اہم خبریں

مدرسہ کے طلبہ کے لئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا مضر ہے؟

مفتی محمد سفیان القاسمی
مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

مدرسہ کے طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف اپنی تعلیم پر توجہ دیں، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں، اس سے ان کا تعلیمی نقصان ہوگا، وہ قوم کے مستقبل کا معمار ہیں، اگر وہ معمار بننے کے بجاءے دوسرے کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیں گے تو نہ صرف یہ کہ یہ ان کا ذاتی خسارہ ہوگا بلکہ قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا.

رہی بات سیاسی امور میں دلچسپی لینے کی تو فراغت کے بعد جو میدان چاہیں اختیار کریں، ویسے بعض لوگوں کو یہ مشورہ گراں گزرےگا کیوں کہ ان کی سوچ کے مطابق حالات ایسے آگئے ہیں کہ مدرسہ میں پڑھانے والے اساتذہ اور پڑھنے والے طلبہ سب کو اپنی مصروفیات چھوڑ کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا لازمی ہوگیا ہے جبکہ ابھی ایسے حالات نہیں آءے ہیں، جمہوری حکومت میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ کبھی سیکولر پارٹی کی سرکار رہتی ہے اور کبھی فرقہ پرست کی، اور جب سیکولر سرکار کے وقت مسائل پیش آتے ہیں تو فرقہ پرست سرکار میں دقتیں کیوں نہیں پیش آئیں گی؟ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے لئے مدارس کے طلبہ کا استعمال کیا جاءے. اس میں امکانی پہلو یہ بھی ہے کہ اگر خدا نہ خواستہ بچوں سے غیر ذمہ دارانہ حرکت ہو جاءے، ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجاءے یا پھر ان پر کوئی الزام لگ جاءے تو مدرسہ پر بھی زد آءے گی اور ان بچوں کے گارجین بھی پریشان ہوں گے اور مدرسہ کے ذمہ دار کو لعن طعن کریں گے کہ انھوں نے ہمارے بچے کو برباد کر دیا، لہذا مدرسہ کے طلبہ کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ غیر تعلیمی مشاغل سے اجتناب کریں.

بھلے ابھی یہ لازمی کہہ سکتے ہیں کہ ان طلبہ کے والدین، دادا، دادی، چچا، چچی، بھائی، بہن وغیرہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں، احتجاج کریں، دھرنے پر بیٹھیں، جب ان سارے لوگوں کے لگنے کے باوجود طلبہ اور ان کے اساتذہ کی ضرورت ہو تو پھر وہ بھی اپنا کام چھوڑ کر احتجاج کرنے والوں کا ساتھ دیں.

کچھ لوگ ان طلبہ کو تعلیم سے ہٹاکر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے اکسانے کا کام کر رہے ہیں اور ان ان مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کو میر جعفر بتانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طلبہ کو غیر تعلیمی مشاغل سے روکتے ہیں، ان کو بزدل اور حکومت کا دلال قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ در حقیقت یہی لوگ دشمنوں کے ایجنٹ ہیں جو طلبہ کی تعلیم میں رخنہ ڈال کر ان کو ناکارہ بنانا چاہتے ہیں اگر ایسے لوگ بہت زیادہ مخلص ہیں تو انھیں چاہیے کہ طلبہ کے والدین کو اکسائیں، ان کے رشتہ داروں کو ابھاریں اور خود بھی دھرنے پر موجود رہیں مگر خود تو اپنے روم میں آرام سے بیٹھ کر مضمون لکھتے ہیں اور دوسروں کو محاذ پر بھیج کر ان کے مستقبل اور ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں

Tags

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: