اہم خبریںمضامین

مساجد میں اسکول کھولیں!

نقی احمد ندوی

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھئے کہ مسجدوں کے اندر اسکول کھولنے سے نہ تو مسجد کی حرمت پر کوئی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی حساب، سائنس اور انگریزی پڑھنے اور پڑھانے سے کوئی حرمت لازم آتی ہے۔ جسے آج آپ اسکول کہتے ہیں اسی کو عربی میں مدرسہ کہا جاتا ہے، مگر انگریزوں نے ایک بڑی سازش رچی، پوری دنیا میں سات سو سال تک سائنس اور ٹکنالوجی کی دنیا پر مسلمانوں نے حکومت کی، بہت ہی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ انگریزوں نے ہمارے اندر یہ تصور عام کردیا کہ علوم دینیہ اور علوم دنیویہ دونوں الگ الگ علوم ہیں، اور مسلمانوں کو علوم دینیہ پر فوکس کرناچاہیے اور مدرسہ (یعنی اسکول) میں دینی علوم پڑھانے چاہییں اور مسجد میں تو علوم دینیہ کے علاوہ کسی اور علم کی تعلیم غیر شرعی اور مسجد کی حرمت کے خلاف عمل ہے۔ حالانکہ ہماری مسجدوں اور مدرسوں میں عہد نبوی سے لے کر اسلام کے عہد زریں تک سارے علوم پڑھائے جاتے تھے اور وہاں علوم کے درمیان کوئی تفریق نہ تھی۔
ہم اپنے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے مساجد کے استعمال کے ذریعے ایک ایسا تعلیمی انقلاب برپا کرسکتے ہیں جس کے اثرات آنے والی صدیوں تک محسوس کیے جاسکیں گے۔مسجد خواہ چھوٹی ہو یا بڑی اس کے اندر باقاعدہ اسکول (مدرسہ) کھولنے سے کئی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ اگر مسجد کے اندر وسعت ہے، جیسا کہ بہت سارے گاؤں اور شہر میں کئی کئی منزلہ عالیشان مساجد موجود ہیں ان کے اندر باضابطہ پرائمری اسکول کھولا جاسکتاہے۔ صبح کی شفٹ یا شام کی شفٹ رکھی جاسکتی ہے۔ اگر ایک طرف اس سے دینی ماحول میں بچوں کی تعلیم کا انتظام ہوگا، تو دوسری طرف محلہ کے وہ بچے جو غربت کی بنا پر سرکاری یا پرائیویٹ اسکول نہیں جاپاتے، ان کی تعلیم کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ مزید برآں مساجد کے انکم کا بھی یہ ایک بہتر ذریعہ ہوسکتا ہے۔ پھر وہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا کہ اسکول کے بچے قرآن پڑھنا نہیں جانتے اور دینی تعلیمات سے بے بہرہ رہ جاتے ہیں اور مدرسہ کا یہ مسئلہ بھی ختم ہوجائے گا کہ مدارس کے بچے حساب، سائنس اور جنرل مضامین کی معلومات نہیں رکھتے۔ انہیں مسجدوں سے ہمارے بچے اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے بڑے مدرسوں میں جاسکتے ہیں اور جن بچوں کوعصری تعلیم حاصل کرنی ہے، وہ اسکولوں اور کالجز کا رخ کرسکتے ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ آر ایس ایس نے ساٹھ ہزار سے زائد اپنے اسکولس کھول رکھے ہیں جہاں آر ایس ایس کے افکار کی تعلیم ہوتی ہے، ان کے اسکولوں میں دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، یہی بچے وہاں سے پڑھ کر حکومت کے سارے اداروں اور محکموں میں پہونچتے ہیں، جہاں وہ انکے افکارپر عمل کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف ہمارے وہ بچے جو اسکولوں میں پڑھتے ہیں ان کے اندر نہ تو دینداری ہوتی ہے اور نہ ہی امانت داری، انکے اندر اپنی قوم اور ملک کی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے اور نہ اسلامی اسپرٹ، اس کے برخلاف اگر ہم اپنے بچوں کو دینی ماحول میں اپنی مسجدوں کے اندر پرائمری تعلیم دیں تو آگے چل یہی بچے اپنی قوم اور ملک کے انتہائی کار آمد، مفید اور سودمند ثابت ہونگے۔ کیوں نہ ہم آر ایس ایس کی طرح ہماری مسجدیں جو لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں ان کو تعلیمی سنٹرس کے طور پر استعمال کریں اور یہی کام تو ہمارے آباء واجداد نے اسلام کے عہد زریں تک کیا تھا۔
یہ کوئی ناممکن پروجیکٹ نہیں ہے جس کے کرنے کے لیے بہت سارے وسائل اور پیسوں کی ضرورت ہے۔ مسجد کی شاندار عمارت موجود ہے، بس چند ٹیبل کرسیاں خریدنی ہیں اساتذہ کا انتظام کرنا ہے اور شروع کردینا ہے۔ نماز کے اوقات میں مسجد کو نماز کے لیے بقیہ اوقات میں تعلیم کے لیے استعمال کرنے سے ہر ہر محلہ میں علم کی ایسی روشنی پھیل سکتی ہیمسجد اور تعلیم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔آنحضورﷺ نے مسجد کو صرف سجدہ گاہ نہیں نہیں رکھا بلکہ شروع سے ہی تعلیم کا ایسا نظم کیا کہ جو لوگ باہر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئیں ان کے قیام و طعام کا
پورا انتظام ہو اور اس کی ذمہ داری محلہ والوں پر رکھی۔ اگر آنحضورﷺ کی اس سنت کی اتباع ہم اپنی مساجد میں کرنے لگیں تو یقین مانئے کہ اس قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اور ہزاروں اور لاکھوں بچوں کی تعلیم کا انتظام ہماری مسجدوں میں بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: