اہم خبریں

مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی میں ثقافتی پروگرام منعقد

گڈا جھارکھنڈ
گڈا ضلع کے مدرسہ حسینہ تجوید القرآن دگھی میں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے ایک ثقافتی پروگرام منعقد ہوا اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ کے پرنسپل مولانا ریاض اسعد مظاہری نے کہا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں مسلمانوں کا اور خاص طور پر علماء کرام کا بہت اہم رول رہا ہے اگر ہمارے آباء و اجداد کی لازوال قربانیاں نہ ہوتیں تو یہ ملک کبھی آزاد نہ ہوتا اس لئے اس ملک پر ہمارا بھی اسی طرح حق ہے جس طرح دوسروں کا ہے اس لئے اربابِ حکومت کان کھول کر سن لیں کہ ہم لوگ اپنے آباء و اجداد کی اس سرزمین کو چھوڑ کر کہیں اور جانے والے نہیں ہیں، مولانا حامد الغازی نے کہا کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر میں ملک کے تمام باشندوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں. ہمیں اپنے ملک کے آئین پر بھی فخر ہے اور آئین سازوں کو بھی ہم سلام پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے ملک کا ایسا دستور بنایا جو یہاں کے تمام مذاہب اور تمام طبقات کے لوگوں کو اور بطور خاص اقلیتوں کو تمام تر تحفظات کی گارنٹی دیتا ہے مگر موجودہ ظالم سرکار جس طرح ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے جارہی ہے اور یہاں کے باشندوں کو اور بطور خاص مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنے کے لئے جس طرح نئے نئے ظالمانہ قوانین لا رہی ہے میں حکومت کو وارننگ دیتا ہوں کہ وہ اپنے ظالمانہ رویے سے باز آجائے ورنہ جس طرح ہمارے آباء و اجداد نے انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی اسی طرح کی تحریک چلانے پر ہم مجبور ہوجائیں گے. مولانا شمس پرویز مظاہری نے لوگوں سے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی بھی شخص کاغذات مانگنے آءے تو آپ کو ہر گز نہیں دینا ہے بلکہ اس کی اچھی طرح خبر لینی ہے. اخیر میں صدر مجلس کا مختصر خطاب ہوا اور سابق پرنسپل مولانا ادریس صاحب کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا، اس پروگرام کی صدارت جناب انوار الہدی صاحب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی محمد سفیان قاسمی نے انجام دیئے، پروگرام کی ابتداء میں مدرسہ کی طلبہ و طالبات نے نظم اور تقریر کی شکل میں دلچسپ مناظر پیش کئے. واضح رہے کہ مدرسہ میں ساڑھے نو بجے جھنڈا پھہرایا گیا اس کے بعد ثقافتی پروگرام ہوا جس کو خوبصورت اور منظم بنانے کے لئے مدرسہ کے اساتذہ مولانا تاج الدین قاسمی مولانا عبد الستار اصلاحی، ماسٹر رزاق مولوی قمر، مولوی اظہر، ماسٹر غفران، قاری ظفر وغیرہ کی بڑی محنت رہی، اس میں مدرسہ کے ابنائے قدیم کے علاوہ گاؤں کے دوسرے مدرسوں کے اساتذہ، ذمہ دار اور علمی و سماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں سابق پرنسپل مولانا منصور صاحب، مولانا عبد الغفور صاحب، اور مولانا سعد الدین صاحب بطور خاص قابل ذکر ہیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: