اہم خبریں

مدارس سروے پر جمعیت کی اہم گائڈ لائن

یوپی میں جاری سروے کے تناظر میں
اہل مدارس کے لیے چند اہم مشورے واقدامات
اجلاس تحفظِ مدارس ( منعقدہ ۶؍ستمبر ۲۰۲۲ء بمقام نئی دہلی) کی تجویز کے مطابق ۱۳؍رکنی اسٹیرنگ کمیٹی کی ہنگامی میٹنگ ۱۲؍ستمبر ۲۰۲۲ء بروز پیر بمقام مفتی کفایت اللہ ہال ، مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہندنئی دہلی ، زیر صدارت حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب ، صدر جمعیۃ علماء ہند منعقد ہوئی جس میں صدر کے علاوہ مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، جناب مجتبیٰ فاروق صاحب جماعت اسلامی ہند ، مولانا کلیم اللہ خاں صاحب سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی اور مولانانیاز احمد فاروقی صاحب ایڈوکیٹ سپریم کورٹ شریک ہوئے ۔
حالات کے تجزیے کے بعد کمیٹی نے درج ِذیل گائیڈ لائن جاری کی ہے
(۱) چوں کہ مدارس کے سروے کا کام شروع ہو چکا ہے اور مختلف مقامات سے رپورٹس موصول ہورہی ہیں کہ مدارس کے ذمہ داران رہ نمائی و مدد کے لیے رابطہ قائم کررہے ہیں ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ فوری طورپر اس کا کوئی مناسب انتظام کیا جائے۔کمیٹی نے اس بات پر بھی غور کیا کہ کچھ لوگ جلد بازی میں غلط رہ نمائی کررہے ہیں جس کا نقصان ہو سکتا ہے ، اس صورت حال کے مدنظر لوگوں کی رہ نمائی کے لیے مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ایک مجلس عمل قائم کی گئی ہے جس کا کنوینر مولانا شبیر مظاہری صاحب کو مقرر کیا گیا ہے :

۱
مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند

99716 28838
70160 57908
۲
مولانا شبیر مظاہری صاحب ،کنوینر مجلس عمل
لکھنو
98216 50187
۳
مولانا کلیم اللہ قاسمی صاحب، معاون جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی
امبیڈکر نگر
80766 09154
۴
مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی صاحب صدر جمعیۃ علماء وسط زون یوپی
لکھیم پور
93361 58148
۵
مولانا مفتی ظفر قاسمی صاحب فرخ آباد ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء وسط زون یوپی
فرخ آباد
99355 67058
۶
جناب سید حسین احمد صاحب ، خازن جمعیۃ علماء یوپی
لکھنو
94150 23307
۷
مولانا امین الحق عبداللہ صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی
کانپور
73887 83405
۸
قاری ذاکر حسین صاحب ناظم جمعیۃ علماء یوپی
مظفرنگر
97565 87200
۹
مولانا علائو الدین صاحب ،ناظم جمعیۃ علماء یوپی
ہاپوڑ
88999 78133
۱۰
مولانا منیب احمد باندوی صاحب،آفس سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی
لکھنو
63945 60548

علاوہ ازیں مدارس کی رہ نمائی کے لیے درج ذیل مشورے قابل ذکر ہیں
(۱ ) جن مدارس میں متعین افراد سروے کے لیے آئے ہیں ، ان کو صرف اپنے بارے میں معلومات فراہم کرنی چاہیے، دیگر مدارس کی طرف سے معلومات بہم پہنچانایا دوسروں کے فارم اکٹھا کرکے اجتماعی طور پرداخل کرنا قانوناً مناسب نہیں ہے ۔
(۲) جتنا سوال سروے کمیٹی کی طرف سے کیا جائے ، اپنے جوابات کو وہیں تک محدود رکھیں، اپنی طرف سے اضافہ کرنے سے گریز کریں ۔
(۳ ) یہ بات واضح ہو نا ضروری ہے کہ غیر منظور شدہ یا غیر رجسٹرڈ مدارس کے لیے حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی گائیڈ لائن جاری نہیں کی گئی ہے ، جس کے مطابق مدارس کو عمل کرنا لازمی ہو بلکہ مدارس آرٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹ء سے مستثنیٰ ہیں ۔
(۴) اگر آپ اپنے مدارس کو اسکول بنا کر پیش کریں گے تو فوری طور پر آرٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹ء عائد ہو گا اور اس کے مطابق تمام شرائط کی پابندی کرنی ہو گی ، بصورت دیگر جرمانہ عائد ہو گا اور ادارہ کو بند بھی کیا جاسکتا ہے۔اس کے مدنظر اپنے مدرسہ کو اسکول ظاہر کرنا سخت نقصان دہ ہے، مدارس کو دینی مدارس ہی ظاہر کیا جائے جن کے قیام کا ہمیں آرٹیکل ۳۰کے تحت بنیادی حق حاصل ہے۔ہاں اگر کہیں مدرسہ اور اسکول دونوں موجود ہوں ، تو اسکول اور مدرسے کی معلومات الگ الگ فراہم کریں۔
( ۵) جاری کردہ سرکلر میں دارالاقامہ ( ہاسٹل ) سے متعلق جو سوالات کیے گئے ہیں ، ان کا جواب این سی پی سی آر کی گائیڈ لائن کو ذہن میں رکھتے ہوئے دینا چاہیے۔ اس سے متعلق چیک لسٹ کا اردو ترجمہ پیش کیا جاچکا ہے ، جو ہیلپ لائن سے حاصل کرسکتے ہیں۔
( ۶) بارہ سوالوں میں چار ایسے عنوانات ہیں جن کی پابندی ملکی قانون کے تحت ضروری ہے چاہے مدارس تسلیم شدہ ہو ں یانہ ہوں:(۱) زمین کی ملکیت (۲) تعمیر اور نقشے کی منظوری (۳)مالی آمد وصرف کا حساب (۴) مدرسہ چلانے والی تنظیم یا ٹرسٹ کا رجسٹریشن۔ان چار چیزوں سے متعلق اپنے کاغذات درست کرلیں۔ اس سلسلے میں کوئی گائیڈ لائن یا مدد کی فوری ضرورت ہو تو ہیلپ لائن پر رجوع کریں ۔
(۷) مزید تفصیلات و رہ نمائی کے لیے جمعیۃ علماء ہند، ملک کے ممتاز وکلائ؍چارٹر اکائونٹنٹس ، ماہرین تعلیم اور ریٹائرڈ اعلی افسران پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی بنارہی ہے جس کے تحت جلد ہی مدارس کی رہ نمائی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی ( ان شاء اللہ )
(۸) سردست ایک ہیلپ لائن جاری گیا ہے ، جس کا مستقل نظام لکھنودفتر واقع نزد بڑی مسجد عیش باغ میں ہوگا ، متعلقہ مدارس کے ذمہ داران گائیڈ لائن یا مدد کے لیے کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہیں:

محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: