اہم خبریں

مذہبی نعرہ نہ لگانے پر مدرسہ کے طالب علم ذیشان اورشہزاد کی اترپردیش میں پٹائی

جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے متاثرہ اشخاص سے ملاقات کی، ضلع انتظامیہ سے ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہندستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں راہ گیروں پر مذہب کی بنیاد پر حملہ انتہائی تشویش کی بات: مولانا محمود مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند
نئی دہلی ۸/جون:
جمعیۃ ہند کے ایک وفد نے آج غازی آباد کے مسوری کے رہنے والے مدرسہ کے ایک طالب علم ذیشان ولد ابرار احمد اور پتھر کا کام کرنے والے شہزاد ولد نصرت ساکن ماہلی سے ملاقات کی اور ان کے احوال جانے۔واضح ہو کہ ان دونوں لوگوں کو الگ الگ واقعہ میں دتوڑی ایس ایس پبلک اسکول کے پاس منظم طریقے سے موجود شرپسندوں نے مذہبی منافرت کی بنیاد پر سخت زد وکوب کیااور جے شری رام جیسے مذہبی نعرہ نہ لگانے پر بے رحمی سے پیٹا تھا۔ یہ واقعہ ۴/جون کو پیش آیا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا غیور احمد قاسمی اور ہاپوڑ کے مولانا افتخار احمد قاسمی، مفتی اسجد عابدی بلند شہری،چودھری اطہرجیون نرسنگھ ہوم، مولانا مصطفی ناہل، سروری صاحب ناہلی، پردھان کامل وغیرہ پر مشتمل جمعیۃ کے وفد نے آج ذیشان اور شہزاد سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی اور متعلقہ افسران سے مجرموں کے خلاف جلد ازجلد قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا۔اس طرح کے واقعات کسی بھی مہذب سماج کے لیے انتہائی گھناؤنا اور مکروہ ہے کہ کسی بھی راہ گیر کو مذہبی نعرے لگانے پر مجبو ر کیا جائے اور نہ لگانے پر بھیڑ ان کو جان سے مارنے کی کوشش کرے۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے بارہا یہ کہا ہے کہ،ہندستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایسے واقعات انتہائی افسوس ناک اور ملک کی رسوائی کا سامان ہیں۔
مذکورہ واقعے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے پاس متاثرہ کی ایف آئی آر کاپی اور ان کی طرف سے عرضی موجود ہے، اس کے مطابق ذیشان ولد ابرار احمد فیض العلوم مدرسہ کا طالب علم ہے اور بائیس پارہ کا حافظ ہے،وہ اپنی بائیک سے خالہ کے یہاں نہالی جارہا تھا، صبح قریب آٹھ بجے جیسے ہی وہ دتوڑی ایس ایس ایس پبلک اسکول کے پاس پہنچا توپاس کے باغ سے دس بار ہ لوگ نکلے اور اسے روک کرنام پوچھا اور پھر جے شری رام کے نعرے لگانے کو کہا، جب اس نے انکار کیاتو اس پر دھار دار ہتھیار سے حملے کیے گئے، دریں اثنا فرید نگر کی طرف سے ایک آٹورکشہ آتی نظر آئی تو یہ شرارتی عناصر وہاں سے بھاگ گئے، کسی طرح جان بچا کر یہ طالب علم بھی وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا،لیکن وہ انتہائی خراب چوٹ اور زدوکوب کی وجہ سے گھنٹوں بستر پر تڑپتا رہا۔
بالکل اسی طرح کا واقعہ شہزاد ولد نصرت ساکن ماہلی تھانہ بھوجپورکے ساتھ پیش آیا، جو ہر روز اپنے ساتھی کامل ولد امرین کے ساتھ، اپنے پتھر کے کام کے لیے مذکورہ جگہ سے گزرتا تھا، حسب معمول وہ جیسے ہی مذکورہ اسکول کے پاس پہنچاتو باغیچے میں چھپے ہوئے دس بارہ لوگوں نے اس پر لاٹھی پتھر سے حملہ کردیا۔ اس سلسلے میں دونوں نے پولس میں شکایت بھی ہے، جس کی بنیاد پر چند لوگوں کی گرفتاری ہو ئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: