مضامین

مذہب کی سیاست سے اوپر اٹھ کربھی سوچیے صاحب ہمارے آئین میں مذہب قومی نہیں انفرادی مسئلہ ہے

عبدالغفار صدیقی 9897565066

مذہب کی سیاست سے اوپر اٹھ کربھی سوچیے صاحب
ہمارے آئین میں مذہب قومی نہیں انفرادی مسئلہ ہے
عبدالغفار صدیقی
9897565066
بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔یہاں جمہوری نظام نافذ ہے۔جس کے مطابق حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،حکومت تمام مذاہب کو یکساں نظر سے دیکھتی ہے۔مذہب کی تبلیغ و اشاعت کا کام اس مذہب کو ماننے والے لوگ اپنے طور پر کرتے ہیں۔بھارت کے ہر شہری کو آئینی طور پر کسی بھی مذہب کو اپنانے،اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ایسا نہیں ہے کہ یہ آزادی صرف 1947کی آزادی کے بعد ملی ہے،بلکہ اس سے پہلے بھی عملا یہ آزادی حاصل تھی،لیکن شاہی حکومت اور ڈکٹیٹر شپ میں عوام کی رایوں کا کوئی دخل حکومت سازی میں نہیں ہوتا۔اس لیے اس دور میں حکومت کی جانب سے مذہبی امور میں کوئی دخل نہیں دیاجاتا،بلکہ مذہبی امور کی انجام دہی اس مذہب کے علماء انجام دیتے ہیں۔جمہوری نظام میں حکومت کا انتخاب براہ راست عوام کرتی ہے اس لیے حکومت کرنے کے خواہش مند افراد و ادارے عوام کی پسند و ناپسند کو سامنے رکھ کر اپنی زبان کھولتے اور بند رکھتے ہیں۔
اس وقت ملک میں ایک بار پھر مذہب زیر بحث ہے۔یوں تو جب سے ملک آزاد ہوا ہے،مذہب کے نام پر ہزاروں فسادات ہوچکے ہیں۔آزادی کے فورا بعد ہی بابری مسجد تنازعہ شروع ہوگیا تھا۔اس کے علاوہ متھرا کی عید گاہ اور بنارس کی گیان واپی مسجد کے مقدمات شروع ہوئے،پھر پرسنل لاء پر سوالات اٹھے،کبھی قرآن مجید کی آیات کو نکالنے کی بات کہی گئی،کبھی اردو زبان کا ایشو کھڑا کیا گیا۔پھر الیکٹرانک میڈیا کا زمانہ آیا تو ٹی وی چینلوں پر مذہبی بحثیں شروع ہوگئیں،رام مندر کی تحریک چلی اور آج تک چل رہی ہے۔پٹھان فلم کی مخالفت صرف کپڑے کو رنگ کو لے کر کی گئی،جمہوری نظام کی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے،حکومت پر تنقید کی جاسکتی ہے،اس کے فیصلوں کے خلاف دھرنا و احتجاج کیا سکتا ہے،جیسا کہ سی اے اے اور کسان بل کے خلاف دیکھنے کو ملا،لیکن یہی خوبی اس وقت ایک بڑے فتنہ کا سبب بن جاتی ہے جب ہم اپنی آزادی کا استعمال غلط طریقہ پر کرنے لگتے ہیں۔ہماری آزادی کا ایک دائرہ ہے،جہاں پر دوسرے کا دائرہ شروع ہوجاتا ہے،ہمارا دائرہ ختم ہوجاتا ہے۔لیکن ہم اپنی زبان سے ایسے جملے بولتے ہیں جو دوسروں کی آزادی کو بھی ختم کردیتے ہیں۔مذہب کے عنوان پر ملک کے اہل کار یا سیاست دان جو زبان بول رہے ہیں وہ ملک کے مستقبل کے لیے مناسب نہیں ہے۔کسی وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ سناتن دھرم بھارت کا قومی دھرم ہے یا ایودھیا کا رام مندر راشٹریہ مندر ہے کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ اس سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔انسان کے دل کو تکلیف پہنچانا کسی دھرم میں بھی جائز نہیں ہے۔اسی طرح کسی لیڈر کا یہ کہنا کہ رام چرت مانس میں سب بکواس ہے،ایک بے ہودہ بیان ہے،یا کسی کی طرف سے رام چرت مانس پر پابندی کا مطالبہ غیر آئینی مطالبہ ہے۔اول تو مذہبی کتابوں یا مذہبی گروؤں پر سیاسی نیتاؤں کی بیان بازی ہی مناسب نہیں ہے اور پھر اس طرح کا بیان دینا جس سے کسی مذہبی کتاب کی توہین ہوتی ہو اور اس مذہب کے ماننے والوں کے عقیدے و آستھا پر چوٹ لگتی ہو کس طرح گوارا کیا جاسکتا ہے۔؟
لیکن جب ملک میں برسر اقتدار طبقہ ہی اپنی مریادائیں بھول جائے اور اسے اپنے غیر آئینی اور غیر انسانی حرکات پر پچھتاوے کے بجائے فخر ہونے لگے،جب اس کی طرف سے ایک خاص مذہب کو ہدف بنا کر توہین آمیز اقدامات کیے جانے لگیں،تو پھر یہ دروازہ ہر کس و ناکس کے لیے کھل جاتا ہے۔اس لیے کہ دنیا میں ایک فطرت کا قانون بھی ہے،جس کے مطابق آپ جیسا کریں گے ویسا ہی پھل پائیں گے،خار کے بیج سے پھولوں کی توقع کرنا اور نیم کے پیڑ سے آم کی امید کرنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔؟حکمراں خواہ کوئی بھی ہو،چاہے وہ مغل دور کے ہوں یا برٹش پیریڈ کے یا موجودہ زمانے کے اگر کوئی غلط قدم اٹھائیں گے تو اس کے نتیجے بھی غلط نکلیں گے۔اگر آپ گزشتہ آٹھ دس سال کے دور کا جائزہ لیں گے تو آپ کو ملکی سیاست مذہب کے محور پر گھومتی نظر آئے گی۔ایسا نہیں کہ مذہب کی بات پہلے نہیں ہوتی تھی،پہلے ذرا دائرہ کم تھا،کچھ دوسری باتیں بھی ہوتی تھیں،مہنگائی،بے روزگاری پربھی مظاہرے ہوتے تھے لیکن اس وقت نوے فیصد رخ مذہب کی جانب ہے۔یہ اس لحاظ سے تو اچھا ہے کہ لوگ مذہب کی طرف آئیں،اپنے خدا سے رشتہ جوڑیں،انسانون سے محبت کریں،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں مذہبی بحثوں سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے بلکہ صدیوں پرانا بھائی چارہ ہی ختم ہوا جارہا ہے۔ڈر اور خوف کا ماحول بن رہا ہے،مذہب کے احترام کے بجائے اہانت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔میرے نزدیک اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے اہل سیاست اور اہل حکومت نے جب دوسروں کے مذہب کا مذاق اڑایا،ان میں عیب نکالے،ان کو پارلیمنٹ میں ڈس کس کرکے قوانین بنائے تو فطرت کے قانون کے مطابق اب خود ان کا مذہب زیر بحث آگیا۔ٹی وی چینلز نے تو حد ہی کردی ہے،چار چھ گیانی جمع کرکے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کام کرتے ہیں،موضوع کچھ ہوتا ہے اور بحث کچھ ہوتی ہے۔اینکر سوالوں کو گھماکر پوچھتا ہے تو بحث میں حصہ لینے والا سوال کو درکنار کرکے کوئی دوسرا ہی ایشو چھیڑ دیتے ہیں۔مسلمان مبصرین تو ماشاء اللہ کچھ زیادہ ہی پیش پیش ہیں۔اب بتائیے رام چرت مانس پر مباحثہ ہو اور اس میں مسلمان دانشور جائیں کون سی تک ہے؟لیکن شہرت کی طلب اور لفافہ سب کچھ کرادیتا ہے۔
آج رامائن کے اشلوکوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا مطلب سیاق و سباق سے الگ کرکے مت دیکھیے،کل جب یہی بات قرآنی آیات کے متعلق کہی جارہی تھی تو دقیانوسیت کا الزام لگایا جارہا تھا۔کل محمد ﷺ کی حیات مبارکہ پر انگلی اٹھانے پر ضمیر کی آزادی تھی اور اس کو روکنے کا مطالبہ کرنے والے کٹر پنتھ تھے،آج پرشوتم شری رام کی بات آئی تو کہا جانے لگا کہ ان پر کوئی سوال نہیں کیا جاسکتاوہ سوالوں سے اوپر ہیں،شیطانی آیات کی مصنفہ کو آج تک ہم اس لیے مہمان بنائے ہوئے ہیں کہ اس نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔میرے بھائی جب آپ اپنے چھوٹے بچے سے دوسروں کو گالی دلوائیں گے تو کل بڑا ہوکر وہ آپ کو بھی گالیاں ضرور دے گا۔میری رائے ہے کہ مذہب کے بارے میں آئین میں جو کچھ ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے۔آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کام کرنے کی ضرورت ہے۔کسی موضوع پر تحقیق و ریسرچ کا کام نیتاؤں یا عوام کا نہیں ہے۔اس کے لیے ملک میں تحقیقاتی ادارے موجود ہیں۔مذہبی کتابیں،دھرم گرو اور عبادت گاہیں سب کے سب قابل احترام ہیں۔ان کی عزت کی جانی چاہئے۔
یہ بھی فرمایاجاتاہے کہ ہماری عبادت گاہوں کے ساتھ ماضی میں جو کیا گیا ہے،کسی کو توڑا گیا ہے،یا کسی کو نقصان پہنچا گیا ہے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ عمل اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ کسی عمارت کی درو دیواراگر خستہ ہوگئے ہیں تو آپ ان کی مرمت کیجیے،اس پر رنگ روغن کیجیے،لیکن تاریخ کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے بیٹھیں گے تو کیا حاصل ہوگا؟ اور گڑے مردے اکھاڑیں گے تو سماج میں تعفن ہی پھیلے گا،پھر یہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کون کرے گا،پھر یہ سلسلہ چل نکلے گا توبات کہاں تک پہنچے گی؟ملک میں کوئی نئی یونیورسٹی نہیں بنی،کوئی نیا اسپتال نہیں بنا،سرکاری اسکول و کالج میں اساتذہ نہیں،کروڑوں لوگ بھوک سے نڈھال ہیں،اسپتالوں میں مریضوں کا ازدحام ہے۔لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال خراب ہے،نشہ خوری کی وجہ سے کروڑوں گھر برباد ہورہے ہیں،پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے،ایسے میں ہمیں صرف مغل گارڈن کا نام بدلنے کی سوجھ رہی ہے،کیا نام بدلنے سے بھوک مٹ جائے گی،آپ ایک بار ہی سارے نام بدل ڈالیے تاکہ بعد میں یکسوئی کے ساتھ ترقی اور خوش حالی پر کام کیا جاسکے۔آپ مالک و مختار ہیں،آپ بے فکر رہئے آپ مغلوں کے نام سے موسوم کسی بھی چیز کا نام بدلیں گے تو ہماری طرف سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوگی۔لیکن بہر خدا اپنی رعایا پر رحم کیجیے،اس ملک کو اپنے دوستوں کے ہاتھوں گروی مت رکھیے۔
امت مسلمہ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی زیادہ توجہ مذہب کے نام پر رائج رسوم و رواج سے ہٹاکر تعلیم اور کاروبار پر دے۔فقہی و مسلکی جھگڑوں سے باز آئے،ابھی پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ اہل حدیث باپ کا جنازہ پڑھنے پر بریلوی بیٹوں کا دوبارہ نکاح پڑھایا گیا،کتنے شرم کی بات ہے۔اکیسویں صدی میں ایسی خرافاتیں کیا زیب دیتی ہیں،کیا اسلام کی یہی تعلیم ہے؟اسلام تو غیر مسلم باپ کے جنازے کو کاندھا لگانے پر بھی نکاح نہیں توڑتا آپ صرف مسلک بدلنے پر نکاح کی تجدید کرارہے ہیں،کسی مرد کا کسی جنازے میں شرکت کرلنے سے نکاح کیوں ختم ہوجائے گا؟کیا اہل حدیث کاجنازہ پڑھنا کفر ہے؟ایسی جہالت سے باز آئیے،مسلکی اسلام کے بجائے قرآن و سنت کے اسلام پر عمل کیجیے۔ذات و برادری کی تفریق کو اونچ نیچ کی بنیاد مت بنائیے،ایسے کام کیجیے جس سے انسانوں کو فائدہ پہنچے اس لیے کہ امت مسلمہ کو سارے انسانوں کو نفع پہنچانے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔قانون فطرت کے مطابق جو نفع پہنچاتا ہے اس کی جڑیں زمین میں پیوست کردی جاتی ہیں۔
٭٭٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close