والشر کا ذریعہ بتایا ہے، ان کی مبارک زندگی جس کی عملی تصویر ہے۔

اب ہم تھوڑا سا توقف کرتے ہیں اور اپنے ملک میں خدمت دین، فکر انسانیت اور بہی خواہی کے نام پر پھیلے ہوئے مدارس کے جال کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں اس موقع پر چار قسم کے مدارس سے واسطہ پڑتا ہے
*1۔ ایک قسم* وہ ہے جو بظاہر مدرسہ تو ضرور ہے اور وہاں اعلیٰ درجہ کی تعلیم کا انتظام بھی ہے، لیکن اس کا مالیاتی نظام سرکاری ہے جسے ہم سرکاری مدرسہ بھی کہہ سکتے ہیں، اب میرے خیال سے سرکاری کہہ دینے کے بعد کسی خاص وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی، اس لئے کہ کوئی بھی سرکاری محکمہ سرکار کی پالیسی سے خود کو علاحدہ نہیں کر سکتا، بر سر عام نہ صحیح در پردہ اس کی حمایت کرنا تو اس کا ایمان ہے جس کے بغیر گاڑی نہیں چل سکتی، تو اب ایسے اداروں سے وابستگی کے کیا معانی؟ وہاں سے خیر کی توقع، خدمت دین اور فکر انسانیت کی امید چہ معنی دارد؟ معاف کیجئے گا مدرسہ کی اس پہلی قسم کی ورق گردانی پر آپ کو ایسی شخصیات بھی نظر آسکتی ہیں جن کی زبانوں پر قوم وملت کی فکر کا کلمہ ہمیشہ ورد کے دورانیہ میں ہوتا ہے اور مزید یہ کہ وہ قوم مسلم کی نمائندہ ہستیوں میں شمار کی جاتی ہیں (اس کی تحقیق آپ خود کر سکتے ہیں)

*2۔ دوسری قسم* میں وہ مدرسے آتے ہیں جس کے سپید وسیاہ کا مالک تنہا ایک شخص ہوتا ہے، گویا وہ اس خطہ ارضی کا بلا شرق غير تنہا بادشاہ ہوتا ہے اور وہاں باس گیری کے ناجائز اصولboss is always right پر عمل درآمدی ہوتی ہے، جہاں نہ تو کوئی شفافیت ہوتی ہے اور نہ ہی سوال وجواب کا کوئی ڈیسک، ان کے خلاف نکلنے والی زبان بغاوت تسلیم کی جاتی ہے خواہ خدائی اصول میں خرد برد ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، انصاف پسند اور حق گو کو ظالم، باغی اور متمرد جبکہ متلمق، کف گیر اور چاپلوس کو کو خیر خواہ اور دین اسلام کا سپاہی تسلیم کیا جاتا ہے، اس فہرست میں بھی ایسی ایسی دگج شخصیات نظر آتی ہیں جو مسیحائے ملت بنے بیٹھے ہیں (اس کی تحقیق آپ خود بھی کر سکتے ہیں)

*3۔ تیسری قسم* میں وہ مدرسے آتے ہیں جو ایک کمیٹی کے تحت چلتے ہیں اور کمیٹی ہی گویا اس مدرسہ کی تقدیر کا فیصلہ ہوتی ہے، افراد کمیٹی حسب تقاضہ نظام کو آگے پیچھے کرتے ہیں اور مدرس اپنی ملازمت کو بحال رکھنے کے لئے ان کو خوش کرنے میں خود خوشی کے احساس سے محروم رہتا ہے، تیسری قسم مذکور دو قسموں سے بقدر غنیمت ہے مگر اس میں بھی بارہا دیکھا گیا ہے کہ شوری کے واسطہ ایک گندا سیاسی گیم کھیلا جاتا ہے اور اس میں ایسے ہی افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو جی حضوری کی صلاحیت سے مالا مال ہوں باقی معاملات کھوکھلے ڈبے سے زیادہ ان کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی (آپ سب اپنے گاؤں محلہ کے مدرسوں کا جائزہ لیجیۓ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے)

*4۔ چوتھی قسم* ان مدرسوں کی ہے جو تقریباً ناپید ہیں اور اگر ہیں بھی تو منصہ شہود پر جلوہ گر نہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد انسان کے بجائے اللہ کو راضی کرنا ہے جس کے لئے بینر اور بڑے بڑے پوسٹر کی ضرورت نہیں ایسی تعلیم گاہوں کا قیام اس وقت کی ضرورت ہے۔

اگر آپ اقسام مدارس کو پڑھ کر فارغ ہو چکے ہوں تو لیجئے اب مدرسین کے اقسام بھی ایک نظر دیکھ ہی لیجئے۔
*1. پہلی قسم* کبیر زادوں کی ہے جو گرچہ صلاحیت وصالحیت سے محروم ہوں لیکن مرجع الخلائق بنے ہوتے ہیں اور وہی پیر زادہ کبیر زادہ لوگوں کے منظور نظر ہوتے ہوئے ان کی توجہات کا مرکز بنے رہتے ہیں اور وہی مسند ریاست و صدارت پر فائز کئے جاتے ہیں، ایسا معلوم ہوتا کہ معاذ اللہ انہیں کے دم سے نظام زندگی قائم ہے۔

*2. دوسری قسم* ان مدرسین کی ہوتی ہے جو ان کبیر زادوں کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کا ورد کرتے نظر آتے ہیں اور تملق کے راستہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کی لاکھ جتن کرتے ہیں اپنی ناکارگی کو چھپانے کا اس کے علاوہ انہیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ تو پھر کجا ماند مسلمانی؟

*3. تیسری قسم* ان شاطر مولویوں کی ہوتی ہے جو اپنی شاطرانہ اور عیارانہ چالوں سے قبضہ جمانے کا ہنر رکھتے ہیں اور اپنی چال ومکر کے سہارے روزی روٹی کے انتظام میں لگے رہتے ہیں، اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی ع

*4. چوتھی قسم* ان مخلص مدرسین علماء کی ہے جنکو ظالمانہ نظام کے قائم کرنے والوں نے باغی گردان رکھا ہوتا ہے اور ان کی زبان حق کو روکنے کی ناجائز کوشش کرتے ہیں اور کامیاب نہ ہونے کی صورت میں انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد یہ رونا کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوتا یہ خود کہاں کا انصاف ہے؟ عدل وانصاف کے قاتل جبہ پوشوں نے اپنی برادری کے ساتھ اس قدر ظلم کر رکھا ہے تو غیر برادری جو ہمارا اعلانیہ دشمن ہے ظلم کرے تو کیا تعجب ہے۔

*آخر میں آئیے مدارس کے مالی فنڈ پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں، عام طور پر ہمارے ملک میں مدارس کو مصارف زکوٰۃ میں شمار کرتے ہوئے خوب رقم اکٹھا کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا مدارس واقعة مصرف زکوٰۃ ہیں؟ جس طرح مال زکوٰۃ میں خرد برد کرتے ہوئے اس کو بیجا طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس سے جہاں ایک طرف دینے والے کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی وہیں دوسری طرف لینے والوں کے حق میں بھی وہ مال پاک نہیں ہوتا، حیلہ حوالہ کی مدد سے فراڈ کرتے ہوئے جس اعلیٰ سطح پر مال زکوٰۃ سے کھلواڑ کیا جاتا ہے وہ ایک افسوسناک پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: