اسلامیات

مزدُوروں کے ساتھ آپ ﷺکا سلوک (۱)

شمع فروزاں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

مزدوروں کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے ،جس کو گزشتہ نصف صدی کے اہم ترین مسائل میں شمار کیا جاسکتا ہے اور یہ فطری بات ہے ، دنیا کی ساری بہار دراصل ان ہی کی دم سے ہے ، بلند قامت عمارتیں ہوں ، صاف ستھری سڑکیں ہوں یا دیہات کےسبزہ زار کھیت اور بَل کھاتی ہوئی نہریں ، سب کو ان ہی کے خون و پسینہ اور قوت بازو سے غذا ملتی ہے ، یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی میں سب سے کم حصہ مزدوروں ہی کو ملتا ہے ؛ حالاںکہ وہ سب سے زیادہ اس کے حقدار تھے ۔
یہاں اس بات کی وضاحت کردینی مناسب ہوگی کہ جب ہم مزدور کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے صرف وہ جفاکش طبقہ ہی مراد نہیں ہوتا جو جسمانی محنتوں اور مشقتوں کے کام کرتا ہے ؛ بلکہ وہ ملازمین بھی مراد ہوتے ہیں جو لکھنے پڑھنے یا دوسرے دماغی قسم کے کام کرتے ہیں ، پیغمبر اسلام ﷺنے دوسرے شعبۂ ہائے زندگی کی طرح اس سلسلہ میں بھی تفصیلی اورواضح ہدایات دی ہیں جس میں آجر اور مزدور دونوں ہی کے حقوق کی رعایت ہے اور اعتدال و توازن بھی ہے ۔
مزدوروں کی اہمیت
سب سے پہلے تو پیغمبراسلام ﷺنے مزدوروں کو ایک باعزت مقام اور منصب کا حامل قرار دیا اور عام طورپر جو اس اس طبقہ کو کمتر اور حقیر گردانا جاتا تھا ، اس کی نفی فرمائی ، آپ ﷺ نے فرمایا :
= حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ یا دس سال تک حضرت شعیب علیہ السلام کی مزدوری کی ۔ (ابن ماجہ ، عن عتبہ بن النذرؓ،حدیث نمبر: ۲۴۴۴ ، کتاب الرہون ،باب اجارۃ الاجیر علیٰ طعام بطنہ)
=حلال روزی کی تلاش میں محنت و کاوش کو عند اللہ پورے ایک سال امام عادل کے ساتھ جہاد سے افضل قرار دیا گیا۔ (ابن عساکر ، عن عثمانؓ :۵۴؍۳۱۲ ، حدیث نمبر: ۱۱۵۰۶ )
=چھوٹے بچے ، ماں باپ اور خود اپنی کفالت کے لئے دوڑ دھوپ (سعی ) کو آپ ﷺ نے اللہ کی راہ میں جدوجہد بتایا ۔ (المعجم الصغیر للطبرانی : ۲؍۱۴۸ ، عن کعب بن عجوۃؓ، حدیث نمبر : ۹۴۰ )
=آپ ﷺ نے فرمایا : سب سے پاکیزہ عمل یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ہاتھوں کمائے ۔ (شعب الایمان للبیہقی : ۲؍۴۴۱ ، عن علی ، حدیث نمبر : ۱۱۸۲ ، المعجم الکبیر للطبرانی : ۲۲؍۱۹۷ ، عن ابی بردہ ، حدیث نمبر : ۵۲۰ )
= خدا کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں ہی کی کمائی کھایا کرتے تھے ۔ (بخاری ، عن ابی ہریرہؓ، حدیث نمبر : ۲۰۷۳ ، کتاب البیوع ، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ)
=اللہ تعالیٰ ایسے مؤمن بندہ کو پسند کرتا ہے جو صنعت و حرفت سے واقف ہو اور اس سے کام لیتا ہو : ’’ إن اللّٰه یحب العبد المؤمن المحترف‘‘ (کنز العمال ، حدیث نمبر : ۹۱۹۹ ، نیز دیکھئے : المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : ۱۳۲۵ ، عن ابن عمرؓ)
=آپ ﷺنے فرمایا : تمام انبیاء علیہم السلام نے بکریاں چرائی ہیں اور خود میں بھی چند قیراطوں پر مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۔ (بخاری ، کتاب الإجارۃ ، باب رعی الغنم علی قراریط ، حدیث نمبر : ۲۲۶۲ ، و ابن ماجہ ، باب الصناعات ، حدیث نمبر:۲۱۴۹ ، عن ابی ہریرہؓ )
=کاشتکار ی کو مبارک کہا گیا اور اس کا حکم دیا گیا ۔ (شرح النووی علی مسلم ، کتاب البیوع ، باب فضل الغرس والزوع : ۱۰؍۲۱۳)
=ایک بار آپ ﷺ نے حضرت حکیم بن حزامؓ سے ارشاد فرمایا : سب سے حلال رزق وہ ہے جس میں دونوں پاؤں چلیں ، ہاتھ کام کریں اور پیشانی عرق آلود ہو ۔ (الفردوس للدیلمی : ۵؍۴۱۴ ، حدیث نمبر : ۸۵۹۵ ، عن حکیم بن حزامؓ)
ان ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مزدوروں کو ایک معزز اور مؤقر مقام حاصل ہے اور دوسرے پیشوں اور طبقوں سے ان کی حیثیت کم نہیں ہے ۔
اس کے بعد مزدوروں کے حقوق کا مسئلہ آتا ہے جس میں سب سے بنیادی اور اولین چیز اُجرت کی مقدار کا تعین ہے ، اس پر اس حدیث سے روشنی پڑتی ہے ، جس میں حضور ﷺ نے غلاموں کے سلسلہ میں درج ذیل ہدایات دی ہیں :
وہ تمہارے بھائی ہیں ، جن کو خدا نے تمہارے ماتحت رکھا ہے ؛ لہٰذا خدا نے جس کے ماتحت اس کے بھائی کو کیا ہو ، اس کو چاہئے کہ اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے ، جو خود پہنے وہی اس کو پہنائے ، اس کو ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس کے لئے دشوار ہو اور اگر ایسے کام کی ذمہ داری سونپ ہی دے تو پھر اس کی مدد کرے۔ (بخاری ، حدیث نمبر : ۳۰ ، مسلم ، حدیث نمبر : ۱۶۶۱)
اس ارشاد میں دو باتوں کی تعلیم دی گئی ہے : اول یہ کہ اپنے خدام اور ملازمین کو بھائی کا درجہ دیا جائے ، دوسرے : ان کو ایسی اُجرت دی جائے کہ وہ قریب قریب آجر کے معیار پر زندگی گذار سکیں ۔
پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے اصحاب کا اس ہدایت پر مکمل عمل تھا ، ان کے غلام اورخدام ان کے ساتھ ہی اور وہی کھانا کھاتے تھے ، جو وہ خود کھاتے تھے ، غلاموں اور ان کے مالکوں کے کپڑے ایک ہی معیار کے ہوتے تھے ، ایک بار ایک ہی قسم کی چادر حضرت ابوذر غفاریؓ اور ان کے غلام اوڑھے ہوئے تھے ، ایک شخص نے عرض کیا : آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ وہ چادر بھی خود اوڑھ لیں ؛ تاکہ اس کا جوڑا ہوجائے اور غلام کو کوئی اور چادر دے دیں ، حضرت ابوذرؓ نے اس سے انکار کرتے ہوئے حضور ﷺکی اسی ہدایت کا حوالہ دیا کہ جو خود پہنو ، وہی اس کو پہناؤ ۔ ( بخاری ، کتاب العتق ، حدیث نمبر : ۲۵۴۵ ، عن معرور ؓ )
اس سے معلوم ہوا کہ مزدوروں اور ملازمین کی اُجرت اس قدر ہونی چاہئے کہ کم از کم خوراک اور پوشاک کے معاملے میں اس کا معیارِ زندگی مالکین اور افسروں کے مساوی اورقریب قریب ہو ۔
دوسرے : اُجرت کی مقدار اتنی ہو کہ وہ اہل و عیال کی بھی اسی طرح پر پرورش کرسکے ، حسب ِضرورت خادم رکھ سکے اور مکان بناسکے ، آپ ﷺنے فرمایا : جو شخص ہمارا عامل (ملازم) بنے ، اسے چاہئے کہ بیوی حاصل کرلے ، خادم نہ ہو تو ایک خادم رکھ لے اور مکان نہ ہو تو ایک مکان فراہم کرلے ، (ابوداؤد ، عن مستورد بن شدادؓ، کتاب الخراج والامارۃ ، باب ارضات العمال ، حدیث نمبر : ۲۹۴۵ ) حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد فرمایا : میرا ذریعۂ معاش میرے اہل و عیال کے لئے کافی تھا ، اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول کردیا گیا ہوں ؛ اس لئے ابوبکر کے عیال اسی سرکاری مال میں سے کھائیں گے اور ابوبکر مسلمانوں کے لئے کام کرے گا ۔ (بخاری ، کتاب البیوع ، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ ، حدیث نمبر : ۲۰۷۰ ، عن عائشہؓ )
اُجرت کے سلسلے میں اس اُصولی ہدایت کے بعد کہ ان کی جملہ ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کی جائے ، اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اُجرت کی مقدار پہلے ہی واضح کردی جائے اورابہام نہ رکھا جائے :
إن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نھی عن استجارۃ الأجیر حتی یبین لہ أجرہ ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الاجارۃ ، باب لاتجوز الاجارۃ حتی تکون معلومۃ ، حدیث نمبر : ۱۱۶۶۵۲)
رسول اللہ ﷺ نے کسی مزدور سے کام لینے سے منع فرمایا ہے ؛ جب تک کہ اس کی اُجرت واضح نہ کردی جائے ۔
پھر آپ ﷺ کا معمول تھا کہ کسی کو اس کی مزدوری کم نہ دیتے تھے ، (بخاری ، کتاب الاجارۃ ، باب خراج الحجام ، حدیث نمبر : ۲۲۸۰، عن انسؓ)آپ ﷺ نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن میں ان کا فریق ہوں گا ، ان میں سے ایک وہ ہے جو کسی مزدور کو اُجرت پر رکھے ، اس سے پورا کام لے لے اور اُجرت نہ دے : رجل استاجر اجیراً فاستو فی منہ ولم یُعط أجرہ (بخاری ، عن ابی ہریرہؓ ، کتاب البیوع ، باب اثم من باع حرا ، حدیث نمبر : ۲۲۲۷) یہ بھی ہدایت دی گئی کہ مزدور کی اُجرت جلد سے جلد ادا کردی جائے ، آپ ﷺنے فرمایا : مزدور کی اُجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو : أعطوا الأجیر أجرہ قبل أن یجف عرقہ (ابن ماجہ ، کتاب الرہون ، باب اجر الاجراء ، حدیث نمبر : ۲۴۴۳ )
آپ کی ہدایات کی روشنی میں فقہاء نے لکھا ہے کہ اُجرت ادا کرنے کی تین صورتیں ہیں : یا تو خود آجر قبل از کام اُجرت دے دے ، یا مزدور نے پیشگی مزدوری دینے کی شرط لگادی ہو ، اب بھی اس کو کام سے پہلے ہی مزدوری دینی ہوگی ، یا مزدور اپنے کام کی تکمیل کردے تو کام کی تکمیل کے ساتھ ہی اُجرت ادا کرنی ہوگی ۔ (الفتاویٰ الہندیہ : ۳؍۵۰۶)
مزدور سے کتنا کام لیا جائے ؟ آپ ﷺنے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : غلاموں سے کوئی ایسا کام نہ لو ، جو ان کی طاقت اور قدرت سے زیادہ ہو ، (مؤطا امام مالک ، کتاب المکاتب ، باب الحمالۃ فی المکاتب : ۲؍ ۷۹۱) یہ ایک اُصول ہے جس کی روشنی میں کام کی نوعیت ، مقدار ، اوقات تینوں ہی کا تعین کیا جاسکتا ہے ، مثلاً اُصولِ صحت کی رو سے جن کاموں کو روزانہ چھ گھنٹے کیا جاسکتا ہے ، ان ملازمین کے لئے یہی اوقات کار ہوں گے ، اور جو کام آٹھ گھنٹے کئے جاسکتے ہیں ، ان کے لئے روزانہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی ہوگی ۔
اور اگر کوئی مشکل کام اس کے حوالہ کردے تو اس کی انجام دہی میں خود بھی مدد کرے ، آپ ﷺ کی اس تاکید کی بناپر مشہور محدث اور فقیہ امام نوویؒ نے لکھا ہے :
علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کام کی ذمہ داری نہیں دی جائے اور اگر ایسی ذمہ داری دی تو اس پر ضروری ہے کہ وہ یا تو خود اس کی مدد کرے یا کسی دوسرے سے کرائے ۔ (شرح نووی علی المسلم : ۱۱؍۱۳۳)
عموماً بعض لوگ کم عمر بچوں یا دراز عمر بوڑھوں سے اتنا ہی کام لینا چاہتے ہیں ، جتنا جوان اور توانا آدمیوں سے ، اسلامی تعلیم کے تحت یہ غلط اور ظالمانہ حرکت ہے ، جس پر قانون کے ذریعہ پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے ، اسی طرح جو مستقل ملازمین ہیں ، ضروری ہے کہ ان کے لئے ہفتہ میں ایک دن آرام کے لئے رکھا جائے ، اپنے اقرباء اور رشتہ داروں سے ملنے کے لئے تعطیل لازمی ہو اور بیماروں کے لئے خصوصی رُخصتیں ہوں ، فقہ کی کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے ۔ (ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی البیع : ۶؍۴۱۱ ) (جاری)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: