اسلامیات

مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں تین دعوی کئے ہیں

مولانا ثمیر الدین قاسمی مقیم حال لندن کی کتاب ثمرۃ العقائد سے سلسلہ وار ایک محقق و مستند تحریر قسط اول

۱۔۔۔ ظلی نبی ہونے کا
۲۔۔۔ مسیح موعود ہونے کا
۳۔۔۔ مہدی معہود ہونے کا
کبھی کہتے ہیں کہ میں ظلی نبی ہوں۔ کبھی کہتے ہیں کہ، میں مسیح موعود ہوں۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ میں،مہدی معہود ہوں۔ یہ تین نام وہ اپنی کتاب میں استعمال کرتے ہیں
مرزا صاحب کے یہاں نبوت کی تین قسمیں ہیں
اور مرزا صاحب ظلی نبی کے دعویدار ہیں
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب، (مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، صفحہ ۳۔۴) پر نبوت کی تین قسمیں کی ہیں
۱۔۔۔۔نبوت تشریعی؛ یعنی جس کے ساتھ نئی شریعت اور نئے احکام ہوں
۲۔۔۔۔دوم نبوت غیر تشریعی: یعنی جس کے ساتھ نئی شریعت اور نئے احکام نہ ہوں
مرزا صاحب نے آگے لکھا ہے کہ، اس دونوں نبوت کا میں دعویدار نہیں ہوں، حضور ﷺ کی ختم نبوت کی وجہ سے یہ دونوں نبوت بند ہیں
۳۔۔۔۔ نبوت کی تیسری قسم ہے؛ غیر تشریعی ظلی نبوت، یعنی ایسی نبوت جو نہ تو شریعت والی ہے، اور نہ براہ راست ملنے والی ہے، بلکہ غیر تشریعی اور آنحضرت ﷺ کے وسیلے اور فیضان سے ملنے والی نبوت ہے۔۔ نبوت کی یہ تیسری قسم کا دروازہ کھلا ہوا ہے (مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، صفحہ۴) ۔۔۔ اور مرزا صاحب اسی تیسری قسم کی نبوت ظلی کے دعویدار ہیں
مرزا صاحب کی عبارت یہ ہے
حضرت اقدس کے ان ارشادات سے واضح ہے کہ (۱) آپ کا دعوی جیسا کہ مخالف آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں، نبوت تشریعیہ، یا نبوت غیر تشریعیہ مستقلہ کا نہیں۔۔ بلکہ نبوت غیر تشریعیہ ظلیہ کا، یا یوں کہنا چاہئے کہ، امتی نبی ہونے کا ہے (۲) اور آپ (مرزا) کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ایک تو تمام کمالات نبویہ آپؐ پر ختم ہو گئے ہیں، دوسرے آپؐ کے بعد ایسا نبی جو نئی شریعت لانے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ پیش کرنے، یا براہ راست نبوت پانے کا دعوی کرنے والا ہو بے شک نہیں آسکتا،
لیکن ایسا نبی جو پہلے آپ کا امتی ہو اور جس نے نبوت آپ کے وسیلہ و فیضان سے پائی ہو آسکتا ہے(مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، صفحہ۸)
اس لکیر لگائی ہوئی عبارت میں مرزا صاحب نے دعوی کیا ہے کہ میں امتی نبی ہوں، اور ظلی نبی ہوں

نوٹ: مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، نامی کتاب جماعت احمدیہ کے ویب سائٹ پر موجود ہے، اسی طرح روحانی خزائن، اور حقیقۃ الوحی بھی جماعت احمدیہ کے ویب سائٹ پر ہے میں اپنی کتاب کو انہیں کتابوں کو سامنے رکھ کر لکھی ہے۔ ثمیر الدین قاسمی غفر لہ
مرزا صاحب کے ظلی نبی بننے کے دلائل یہ ہیں
دلیل نمبر ۱۔۔۔مرزا صاحب نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اس میں بات کا اشارہ ہے کہ جو آدمی اللہ کی پوری اطاعت کریں گے وہ نبی اور صدقین ہو جائیں گے
آیت یہ ہے
1۔و من یطع للہ و الرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین و الصدقین و الشہداء و الصالحین و حسن اولئک رفیقا۔ (سورت النساء ۴، آیت ۹۶)
لیکن مرزا صاحب نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے : یعنی جو اطاعت کریں گے اللہ اور اس کے رسول (یعنی محمد ﷺ)کی تو یہ لوگ ان میں سے ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبیوں، صدیقوں،شہیدوں، اور صالحین میں سے، اور اچھے ہیں یہ لوگ رفیق۔ (مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، ص ۴)
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایسی نبوت کے جاری ہونے کا ذکر ہے جو حضور ؐ کی پیروی و اطاعت میں حضور ؐ کے وسیلہ و طفیل سے ملنے والی ہے۔ (مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، ص ۴)
ظلی نبوت کے بارے میں مرزا صاحب کی مشہور کتاب، حقیقۃ الوحی ، میں عبارت یہ ہے
اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔
اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا، اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں، ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے (حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۲، / روحانی خزائن جلد ۲۲، صفحہ ۹۲۔ ۰۳ / مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ صفحہ ۷۱)
دلیل نمبر ۲۔۔۔حضرت عیسی ؑ کے بارے میں مسلم شریف کی حدیث دجال میں چار مرتبہ کہا ہے نبی عیسی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد بھی نبی آسکتے ہیں، اور وہ نبی میں ہوں
مرزا صاحب کی عبارت یہ ہے
اور حدیثوں میں آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے لئے جو ایک مسیح کے آنے کی خبر دی ہے اور جسے حضور ؐ نے مسلم شریف کی روایت کے مطابق نبی اللہ قرار دیا ہے، اس سے حضرت مسیح موسوی مراد نہیں بلکہ اسی امت کا ایک فرد کامل مراد ہے۔ اور اس کی نبوت یہی تیسری قسم کی نبوت ہے (یعنی ظلی نبوت ہے) (مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ، ص ۶)
دلیل نمبر ۳۔۔۔۔ اس کی تیسری دلیل یہ ہے کہ حدیثوں میں حضرت مہدی علیہ السلام کے آنے کی خبر ہے، ان تمام خبروں کو اپنے لئے خاص کر لئے اور کہا کہ میں ہی مہدی معہود ہوں
ان کے یہ تین دلائل ہیں میری اس کتاب میں تینوں دلیلوں کے لئے احادیث اور آیتوں سے پورا جواب موجود ہے

حضور ؐ کے بعد کوئی ظلی، اور طفیلی نبی بھی نہیں بن سکتا ہے
مرزا صاحب کا پہلا دعوی ہے کہ میں ظلی نبی ہوں، لیکن اس آیت میں ہے کہ، حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں، یعنی آپ ؐ آخری نبی ہیں، اس لئے آپ کے بعد کوئی ظلی نبی بھی نہیں ہو سکتا ہے
آیت یہ ہے
2۔ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین ۔ (سورت الاحزاب ۳۳، آیت ۰۴)
ترجمہ : مسلمانو! محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔
اس آیت میں صاف کہہ دیا ہے کہ میں آخری نبی ہوں، اس لئے حضور کے بعد کوئی آ دمی کسی قسم کا بھی نبی نہیں بن سکتا ہے چاہے وہ ظلی ہو یا حضور ﷺ کے طفیل میں ہو
حضور ؐ کے بعد کوئی ظلی نبی بھی نہیں بن سکتا ہے
حضور ﷺ کے بعد نبوت نہ ہو نے کے لئے احادیث میں یہ پانچ قسم کے الفاظ آئے ہیں
اناخاتم النبیین ۔ لا نبی بعدی۔ لا نبوۃ بعدی۔ انا العاقب۔ انا آخیر الانبیاء
ان احادیث میں پوری تاکید کے ساتھ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں بن سکتا، چاہے وہ نئی شریعت والا نبی ہو، یا بغیر شریعت والا نبی ہو، اور چاہے حضور ﷺ کے مہر سے اور اس کے طفیل میں نبی بنے
احادیث یہ ہیں
1۔عن ابی ھریرۃ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ و اجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ و یتعجبون لہ و یقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ؟، قال فانا اللبنۃ و انأ خاتم النبیین۔ (بخاری شریف، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین، ص ۵۹۵، نمبر ۵۳۵۳/ مسلم شریف، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ خاتم النبیین، ص ۳۱۰۱، نمبر ۶۸۲۲/ ۱۶۹۵)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے جو انبیاء ہیں وہ، ان کی مثال ایسی ہے کہ، ایک آدمی نے گھر بنایا اور بہت اچھا گھر بنایا، لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ چاروں طرف سے اس گھر کو گھوم کر دیکھتے، اور بہت تعجب کرتے، پھر کہتے کہ، یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی؟، پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ آخری اینٹ میں ہی ہوں، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ نبوت کی آخری اینٹ ہیں، اگر کوئی آدمی نبی بن جائے، چاہے وہ آپ ﷺ کے طفیل میں نبی ہو، اور ظلی نبی ہی کیوں نہ ہو، تو حضور ؐ آخری نبی نہیں ہوں گے، بلکہ آپ کے بعد بھی نبی ہو جائیں گے۔

2۔عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ تعالی زوی لی الارض۔۔۔و انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انی نبی، و انا خاتم النبیین، لا نبی بعدی۔ (ابو داود شریف، کتاب الفتن والملاحم، ص ۶۹۵، نمبر ۲۵۲۴/ ترمذی شریف، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، ص ۹۰۵، نمبر ۹۱۲۲)
ترجمہ : حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ میرے لئے زمین سکیڑ دی گئی۔۔۔میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے، اور ہر ایک گمان کرے گا کہ، میں نبی ہوں، یاد رکھو میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے
اس حدیث میں بھی تاکید کے ساتھ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد جو نبوت کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹا ہے، میں آخری نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، چاہے وہ ظلی، ہویا حضور ؐ کے طفیل میں ہو۔ اگر حضور کے طفیل میں آنے کا امکان ہوتا، تو آپ خود فرماتے کہ میرے بعد میرے طفیل میں ظلی نبی آسکتا ہے، لیکن حضور ﷺ نے اس کی کلی نفی کر دی ہے اس لئے مرزا صاحب جو ظلی نبی دعوی کر رہے ہیں یہ بالکل غلط ہے

3۔سمعت ابا حازم قاعدت ابا ھریرۃ خمس سنین فسمعتہ یحدث عن النبی ﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی و انہ لا نبی بعدی، و سیکون خلفاء فیکثرون۔ (بخاری شریف، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم علیھما السلام، ص ۲۸۵، نمبر ۵۵۴۳/ مسلم شریف، کتاب الامارۃ، باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ، ص ۷۲۸، نمبر ۲۴۸۱/ ۳۷۷۴)
ترجمہ: حضرت ابو حازم نے فرمایا، کہ میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کے ساتھ پانچ سال تک بیٹھتا رہا، میں نے سنا کہ حضور ﷺ سے روایت کرتے تھے،کہ بنی اسرائیل کی سیاست بھی انبیاء کرتے، کوئی نبی فوت ہو جاتے تو دوسرے نبی مبعوث ہو جاتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہیں، ہاں خلیفہ ہو ں گے، اور بہت ہوں گے
اس حدیث میں بھی کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، چاہے وہ ظلی، اور طفیلی ہی کیوں نہ ہو
اس حدیث میں ہے اب کسی قسم کی نبوت کسی کو نہیں مل سکتی ہے
اس حدیث میں ہے کہ کسی کو کوئی نبوت نہیں مل سکتی، چاہے وہ ظلی ہو یا طفیلی ہو
4۔ قال امر معاویۃ بن ابی سفیان سعدا۔۔۔۔ فقال لہ علی ؓیا رسول اللہ خلفتنی مع النساء و الصبیان؟، فقال لہ رسول اللہ ﷺ اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی، الا انہ لا نبوۃ بعدی۔ (مسلم شریف، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن ابی طالب ؓ، ص ۹۵۰۱، نمبر ۴۰۴۲/ ۰۲۲۶)
ترجمہ : حضرت معاویہ بن سفیان نے سعد کو حکم دیا۔۔۔ حضرت علی نے حضور ؐ سے فرمایا کہ یا رسول اللہ مجھے بچوں اور عورت کے ساتھ چھوڑ رہے ہیں؟ تو حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا، کہ کیا اس بات سے آپ راضی نہیں ہیں، جس طرح حضرت موسی ؑ کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے، آپ بھی ہارون ؑ کی طرح گھر میں رہ کر معاملہ سنبھالیں۔ لیکن ایک بات ہے کہ، کہ میرے بعد نبوت کا کوئی درجہ نہیں ہے، اس لئے اے علی، آپ نبی نہیں بن سکتے۔
اس حدیث میں تو حضور ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ میرے بعد کسی نبوت کا درجہ بھی نہیں ہے۔ نہ ظلی نبوت کا اور نہ میرے طفیل میں نبوت حاصل کرنے کا۔ اور جب حضرت علی ؓجیسے چہیتے، اور جلیل القدر صحابی کے لئے نبوت نہیں ہے تو مرزا صاحب کے لئے کیسے گنجائش ہو جائے گی کہ اس کو حضور کے طفیل میں نبوت مل جائے، ذرا سوچیں۔
ان احادیث میں ہے کہ میں عاقب ہوں، میں آخری نبی ہوں
عاقب کا ترجمہ ہے بالکل آخیر میں، حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ میں بالکل آخری نبی ہوں، میرے بعد ہر گز کوئی نبی نہیں ہے، چاہے وہ ظلی ہو، یا میرے طفیل میں ہو
حدیث یہ ہے
5۔سمع محمد بن جبیر بن مطعم عن ابیہ ان النبی ﷺ قال انا محمد۔۔۔و انا العاقب، و العاقب الذی لیس بعدہ نبی۔(مسلم شریف، کتاب الفضائل، باب فی اسماۂ ﷺ، ص ۴۳۰۱، نمبر ۴۵۳۲/ ۵۰۱۶/ بخاری شریف، کتاب المناقب، باب ما جاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ، ص ۴۹۵، نمبر ۲۳۵۳/ ترمذی شریف، کتاب الادب، باب ما جاء فی اسماء النبی ﷺ، ص ۸۳۶، نمبر ۰۴۸۲)
ترجمہ : حضرت محمد بن جبیر بن مطعم اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں، کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا نام محمد ہے۔۔۔۔میں سب انبیاء سے بعد میں آنے والا ہوں ، اور عاقب اس کو کہتے، جن کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور سب سے بعد میں آنے والے ہیں، ان کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہے، اور ظلی نبی بھی نہیں ہے
اس حدیث میں ہے کہ میں آخری نبی ہوں، اور تم لوگ آخری امت ہو
اب اگر مرزا صاحب کو ظلی نبی مان لیں تو حضور ﷺ آخری نبی نہیں رہیں گے، بلکہ متزا صاحب آخری نبی ہو جائیں گے،۔۔ اور یہ امت محمدیہ بھی آخری امت نہیں رہے گی، بلکہ ظلی طور پر ہی سہی مرزا صاحب کی امت آخری امت ہو جائے گی۔ اس لئے مرزا صاحب ظلی طور بھی نبوت کا دعوی حدیث صریح کے خلاف ہے
حدیث یہ ہے
6۔ عن ابی امامۃ الباہلی قال خطبنا رسول اللہ ﷺ فکان اکثر خطبتہ حدیثا حدثناہ عن الدجال۔۔۔و انا آخر الانبیاء و انتم آخر الامم۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی ابن مریم، ص ۱۹۵، نمبر ۷۷۰۴/ مستدرک للحاکم نمبر ۰۲۶۸) ترجمہ : ابو امامہ باہلی سے روایت ے کہ حضور ﷺ نے ہم کو خبطہ دیا، بہت سے خطبوں میں دجال کی باتیں فرماتے تھے۔۔۔آپ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں، اور تم لوگ آخری امت ہو
اس حدیث میں ہے کہ میں آخری نبی ہوں،۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ آخری امت ہو، پس اگر مرزا صاحب نبی بن جائیں تو آپ آخری نبی نہیں رہیں گے یہ امت خری امت باقی نہیں رہے گی، بلکہ مرزا صاحب آخری نبی بن جائیں گے، اور مرزا کی امت آخری امت بن جائے گی ، اس لئے مرزا صاحب کا دعوی غلط ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: