مضامین

مدتوں روتے رہیں گے تجھ کو یہ اہلِ چمن

مولانا ظفر امام ، قاسمی صاحب

_____ مورخہ ۲۸/ ربیع الاول ١٤٤۰ھ مطابق 7 / دسمبر 2018ء بروز جمعہ تقریبا 3 : / بجے دن کو قائدِ ملت ، رہبرِ دین وشریعت ، علوم و فنون کے بحرِ ناپیدا کنار ، درد و الم کا سراپا درماں ، انسانیت کا مسیحا ، فرشتہ صفت انسان ، نام و نمود سے کنارہ کش، ولی صفت کامل بزرگ، اللہ و رسول کی محبت میں ہمیشہ زبان کو رطب اللسان رکھنے والا مردِ مجاہد ، ہر آن قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں لگانے والا عظیم مردِ درویش، سیاست کے رمز آشنا اور جزرس انسان، میدانِ خطابت و صحافت کا بلا استثناء تاجور حضرت اقدس الحاج مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی نوّر اللہ مرقَدہ و بَرّدَ مَضجَعہ (ایم پی، کشن گنج و رکن شوری دارالعلوم دیوبند ) کے جسدِ خاکی کو ان کے آبائی گاؤں ( کانٹا ٹپو، کشن گنج ) کے نجی قبرستان میں لاکھوں نم آنکھوں اور سسکتی اور بلکتی ہچکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا… *سقی اللہ ثراہ وجعل الجنۃمثواہ
حضرت مولانا رحمہ اللہ کے جنازے میں حاضر لوگوں کے لاکھوں کی تعداد نے گزشتہ سال” سیمانچل ” میں آئے بھیانک ، تباہ کن اور ہوش ربا سیلاب کی یاد تازہ کردی، دونوں میں فرق بس اتنا تھا کہ وہاں تو پانی کی طغیانی اور اس کے تیز بہاؤ نے قیامت ڈھا رکھی تھی اور یہاں پر انسانوں کے رؤوس اور ان کے قدموں کی چاپوں نے قیامت جیسی ہولناکی اور حشر سامانی کا نظارہ کرایا تھا ، جدھر دیکھئے اور جس طرف بھی اپنی پلکوں کو زحمتِ نظارہ دیجیے تاحدِ نگاہ و بصر صرف انسانوں کے کالے کالے کاسۂ سر ہی نظر آرہے تھے ، اور فرشِ زمین پر ٹھٹھ مارتا ہوا انسانوں کا سمندر ہی دکھائ دے رہا تھا ، بار بار دل میں خیال آتا کہ ایک بار ان کی تعداد کا اندازہ اور قیاس لگالوں اور اپنے اس خیال کو رو بہ عمل لانے کے لئے اپنی آنکھوں کے” گوشہائے پتلی ” کو گردش میں لاتا پر ناکام وہ پتلیاں ” *یَنقلِبْ إلیکَ البصَرُ”* (پ ۲۹/ سورہ ملک )والی آیتِ مبارکہ کی تلاوتِ لذیذ سے لطف اندوز ہوتی ہوئ اپنی جگہ میں سمٹ اور سہم کر رہ جاتیں ؛ اور اس وقت یوں محسوس ہونے لگتا کہ غیب سے کوئ ہاتف کانوں میں یوں آواز دے رہا ہے ” کہ تعجب کا کیا مقام ہے ؟ یہ تو اپنے نیک اعمال کے کئے کا بدلہ ہے ” *جی ہاں قارئین* ! آخر ایسا کیونکر نہ ہوتا کہ جس شخص کی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کی راہ کی طرف لوگوں کو بلانے ، ان کے دینی و ملی اور دنیوی مسائل کی گتھیاں سلجھانے ، ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کی بےچارگی پر رونے ، بے سہاروں اور یتیموں کے اشکوں کی لڑیوں اور اس کے تیز دھاروں کو اپنے پوروں میں سمیٹنے اور اپنے دامن کو تر کرنے ، کمزوروں کو حوصلہ دلانے ، روزگاروں کے لئے آگے کی راہ ہموار کرنے ، ہر چھوٹے بڑے کی آواز کو یکسانیت کا رتبہ دینے اور دن رات ان کی دینی و دنیوی فلاح و بہبودی کے لئے اپنے تمام تر عیش و آرام کو تج دینے اور قربان کردینے میں گزری ہو بھلا اس کی نمازِ جنازہ اس دھوم اور شان سے ادا نہیں کی جائیگی تو اور کس کی ادا کی جائیگی ؛
ایسی ہی عظیم اور نابغۂ روزگار شخصیات کے متعلق کسی کہنے والے نے کہا ہے اور کیا ہی خوب کہا ہے ،
ع_ عاشق کاجنازہ ہےذرا دھوم سےنکلے
مولانا موصوف رحمہ اللہ نے انگریزی دورِ حکومت کے زوال سے پانچ سال قبل یعنی ١۹٤۲ ء میں سرزمین کشن گنج کے ایک پسماندہ علاقہ کے ایک گاؤں ( کانٹا ٹپو) میں اپنی آنکھیں کھولی ، اور مختلف مدرسوں اور مکاتب سے ابتدائ تعلیم حاصل کرتے ہوئے مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیکر اس کے علمی و فنی کشکول سے مکمل طریقے پر اپنے سینہ و دل کی آبیاری کی ، اور اس کے علمی آبشار سے خوب خوب بہرہ ور ہوئے ( جس کی تفصیلات بہت جلد کسی قلمکار کے قلم کی جولانی کو تابناکی بخشےگی) اور پھر وہاں سے 1964ءمیں اعلی سے اعلی نمبرات کے ساتھ سندِ فراغت حاصل کی ، بعدہ حضرت والا نے بیگوسرائے کے ایک مدرسے ( بدر العلوم ) سے درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا ، اور وہاں مسندِ تدریس کو زینت بخشنے اور رہِ علوم و فنون کی طرف بے شمار طالبانِ علومِ نبوت کی دست گیری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قلمی جوہر کا بھی لوہا منوایا ، اس دوران حضرت رحمہ اللہ نے کئ تالیفی و تصنیفی کارمے انجام دیے ، چنانچہ آپ کی مایہ ناز تصنیف ” مسلم پرسنل لاء اور ہندستان ” اسی زمانے کی یاد گار ہے ، لیکن علاقہ اور غیر علاقہ کی تعلیمی پسماندگی ، جہالت و بد دینی اور فکری بے رہ روی کے پیشِ نظر حضرت کی دردمندانہ اور بہی خواہانہ طبیعت نے ہندستان کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں مکاتب و مدارس کے نیٹ ورک اور جال کو پھیلانا شروع کیا ، جس کے چھلکتے ساغر اور ابلتے جام و مینا کے شرابِ طہور سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں بادہ خوروں نے اپنے تشنہ کام عروق کو تازگی بخشی اور اس کے علمی اور فکری فیضان سے سینکڑوں بھٹکے لوگوں کو راہ مستقیم نصیب ہوئ ، اور اللہ و رسول سے ان کا سر رشتہ استوار ہوا ، اس بیچ حضرت کی خداداد اور وہبی صلاحیت اور حضرت کی جانفشانہ اور محنت کش طبیعت کو دیکھتے ہوئے سراخیلِ ” جمیعۃ علماء ہند ” نے حضرت کو 1974/ء میں ” جمیعۃ علمائے ہند” کے گروہ میں شامل ہونے کی پیش کش کی جس کو حضرت نے قبول کرلیا، اور پھر حضرت نے جمیعۃ کے پلیٹ فارم میں رہ کر اپنی خداداد اور قابلِ رشک صلاحیت کا وہ جوہر دکھایا کہ حضرت کچھ ہی دنوں یعنی 1981 ء میں جمیعۃ کے جنرل سکریٹری چن لئے گئے اور پھر حضرت نے برسوں اس عہدۂ جلیلہ پر براجمان ہوکر وہ بے شمار کارہائے نمایاں سر انجام دیے جن کے تذکرے کے بغیر ہمیشہ جمیعۃ کی ” تاریخ کے صفحات ” ادھورے اور ناقص کہلائینگے ، اور درحقیقت وہی وہ شخص ہیں کہ جس نے اہلِ کشن گنج کو سب سے پہلے جمیعۃ اور اہلِ جمیعۃ کے طریقۂ کار سے روشناس کرایا ؛ اور اس کے افادے اور استفادے کے رازِ سر بستہ سے آگاہی فراہم کی ؛ لیکن آپ کا کاروانِ عروج یہیں پر رکا نہیں ، بلکہ ۲۰١٧ء میں آپ کی شہرۂ آفاق شخصیت اور ہمہ جہت صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو "ازہرِ ہند ” دارالعلوم دیوبند کے ارکانِ شوری کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ، اور یوں آپ نے ایک بار پھر ضلع کشنگنج کا سر فخر سے اونچا کردیا *فجزاہ اللہ أحسن الجزاء*
حضرت کا دل ہمیشہ فلاحِ انسانی کے لئے تڑپتا رہتا اور اس کی دستگیری کے لئے ایک ماہئ بے آب کی طرح مچلتا رہتا ، وہ ان کے درد کو اپنا درد سمجھتے اور ان کے غم کو اپنا غم گردانتے ، اس کی ایک زندہ مثال یہ ہیکہ ایک مرتبہ ایک جلسہ میں حضرت افریقہ کے جنگل میں زندگی گزارنے والے درویشوں اور وہاں کے خانہ بدوشوں کا حال بیان کررہے تھے کہ وہاں کے لوگ کیسی کیسی مشقتوں اور پریشانیوں سے زندگی گزارتے ہیں حتی کہ کبھی ان پر بھوک مری اور فاقہ کشی کی ایسی نوبت بھی آن پہونچتی ہے کہ وہ نانِ شبینہ کو بھی ترس جاتے ہیں، اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے حضرت کی زبان مبارک اس طرح لرزاں ہوئ اور آپ کا گلا اس طرح بھر آیا اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی آنکھوں کے آبی سطح پر تیرنے والے آنسؤوں کے قطروں نے اس انداز اور نرالی دھج سے ان کا ساتھ نبھایا کہ مانو وہ ان کے کوئ اپنے ہوں ، یہ سن کر مجمع میں سکوت کا سا عالم چھاگیا ، اور "رقیق القلب ” لوگوں کا دل کانپ اور لرز اٹھا ؛
حضرت کو تعلیم سے بےانتہا محبت تھی ، حضرت کی آخری خواہش یہی ہوتی کہ کوئی بھی فرد ملک کا ایسا نہ ہو جو زیورِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ نہ ہوا ہو اور اس کے لئے حضرت طرح طرح کی تدبیروں کا تانا بانا بنتے اور اس کو بروئے کار لانے کے لئے جی توڑ جتن اور دوڑ دھوپ کرتے ، اور اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ملک کے قریہ قریہ اور چپہ چپہ میں طویل در طویل اسفار کرتے ، جس کا جیتا اور جاگتا ثبوت یہ ہیکہ حضرت ” تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن نئ دہلی ” کے بانی اور مؤسس ہیں ، حضرت کی تعلیمی فکر کا یہ دائرہ صرف لڑکوں اور مردوں تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ لڑکیوں اور صنف نازک کے سلسلے میں بھی وہی خیال رکھتے تھے جو مردوں کے لئے رکھتے تھے جس کا زندہ و جاوید ثبوت ” ملی گرلز اسکول ، کانٹا ٹپو ، کشن گنج ، بہار ” کا قیام ہے ، کہ جس کے قیام کے اولِ دن سے لیکر آج تک علاقے اور غیر علاقے کی تقریباً سینکڑوں ، بہنیں اور بیٹیاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوئیں ، اور آج حضرت کے سانحۂ ارتحال پر اس کی بلند بالا دیواریں بھی اشک برسانے اور سسکیاں لینے سے اپنے کو نہ روک پائیں ، اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آج وہ ہرا بھرا اور حضرت رحمہ اللہ کے خونِ جگر سے سینچا ہوا باغ نے اپنے کریم نگہبان اور مہربان مالی کو کھودیا ، جس کے ایک ایک پتے سے حضرت کی محنتِ مسلسل اور سعئ پیہم کی سگندھ آتی ہے ؛
مولانا موصوف رحمہ اللہ 2009 ء سے لیکر تادم آخر کشن گنج کے ایم پی اور ممبر آف پارلیمنٹ بھی رہے ، اس بیچ مولانا نے سینکڑوں رفاہی کاموں کو سر انجام دیا اور قوم کے پیسوں کو پانی کی طرح اپنی ذات پر صرف نہ کیا ، بلکہ ان پیسوں کو ضرورت مندوں ، حاجت مندوں ، بیواؤں اور یتیموں پر صرف کیا اور ہمیشہ ایک درویشانہ زندگی گزارنے کو اپنے لئے پسند فرمایا ، کہیں دور تک بھی آپ کے اندر ٹھاٹھ باٹ کی جھلک تک نظر نہیں آتی تھی ،آپ کے آستانۂ عالیہ میں باریابی کے لئے نہ تو کسی خدم و حشم کے جھمیلوں سے گزرنا پڑتا اور نہ ہی کسی دربان سے پروانہ لینے کی حاجت ہوتی ،آپ کی درویشانہ زندگی کی تفصیل اس سے زیادہ اور کیا ہوگی کہ تقریباً ایک دہائ تک کشن گنج کے *” ایم پی "* جیسے عہدۂ جلیلہ پر فائز رہتے ہوئے صحیح ڈھنگ کا ایک باتھ روم اور باورچی خانہ بھی نہ بنا پائے ، کہ آج مولانا کے ہاں بنے قدیم ڈھانچے اور بوسیدہ باتھ روم پر گرے چند ٹوٹے آبخورے ( لوٹے ) اور پھوس سے بنے طباخ گھر میں جلاون کے طور جلائے جانے والے مکئ اور باجرے کے چھلکے اس پر شاہدِ عدل ہیں ؛
یقینا حضرت کشن گنج کے ایم پی تھے لیکن ہمیشہ ایک اچھے اور سلجھے ہوئے انسان، دردمندانہ طبیعت ، نفع رساں طینت ، صفتِ مضرت و آزار رساں طبیعت سے سخت متنفر اور بےزار اور ان جیسے دیگر بےشمار اوصافِ حمیدہ سے متصف حامل شخص کی حیثیت سے ان کی شخصیت علاقے اور غیر علاقے میں متعارف رہی ، حضرت انتہائ متواضع ، منکسر المزاج، اعلی ظرف اور ہنس مکھ انسان تھے ، آپ کے نورانی چہرے پر ہروقت اور ہر لمحہ اعلی ظرفی اور دلوں کو موہ لینے والا تبسم جلوہ گر ہوتا ، آپ ہر ایک کو ایک درجہ دیتے اور ہر ایک کو ایک نظر سے دیکھتے ، کیا چھوٹا کیا بڑا ، کیا امیر کیا غریب ، ہر ایک کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کرتے اور ہر ایک کے ساتھ خوشدلی سے ملتے ، کسی کے ساتھ کوئ امتیاز نہیں برتا جاتا ، کسی فرد یا قوم کی کوئ تخصیص نہیں تھی ، جب بات کرتے تو ہمہ تن گوش ہوکر ان کی باتوں کو سنتے اور حتی الامکان یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے کہ میں آپ کے دکھ اور درد کے ساتھ ہوں ؛
آپ رحمہ اللہ نام و نمود سے سخت نفرت کرنے والے اور انتہائ اعلی درجے کے مخلص انسان تھے ، جو بھی کام وہ کرتے تھے اس میں کہیں دور تک بھی دکھاوے اور ریا کی آمیزش نہیں ہوتی ، بلکہ اس میں ہمیشہ رضائے الہی کا پہلو غالب رہتا ، گویا آپ کا ہر ہر کام ” سراپا اخلاص ، اور *إنما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّه لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزاءً وَّ لاَ شُكُورًا* ” پ ۲۹/ سورہ دہر ( یعنی ہم تو صرف اللہ کے لئے کھلاتے اور پلاتے ہیں ، ہم کو نہ تم سے بدلہ چاہئیے اور نہ شکریہ ) کا عملی تصویر تھا، آپ رحمہ اللہ ایک عظیم پایۂ استقامت پر کھڑے رہنے والے انسان تھے ، آپ کا تقوی بھی بڑا ہی قابلِ رشک تھا ، سیاست جیسے گندے اور پر خار گھاٹی میں بھی کبھی آپ کے پائے استقامت میں لرزاں پیدا نہ ہوا ،اور نہ ہی کبھی سیاست کی روٹی ان کے دین کی راہوں میں حائل ہونے کی جسارت کرسکی ، بلکہ وہ ہر محاذ اور ہر موڑ پر دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے اور جو بھی کام وہ کرتے اس میں دینی نکتۂ نظر کو ضرور ملحوظِ خاطر رکھتے ، آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بےانتہا محبت تھی آپ کی زبان مبارک سے اللہ کا نام اس ادا اور تلذذ کے ساتھ نکلتا کہ سامعین کے دلوں میں امرت جل کی بوند ٹپکا دیتا ،اور کانوں میں حلاوت و چاشنی کا رس گھول دیتا ؛
حضرت رحمہ اللہ کو اپنے دین سے اور اپنے مذہب سے کتنی محبت اور کتنا پیار اور عشق تھا ، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب سنہ 2009ء میں حضرت کو کشن گنج کے مشہور میدان ” روئ دھاسہ ” میں” ایم پی” کا ٹکٹ دیا جارہا تھا جب کہ عموما ایسے موقع پر دجل اور فریب کے دہانے کھول دیے جاتے ہیں ، جھوٹ در جھوٹ کی بارشیں ہوتی ہیں ، حتی کہ بعض عہدے کے پجاری اور منصب کے حریص تو طیش میں آکر یہاں تک کہ دیتے ہیں کہ میں دن کے پچیسوں گھنٹے آپ کے سیوا پانی میں صرف کردونگا ، اس کے علاوہ میرا اور کوئ کام نہ ہوگا ، بس ایک بار صرف مجھے جتادو ، اور پھر جیت کے بعد اس کی ساری ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتی ہیں ، اور دین سے وہ اس طرح ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کہ ألامان و الحفیظ ؛ لیکن اس موقع پر حضرت نے جو کہا تھا ، وہ یقینا آبِ زر سے لکھنے اور دیبا و حریر اور کمخواب جیسے بیش قیمت اور بیش بہا کپڑے میں لپیٹ کر رکھنے کے قابل ہیں ، جو الحمد للہ آج بھی میرے لوحِ قلب پر ” سنہرے حروف ” سے منقوش ہیں اور جس پر مرورِ ایام اور زمانے کے آوا گمن ( آمد ورفت ) نے اب تک کسی بھی طرح سے اثر انداز ہونے کا رسک اپنے سر لینے کی بےجا جسارت نہیں کرسکا ہے ؛ آپ نے کہا تھا ” کہ اے لوگو! مجھے ایک بار خدمت کا موقع دو ، میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہاری فلاح و بہبودی اور کامیابی و کامرانی کے لئے اپنے شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں سے تیئس گھنٹے تمہارے پیچھے لگادونگا لیکن وہ ایک گھنٹہ جو بچ گیا ہے وہ اگر تم مجھ سے مانگوگے اور ناحق غصب بھی کرنا چاہوگے تو بھی میں نہیں دونگا ، کیونکہ وہ ایک گھنٹہ میں نے اپنے رب کے لئے وقف کر رکھا ہے جس کو دینے کے لئے میں کسی بھی طور راضی نہیں ہونگا، *اللہ اکبر*..
اور الحمد للہ مولانا نے اپنے دونوں ہی کام بحسن و خوبی اور مکمل امانت داری کے ساتھ انجام دے کر دکھا دیا کہ اپنے پیرانہ سالی ، ضعف و ناتوانی اور کمزوری و لاغری کے باوجود رَعایا اور پبلک کی خبر گیری ، دل دہی ، فریاد رسی اور چارہ جوئ میں کوئ بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا ، اور ہر موڑ اور محاذ پر ان کے دکھ درد کا معالج و معاون بن کر کھڑے رہے ، اور مکمل طریقے پر ان کے مداوی اور نصرت و امداد کی یقین دہانی کرائ ، سالِ گزشتہ جو ہمارے سیمانچل میں تباہ کن اور ہوش ربا سیلاب آیا تھا ، جس نے عقل و خرد کو مفلوج اور روزگارِ زندگانی کو معطل و منجمد کردیا تھا ، پورا علاقہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی ہوبہو تصویر بن گیا تھا ، اور چاروں سمت و اطراف صرف کیچڑ ہی کیچڑ اور دلدل ہی نظر آرہے تھے، ایسے نازک اور پر آشوب وقت میں یہ پچھتر سالہ ” ایم پی ” مکمل سادگی کا پیکر بنا ان دلدلستان اور کیچڑستان میں لوگوں کی خبر گیری کرتے اور پھیرا لگاتے نظر آرہا تھا ، اور دین کے معاملے میں آپ کے تغافل و تساہل برتنے کا تو کوئ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، فرائض ہی نہیں نوافل کا بھی اس قدر اہتمام تھا کہ آپ کے نوافل بھی کبھی فوت نہ ہونے پاتے ، آپ نوافل خاص کر صلوۃ اللیل ( تہجد کی نماز ) کے کتنے پابند تھے ، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی ” حیاتِ مستعار ” کی آخری رات ہے ، تقریبا رات کے ایک بجے تک ایک جلسے میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں ، اور پھر تقریبا ڈھائ بجے اپنے رب سے ہمکلامی کے لئے گوشۂ تنہائ اختیار کیا ہی چاہتے ہیں اور مصلی بچھائے اس پر کھڑا ہونا ہی چاہتے ہیں کہ خدا کا پیغامبر موت کا پروانہ لئے سرہانہ کھڑا ہوجاتا ہے اور پھر اچانک کچھ ہی دیر میں آپ پر دل کا دورہ پڑتا ہے ، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ کہتے ہوئے کہ ” لوگوں سے کہدینا کہ میری غلطیوں کو وہ معاف کریں اور کلمہ پڑھتے ہوئے” آپ نے اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردی *إنا لله و إنا إليه راجعون ؛* آپ کی اس قابلِ رشک موت پر کبھی یوں خیال آنے لگتا ہے کہ گویا حضرت جاتے جاتے ہمیں یہ کہ گئے ہوں کہ …
ع __ مرو اس طرح سے کہ دیر تک دنیا ماتم کرے
حضرت مولانا مرحوم پورے ملک بالخصوص سرزمینِ کشن گنج کا ایک ایسا مضبوط و محصون قلعہ تھے جس سے بڑی سے بڑی چٹان کو بھی ٹکرانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ، لیکن افسوس کہ وہ مضبوط قلعہ بھی خود کو لقمۂ اجل بننے سے نہ روک سکا ، اور صد افسوس کہ آج وہ وادئ موت کے اس بھیانک بھول بھلیوں میں جاگھسا ہے ، جہاں جانے کے بعد انسان ایسا گم ہوجاتا ہے کہ وہاں سے واپسی کا اسے کوأ سراغ ہی نہیں مل پاتا ؛
حضرت مولانا مرحوم صرف ایک سیاسی لیڈر ہی نہیں تھے بلکہ علوم و فنون کے ماہر ، تجربہ کار اور کہنہ مشق انسان تھے ، حضرت والا نے دارالعلوم دیوبند کے علم کے بحرِ ناپیدا کنار سے مکمل سیرابی حاصل کی تھی ، جس نے حضرت والا کے اقبال کو اوجِ ثریا پر پہونچا دیا تھا ، آپ کے علوم وفنون کے سامنے بڑے سے بڑے جبالِ علم بھی اپنا منہ کھولنے میں ہچک محسوس کرتے تھے ، ساتھ ہی ساتھ جہاں آپ ایک بہترین اور متسلسل مقرر تھے وہیں ایک بےباک صحافی اور کالم نگار بھی تھے ، جو قاری اور سامع ہر دو کے دل پر اپنا گہرا اثر چھوڑے بنا نہیں رہ پاتے اور جن کی تقریروں کو سن کر اور جن کی تحریروں کو پڑھ کر ذہن و دماغ عش عش کر اٹھتے ، ان کی کی جانے والی تقریریں اور تحریریں صرف کشنگنج ہی کے لئے نہیں بلکہ پورے ہندستان کے ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی تھیں ، لیکن ہائے افسوس کہ اب ان ساری چیزوں سے ہم یکسر محروم ہوگئے ، کیونکہ ایک فنی اور تخلیقی انسان کی موت ان کے سارے فنون اور تخلیقات کی موت کا سبب بنتی ہے جن کو وہ اپنے فن پاروں میں برتا کرتا تھا ؛
بلا شبہ مولانا کی زندگی کو بھی تاریخ زندگی کی ان” ریتوں اور عقدۂ لاینحل” کی ان نامبارک لڑیوں میں پرو کر پیش کرےگی ، جو ہر اچھے انسان کی زندگی کے ساتھ اب تک وہ کرتی آئ ہے ، کہ زندگی اکثر و بیشتر ایسی مختلف الجہات اور بالغ نظر شخصیت کے ساتھ زیادہ وفاداری نہیں کرتی بلکہ بہت جلد ایسی ہستیاں موت کا لقمۂ تر بن جاتی ہیں ، سو مولانا کے ساتھ بھی وہی ہوا کہ ابھی مولانا کے جلد جانے کی کوئ امید نہیں تھی بلکہ ابھی وہ جی سکتے تھے لیکن بھلا موت کی حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے اور اس کے وقتِ موعود کو بھلا کون ٹال سکتا ہے کہ ہرشخص کی موت چاہے وہ کوئی بھی ہو اس کے وقت پر آکر ہی رہتی ہے ، لیکن کچھ اموات ایسی بھی قابلِ رشک ہوتی ہیں جو اپنے پیچھے سسکیاں ، کسک ، ٹیسیں ، چبھن اور آنکھوں کو آنسوؤں کی طغیانی تھماجاتی ہیں ، مولانا رحمہ اللہ کی موت بھی انہی صفات کی حامل ہے کہ مولانا تو چلے گئے لیکن اپنے پیچھے والوں کےہاتھوں میں سسکیوں ، نالوں اور آہ و بکاؤں کی سوغات چھوڑ گئے ؛
یقینا مولانا رحمہ اللہ کی موت سے جو کشن گنج کو نا قابلِ تلافی خسارہ لاحق ہوا ہے اور جس طرح سے سرزمین کشنگنج میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے شاید ہی مستقبل قریب میں اس کی بھرپائ ممکن ہوسکے ، اب تک کی صورتِ حال سے تو یہی لگتا ہے کہ حضرت جیسا دور رس اور بابصیرت انسان ، جو کہ ہر میدان کا شہسوار ، وسیع الجہات ، دیدہ ور اور عالم گیر ہو دکھنے میں نہیں آتا ، بلکہ ایسی ہستیاں تو ہزاروں سال میں پیدا ہوتی اور جنم لیتی ہیں ؛ کیونکہ …
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
بھلوں مولانا چلے گئے اور اب تک تو شہرِ خموشاں کے زیرِ نگیں بھی ہوگئے ہیں لیکن ان کے ان مِٹ تابندہ نقوش اور ان کے چھوڑے علمی و فنی ورثہ سدا ہم سبھوں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوگا ، اور ان کی حسین اور دلفریب یادوں سے یہ "چمنِ لالہ و گل ” یونہی لالہ زار اور سر سبز و شاداب رہیگا ؛ ان شاء اللہ
آتی ہی رہی گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہیگا،
بس دعا ہے رب سے کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس کے اعلی سے اعلی مقام میں جگہ عنایت فرمائے ، پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے آمین ثم آمین…..
آسماں تیری لحد پے شبنم افشانی کرے
غنچۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close