مضامین

مرکز اپنے قول کو قانون CAA کے ذریعہ نافذ کرسکتا ہے

میگھنا دیسائی ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

پچھلے چند مہینوں پہلے ہندوستانی سیاست نے جس سوجھ بوجھ کا اظہار کیا ہے اُسے آپ کیا سمجھتے ہیں؟بی جے پی جبکہ دوسری مرتبہ اکثریت حاصل کرکے اقتدار میں آئی ہے۔ مئی 2019ء میں ایسا لگتا تھا کہ ایک نئی فرمانبرواں بن کر اُبھر آئی تھی۔ لیکن اس کے معیاد کارکردگی کے بارے میں کوئی یقین نہ تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ قانون سازی کے ذریعہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے عجلت کررہی ہے۔ حال ہی میں امیت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی نے اپنے مینوفیسٹو کے 90 / فیصد حصہ کی تکمیل کر ڈالی ہے۔ پھر اب کیا بچا ہے کہ جسے یہ اگلے ساڑھے چار سال میں تکمیل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں؟
جو تحریکات اُن کے اپنے ایجنڈے اور نیت کے مطابق نظر آرہی ہیں جس سے یہ یقین کرنا ممکن نظر آتا ہے کہ اب وہ ہندوستانی شہریت کی نئی طریقے سے تعریف و تعین کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (NRC) اور نیشنل پاپولیشن آف رجسٹر (NPR)کے ذریعے اُن لوگوں کو خس و خاشاک کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس ثبوت کی کمی ہو۔ سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے اگر غیر مسلم ادھورے کاغذات لیکر بحیثیت رفیوجی اگر آتے بھی ہوں تو حکومت اُن کے ساتھ کیا سلوک کرے گی؟ اور کیا نہیں کرے گی؟
ہندوستانی جمہوریت میں حکومت کے اختیارات کو اپنے انتخابی کامیابی کے ذریعے سے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلی مرتبہ جب یہ منتخب ہوکر آئے تھے اُس وقت انہیں اتنی اکثریت کی ضرورت نہ تھی۔ بس چند ہی سیٹوں کے ذریعہ اکثریت سے تھی۔ یونائٹیڈ یونین میں جو پارٹی راست الیکشن کے ذریعے اکثریت حاصل کرتی ہے تو اُسے قانونی طور پر وہاں کے چیمبر میں اقتدار ہوتا ہے۔ اور وہاں کی راجیہ سبھا ہاؤس آف لارڈ (House of Lord)کے مقابلہ میں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہاں بالراست طور پر لوگ منتخب ہوتے ہیں اور نہ تقرر کردہ ہوتے ہیں۔
اگر بی جے پی اپنے اقتدار کے ذریعے CAA اور NRCکو نافذ کرنا چاہتی ہے تو پھر کیا راجیہ سبھا میں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی؟ اس کے علاوہ اور کوئی رکاوٹ اس حکومت کے سامنے نہیں ہوگی۔ جیسا کہ حالیہ فیصلہ میں دیکھا گیا ہے کہ جو جموں اور کشمیر میں انٹرنیٹ سے متعلق دیا گیا ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اس کے پہلی کی ترمیم میں کیا گیا ہے۔ اور اس ترمیم کی تجویز دیگر کوئی اور نہیں بلکہ خود وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستور کے نفاذ کے 15/مہینوں کے بعد ہی کیا ہے۔ 1949ء کے دستور میں جو بنیادی حقوق ہیں وہ اینگلو امریکن طرز کے ہیں۔ جبکہ پہلی ترمیم میں اس کی بازیابی کی اور نوآبادیاتی نظام جو گورے لوگوں کے ذریعے تھا اُسے حاصل کیا۔ تقسیم اور Balkanisation کی وجہ سے مرکز کو سختی کے ساتھ خوف پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں ریاستی حکومتیں مرکز پر دباؤ تو نہیں ڈالے گی اور یہ دباؤ صرف راجیہ سبھا کے ذریعے سے ہوسکتا ہے یا پھر سڑکوں اور گلیوں کے مظاہروں کے ذریعے ہوسکتا ہے۔
حالیہ CAA کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حکومت اپنے اس قانون کی عمل آوری کے لیے نوٹیفکیشن کا اجراء کر ڈالا ہے جو بغیر کسی تاخیر و بغیر کسی تنسیخ کے۔ اور حکومت اس معاملہ میں کسی طرح کی کوئی نرمی نہیں دکھانا چاہتی ہے۔ جبکہ نریندر مودی نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت نے اس سلسلے میں اسے نافذ کرنے کے لیے NRC کو ملک بھر میں منعقد کرنے کے لیے کوئی گفتگو ہی نہیں کی ہے۔ اُنہوں نے یکلخت میں بی جے پی کے سخت گیر لوگوں لوگوں کی گفتگو کا خاتمہ ہی کر ڈالا۔ مودی پہلے مرحلے میں سوچھ بھارت کی تکمیل کی۔ اور دوسرے مرحلے میں سوچھ بھارتی یتاکے سلسلے میں کارروائیوں کا آغاز کیا۔ چونکہ آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے کہا کہ جو لوگ انڈیا میں رہتے ہیں وہ سب ہندو ہیں۔ خواہ اُن کا تعلق کسی مذہب سے ہو۔ پھر کیا وزیر اعظم ان سب کی شمولیت والی پالیسی پر غوروفکر کررہے ہیں؟ یا پھر سخت گیر لوگوں کے سامنے کیا یہ پھر ایک مرتبہ مجبور ہوجائیں گے؟
جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں Flat Footed میں پکڑ ی گئی ہیں۔ لیکن یہ جو طالب علم ہی ہیں جنہوں نے اس مظاہرے کی قیادت کی۔ حتیٰ کہ حالیہ میٹنگ جسے سونیا گاندھی نے طلب کیا تھا اُس سے ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن بھی منقسم ہیں اور اب یوں لگتا ہے کہ یہ ریاستی حکومتوں نے پالیسی بنالی ہے کہ اس معاملہ کو وہ وزرائے اعلیٰ کے ذریعے شہریت کے ترمیمی قانون کو چیلنج کریں نہ کہ اسے عوامی تحریک بنائیں۔
چونکہ یہ ایک مرکزی فہرست والی معاملہ ہے اس لیے مرکز اپنے قانون کا نفاذ کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کو اس سلسلے میں شاید ہی مدد مل سکے۔ اس لیے کہ شہری ترمیمی قانون میں دستور کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ جبکہ اس سے قبل این آر سی کا معاملہ خود سپریم کورٹ نے اپنی نگرانی میں اسے نفاذ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ یہ ایک خوشی کی بات ہوگی اگر اُن کے پرانے فیصلہ کو ہم غلط ثابت کرسکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: