مضامین

مرثیہ بر وفات مولانا اسرارالحق قاسمیؒ

مولانا فضیل احمد ناصری صاحب

زمیں نالاں ہے اپنا ماہ پارہ کھو دیا ہم نے
فلک روتا ہے اک روشن ستارہ کھو دیا ہم نے

اٹھےاسرارِحق کچھ اسطرح دنیائےفانی سے
زمانہ کہہ اٹھا: حق کا اشارہ کھو دیا ہم نے

چراغِ دین ودانش بجھ گیاہندی مسلماں کا
اندھیرا چھا گیا ہر سو، مَنارہ کھودیا ہم نے

نظرجسکی عقابی تھی،ارادے تھےہمالہ سے
وہ اک بندہ نہیں،جامع ادارہ کھو دیا ہم نے

سنائیگا ہمیں اب کون پھر ماضی کےافسانے
پیامِ حق کا تاریخی شمارہ کھو دیا ہم نے

شبابی شان سےباطل کو جس نےجم کے للکارا
خدایا! وہ حریفِ سنگِ خارا کھو دیا ہم نے

مسلمانوں میں جینےکا ہنر اب کون بانٹے گا
جہادِ زیست کا اک استعارہ کھو دیا ہم نے

ادھر آ بلبلِ صد داستاں! اور سینہ کوبی کر
کہ تیری ہی طرح امیدوچارہ کھودیا ہم نے

بڑی مشکل سےآغوشِ صدف نےجسکوپالاتھا
اچانک وہ صدف کا گوشوارہ کھو دیا ہم نے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: