اسلامیات

مدارسِ اسلامیہ کا تعاون ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ

مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

مدارس؛دین کے حفاظتی قلعے
مدارسِ اسلامیہ اور دینی تعلیم گاہیں در اصل اس صفہ چبوترے کی شاخیں ہیں جس کے بانی معلم کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات بابرکت تھی، جہاں کھجور کے چھپر تلے ٹاٹ اور چٹائی پر بیٹھے ابوزر و ابو ہریرہ تیار ہوئے ہیں، جی ہاں!مدارس اسلامیہ صفہ کے مشعل کی وہی شمعیں ہے جہاں قال اللہ و قال الرسول کی روشنی بکھیری جاتی ہے، جہاں دینِ اسلام، علم و عمل کے تحفظ اور بقا کی فکریں گردش کرتی رہتی ہیں، جہاں مادیت کے اس تاریک دور میں شمعِ ایمانی کا چراغ روشن رہتا ہیں، شرعی احکام و اقدار اور اسلامی روایات کی حقیقی روح کو برقرار رکھا جاتا ہے، اسلامی عقائد،امن پسندی اور انسانی دوستی کو فروغ دیا جاتا ہے، جو اسلام کے شعائر اور دین کے حفاظتی قلعے ہیں،شاید یہی وجہ ہے کہ معاندینِ اسلام اور مخالفینِ دین کو یہ مدارس ایک آنکھ نہیں بھاتے، مدارس کی فلاح و ترقی،استحکام وخوشحالی ان کو ہضم نہیں ہوتی، جسکی بنا پر ہر دور میں اسلام کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور آج بھی بنایا جارہا ہے کسی نہ کسی طرح مدارس کو یرغمال بنا کر اسلام کے ان عظیم قلعوں کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، لیکن الحمد للہ مدارس بلاکسی خوف و خطر اسلام کی تبلیغ اور اشاعتِ دینِ حنیف کا پرچم سنبھالے میدان میں جمے ہوئے ہیں، اور دین اسلام کی تحفظ و بقا کے لئے کوشاں و سرگرداں ہیں۔

مدارس اسلامیہ کی عظیم خدمات
تاریخ گواہ ہے کہ مدارس اسلامیہ نے امت کو دین کی بنیادوں سے جوڑے رکھا اور معاشرہ کی پاکیزگی کے لیے ایسے رجال کار پیدا کیے جو پوری ملت کے لیے نفع بخش ثابت ہوئے؛چنانچہ
(1)مدارس نے وحیے الٰہی اور آسمانی تعلیمات کوعملی نمونہ کے طور پر باقی رکھا روشن خیالی اور مادیت کے اس دور میں اسلام کے اس عظیم ورثہ کی حفاظت کی
(2)مدارس نے قرآن وسنت کی تعلیم اور دینی علوم کی اشاعت وفروغ میں کلیدی کردار اداکیا
(3)مدارس نے لاکھوں نادار اور غریب طلبہ کو تعلیم سے بہرہ ور کیا۔
(4)مدارس نے مسلمانوں میں دینی رہنمائی اور مذہبی تعلیم کے لئے رجال کار فراہم کئے،اور نہ جانے کتنے حفاظ و علماء، مؤذنین و ائمہ ،دعاۃ اور مبلغین، قضاۃ و مفتیان کرام،امت کو فراہم کیے
(5)عقائد وعبادات واخلاق اور مذہبی کردار کو تحفظ فراہم کیا ۔
(6) اسلام کے خاندانی نظام اور تہذیب وثقافت کی حفاظت کی۔
(7)مادہ پرستی ،اورخودغرضی کے اس دور میں قناعت اورایثار کو مسلمانوں میں باقی رکھنے کی کوشش کی۔
اگر ہم غور کریں گے تو سمجھ میں آئے گا کہ نہ جانے مدارس اسلامیہ اپنے اپنے علاقے اور اپنے اپنے مقام پر کیسی کیسی عظیم خدمات سرانجام دے رہے ہیں،اور یہ مدارس اسلامیہ کے یہ وہ احسانات ہیں جس پر پوری امت کو ممنون و مشکور ہونا چاہیے۔
شاید علامہ اقبال رحمہ اللہ نے انہیں فوائد اور دو رس نتائج کو مد نظر رکھ کر کہا تھا:ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنےدو، غریب مسلمانوں کے بچوں کوانہیں مدارس میں پڑھنےدو،اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟جوکچھ ہوگامیں انہیں اپنی آنکھوں سےدیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگاجس طرح” اندلس” میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود ہوا آج "غرناطہ” اور "قرطبہ”کے کھنڈرات اور” الحمرا ء” کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے "تاج” اور دلی کے "لال قلعے” کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اوران کی تہذیب کا کوئی نشا ن نہیں ملے گا‘‘

آمدم پر سر مطلب
یہ بات "عیاں را چہ بیاں”کے مصداق ہے کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر کوئی پریشانی کا شکار ہے، متوسط طبقے کے افراد ہو یا ادنیٰ طبقہ کے ہر کوئی اس وبا کے خطرناک نتائج بھگت رہا ہے جس میں مدارس کی آمدنی کافی متاثر ہوگئی ہے، ان دنوں دینی مدارس کا وجود شدید خطرات میں گھرا ہواہے، مدارس کا مالیاتی نظام حکومتی تعاون اور فنڈ کے بغیر رمضان المبارک میں مخیر افراد کی زکوۃ و صدقات اور عطیات کے تحت چلا کرتا تھا، لاک ڈاؤن کی اس گھمبیر صورت حال میں مالیات کی فراہمی اور اساتذہ کی تنخواہ، طلبہ کے قیام و طعام اور رہائشی سہولیات کے اخراجات کا مسئلہ اربابِ مدارس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے،حتی کہ مدارس کی مالیاتی صورتِ حال اس قدر ابتر ہوگئی کہ ملک کے مؤقر مدارس سے اساتذہ کی معزولی کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں؛ قطعِ نظر کہ یہ درست ہے یا نہیں،حالات کی سنگینی اور وارثین انبیاء کی یہ ناگفتہ بہ صورت حال زر در افراد کے لیے غور و فکر کا مقام ہے اور خدمت دین کا ایک بہترین موقع بھی۔
غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہی مدارس اور انکے فیض یافتہ خدامِ دین معاشرہ کی اصلاح اور امت مسلمہ کی زبوں حالی کے خاتمہ کے لیے کمر بستہ ہوکر قلیل تنخواہوں پر گذارا کرلیتے ہیں، دنیاوی لذتوں کو خیر باد کہہ کر دین اسلام کی سربلندی اور رضائے الہی کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ
لہذا ان نازک ترین حالات میں ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ہے کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینہ میں جبکہ ایک نیکی کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے
(1)ہم مدارس و مساجد اور ان سے منسلک رجالِ کار ائمہ و مؤذنین، حفاظ اور علماء معلمین و معلمات کی حتی الوسع اعانت کریں، یاد رکھیے!! یہ حضرات وارثتِ نبوی کے علمبردار ہیں انکی عزتِ نفس کی تذلیل ہمارے لیے خسارے کا باعث ہوسکتی ہے اس لئے خدارا اپنے عطیات کی ادائیگی کے وقت اہل ثروت خدام دین کی عزت نفس کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔
(2)مدارس سے حسب سابق رابطہ کرکے انکی امداد و اعانت کریں،اور مختلف طریقوں سے انکی ضروریات کا خیال کریں کیونکہ مدارس کی اعانت در اصل دین اسلام کی اعانت ہے کہ ان مدارس سے اسلام کی آبیاری ہوتی ہے۔
(3)اپنی رقوم مدرسہ کے اکاؤنٹ نمبر پر ارسال کردیں ورنہ تو اسکو محفوظ رکھ کر حالات کے سازگار ہونے کے بعد مدارس کے حوالے کریں۔
(4)اصحاب خیر اور اہلِ ثروت کو مدارس اسلامیہ کی طرف متوجہ کرائیں۔
(5)یہ دیکھیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم تو مکمل نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ خدام دین اور محافظین شریعت کے گھروں کے چولہے بجھے ہوئے ہیں اور فاقہ کشی سے گذر رہے ہیں،کہیں یہ حال تو نہیں کہ ان معمارانِ قوم کے معصوم بچے بھوک سے سے بلبلا رہے ہوں
خدارا ایسی نازک صورتحال میں اپنے مخلص مدارس اور خدام دین کو فراموش نہ کریں
اللہ پاک اس وبا سے ہماری اور تمام امت مسلمہ اور ساری انسانیت کی حفاظت فرمائے اور جلد سے جلد حالات کو سازگار بنائے، مدارس اسلامیہ اور مراکز دینیہ کی غیبی حفاظت فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: