اسلامیات

مذہب سے کیا مراد ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں۔
(الاعلیٰ 87:18)
مذہب کے بغیر انسانیت کا وجود ممکن نہیں رہا ہے البتہ یہ درست ہے کہ بعض افراد اپنی پوری زندگی میں مذہب سے بے نیاز رہتے ہیں۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں، غالباً تاریخ میں پہلی مرتبہ بعض پورے ممالک ملحد ہوگئے اور بعض سیکولر بن گئے۔ یہ بھی درست ہے کہ بعض افراد کی یہ خواہش ہے کہ مذہب سرے سے رہے ہی نہیں۔ دور حاضر میں دنیا کی آبادی کا غالباً پانچ فیصد ملحد ہے اور تقریباً دس فیصد علانیہ طور پر مذہب بیزار ہے۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ مذہب بلکہ مذہب کے نام کو غلط استعمال کرنے کے باعث بہت سے مسائل اور مصائب پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ملحدانہ نظریات پر کاربند نظام ہائے حکومت مثلاً کمیونزم اور نازی ازم کے باعث بھی انسانیت کو انتہائی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے، انھوں نے اپنے ملحدانہ نظریات کو بسااوقات مذہب کے طور پر استعمال کیا۔ بہر کیف یہ حقیقت بے غبار ہے کہ بنی آدم کی واضح اکثریت مذہب سے محبت کرتی ہے اور یہی ہمیشہ امر واقعہ رہا ہے۔ 7.04 ارب آبادی کے 85 فیصد افراد آج یعنی 1436ھ بمطابق 2016 میں کسی نہ کسی مذہب پر عمل پیرا ہیں۔
گزشتہ کئی ہزار سال سے اور آج بھی دنیا کے بڑے مذاہب عیسائیت اور اسلام رہے ہیں۔ عیسائی دنیا کی کُل آبادی کے ایک تہائی ہیں اور مسلمان ایک چوتھائی۔ ان دونوں مذاہب کے پیرو دنیا کی 55 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ غرضیکہ گزشتہ دو سو سالوں میں جدید سائنس اور ٹکنولوجی کے منظر عام پر آنے کے باوجود بھی مذہب معدوم نہیں ہوا ہے اور تاریخ کی تشکیل میں آج بھی مذہب ایک مؤثر اور فعال قوت ہے۔
مذہب فطرت انسانی کا جزو ہے۔ مذہب انسان کی فطری اور شدید ضرورت ہے اور یہ انسان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اپنی نظم No Coward Soul is Mine میں ایملی برانٹے یہ اعلان کرتی نظر آتی ہیں: ‘‘میری روح بزدل نہیں یہ طوفان کی زد پر دنیاوی کرّہ میں ہراساں نہیں ہے۔ مجھے جنت کے درخشاں جلوے نظر آتے ہیں اور ایمان مجھے تقویت دیتا ہے اور خوف کے خلاف مجھے مستحکم رکھتا ہے’’۔
غرضیکہ مذہب زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے اور چونکہ مستقبل قریب میں بھی اس کے معدوم ہونے کا امکان نہیں اس لئے انسان کو مذہب کی حقیقت سمجھنا لازم ہے۔ ذیل میں ہم نے مذہب کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر کو پیش کیا ہے جو کہ قرآن اور حدیث (محمد ؐ رسول اللہ کے اقوال) سے ماخوذ ہے۔ اسلام دنیا کا آخری بڑا مذہب ہے لہٰذا ہر بنی نوع انسان کو، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، اس کو اسلام کا صحیح مختصر علم ہونا چاہئے۔
لفظ "مذہب” کے کیا معنیٰ ہیں؟
مذہب کے لئے عربی زبان میں لفظ ‘‘دین’’ مستعمل ہے اس کے اصلاً معنیٰ انکسار، حد اور اطاعت ہیں یہ لفظ ‘‘دَین’’ سے بھی متعلق ہے۔ جس کے لغوی معنیٰ قرض ہیں۔ بہر کیف دین کے معنیٰ اپنے آپ کو جھکانا اور حدود میں رہنا ہے کیونکہ ہم اللہ کے ماتحت ہیں۔ مزید برآں، ہم خدا کے مرہون منت ہیں کہ خدا ہی نے ہم کو تخلیق کیا۔ غرضیکہ خدا سے ہمارے فطری اور قدرتی تعلق کا نام دین ہے۔
دین کے لئے انگریزی لفظ religion ہے اس کے معنیٰ کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اصلاً یہ لاطینی لفظ re-ligio سے مشتق ہے جس کے لغوی معنیٰ از سر نو باندھنا ہے۔ اس میں کنایہ ہے انسان اور جنت کے مابین عہد اور پیمان کا۔ ہم خدا سے اپنے عہد کے پابند ہیں۔ مختصراً حقیقی مذہب انسان کو خدا سے منسلک اور مربوط کرتا ہے اور یہ انسان کی نجات اور جنت میں داخلے پر منتج ہوتا ہے اور اس کا دارومدار انسان کے خدا سے رشتے اور تعلق پر ہوتا ہے۔
قرآن کی رو سے توحیدی مذاہب کا پیغام ابدی ہے اللہ فرماتا ہے: ‘‘یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں’’ (الاعلی 87: 17-18)۔
موسیٰ کی کتاب سے مراد توریت یعنی عہد نامہ عتیق کی اولین پانچ کتب ہیں جو کہ بائبل کا ابتدائی جزو ہیں۔ ابراہیمؑ کی کتاب گم ہوچکی ہے یا غالباً وہ توریت میں ضم ہوگئی۔ بہر کیف ہمارے لئے یہ اہم تر نکتہ ہے کہ ان کتابوں کا پیغام یکساں تھا۔
یہ پیغام کیا تھا؟ اللہ نے اس کی حسب ذیل وضاحت کی ہے:
بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہت بہتر اور بقا والی ہے۔ یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں۔ (الاعلیٰ 87: 14-19 )
توحیدی مذہب کا بنیادی پیغام یہ ہے : (۱) خدائے واحد پر ایمان۔ (۲) آخرت پر ایمان (یعنی اللہ کے فیصلے پر ایمان)۔ (۳) نماز اور ذکر الٰہی۔ (۴) نفسانیت اور گناہ سے روح کو پاک رکھنا (یعنی نیکی کرنا)۔ باالفاظ دیگر یہ عقیدہ، طریقۂ کار اور نیک عمل پر مشتمل ہے۔
ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟
ان کا علم اس لئے ضروری ہے کہ ان کے ذریعہ مذہب کا یہ مقصد واضح ہوتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر انسان کی اخلاقی اور روحانی اعانت کرتا ہے۔ مذہب انسان کی اس دنیا اور آخرت دونوں میں مدد کرتا ہے۔ یہ نیکی کی قوت ہے ۔ یہ علم اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ اس سے مذہب کامکمل ضابطۂ حیات ہونا واضح ہوتا ہے۔ مذہب میں حقیقت عظمیٰ کا عرفان اور ایسا لائحۂ عمل ہوتا ہے جو زندگی کے ہر گوشے کو حاوی ہے۔ یہ نظام انتہائی طاقتور ہے البتہ جہاں طاقت ہوتی ہے وہاں خطرات بھی لاحق ہوتے ہیں۔ غرضیکہ نیکی کے فروغ کے لئے مذہب ایک زبردست قوت ہے لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ غرضیکہ مذہب کی صحیح فہم سے بڑھ کر انسانوں کے لئے کوئی اور شئے اہم نہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: